Connect with us
Saturday,29-November-2025
تازہ خبریں

جرم

کشمیر: افضل گورو کی ساتویں برسی پر مکمل ہڑتال اور پابندیاں

Published

on

وادی کشمیر میں اتوار کو محمد افضل گوروجنہیں سنہ 2001ء کے پارلیمنٹ حملہ کیس میں مجرم قرار دیکر 9 فروری 2013 ءکو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، کی ساتویں برسی کے موقع پرمکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے معمولات زندگی معطل رہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے سبھی ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میںدکانیں و تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت معطل رہی۔ ادھر سری نگر میں تمام تجارتی و دیگر سرگرمیاں معطل رہنے کے علاوہ ہر اتوار کو لگنے والا سنڈے مارکیٹ بند رہا۔
افضل گورو کو تہاڑ جیل میں تختہ دار پر لٹکانے کے بعد اُن کی جسد خاکی کوجیل کے احاطے میں ہی سپرد خاک کیا گیا تھا۔ ان کے پسماندگان میں ان کی بیوہ تبسم اور بیٹا غالب گورو ہیں۔
جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ جس کو گزشتہ برس مرکزی حکومت نے کالعدم تنظیم قرار دیا اور جس کے چیئرمین محمد یاسین ملک گزشتہ قریب ایک سال سے دلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں، کے علاوہ میراعظ مولوی عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس نے 9 فروری کو محمد افضل گورر اور 11 فروری کو جے کے ایل ایف کے بانی محمد مقبول بٹ کی برسی پر ہڑتال کی اپیل جاری کر رکھی ہے۔ دونوں تنظیموں نے میڈیا کو بھیجے گئے بیانات میں ہڑتال کی کال دی ہے۔ جموں وکشمیر پولیس نے کالعدم تنظیم جے کے ایل ایف کی طرف سے جاری بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس کے خلاف پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ ایف آئی آر میں اس پر لوگوں کو تشدد پر بھڑکانے اور لاء اینڈ آڈرکی صورتحال میں خلل ڈالنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ وادی میں علاحدگی پسند تنظیمیں محمد افضل گورو اور مقبول بٹ کی باقیات کی واپسی کا مطالبہ کررہی ہیں۔ سری نگر کے عیدگاہ علاقہ میں واقع تاریخی مزار شہداء میں دو قبریں افضل گورو اور مقبول بٹ کی باقیات کے لئے خالی رکھی گئی ہیں۔ لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کو 11 فروری 1984ء کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی اور وہیں دفن کیا گیا تھا۔ اگرچہ وادی میں علاحدگی پسند لیڈران و کارکنوں کو ہر سال 9 اور 11 فروری کے پیش نظر تھانہ یا خانہ نظر بند رکھا جاتا تھا تاہم 5 اگست 2019 سے بیشتر علاحدگی پسند لیڈران و کارکنوں کے مسلسل تھانہ یا خانہ نظر بند رہنے کی وجہ سے انتظامیہ کو اس بار ایسا اقدام اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑی۔
سری نگر میں اتوار کو افضل گورو کی برسی کے موقع پر حساس مانے جانے والےعلاقوں میں پابندیاں عائد رہیں۔ اسی طرح شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور جو کہ افضل گورو کا آبائی قصبہ ہے، میں بھی پابندیاں عائد رہیں۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر وادی بھر میں ریل خدمات معطل رکھی گئیں اور موبائیل انٹرنیٹ کو بھی بند رکھا گیا۔ سری نگر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آواجاہی معطل رہی۔ تاہم سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور بینک سرکاری تعطیل ہونے کی وجہ سے بند رہے۔ سری نگر کے سیول لائنز میں ہر اتوار کو لگنے والا سنڈے مارکیٹ بھی بند رہا۔ پائین شہر کے کچھ علاقوں میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی پابندیاں عائد رہیں جن کی وجہ سے وہاں تمام طرح کی سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پائین شہر کے کچھ علاقوں میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ تاہم ایسے علاقوں میں زمینی صورتحال اس کے برعکس ہی نظر آئی۔پابندی والے بیشتر علاقوں میں سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا
تھا۔ پائین شہر کے سبھی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی بھاری جمعیت تعینات رہی۔ پائین شہر کے نوہٹہ علاقہ میں واقع تاریخی جامع مسجد جہاں حریت (ع) چیئرمین میرواعظ پانچ اگست 2019ء سے قبل ہر جمعہ کو اپنا معمول کا خطبہ دیتے تھے، کے باب الداخلوں کو ایک بار پھر مقفل رکھا گیا۔ اس تاریخی مسجد کے باہر سیکورٹی فورس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ متعدد علاقوں کی بنیادی سڑکیں بھی جزوی طور پر بند کردی گئی تھیں۔ پائین شہر اور سول لائنز کے مختلف علاقوں میں بلٹ پروف گاڑیاں تعینات کردی گئی تھیں۔ عام دنوں میں انتہائی مصروف رہنے والے سیول لائنز اور بالائی شہر میں بہت ہی کم راہگیر اور سبزی و پھل فروخت کرنے والے چھاپڑی فروش نظر آئے۔ بیشتر ٹیوشن اور کوچنگ سنٹروں نے 9 اور 11 فروری کو اعلان کر رکھا ہے کیونکہ علاحدگی پسند تنظیموں کی اپیل پر محمد افضل گورو کی ساتویں برسی اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کی 36 ویں برسی پر بالترتیب 9 اور 11 فروری کو وادی میں ہڑتال رہے گی۔ شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور اور دیگر قصبوں و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں
بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ افضل گورو کے آبائی قصبہ سوپور میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ تاہم اس قصبے جو حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی کا بھی آبائی علاقہ ہے، میں گورو کی برسی پر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی اضافی نفری تعینات رہی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قصبہ سوپور میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے پابندیاں نافذ رہیں۔ تاہم افضل گورو کے گھر پر قرآن خوانی اور ایصال ثواب کی مجلس منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے شرکت کی۔
بارہمولہ سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں جہاں تمام تجارتی اور دیگر سرگرمیاں معطل رہیں۔ قصبے میں اولڈ ٹاون کو سیول لائنز کے ساتھ جوڑنے والے پلوں پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔ اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے اس اور دیگر قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی مکمل طور
پر مفلوج رہے۔ جنوبی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم سری نگر جموں قومی شاہراہ پر اکا دکا گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ ایسی ہی رپورٹیں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام اور گاندربل سے بھی موصول ہوئیں۔

جرم

جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔

Continue Reading

جرم

برتھ ڈے پارٹی میں دوست کو نذرآتش کی کوشش… غیر ارادتا قتل کا کیس درج کرنے پر متاثرہ کے بھائی کا پولس تفتیش پر کئی سنگین الزام

Published

on

Crime

ممبئی کرلا کوہ نور فیس 3 میں سالگرہ پارٹی میں دلخراش واردات نے دل کو دہلا کر رکھ دیا ہے, جبکہ متاثرہ کے بھائی عبدالحسیب نے اپنے کنبہ کی جان کو ملزمین کے شناسائی اور رشتہ داروں سے خطرہ قرار دیا ہے۔ عبدالرحمن خان کو ۲۵ نومبر کو سالگرہ منانے کے لئے سوسائٹی میں بلایا گیا اور پانچ دوستوں نے کیک کاٹنے کے دوران پہلے انڈے اور پتھر سے ان پر حملہ کردیا اور پھر متاثرہ پر ایاز ملک نے پٹرول چھڑک دیا اور لائٹر سے آگ لگا دی, اس کے بعد متاثرہ فوری طور پر آگ بجھانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگا اور واچمین سے پانی کی بوتل لے کر اس نے اپنے جسم پر ڈالی. پولس نے اس معاملہ میں کیس درج کرلیا ہے, اس معاملہ میں پولس نے غیر ارادتا قتل کا کیس درج کیا ہے. متاثرہ اب بھی سٹی اسپتال میں زیر علاج ہے لیکن اب متاثرہ کے بھائی عبدالحسیب خان نے یہ سنگین الزام عائد کیا ہے. پولس نے اقدام قتل کا کیس درج کرنے کے بجائے غیرارادتا قتل کا کیس درج کیا ہے, جبکہ منصوبہ بند طریقے سے میرے بھائی کو بلا کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور پٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی, لیکن جب ہم نے پولس کو اقدام قتل کا کیس درج کرنے کی درخواست کی تو پولس افسر کا کہنا ہے کہ اس میں اقدام قتل کا کیس نہیں بنتا, جبکہ میرے بھائی کی جان خطرہ میں ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ جب سے یہ واقعہ پیش آیا اس وقت سے کئی لوگوں نے ہم پر کیس واپس لینے کا دباؤ ڈالا ہے اور کئی نامعلوم افراد گھر کے پاس بھی نظر آرہے ہیں. گھر پر کیس واپس لینے کے دباؤ ڈالنے والوں کا کہنا ہے کہ اب جو ہونا تھا ہوگیا, کیس کر کے کچھ حاصل نہیں ہوگا ہم مسلمان ہے اور آپ کو یہیں رہنا ہے اس لئے آپس میں صلح کر کے کیس واپس لے لو. لیکن ہمیں انصاف ملے گا اس لئے ہم پولس کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس پر توجہ دے جو بھی خاطی اس میں ملوث ہے اس پر سخت کارروائی ہو. عبدالحسیب نے الزام عائد کیا کہ مقامی پولس سیاسی دباؤ میں کام کررہی ہے اور اس لئے غیر ارادتا قتل کا کیس درج کیا گیا ہے, جبکہ یہ معاملہ اقدام قتل کا ہے۔ وی بی نگر کے سنئیر پولس انسپکٹر پوپٹ آہواڑ نے کہا کہ اس معاملہ میں غیر ارادتا قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش جاری ہے. پنچنامہ سمیت دیگر دستاویزات بھی پولس نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے, سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کیا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی میں تجارت کے نام پر ایک 72 سالہ شخص کو دیا گیا 350,000,000 روپے کا دھوکہ اور اس فراڈ کا چار سال تک پتہ نہیں چلنے دیا۔

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی کے 72 سالہ بھرت ہرک چند شاہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ انہوں نے چار سالوں میں اپنے نام پر 35 کروڑ روپے کا نقصان کیا ہے۔ ماتونگا ویسٹ میں رہنے والے شاہ نے الزام لگایا کہ بروکریج فرم گلوب کیپٹل مارکیٹس لمیٹڈ نے ان کی بیوی کے اکاؤنٹ کو غیر مجاز تجارت کرنے کے لیے استعمال کیا اور اسے بار بار گمراہ کیا۔ گھوٹالہ 2020 میں شروع ہوا جب شاہ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر فرم کے ساتھ ڈیمیٹ اور ٹریڈنگ اکاؤنٹ کھولا۔

شاہ اور ان کی اہلیہ پرل میں کینسر کے مریضوں کے لیے کم کرائے کا گیسٹ ہاؤس چلاتے ہیں۔ 1984 میں اپنے والد کی موت کے بعد، شاہ کو وراثت میں اسٹاک پورٹ فولیو ملا۔ اسٹاک مارکیٹ کے بارے میں ان کی سمجھ میں کمی کی وجہ سے، پورٹ فولیو سالوں تک غیر لین دین کا شکار رہا۔ 2020 میں، ایک دوست کے مشورے پر، شاہ نے گلوب کیپیٹل کے ساتھ اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر ڈیمیٹ اور ٹریڈنگ اکاؤنٹ کھولا۔ اس نے وراثت میں ملنے والے تمام حصص کمپنی کو منتقل کر دیے۔ ابتدائی دنوں میں، کمپنی کے نمائندوں نے اس سے باقاعدگی سے رابطہ کیا، اسے یقین دلایا کہ کسی اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ہوگی اور یہ کہ حصص کو بطور ضمانت استعمال کرکے تجارت محفوظ رہے گی۔ کمپنی نے شاہ کو بتایا کہ وہ ذاتی رہنما مقرر کریں گے۔ اس بہانے سے، دو ملازمین، اکشے باریا اور کرن سیرویا نے اپنے پورٹ فولیو کو سنبھالنے کی آڑ میں اس کے اکاؤنٹس کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ابتدائی طور پر ان ملازمین نے روزانہ شاہ کو ٹریڈنگ آرڈر فراہم کرنے کے لیے فون کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، انہوں نے شاہ کے گھر جانا شروع کر دیا، اپنے لیپ ٹاپ سے ای میل بھیجنا شروع کر دیا، اور صرف وہی معلومات فراہم کرنا شروع کیں جو وہ چاہتے تھے۔ شاہ نے بار بار او ٹی پی داخل کیا، پیغامات کھولے، اور بغیر کسی شک کے ہدایات پر عمل کیا۔ رفتہ رفتہ ملازمین نے مکمل کنٹرول کر لیا۔ مارچ 2020 سے جون 2024 تک، شاہ کو سالانہ منافع ظاہر کرنے والے بیانات ای میل کیے گئے، جس نے ان کے دھوکہ دہی کے شبہ کو ٹال دیا۔

جولائی 2024 میں، شاہ کو کمپنی کے رسک مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے اچانک ایک کال موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ ان کے اور ان کی اہلیہ کے پاس 35 کروڑ (تقریباً 35 ملین ڈالر) کا ڈیبٹ بیلنس ہے۔ اس نے کہا کہ وہ فوری طور پر ادائیگی کرے ورنہ اس کے حصص فروخت کر دیے جائیں گے۔ کمپنی پہنچنے پر شاہ کو بتایا گیا کہ ان کے نام پر بڑے پیمانے پر غیر مجاز تجارت ہوئی ہے۔ کروڑوں روپے مالیت کے حصص اس کے علم میں لائے بغیر فروخت ہو گئے اور مسلسل سرکلر ٹریڈز کے نتیجے میں کافی نقصان ہوا۔ اپنے باقی ماندہ اثاثوں کو بچانے کے لیے، شاہ کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے بقیہ حصص بیچ کر مکمل 35 کروڑ (تقریباً 35 ملین ڈالر) واپس کرے۔ بعد میں اس نے باقی تمام حصص کسی دوسری کمپنی کو منتقل کر دیے۔ جب شاہ نے کمپنی کی ویب سائٹ سے اصل ٹریڈنگ اسٹیٹمنٹ ڈاؤن لوڈ کیا اور اس کا موازنہ ای میل کے ذریعے موصول ہونے والے منافع کے بیان سے کیا، تو اس نے اہم تضادات دریافت کیے۔ اس نے یہ بھی دریافت کیا کہ این ایس ای نے کئی نوٹس بھیجے تھے، جس کا کمپنی نے ان کے نام سے جواب دیا، لیکن انہیں کبھی بھی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

شاہ نے کہا کہ چار سال تک کمپنی نے ہمارے سامنے جھوٹی تصویر پیش کی جبکہ حقیقی نقصانات بڑھتے رہے۔ شاہ نے اسے منظم مالی فراڈ قرار دیا۔ اس نے ونرائی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی۔ دیگر دفعات کے علاوہ تعزیرات ہند کی دفعہ 409 (مجرمانہ بھروسہ کی خلاف ورزی) اور 420 (دھوکہ دہی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اب اسے مزید تفتیش کے لیے ممبئی پولیس کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com