Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

کشمیر انتظامیہ نے فاروق عبداللہ کو حضرت بل جانے سے روک دیا

Published

on

FAROOQ ABDULLAH

جموں و کشمیر انتظامیہ نے نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو جمعے کے روز عید میلاد النبی (ص) کے موقع پر درگاہ حضرت بل جانے سے روک دیا نیشنل کانفرنس نے انتظامیہ کی اس حرکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عبادت کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔
نیشنل کانفرنس نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا: ‘جموں و کشمیر انتظامیہ نے پارٹی لیڈر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کو بند کیا ہے اور انہیں نماز پڑھنے کے لئے درگاہ حضرت بل جانے سے روک دیا۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس عبادت کے بنیادی حق، خاص طور پر عید میلاد النبی (ص) کے متبرک موقع پر، کی اس خلاف ورزی کی مذمت کرتی ہے’۔
پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘ڈاکٹر فاروق صاحب ایک امن پسند عوامی لیڈر اور منتخب رکن پارلیمان ہیں اور عید میلاد النبی (ص) کے موقع پر ہمیشہ حضرت بل میں نماز ادا کرتے ہیں۔ ایسی شرمناک حرکات سے صرف جموں و کشمیر انتظامیہ اور اس کے آقاؤں کی بدنامی ہوجاتی ہے’۔
دریں اثنا پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو حضرت بل جانے سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘عید میلاد النبی کے موقع پر فاروق صاحب کو حضرت بل جانے سے روکنے سے حکومت ہند کا جموں و کشمیر کے تئیں سخت اپروچ روا رکھنے کا عزم واضح ہوجاتا ہے۔ یہ ہمارے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور قابل مذمت ہے’۔
قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بڑے دنوں کے موقعوں پر ہمیشہ درگاہ حضرت بل میں حاضر ہو کر نماز ادا کرتے ہیں۔
دریں اثنا نیشنل کانفرنس نے پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو عید میلاد النبی کی تقریب سعید کے موقع پر خانہ نظر بند کر کے درگارہ حضرت بل جانے سے روکنے کی انتظامیہ کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے انتظامیہ کے اس اقدام کو غیر قانونی اور بلا جواز قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو مذہبی فرائض ادا کرنے سے روکنا مذہبی آزادی سلب کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نماز جمعہ حضرت بل میں ادا کرنا ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا معمول ہے اور وہ ہر سال عید میلاد النبی پر درگاہ پر حاضری دیتے تھے اور آج بھی حسب قدیم اُن کا حضرت بل میں ہی نماز ادا کرنے اور حاضری دینے کا پروگرام تھا تاہم انتظامیہ نے اُن کے گھر کے سامنے بندشیں عائد کر کے انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔
ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس انتظامیہ کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور نماز کی ادائیگی سے روکنے کی کارروائی کو مذہبی آزاد سلب کرنے کے مترادف قرار دیتی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com