Connect with us
Wednesday,18-March-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

یوپی میں کانوڑ یاترا کی اجازت نہیں، نظرثانی کرنے کا سپریم کورٹ کا مشورہ

Published

on

Supreme-Court

سپریم کورٹ نے جمعہ کو واضح کر دیا کہ اتر پردیش حکومت کو کانوڑ یاترا سے متعلق اپنے فیصلے پر عمل درآمد کی اجازت نہیں ہو گی۔ جسٹس روہنگٹن ایف نریمن اور جسٹس بی آر گوائی کی بینچ نے کہا کہ کووڈ وباء کے پیش نظر ریاستی حکومت کو کانوڑ یاترا سے متعلق حکم پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ریاستی حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے، اور پیر تک بینچ کو معلومات فراہم کرائے۔

سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشارمہتا نےعدالت کو بتایا کہ کورونا وباء کے پیش نظر مرکزی حکومت اس طرح کی یاترا کی اجازت نہیں دیتی ہے، اس پرعدالت نے اتر پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈووکیٹ سی ایس ویدیاناتھن سے کہا کہ مرکز کے اس تبصرے کے بعد ریاستی سرکار کانوڑ یاترا کی اجازت نہیں دے سکتی ہے۔

مسٹر ویدیاناتھن نے عدالت سے اس معاملے پر غور کرنے کی درخواست کی، لیکن جسٹس نریمن نے کہا ’’یا تو ہم براہ راست احکامات جاری کریں گے یا آپ کو ایک اور موقع دیں گے تا کہ آپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکیں۔‘‘

بعد میں عدالت نے ریاستی حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور پیر تک اسے معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت کانوڑ یاترا کے اپنے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرسکے گی عدالت نے اترپردیش حکومت کے اس فیصلے پراز خود نوٹس لیتے ہوئے بدھ کے روز نوٹس جاری کیا تھا۔ واضح کہ کانوڑ یاترا 25 جولائی سے شروع ہونی ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے کورونا وباء کی شدت کے پیش نظر کانوڑ یاترا پر روک لگا دی ہے، جبکہ اتر پردیش حکومت نے اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا : ہندو سکل سماج کارکن اور خوانچہ فروشوں میں تصادم، بی ایم سی آپریشن کے دوران مار پیٹ، دو مشتبہ افراد حراست میں، پولیس الرٹ

Published

on

street-vendor-police

ممبئی : ممبئی کے کرلا علاقہ میں گزشتہ شب بی ایم سی عملہ کے ہمراہ ایک ہندو سکل سماج کے رضا کار پر حملہ کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کرلا پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر معاملہ درج کر لیا ہے. اس معاملہ میں پولیس نے دو افراد کو زیر حراست بھی لیا ہے پولیس نے بتایا کہ گزشتہ شب 7 بجکر 41 منٹ پر کرلا آکاش گلی میں بی ایم سی کی کارروائی جارہی تھی اور اس رضا کار نے اس غیر قانونی خوانچہ فروش کی شکایت کی تھی, جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا فی الوقت حالات پرامن ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے۔

کرلا میں خوانچہ فروشوں کے خلاف بی ایم سی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی جاری ہے ایسے میں ہندوسکل سماج اور خوانچہ فروشوں میں تصادم کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش بھی شروع ہوگئی ہے جبکہ پولیس نے اس سے انکار کیا ہے آج بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے متاثرہ اکشے کی بھابھا اسپتال میں جاکر عیادت کی اتنا ہی نہیں اس معاملہ میں کی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا ہے انہوں نے پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کریٹ سومیا نے شرانگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوانچہ فروش مسلم بنگلہ دیشیوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا, اتنا ہی نہیں انہوں نے کہا کہ کرلا اسٹیشن پر پولیس اور بی ایم سی کے سازباز و ملی بھگت کے سبب پھیری والوں ہاکروں خوانچہ فروشوں پر کارروائی میں تال مل کیا جاتا ہے, یہی وجہ ہے کہ یہاں ہاکرس کی غنڈہ گردی بڑھ گئی ہے. ایک ماہ قبل ہی خوانچہ فروشوں نے مل کر نوجوانوں پر حملہ کر دیا ان کے سر پر چوٹ آئی تھی. اس کے ساتھ ہی بھانڈوپ میں بی ایم سی افسران و اہلکاروں ور لوکھنڈوالا میں بھی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے. انہوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی میں مسلم بنگلہ دیشی ہاکروں کے سبب اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. اس لئے مسلم بنگلہ دیشی خوانچہ فروشوں پر سخت کارروائی ہو, انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشیوں اور پھیری والوں کے خلاف ان کی مہم جاری رہے گی۔ کریٹ سومیا نے کہا کہ اکشے اپنی بہن کے ساتھ کرلا اسٹیشن کی جانب جارہا تھا کہ اچانک پھیری والوں سے اس کی حجت ہوئی اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا, کرلا میں اس واقعہ کے بعد پولیس نے الرٹ جاری کردیا ہے. ساتھ ہی آکاش گلی میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کرلا پولیس اسٹیشن کے سنیئر انسپکٹر وکاس مہمکر نے کہا کہ آکاش گلی میں مارپیٹ کے واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کر دی ہے, حالات پرامن ہے اور سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس الرٹ ہوگئی ہے, جبکہ کشیدگی کے بعد صورتحال پرامن ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونہ لب جھیل : مسلم نوجوانوں پر تشدد، حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی ہو، ابوعاصم اعظمی کا خاطیوں پر کیس درج کرنے کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : پونہ سسورڈ لب جھیل میں مسلم نوجوانوں پر افطار کے دوران مسلح سو سے دو سو حملہ آوروں کا حملہ انتہائی تشویشناک ہے اس حملہ کے بعد پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں پر زور مطالبہ کیا ہے کہ خاطیوں شرپسندوں پر سخت کارروائی کی جائے اور ان پر اقدام قتل کا کیس درج ہو, کیونکہ ان مسلم نوجوانوں پر ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا, اس کے باوجود پولیس نے معمولی دفعات میں کیس درج کیا ہے, جو سراسر غلط ہے. آج حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں, اگر کوئی باہر نماز ادا کرتا ہے تو اس پر حملہ کیا جاتا ہے ماضی میں مسجد کے باہر ہندو عورتیں اپنے بچوں کو لے کر کھڑا ہوجایا کرتی تھی کہ نمازی سے اپنے بچوں کیلئے دعا کروائیں اور وہ بچے کے سر پر پھونک مارتے تھے, لیکن اب نماز پڑھنے پر واویلا مچایا جاتا ہے. اس کے ساتھ ہی تشدد کیا جاتا ہے انہو ں نے کہا کہ شیواجی مہاراج کے اصولوں پر ریاست کا کام کاج چلے گا یہ دعوی کیا جاتا ہے, لیکن آج حالات کچھ اس طرح سے کہ منہ میں رام بگل میں چھری والا معاملہ ہوگیا ہے. انہوں نے کہا کہ یہ غنڈہ گردی بند ہونی چاہئے اور میں یہاں اسمبلی میں ہوں اور نماز کا وقت ہوجائے تو میں کہاں نماز ادا کروں گا. اسی طرح سے اگر کوئی کھیت میں ہے تو وہاں نماز ادا کرتا ہے جو جس جگہ ہے وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے, لیکن آج حالات کچھ اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کی عبادت پر اعتراضات کئے جاتے ہیں جو سراسر غلط ہے, اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور جو کوئی ماحول خراب کرتا ہے, اس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کرلا میں غیرقانونی ہاکروں اور ہوٹلوں پر کارروائی ہو گی، ہاکروں پر ایف آئی آر درج کرنے کا بی ایم سی کا انتباہ، موثر کارروائی کےلیے پولس مستعد

Published

on

ممبئی : کرلا علاقہ میں ایک مرتبہ پھر غیرقانونی ہاکروں کے خلاف کارروائی پر ہندوسکل سماج نے سخت کارروائی کامطالبہ کر تے ہو ئے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے بعد بی ایم سی اب ایسے ہاکروں کےخلاف کیس درج کرے گی جو بارہا راستہ اور فٹ پاتھ پر قبضہ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں یا پھر کارروائی میں مداخلت کی ہے ہاکروں پر کارروائی مزید موثر بنانے کےلیے پولس اور بی ایم سی ایل وار ڈ مشترکہ کارروائی کرے ہاکروں کے سبب اہلیان کرلا کو کافی پریشانیوں کا سامنا ہے جس کے بعد ایل وار ڈ میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈی ایم سی سرشاگر نے یہ واضح کیاہے کہ کرلا کو ہاکرس سے پاک کرنے کے ساتھ غیر قانونی قبضہ جات پر کارروائی ہوگی۔
اسسٹنٹ میونسپل کمشنر دھناجی ہیرلیکر نے کہا کہ ایل وار ڈ کرلا کی حدود میں جو کارروائی جنوری میں جاری تھی اس میں مزید پیش رفت کرنے کے ساتھ موثر انداز میں کارروائی کےلیے اب ایف آئی آر کا اندراج ہوگا بی ایم سی کی شکایت پر پولس اب اس معاملہ میں کیس درج کرے گی اس میٹنگ میں کرلا سنئیر پولس انسپکٹروکاس مہمکر نے کاروائی میں ہر طرح سے تعاون کا یقین دلایا ہے اس سے قبل سکل ہندو سماج نے پھیری والوں اور ہاکروں کو فرقہ وارانہ اور مذہبی رنگ دینے کی بھی کوشش کی اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں غیرقانونی افطار پارٹی اور سڑک پر بلا اجازت افطار پارٹی پر بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اتناہی نہیں مارکیٹ میں عارضی نماز کی کے شیڈ کو بھی ہٹانے کا مطالبہ ہے اس پر بی ایم سی افسران نے ضروری کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔
کرلا میں غیرقانونی فٹ پاتھ پر قبضہ کو لے کر بی ایم سی اب حرکت میں آگئی ہے اس لئے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر دھناجی ہیرلیکر نے یہ واضح کیا ہے کہ سڑکوں اور فٹ پاتھ پر جن ہوٹلوں نے قبضہ کیا ہے اس پر بھی کارروائی کی جائے گی یہ کارروائی ٹریفک پولس اور پولس عملہ کے ساتھ مل کر انجام دی جائے گی بی ایم سی کی یقین دہانی کے بعد سرکل ہندو سماج نے اپنا مورچہ ختم کر دیا۔ بی جے پی لیڈر روپیش پوار نے کہا ہے کہ کرلا سہارا ہوٹل سے لے کر ایل بی ایس مارگ تک ہوٹلوں نے فٹ پاتھ پر قبضہ کر رکھا ہے یہاں ٹریفک مسئلہ ہے اسی مقام پر پانچ اسپتال ہے اگر کوئی مریض انتہائی تشویشناک حالت میں رہا تو اس کو اسپتال تک پہنچانا مشکل ہوتا ہے اس میں کئی مریض کی جان بھی فوت ہو گئی ہے اس لئے ان ہوٹلوں پر بھی کارروائی ضروری ہے جو فٹ پاتھ پر کاروبار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کرلا کے شہری فٹ پاتھ کےلیے پریشان ہے اور بی ایم سی اگر اس پر کارروائی میں تساہلی کرتی ہے تو اس متعلق احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی بی ایم سی کو ہندسکل نے انتباہ دیا ہے کہ اگر غیر قانونی کاروبار اور پھیری والوں پر کارروائی نہیں کی گئی تو احتجاج میں مزید شدت ہوگی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان