Connect with us
Wednesday,19-August-2026

جرم

سری نگر میں صحافیوں کا نئی میڈیا پالیسی کے خلاف احتجاج، کہا: ‘ہماری آواز نہیں گلا ہی گھونٹ دیں’

Published

on

جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں پیر کے روز صحافیوں کے ایک گروپ نے حکومت کی نئی میڈیا پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کی صبح صحافیوں کے ایک گروپ نے یہاں ‘جموں وکشمیر میڈیا گلڈ’ کے بینر تلے مشتاق پریس اینکلیو میں جمع ہو کر مذکورہ میڈیا پالیسی، جس کو حال ہی میں نافذ کیا گیا ہے، کے خلاف احتجاج کیا۔
احتجاجی صحافی ‘سرکاری کی میڈیا پالیسی منظور نہیں منظور نہیں، میڈیا پالیسی کو واپس لو واپس لو، سینسرشپ کو ختم کرو ختم کرو’ جیسے نعرے لگا رہے تھے جبکہ احتجاجیوں نے اپنے ہاتھوں میں بینرس اٹھا رکھے تھے جن پر ‘میڈیا پالیسی’ کے خلاف نعرے درج تھے۔
واضح رہے کہ جموں وکشمیر حکومت نے حال ہی میں پچاس صفحات پر مشتمل ایک نئی ‘میڈیا پالیسی’ نافذ کی ہے جس کے تحت حکومت اخبار، ٹی وی چینلز یا دیگر میڈیا اداروں کی طرف سے شائع، جاری یا نشر ہونے والے مواد کی نگرانی کرے گی اور سرکاری حکام یہ فیصلہ کریں گے کہ فرضی خبر کون سی ہے اور سماج مخالف یا پھر ملک مخالف رپورٹنگ کیا ہے۔
مذکورہ میڈیا پالیسی کے تحت جو میڈیا تنظیمیں فرضی خبریں یا پھر ملک مخالف خبریں شائع کرنے کی مرتکب پائی جائیں گے ان کا رجسٹریشن ختم کر دیا جائے گا، سرکاری اشتہارات بند کر دیے جائیں گے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
نئی میڈیا پالیسی میں کسی بھی صحافی کے ایکریڈیشن کے لئے اس کا سیکورٹی چیک لازمی قرار دیا گیا ہے نیز اخبار کے رجسٹریشن اور سرکاری اشتہارات کے حصول کے لئے مالکان، ایڈیٹرز اور دیگر ملازمین کے بیک گراؤنڈ کو چیک کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کی ‘میڈیا پالیسی’ کے خلاف پیر کو ہونے والے احتجاج، جو غالباً صحافیوں کی طرف اس کے خلاف پہلا احتجاج ہے، کے دوران ایک سینئر صحافی نے بتایا: ‘پہلے ہم نے پریس ریلیز کے ذریعے حکومت سے کہا کہ وہ مذکورہ میڈیا پالیسی کو واپس لے لیں لیکن حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور ہمیں سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہونا پڑا’۔
انہوں نے کہا: ‘حکومت کی میڈیا پالیسی صحافیوں کے خلاف ہے اور ہم اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ صحافی لوگوں اور حکومت کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں۔ اگر ان سے لکھنے اور بولنے کا حق چھین لیا جائے تو کیا غیر جانبداری رہے گی؟’
مذکورہ صحافی نے کہا کہ نئی میڈیا پالیسی صحافیوں کے کام پر ڈاکہ ڈالنے اور ان کے پر کاٹنے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا: ‘اگر صحافیوں کی آواز بند کرنا ضروری ہے تو ہمیں گھروں میں ہی بیٹھنے کے لئے کہہ دیں۔ پالیسی کے مطابق اگر ہمیں کوئی خبر کرنی ہے تو ہمیں پولیس سے رابطہ قائم کرنا ہے۔ کس ریاست یا مالک میں ایسا اندھا قانون ہے؟’
موصوف سینئر صحافی نے کہا کہ اگر حکومت ہند کہتی ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی قانون چلے گا تو جموں وکشمیر کے حوالے سے دوہری پالیسی کیوں اپنائی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ہم حکومت ہند اور بالخصوص جموں وکشمیر حکومت سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئی میڈیا پالیسی کو فی الفور واپس لیا جائے۔ ابھی یہ ابتدائی مرحلہ ہے۔ ہمیں نہیں پتہ آگے یہ اور کیا کرنے والے ہیں۔ اگر صحافیوں کی آواز کو دبانا ہے تو ہمارے گلے ہی گھونٹ دیں’۔
احتجاج میں حصہ لینے والے ایک اور سینئر صحافی نے کہا کہ ‘سرکار نے رواں برس جون میں ایک نئی میڈیا پالیسی لائی ہے جو تمام اخبارات، نیوز چینلز اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف ہے’۔
بقول ان کے: ‘اس پالیسی میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ کو کوئی رپورٹ کرنی ہے تو آپ کو پہلے سرکار اور پولیس سے اجازت حاصل کرنی ہے۔ اگر آپ نے اس کے برعکس کیا تو آپ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا، آپ کی رجسٹریشن منسوخ ہوگی اور اگر آپ اخبار چلاتے ہیں تو آپ کے اشتہارات بند کئے جائیں گے’۔
انہوں نے کہا: ‘ہمارے کچھ ساتھیوں کے خلاف انہوں نے پہلے ہی مقدمے درج کئے ہیں۔ جس میں ہماری ایک بچی بھی شامل ہیں۔ ہم سرکار کا مائوتھ پیس نہیں بنا چاہتے ہیں۔ ہم سرکار کا مائوتھ پیس بنیں گے تو لوگ ماریں گے۔ اس لئے ہمارے لئے بہتر یہی ہوگا کہ ہم اپنے اخبارات ہی بند کریں’۔
موصوف صحافی کا مزید کہنا تھا: ‘ہم آپ کی جمہوریت کے چوتھے ستون ہیں۔ جتنا آپ اہم ہیں اتنے اہم ہم بھی ہیں۔ ہمیں اپنے طریقے سے کام کرنے دیجئے۔ ہمیں پرسکون ماحول میں لکھنے دیجئے’۔

جرم

ممبئی ساکی ناکہ میں نقب زنی، 4 گرفتار مسروقہ سامان بھی برآمد

Published

on

Arrested..5

ممبئی : ساکی ناکہ پولیس نے شکایت کنندہ کباڑی محمد حسین عبدالکر یم کی بھنگار کباڑی کی دکان میں نقب زنی کا معمہ حل کرتے ہوئے ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ کباڑی کی دکان سے 22 کلو چاندی اور نقدی کل 44 لاکھ روپے کی چوری ہوئی تھی, یہ شاپ انیس کمپاؤنڈ میں واقع تھا۔ اس متعلق پولیس نے شکایت درج کی تھی۔ اسی بنیاد پر ممبئی پولیس کے ڈٹیکشن عملہ نے چوروں کا سراغ لگایا چار ملزمین کو گرفتار کر کے 44 لاکھ کی چاندی اور ایک موبائل فون بھی ضبط کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ملزمین کی شناخت مقصود شاہ 20 سالہ اتر پردیش ممبئی میں ساکی ناکہ کا ساکن, ذیشان عبدالسبحان 20 سالہ ممبرا ڈائیگھر کا ساکن, اخبر حسین غلام مرتضی 27 سالہ ممبرا اور عرفان نور اللہ خان 26 سالہ سدھارتھ نگر یو پی کے طور پر ہوئی ہے چاروں ملزمین کو گرفتار کر کے مسروقہ مال برآمد کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان