(جنرل (عام
بھونڈی پترکار سنگھ کی جانب سے یوم صحافت بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا
بھیونڈی پترکار سنگھ و پنچایت سمیتی کی جانب سے مشترکہ طور سے بھیونڈی پنچایت سمیتی کےآڈیٹوریم میں بدھ کے روز یوم صحافت کا انعقاد کیا گیا تھا۔اس موقع پر بھیونڈی پنچایت سمیتی کی ڈپٹی چیئرمین صبیہ بھورے ، ضلع پریشد کے سابق نائب صدر عرفان بھورے۔ ، گٹ وکاس آفیسر ڈاکٹر پردیپ گھورپڑے ، اسسٹنٹ گٹ ویکاس آفیسر اویناتھ موہیت ، بھیونڈی پترکار سنگھ کی صدر کسم دیشمکھ ، سکریٹری رتن کمار تیجے ، پنڈھری ناتھ کمبھار ، راجیندر کاباڑی ، شرد بھسالے موجود تھے۔بھیونڈی کے صحافی ہمیشہ مختلف قسم کے پروگرام کا انعقاد کرکے پترکاروں کے ساتھ ہی سماج کو انصاف دلانے کا کام کرتے ہیں اس طرح کا اظہار خیال بھیونڈی پنچایت سمیتی کی ڈپٹی چیئرمین صبیہ بھورے نے اپنے خطاب میں کیا۔ صحافی اپنی تحریروں کے ذریعہ جمہوریت کو مستحکم کرنے ، اور ناانصافیوں ، مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کا کام اپنی بے باک صلاحیت کی بنیاد پر کرتے ہیں۔اس قسم کے کا اظہار خیال بھیونڈی پترکار سنگھ کی صدر محترمہ کسم دیشمکھ نے اپنے خطاب میں کیا۔ کورونا بحران کے دوران بھیونڈی کے پترکاروں نے بہت اچھا کام کیا ہے جس کے نتیجے میں انتظامیہ کو مدد ملی ہے۔ اس قسم کی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ، صحافیوں کی ستائش گٹ وکاس آفیسر ڈاکٹر پردیپ گھورپڑے نے کی ہے۔ صحافت معاشرے کا ایک اہم جزو ہے ، صحافی دن جب آپ باقاعدگی سے ہر سال شروع رکھیں ، اس قسم کی رائے عرفان بھورے نے ظاہر کی ہے ، موجودہ کام اور صحافت کو عوام تک پہنچنا چاہئے ، صحافتی میدان میں آپ کا کام مستند ہونا چاہئے، اس طرح کا اظہار خیال سینئر صحافی پنڈھری ناتھ کمبھار نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔اس موقع پر بھیونڈی پترکار سنگھ اور پنچایت سمیتی بھیونڈی نے مشترکہ طور پر بھونڈی کے صحافیوں کو اعزاز سے نوازا ۔پروگرام میں نظامت کے فرائض سینئر صحافی سنجے بھوئیر اور صحافی نتن پنڈت نے رسم شکریہ ادا کیا ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ایکناتھ شندے کا آپریشن ٹائیگر کامیاب… ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا یو بی ٹی میں بغاوت, سنجے راؤت برہم

ممبئی آپریشن ٹائیگرکامیاب ہوگیا ہے شندے سینا نے شیوسینا یو بی ٹی کے ۶اراکین پارلیمنٹ کو دوسرا گروپ تیار کرنے پر مجبور کر نے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے بعد اب یو بی ٹی میں دوبارہ بغاوت شروع ہوگئی ہے خودمختار گروپ کو بھی لوک سبھا اسپیکر نے منظوری دیدی ہے اب یہ ۶اراکین پارلیمان جلد ہی شیوسینا شندے پارٹی میں انضمام کر سکتے ہیں۔ آپریشن گائیگر کے بعد ادھو ٹھاکرے گروپ کے ایم پی سنجے راؤت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادھو ٹھاکرے نے ان اراکین پارلیمنٹ کے لئے کیا نہیں کیا اس کے باوجود ان لوگوں نے بے ایمانی کی ہے یہ بے ایمان ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ باغی اراکین پارلیمان دلی میں ہی خیمہ زن ہے اور آئندہ دو دنوں میں یہ شندے گروپ میں انضمام کریں گے ریاست میں آپریشن گزشتہ کئی دنوں سے جاری تھا اور جون میں دلی میں انڈیا الائنس کی ایک میٹنگ بھی ہوئی تھی اس میٹنگ میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے آپریشن ٹائیگر کو ہری جھنڈی دی تھی دلی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھاکرے گروپ کے باغی اراکین پارلیمان کو رکھا گیا ہے اتوار کو ادھو ٹھاکرے نے اپنے اراکین پارلیمان کی ایک میٹنگ بھی لی تھی جس میں پانچ اراکین پارلیمان نے آن لائن میٹنگ میں شرکت کی تھی جس کے سبب کسی کو ان پر شبہ نہیں ہوا تھا شیوسینا میں دوسری مرتبہ یہ سب سے بڑی پھوٹ ہے ایسے میں شیوسینا کے اراکین پارلیمان کی بغاوت کے بعد شیوسینا پوری طرح سے کمزور ہوگئی ہے ان باغی اراکین پارلیمان میں سنجے دیشمکھ ایوت محل سنجے جادھو پربھنی سننجے دیناپاٹل ممبئی ناگیش پاٹل ہنگولی امرراجے نمبالکر دھارا شیو شامل ہے۔ ان اراکین پارلیمان کی بغاوت کے بعد شیوسینا میں ناراضگی پائی جارہی ہے سنجے راؤت ان پر برہم ہیں ان کا کہنا ہے کہ اتنا سب کچھ ادھو ٹھاکرے نے ان کیلئے کیا لیکن یہ لوگ بے ایمان ہوگئے
ممبئی پریس خصوصی خبر
مسلم طلبا گورنمنٹ کی اسکیموں سے محروم… ڈرون پائلٹ’ ٹریننگ اسکیم کے لیے صرف ہندو امیدواروں سے درخواستیں قبول کی جاتی ہیں : رئیس شیخ

ممبئی : حکومت کے ‘امرت ‘ انسٹی ٹیوٹ اسکیموں سے مسلم نوجوانوں و طلباکو محروم ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کے دیگر پسماندہ بہوجن بہبود کے محکمے کے تحت چلائے جانے والے انسٹی ٹیوٹ کے ڈرون پائلٹ ٹریننگ پروگرام کے لیے درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں، جب کہ مسلمان امیدواروں کی آن لائن درخواستیں قبول نہیں کی جا رہی ہیں۔وزیر اتل سیو اور مہاراشٹر ریسرچ، ایڈوانسمنٹ اینڈ ٹریننگ (امروت) انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو لکھے اپنے خط میں، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ امرت انسٹی ٹیوٹ نے 30 جون تک درخواستیں طلب کی ہیں ڈرون پائلٹ ٹریننگ کے لیے جس کا مقصد اوپن کیٹیگری کے معاشی طور پر کمزور طبقوں (ای ڈبلیو ایس) کے امیدواروں کے لیے ہے۔ “تاہم، جب درخواست دہندگان آن لائن فارم کو بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں اپنے مذہب اور ذات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پورٹل صرف ہندو برادریوں کے لیے ذات کے اختیارات پیش کرتا ہے، جس سے مسلمان درخواست دہندگان کو کامیابی سے اپنی درخواستیں جمع کرانے سے روکتا ہے۔شیخ نے بتایا کہ انہیں اس مسئلے کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ امرت انسٹی ٹیوٹ کا مقصد اوپن کیٹیگری میں معاشی طور پر کمزور طبقات کی خدمت کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک خود مختار سرکاری ادارے کے طور پر، امرت کی بانی حکومتی قرارداد (22 اگست 2019) میں کسی مخصوص مذہب کا ذکر نہیں ہے۔ اس کا مقصد اوپن کیٹیگری میں مختلف کمیونٹیز کے لیے کام کرنا ہے۔ لہذا، اس طرح سے درخواستوں پر پابندی لگانا قواعد کے منافی ہے، انہوں نے دعویٰ کیا۔مہاراشٹر حکومت نے مختلف سماجی گروہوں کے لیے کئی ادارے قائم کیے ہیں، جن میں بارتی، آرتی، سارتھی، مہاجیوتی، مارتی، اور امرت شامل ہیں۔ اگرچہ ہر ادارہ کسی خاص ہدف والے گروپ پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے، لیکن وہ کسی حد تک تربیت کے مواقع اور دیگر کمیونٹیز کو فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔شیخ نے مزید کہا کہ بے روزگاری اس وقت ریاست بھر میں تمام ذاتوں اور مذاہب کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔ انہوں نے کہا، “امرت کو اصولوں کی اس طرح تشریح نہیں کرنی چاہئے جس سے مسلم نوجوانوں کو ہنر مندی کے مواقع سے محروم کر دیا جائے۔ وزیر اتل سیو جی، جو دیگر پسماندہ بہوجن بہبود کے محکمے کے سربراہ ہیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسلم نوجوانوں کو ان تربیتی پروگراموں سے خارج نہ کیا جائے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹرا فریڈم آف ریلیجن بل 2026 : آئینی حقوق اور اقلیتی خدشات پر ممبئی میں اہم سیمینار، جسٹس ابھے تھپسے اور ماہرینِ قانون کا اظہارِ خیال

ممبئی : “آئینِ ہند ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا مکمل حق دیتا ہے، لیکن حکومت کی یہ روایت بن چکی ہے کہ وہ ‘بتاتی کچھ ہے اور کرتی کچھ اور ہے’۔ ‘مہاراشٹرا فریڈم آف ریلیجن بل 2026’ کا نام بظاہر ‘مذہبی آزادی’ رکھا گیا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد مذہب پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور اقلیتوں کو دبانا ہے۔ جب قانون کی زبان مبہم ہو جائے تو وہ تحفظ کے بجائے تشویش کا سبب بن جاتی ہے، اور یہی ابہام سماجی تانے بانے اور باہمی رواداری کو نقصان پہنچاتا ہے۔” ان خیالات کا اظہار بمبئی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھے تھپسے نے اندھیری ویسٹ کے میئر ہال میں ‘یونائیٹڈ اگینسٹ انجسٹس اینڈ ڈسکریمینیشن’ (یو آئی ڈی اے آئی) اور ‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس’ (اے پی سی آر) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اہم سیمینار میں بطور صدرِ مجلس خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سماج کے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے 250 سے زائد دانشوروں، قانون دانوں اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف قانون دان ایڈووکیٹ لارا جیسانی نے بل کی دفعات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ ملک میں ہیٹ کرائم کو منظم طریقے سے فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس قانون کی شقیں اتنی مبہم ہیں کہ ‘ترغیب’ (رغبت) کی آڑ لے کر تعلیم، شادی، چیریٹی، روزگار اور بالخصوص اقلیتی اسکولوں کی امدادی سرگرمیوں کو بھی جرم کے زمرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قانون کے تحت شادی کے نام پر یا لالچ دے کر تبدیلیِ مذہب پر 10 سال تک کی سزا اور 5 لاکھ روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ مزید برآں، کوئی بھی تیسرا شخص یا پولیس خود اپنی مرضی سے ایف آئی آر درج کر سکتی ہے، اور سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بے گناہی کا ثبوت دینے کی ذمہ داری ملزم پر ڈال دی گئی ہے، جو شہریوں کو سالوں تک بغیر جرم ثابت ہوئے جیلوں میں رکھنے کی ایک سنگین آئینی سازش ہے۔
‘پولیس ریفارمز واچ’ کے ڈولفی ڈی سوزا نے انکشاف کیا کہ اس حساس بل کا مسودہ محض 72 گھنٹوں کے اندر، بنا کسی عوامی مشاورت کے خفیہ طور پر تیار کیا گیا، اس لیے اکثریت اور اقلیت سب کو مل کر اس ‘ڈیوائڈ اینڈ رول’ (تقسیم کرو اور حکومت کرو) کی سیاست کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ ایمان اور آستھا دل کا معاملہ ہے جسے قوانین کے ذریعے بدلا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مولانا عمر گوتم اور مولانا کلیم صدیقی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی عوام دشمن اور غیر جمہوری پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور اسے سیاسی ناکامی کا مظہر قرار دیا۔
اس سے قبل، اے پی سی آر مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری شاکر شیخ نے پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے ملکی صورتحال، بلڈوزر کارروائیوں، ماب لنچنگ اور یو سی سی جیسے تلخ تجربات کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ مسودہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ معروف دانشور عرفان انجینئر نے واضح کیا کہ یہ قانون صرف مسلم یا کرسچن مخالف نہیں، بلکہ پسماندہ طبقات کو دبانے والا ایک ‘اینٹی ہندو’ قانون بھی ہے جو سیکولرزم کے خاتمے کے لیے لایا گیا ہے۔ سیمینار کے اختتام پر جماعت اسلامی ہند ممبئی کے پی آر سیکریٹری سید شریف یونس نے تمام مہمانان اور شرکاء کا رسمِ شکریہ ادا کیا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
