Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

جموں وکشمیر کے بلدیاتی انتخابات: سری نگر (کپواڑہ) میں انتخابی سبھاؤں میں مختار عباس نقوی کا خطاب

Published

on

naqvi

بی جے پی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر مختا ر عباس نقوی نے آج یہاں کہا کہ کانگریس کی ”خموشی“ ، ”گُپکاراعلامیہ“ ، ”خاندانی اور تباہ کن سیاست“ کے لئے ”اعلانِ مرگ“ ثابت ہوگا۔
مسٹر نقوی نے آج کپواڑہ میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”گُپکار گینگ“ ایک ”گمراہی گینگ“ ب ن گیا ہے جو جموں و کشمیر کے عوام میں اپنے تنگ نظر سیاسی مفادات کے لئے خوف اور شکوک وشُبہات کے بھوت کو کھڑا کر رہا ہے۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ ملک کی گرینڈ اولڈ پارٹی کانگریس او ر ”خاندان“ ایسے لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملا رہی ہے جو علیحدگی پسندی – دہشت گردی کو کشمیر کی تقدیر اور تصویر بنانا چاہتے ہیں۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ 370 کی آڑ میں، جموں و کشمیر-لداخ میں عوام کی ترقی کے لئے دیئے گئے سرکاری خزانے کی لوٹ مچانے والوں کی ”خاندانی سیاست کا پاندانی سرور چکنا چور ہو چکا ہے“ کئی دہائیوں کے بعد، بی جے پی جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری عمل اور جامع ترقی کا حصہ دار بنا رہی ہے۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ 370 کے ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر-لداخ کے ”زر، جنگل، زمین“ کے حقوق مکمل طور پر محفوظ اور مضبوط ہیں۔ آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر، لیہہ۔ کارگل کے عوام کے تجارت، زراعت، روزگار، ثقافت، زمین اور جائیداد وغیرہ حقوق کو مکمل آئینی تحفظ دیا گیا ہے۔
جناب نقوی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں منعقد ہونے والے مقامی بلدیاتی انتخابات میں ”گپکار الائنس“ میں شامل ہو نے والی کانگریس کی قیادت کو ملک کے سامنے 370 پر اپنے موقف کو واضح کرنا چاہئے، انہیں بتانا چاہئے کہ 370 نے سات دہائیوں میں، جموں۔کشمیر کو علیحدگی پسندی -دہشت گردی کے سوا کیا دیا ہے؟
جناب نقوی نے کہا کہ آرٹیکل 370 ہٹنے سے پہلے جموں۔ کشمیر کے رہنے والے پہاڑی گجر-بکر والوں، پسماندہ۔ کمزور طبقات کو ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملا تھا؛ تقسیم ہند کے بعد پاکستان سے جموں و کشمیر آنے والے بے گھر افراد کو 70/ برسوں بعد بھی شہریت اور ووٹ دینے کا حق نہیں ملا تھا۔ 2019 میں 370 کو ختم کرکے مرکز کی بی جے پی حکومت نے یہ حقوق دلائے۔ اب کسی بھی اتحاد کو عوام سے ان حقوق کو چھیننے نہیں دیا جائے گا۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ 370 کے خاتمے کے ساتھ جموں و کشمیر، لیہہ۔ کارگل کے علاقوں کی ترقی میں رُکاوٹ بنے تمام قوانین کو ختم کرکے ان علاقوں کی ترقی کی رفتار پر لگے ”اسپیڈ بریکر“ کو زمین بوس کردیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کی مختلف معاشی، تعلیمی ترقیاتی اسکیموں اور پروگراموں کا فائدہ جموں وکشمیر، لیہ کارگل کے عوام کو بھی مل رہا ہے۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ جموں و کشمیر، لیہ کارگل میں انتظامی، زمینی، ریزرویشن وغیرہ امور میں بہتری لائی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کے 890 قوانین نافذ ہو گئے ہیں، ریاست کے 164 قوانین ختم کئے گئے ہیں، 138 قوانین میں اصلاح کی گئی ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن سسٹم کو بہتر بناکر زیادہ سے زیادہ ضرورتمند اور محتاج افراد کو فائدہ پہنچایاگیا ہے۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں کی طرح، جموں و کشمیر، لیہ-لداخ کے عوام کو ”مدرا یوجنا“ ، ”اُجّولا یوجنا“ ، ”اسکالرشپ اسکیمیں“ ، ”جن دھن یوجنا“ ، ”آیوشمان بھارت یوجنا“ ، ”کوشل وکاس کا ریہ کرم“ ، زراعت اور باغبانی کی مختلف مرکزی سرکاری اور دیگر روزگار پَرَ ک اسکیموں وغیرہ کا فائدہ بڑے پیمانے پر مل رہا ہے۔ جموں، کشمیر، لداخ کو ”سرمایہ کاری کا مرکز“ بنانے کی سمت میں اقدامات کئے گئے ہیں۔ عالمی سرمایہ کاری کی کانفرنس سے تقریباً 14 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری آئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com