(جنرل (عام
جمعیۃ علماء ہند بھی سوسائٹی کا ایک حصہ، یوپی حکومت کے اعتراض پرسپریم کورٹ کا تبصرہ، اس طرح کے ظلم پرجمعیۃ علماء ہند خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی : مولانا ارشد مدنی
یوپی کے مختلف اضلاع میں ایک ہفتہ سے جاری غیر قانونی انہدامی کارروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی داخل کردہ عرضی پر آج سپریم کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے یو پی حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت اگلے منگل تک ملتوی کر دی۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود آئین مخالف اقدامات کر رہے ہیں۔
جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق جمعیۃ علماء کے وکلاء نے عدالت سے اسٹے کی گذارش کی تھی، لیکن عدالت نے یہ کہا کہ انہیں امید ہے کہ اب یو پی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر بلڈوزر نہیں چلایا جائے گا، اور اگر کسی غیر قانونی عمارت کو منہدم ہی کرنا ہے تو قانونی کارروائی مکمل کیئے بغیر کسی طرح کی انہدامی کارروائی انجام نہ دی جائے۔ آج تقریباً آدھا گھنٹے تک بحث چلی جس کے دوران فریقین کی جانب سے گرما گرم بحث ہوئی۔ دو رکنی تعطیلاتی بینچ کے جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کے روبرو جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکلاء نتیا راما کرشنن اور سی یو سنگھ پیش ہوئے، جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ کارروائی پر عدالت نے غیر قانونی بلڈوزر انہدامی کارروائی پر نوٹس جاری کیئے جانے کے بعد بھی یوپی میں غیر قانونی طریقے سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہے، جس پر روک لگانا ضروری ہے، نیز ان افسران کے خلاف کارروائی کرنا بھی ضروری ہے، جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑا کر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔
سینئر وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ایمرجنسی کے دوران اور آزادی سے پہلے بھی ایسی بربریت نہیں ہوئی تھی، جیسی آج یو پی میں کی جا رہے۔ یوپی ریاست کے اعلی افسران نے میڈیا میں کھلے عام بیان دیا کہ بلڈوز کا استعمال فساد کرنے کا بدلا ہے، جسے ایک ایک ملزم سے لیا جائے گا۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ جاوید نامی ایک شخص کا مکان منہدم کیا گیا جو اس کے نام پر تھا ہی نہیں، بلکہ مکان اس کی اہلیہ کے نام پر تھا، اسی طرح دیگر مکانات کو بھی غیر قانونی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
وکلاء نے عدالت کو مزید بتایا کہ کئی جگہوں پر ایک رات قبل نوٹس چسپاں کر کے دوسرے ہی دن سخت پولس بندوبست میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی، جس کی وجہ سے متاثرین عدالت سے رجوع بھی نہیں ہوسکے نیز ڈر و خوف کے اس ماحول میں متاثرین براہ راست عدالت سے رجوع ہونے سے قاصر ہیں۔
یو پی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے اور سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ آج عدالت میں متاثرین کی بجائے جمعیۃ علماء ہند آئی ہے، جس کی پراپرٹی کو نقصان نہیں ہوا ہے، جس پر بینچ نے انہیں کہا کہ لا قانونیت نہیں ہونا چاہئے، اس کو مدعا نہیں بنانا چاہئے کہ کون عدالت کے سامنے آیا ہے، جمعیۃ علماء بھی سوسائٹی کا ہی حصہ ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس کا گھر بلڈوز کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ عدالت نہیں پہنچ پاتا۔ جسٹس بوپنا نے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے سے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں عدالت کا مداخلت کرنا ضروری ہے اور اگر عدالت نے مداخلت نہیں کی تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔ انصاف ہوتے ہوئے دکھائی دینا چاہئے، لہٰذا ابھی تک کی گئی انہدامی کارروائی پر اگلی سماعت پر عدالت میں حلف نامہ داخل کریں۔
وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی شروع کیئے جانے سے قبل پندرہ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے، نیز اتر پردیش بلڈنگ ریگولیشن ایکٹ 1958 / کی دفعہ 10/ کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دینا چاہئے، اسی طرح اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی سے قبل 15/ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے، اسی کے ساتھ ساتھ اتھاریٹی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا بھی حق ہے، اس کے باوجود بلڈوز چلایا جا رہا ہے۔
یو پی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے وکلاء نے بتایا کہ شو کاز نوٹس دینے کے بعد ہی انہدامی کاررائی انجام دی گئی ہے نیز حکومت کی طرف سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے جس پر اعتراض کیا جائے، یو پی حکومت اس تعلق سے حلف نامہ داخل کرنے کو تیار ہے۔
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے عرضی پر سپریم کورٹ کی فوری مداخلت اور عدالت کے ذریعہ اتر پردیش سرکار کو تین دن کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا یہ عبوری حکم خوش آئند ہے، اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ حتمی فیصلہ بھی مظلومین کے حق میں ہوگا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، یہاں آئین اور دستور ہے، قانون پر عمل کرنا سبھی کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود آئین مخالف اقدامات کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ پر امن احتجاج عوام کا بنیادی حق ہے، حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہ دینا احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج کرنا، انہیں گرفتار کر لینا، پولس اسٹیشن میں جانوروں کی طرح مارنا پیٹنا، اور ان کے مکانوں کو مسمار کر دینا کھلا ہوا جبر و استبداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کو ان کے جمہوری اور دستوری حق سے محروم کرنے کی سازش ہے۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ سالیسٹر جنرل تشار مہتا کا یہ کہنا کہ جمعیۃ علماء ہند کو سپریم کورٹ آنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ متاثرین کو خود آنا چاہیے۔ تشار مہتا کی یہ بات سراسر غلط ہے کیوں کہ جمعیۃ علما ہند کا ہمیشہ سے مظلوموں کو انصاف دلانے اور انسانیت کی بنیاد پہ بلا تفریق مذہب و ملت خدمت کرنا اس کا مشن ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اسی مشن کے تحت میدان میں آئی ہے۔ جن علاقوں میں انہدامی کاروائی ہوئی ہے وہاں کے لوگ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند نے متاثرین اور انصاف پسند عوام کی درخواست پر ہی سپریم سے کورٹ سے رجوع ہوئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت سیکولرزم کی حفاظت کے لئے مضبوط فیصلہ کرے گی تاکہ ملک امن وامان سے چلتا رہے، اور مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں وہ یہ جان لیں کہ جمعیۃ علماء ہند نے ملک کی جنگ آزادی میں ہراول دستے کے طور پر کام کیا تھا اور ہمارے بزرگوں نے وطن کی آزادی کے لئے ہنس ہنس کراپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ اس لئے جمعیۃ علماء ہند ملک کی آئین کو تباہ و برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی اس طرح ظلم و جبر پر خاموش تماشائی بن کر رہ سکتی ہے۔
(جنرل (عام
نبی پاک صرف انسانوں کے نہیں جانوروں کیلئے بھی رحمت للعالمین بن کر تشریف لائے

ممبئی سرکار کی آمد مرحبا آقا کی آمد مرحبا کے فلک شگاف نعروں سے ممبئی کی سڑکیں اس وقت گونج اٹھیں جب خلافت ہاؤس سے تاریخی جلوس محمدی نکالا گیا اس جلوس کا جگہ جگہ پرتپاک استقبال کیا گیا جلوس میں ڈف بجا کر عاشقان رسول کے قافلہ نے راستہ میں نعت و منقبت پڑھی عاشقان رسول کا قافلہ مسلم اکثریتی علاقے ناگپاڑہ مد نپورہ ، دو ٹانکی سمیت دیگر شاہراہوں سے گزرتا ہوا مستان تالا ب پر نعت و منقبت اور دعا پر پرامن اختتام پر پہنچا ۔ جلوس سے قبل خلافت ہاؤس میں جلسہ سیرت پاک بیان کرتے ہوئے علما کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین قرار دیا اور کہا کہ آج دنیا انہیں کے صدمہ میں ملی ہے ۔
اس جلسہ سے خطاب فرماتے ہوئے مفتی حضرت علامہ خلیق اشرف پرنسپل دارالعلوم اشرفیہ مظہر العلوم نے فرمایا کہ اعلان نبوت سے ۴۰ سال پہلے تک لوگ انسان ضرور تھے لیکن انسانی صفت نہیں تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی دھرتی پر دانو یعنی درندوں کو انسان بنایا میرے نبی پاک انسانوں کےلیے ہی رحمت بن کر تشریف نہیں لائے تھے بلکہ وہ جانوروں کےلیے بھی رحمت بن کر تشریف لائے تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہرن مالک کے گھر حاضر ہوئے تھے ہرن نے کہا کہ اس کے دو بچے ہیں وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت چاہتی ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کے مالک کو کہا کہ یہ ہرن دو بچوں کی ماں ہے اور وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت چاہتی ہے اور دودھ پلاُکر واپس آجائے گی اس کےبعد مالک نے کہا کہ ہرن واپس آجائے گی اس کی ضمانت کون دے گا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کی واپسی کی ضمانت دی اور ہرن دودھ پلاُکر واپس آگئی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی اس مالک ہرن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرن عنایت فرمائے اور پھر آپ نے اس کی رسی کھول کر اسے آزاد کروایا تو ہرن یہ کہہ اٹھی کہ آپ محمد مصطفی صلہ اللہ علیہ وسلم ہوں آپ ہی مجھے آزاد کر سکتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ جانوروں پر بھی رحم کرتے تھے۔
یہ جلوس محمدی اس وقت کامیاب ہو گا جب جلوس میں انسانیت کا ثبوت دیا جائے راستہ میں اگر ایمبولینس آجائے تو اسے راستہ دیا جائے عید میلاد النبی میں فلاحی کاموں کو ترجیح دیا جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر نیک عمل کیا جائے یہی ہماری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سچی خراج عقیدت ہو گی ۔ قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چئیر پرسن سچن اہیر نے کہا کہ حضورﷺ نے امن کا پیغام عام کیا ہے وہ عدل و انصاف انسانیت کے علمبردار ہیں ۔جلوس عید میلادالنبی میں بھائی چارگی امن کے پیغام کو عام کیا جاتا ہے اور اتحاد کو فر وغ پہنچتا ہے ہم مختلف ضرور ہے ہمارے عبادت کے طریقے منفرد ہے لیکن ہمارا وطن ایک ہے اور یکجہتی کو فروغ دینا ہی ہمارا مقصد ہے ۔ رکن پارلیمان کانگریس سنئیر لیڈر عمران پرتا پ گڑھی نے شعر سے اپنی گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں احترام کے قابل ہے جتنے لوگ میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی کےبعدعمران پڑتاپ گڑھی نے خلافت تحریک کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلافت تحریک کے ساتھ گاندھی جی نے مل کر تحریک عدم تعاون شروع کی تھی ۔
اللہ کے رسول کو جب دنیا میں اتارا گیا تو پورے عالم کےلیے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا گیا ۔ ہندوستان گلدستہ کی مانند ہے اور اس ملک کی آزادی میں ہم نے بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں ۔ اس لیے اس ملک کی یکجہتی اور اتحاد ہی اس کا خاصہ ہے ۔ سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی جلوس نہیں ہوتا اللہ رب العزت کے کرم سے ہم سب نبی پاک کا میلاد منانے کےلیے یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس روئے زمین پر رحمت للعالمین بن کر تشریف لائے ہیں اور ہم عاشق رسولﷺ ان کا میلاد مناتے ہیں ۔ رکن اسمبلی منوج جامستکر نے کہا کہ خلافت کمیٹی تاریخی حیثیت کا حامل ہے اور یہا ں سےہی جلوس میلاد نکالا جاتا ہے جہالت ،ظلم و ستم کی زنجیروں کو آپ صلی اللہ علیہ نے توڑ ا اور انسانیت کونئی زندگی عطا کی ہے ۔
جلسہ کے بعد صلوٰۃ و سلام کے بعد اس جلسہ نے جلوس کی شکل اختیا ر کر لی جلوس میں قائد جلوس علامہ خلیق اشرف ، کانگریسی لیڈر اور رکن پارلیمان عمران پرپاپ گڑھی ، رکن اسمبلی امین پٹیل سمیت دیگر کھلی جیپ میں سوار ہو کر جلوس کی قیادت کی بائیکلہ پھل مارکیٹ کی جانب سے جلوس کا شاندار استقبال کیا گیا اس قائدین کی گاڑی سے پہلے عاشقان رسول کا قافلہ نبی رحمت کی نعت و منقبت صف بجا کر ادب و احترام کے ساتھ تعظیمی انداز میں پیش کر رہا تھا جو انتہائی منفرد تھا اس جلوس میں مقام مقدسہ کی جھانکیاں بھی شامل تھیں جس میں ٹرکوں پر مدینہ منورہ ، مکہ معظمہ کی پر کشش اور روحانی جھانکیاں بھی شامل کی گئیں تھیں عید میلاد النبی کے پیش نظر پولس نے بھی سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے ایڈیشنل کمشنر سینٹرل ریجن وکرم دی مانے جلوس عملہ کے ہمراہ جلوس کی سیکورٹی پر مامور تھے جلوس کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی ناخواشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی اور جلوس پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو گیا ۔
(جنرل (عام
نبی محمد کی زندگی محبت، بھائی چارے کی ایک متاثر کن کہانی: آندھرا پردیش گورنر

آندھرا پردیش کے گورنر ایس عبدالنذیر نے بدھ کو کہا کہ پیغمبر محمد کی زندگی بنی نوع انسان کے لیے محبت، بھائی چارے اور نیکی کی ایک متاثر کن کہانی رہی ہے۔ گورنر نذیر اور چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے بدھ کے روز میلاد النبی کے موقع پر مسلمانوں کو مبارکباد دی، “میں آندھرا پردیش کے مسلمان بھائیوں کو میلاد النبی کے پرمسرت موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پیغمبر اسلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر۔ گورنر نے اپنے پیغام میں کہا۔
“پیغمبر کا مشن اس وقت پورا ہوتا ہے جب ہم اپنے ہم وطنوں کی خدمت ایمان، اعتماد، دیکھ بھال اور ہمدردی کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں رحمدلی، ہمدردی اور حضور کی تعلیمات کی یاد دلاتا ہے۔” میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک دن ہم سب کے درمیان امن اور خیر سگالی کا آغاز کرے۔” انہوں نے مزید کہا۔
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم روح تھے جنہوں نے پوری انسانیت کی بھلائی اور امن کے قیام کے لیے جدوجہد کی۔ میں اپنے ان مسلمان بھائیوں کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارکباد پیش کرتا ہوں جو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت، جنہوں نے اپنی زندگی ایک پرامن معاشرے کے فروغ کے لیے وقف کر دی تھی”۔ ڈپٹی چیف منسٹر پون کلیان نے بھی مسلمانوں کو مبارکباد دی۔ “عید میلاد کے مبارک موقع پر، تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی زندگیوں میں امن، خوشی اور خوشحالی بھرے، اس پرمسرت موقع پر سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ عید میلاد مبارک!،” نائب وزیر اعلیٰ نے ‘X’ پر پوسٹ کیا۔
انسانی وسائل کی ترقی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر نارا لوکیش نے بھی مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: “پیغمبر اسلام کے یوم ولادت کی یاد میں منائے جانے والے میلاد النبی کے موقع پر، میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، آئیے ہمدردی، عاجزی، اور انسانیت کی خدمت کے راستے پر چلیں،” انہوں نے کہا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا ہے۔
سابق چیف منسٹر اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پیغمبر اسلام کا انسانیت کے لیے دلوں میں محبت کے ساتھ غالب آنے کا پیغام، ہمدردی کے ساتھ مصیبت میں پڑنے والوں کی مدد اور معافی، صبر اور بھائی چارے کے ساتھ ایک پرامن معاشرے کی تعمیر کے لیے وہ ہمیشہ قابل تقلید ہے۔ وائی ایس جگن نے ‘X’ پر پوسٹ کیا، “میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر، میرے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو دلی مبارکباد۔
(جنرل (عام
نیپال میں اچانک سیلاب: متاثرہ علاقوں میں 384 سیاح لاپتہ، 100 سے زائد بھارتی شہری شامل

نیپال ٹورازم بورڈ میڈیا کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی صورتحال کی تازہ کاری کے مطابق، بدھ کی صبح دریائے بھوٹے کوشی میں آنے والے سیلاب کے بعد نیپال میں لاپتہ ہونے والے 384 سیاحوں میں 100 سے زائد ہندوستانی بھی شامل ہیں۔ ٹورازم بورڈ نے کہا کہ 384 لاپتہ سیاحوں میں 291 غیر ملکی شہری اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔ غیر ملکی شہریوں کا تعلق کئی ممالک سے ہے، جن میں سے 105 ہندوستان سے ہیں، اور دیگر برطانیہ، آسٹریلیا، امریکہ، ملائیشیا، جنوبی افریقہ اور ہالینڈ سے ہیں۔
تاہم، میڈیا نے واضح کیا کہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور فی الحال ان کی ٹریول ایجنسیوں، مقامی حکام اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں سے تصدیق اور کراس چیک کیا جا رہا ہے۔ ٹورازم بورڈ نے یہ بھی کہا کہ لاپتہ مسافروں میں سے کئی کی قومیت کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق لاپتہ مسافروں کا تعلق نو مختلف ٹریول ایجنسیوں سے ہے۔
ٹورازم بورڈ نے ایک بیان میں کہا، “ٹریول ایجنسیوں، گائیڈز، مقامی حکام اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر معلومات کی تصدیق اور کراس چیک کیا جا رہا ہے۔” سیاحتی بورڈ نے ایک بیان میں کہا۔ دریائے بھوٹے کوشی میں آنے والے سیلاب نے راسووا کے علاقے میں ایک بڑا خلل پیدا کیا، جس سے متاثرہ علاقوں میں موجود سیاحوں اور دیگر لوگوں کی حفاظت کو لے کر خدشات پیدا ہوئے۔ حکام اور ریسکیو ایجنسیاں صورتحال کا جائزہ لینے اور لاپتہ ہونے والوں کا پتہ لگانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کھٹمنڈو ٹائمز کے مطابق، اب تک سات افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، اور متعدد لاپتہ ہیں۔ نیپال ٹورازم بورڈ نے سیاحوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے معلومات یا مدد کے لیے ہنگامی رابطہ نمبر بھی جاری کیے ہیں۔ ہنگامی رابطوں میں ٹول فری نمبر 1234، ہاٹ لائن 1144 اور ٹورسٹ پولیس نمبر 9851289445 شامل ہیں۔ ٹورازم بورڈ نے متاثرہ علاقوں میں سیاحوں پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں، سرکاری چینلز کے ذریعے آگاہ رہیں اور حکام کی طرف سے جاری کردہ تمام حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔صورتحال کے پیش نظر نیپالی وزیر اعظم بلیندر شاہ نے متاثرہ علاقوں کے وفاقی ارکان پارلیمنٹ سے مشاورت کی ہے جن میں رسووا، نواکوٹ، دھاڈنگ، گورکھا اور چتوان شامل ہیں۔
بحث میں زلزلے سے ہونے والے نقصانات، ساحلی بستیوں کی حالت اور بچاؤ اور امدادی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس سے قبل بلین شاہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تازہ ترین صورتحال اور ریسکیو، تلاش اور امدادی سرگرمیوں کی پیش رفت کے بارے میں اعلیٰ سطحی معلومات حاصل کرنے کے لیے نیشنل کونسل فار ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ کا اجلاس طلب کیا تھا۔ بے گھر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔ تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
