Connect with us
Tuesday,13-October-2026

(جنرل (عام

نبی پاک صرف انسانوں کے نہیں جانوروں کیلئے بھی رحمت للعالمین بن کر تشریف لائے

Published

on

ممبئی سرکار کی آمد مرحبا آقا کی آمد مرحبا کے فلک شگاف نعروں سے ممبئی کی سڑکیں اس وقت گونج اٹھیں جب خلافت ہاؤس سے تاریخی جلوس محمدی نکالا گیا اس جلوس کا جگہ جگہ پرتپاک استقبال کیا گیا جلوس میں ڈف بجا کر عاشقان رسول کے قافلہ نے راستہ میں نعت و منقبت پڑھی عاشقان رسول کا قافلہ مسلم اکثریتی علاقے ناگپاڑہ مد نپورہ ، دو ٹانکی سمیت دیگر شاہراہوں سے گزرتا ہوا مستان تالا ب پر نعت و منقبت اور دعا پر پرامن اختتام پر پہنچا ۔ جلوس سے قبل خلافت ہاؤس میں جلسہ سیرت پاک بیان کرتے ہوئے علما کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین قرار دیا اور کہا کہ آج دنیا انہیں کے صدمہ میں ملی ہے ۔

اس جلسہ سے خطاب فرماتے ہوئے مفتی حضرت علامہ خلیق اشرف پرنسپل دارالعلوم اشرفیہ مظہر العلوم نے فرمایا کہ اعلان نبوت سے ۴۰ سال پہلے تک لوگ انسان ضرور تھے لیکن انسانی صفت نہیں تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی دھرتی پر دانو یعنی درندوں کو انسان بنایا میرے نبی پاک انسانوں کےلیے ہی رحمت بن کر تشریف نہیں لائے تھے بلکہ وہ جانوروں کےلیے بھی رحمت بن کر تشریف لائے تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہرن مالک کے گھر حاضر ہوئے تھے ہرن نے کہا کہ اس کے دو بچے ہیں وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت چاہتی ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کے مالک کو کہا کہ یہ ہرن دو بچوں کی ماں ہے اور وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت چاہتی ہے اور دودھ پلاُکر واپس آجائے گی اس کےبعد مالک نے کہا کہ ہرن واپس آجائے گی اس کی ضمانت کون دے گا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کی واپسی کی ضمانت دی اور ہرن دودھ پلاُکر واپس آگئی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی اس مالک ہرن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرن عنایت فرمائے اور پھر آپ نے اس کی رسی کھول کر اسے آزاد کروایا تو ہرن یہ کہہ اٹھی کہ آپ محمد مصطفی صلہ اللہ علیہ وسلم ہوں آپ ہی مجھے آزاد کر سکتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ جانوروں پر بھی رحم کرتے تھے۔

یہ جلوس محمدی اس وقت کامیاب ہو گا جب جلوس میں انسانیت کا ثبوت دیا جائے راستہ میں اگر ایمبولینس آجائے تو اسے راستہ دیا جائے عید میلاد النبی میں فلاحی کاموں کو ترجیح دیا جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر نیک عمل کیا جائے یہی ہماری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سچی خراج عقیدت ہو گی ۔ قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چئیر پرسن سچن اہیر نے کہا کہ حضورﷺ نے امن کا پیغام عام کیا ہے وہ عدل و انصاف انسانیت کے علمبردار ہیں ۔جلوس عید میلادالنبی میں بھائی چارگی امن کے پیغام کو عام کیا جاتا ہے اور اتحاد کو فر وغ پہنچتا ہے ہم مختلف ضرور ہے ہمارے عبادت کے طریقے منفرد ہے لیکن ہمارا وطن ایک ہے اور یکجہتی کو فروغ دینا ہی ہمارا مقصد ہے ۔ رکن پارلیمان کانگریس سنئیر لیڈر عمران پرتا پ گڑھی نے شعر سے اپنی گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں احترام کے قابل ہے جتنے لوگ میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی کےبعدعمران پڑتاپ گڑھی نے خلافت تحریک کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلافت تحریک کے ساتھ گاندھی جی نے مل کر تحریک عدم تعاون شروع کی تھی ۔

اللہ کے رسول کو جب دنیا میں اتارا گیا تو پورے عالم کےلیے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا گیا ۔ ہندوستان گلدستہ کی مانند ہے اور اس ملک کی آزادی میں ہم نے بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں ۔ اس لیے اس ملک کی یکجہتی اور اتحاد ہی اس کا خاصہ ہے ۔ سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی جلوس نہیں ہوتا اللہ رب العزت کے کرم سے ہم سب نبی پاک کا میلاد منانے کےلیے یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس روئے زمین پر رحمت للعالمین بن کر تشریف لائے ہیں اور ہم عاشق رسولﷺ ان کا میلاد مناتے ہیں ۔ رکن اسمبلی منوج جامستکر نے کہا کہ خلافت کمیٹی تاریخی حیثیت کا حامل ہے اور یہا ں سےہی جلوس میلاد نکالا جاتا ہے جہالت ،ظلم و ستم کی زنجیروں کو آپ صلی اللہ علیہ نے توڑ ا اور انسانیت کونئی زندگی عطا کی ہے ۔

جلسہ کے بعد صلوٰۃ و سلام کے بعد اس جلسہ نے جلوس کی شکل اختیا ر کر لی جلوس میں قائد جلوس علامہ خلیق اشرف ، کانگریسی لیڈر اور رکن پارلیمان عمران پرپاپ گڑھی ، رکن اسمبلی امین پٹیل سمیت دیگر کھلی جیپ میں سوار ہو کر جلوس کی قیادت کی بائیکلہ پھل مارکیٹ کی جانب سے جلوس کا شاندار استقبال کیا گیا اس قائدین کی گاڑی سے پہلے عاشقان رسول کا قافلہ نبی رحمت کی نعت و منقبت صف بجا کر ادب و احترام کے ساتھ تعظیمی انداز میں پیش کر رہا تھا جو انتہائی منفرد تھا اس جلوس میں مقام مقدسہ کی جھانکیاں بھی شامل تھیں جس میں ٹرکوں پر مدینہ منورہ ، مکہ معظمہ کی پر کشش اور روحانی جھانکیاں بھی شامل کی گئیں تھیں عید میلاد النبی کے پیش نظر پولس نے بھی سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے ایڈیشنل کمشنر سینٹرل ریجن وکرم دی مانے جلوس عملہ کے ہمراہ جلوس کی سیکورٹی پر مامور تھے جلوس کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی ناخواشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی اور جلوس پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو گیا ۔

قومی خبریں

ممبئی کی ووٹر فہرستوں کے لیے ‘خصوصی تفصیلی نظرثانی ایس آئی آر’ پروگرام کے سلسلے میں میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں جائزہ اجلاس کا انعقاد

Published

on

ممبئی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) – 2026′ پروگرام کے تحت شائع ہونے والی ووٹر فہرست کے مسودے میں ناموں یا اندراجات کے حوالے سے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ میں 26 اکتوبر 2026 تک توسیع کر دی گئی ہے۔ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکالنگم نے ہدایت دی ہے کہ اس مدت کے دوران ان اندراجات سے متعلق دعووں اور اعتراضات پر کارروائی مؤثر طریقے سے کی جائے اور شہریوں کی سہولت کے لیے کیمپوں کا انعقاد کیا جائے۔

وہ آج (13 اکتوبر 2026) میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ‘خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) – 2026’ پروگرام کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ممبئی میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے اور مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکالنگم نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پرجکتا ورما-لوانگرے؛ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما؛ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس)ابھیجیت بانگر؛ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے؛ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ کلکٹر (ممبئی مضافاتی ضلع) سوربھ کٹیار؛ نیز ڈپٹی سیکریٹری اور جوائنٹ چیف الیکٹورل آفیسر (مہاراشٹر) منوہر پاریکر، جوائنٹ کمشنر (اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن) شری وشواس شنکر وار اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

Continue Reading

قومی خبریں

راہل گاندھی کا سپریم کورٹ مارچ ملک کی تاریخ کا سیاہ دن،انڈیا اتحاد پر غیر ملکی سازش کا حصہ ہونے کا الزام: ایکناتھ شندے

Published

on

Eknath-Shinde

ممبئی ؛ دلی سپریم کورٹ مارچ کا انعقاد ‘انڈیا’ اتحاد نے کیا تھا جس میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اور اتحاد کے اراکین پارلیمان نے شرکت کی۔ اس سراپا احتجاج کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ انڈیا’ اتحاد جارحانہ موقف اختیار کرگیا ایکناتھ شندے نے حال ہی میں اس احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کل ملک کی تاریخ میں ایک ‘سیاہ دن’ تھا۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ آئین اور بابا صاحب کے قائم کردہ آئینی اداروں کو پامال کیا گیا۔ ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جہاں دباؤ ڈالنے کے لیے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کیا گیا۔ انہوں نے راہول گاندھی اور ‘انڈیا’ اتحاد کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہوگی۔ جب کہ انہیں جمہوریت میں احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، انہوں نے محض ایک پٹیشن دائر کرنے کے لیے مارچ کی قیادت کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انہیں بھارت کے عدالتی نظام پر حملہ کرنے پر معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ آئین کو تباہ کرنے اور جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ دیکھا جا رہا ہے وہ ملک کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ اس میں غیر ملکی قوتیں اور طاقتیں ملوث ہیں، تجویز کیا کہ یہ کسی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ایکناتھ شندے نے کہا، “یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ وہ ملک کو انتشار کی طرف دھکیل رہے ہیں؛ یہ قوم کے لیے خطرناک ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ وہ انتخابات نہیں جیت سکتےاور نہ ہی وزیر اعظم کو شکست دے سکتے ہیں اس لیے وہ ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ شندے نے کچھ سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ایکناتھ شندے نے کہا کہ اپوزیشن ملک کی آزادی کو کمزور کر رہی ہے۔

غیر ملکی طاقتوں کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ان کی ملک دشمن ذہنیت کے خلاف مسلسل آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وہ اس ذہنیت کے تحت کام کرتے ہیں کہ وہ مرکز میں اقتدار میں نہیں آئیں گےیہی سوچ ان کے روزمرہ کے اقدامات کی محرک ہے۔ یہ اپوزیشن ہی تھی جس نے آئین کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ایمرجنسی (ہنگامی حالات) کے بارے میں بات کرتے ہوئے شندے نے سوال کیااگر آج ملک میں ایمرجنسی ہوتی، تو کیا وہ احتجاج سپریم کورٹ تک پہنچ پاتا؟ آج کل ہر کوئی آزادانہ طور پر اپنی بات کہہ سکتا ہے۔ کیا موجودہ صورتحال ایمرجنسی ہے، یا وہ والی ایمرجنسی تھی؟ اس وقت تو سب کچھ بند کر دیا گیا تھا۔ کیا عدلیہ کی طرف مارچ کرنا اور اس کی توہین کرنا درست ہے؟ وہ ‘بھارت کو توڑنے’ کی باتیں کرتے ہیں اور ملک چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے احتجاج کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے مطالبات ناقص ہیں وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ انہیں انصاف نہیں ملے گا کیونکہ ان کے مطالبات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے ووٹر ٹرن آؤٹ (ووٹنگ کی شرح) میں اضافے پر احتجاج کیا تھا۔ اب، اگر ووٹر لسٹ سے نام ہٹا دیے جائیں تو وہ احتجاج کرتے ہیں حالانکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی ناانصافی نہ ہو، ‘فارم 6’ موجود ہے۔ وہ محض ان ‘ناپختہ’ (کم فہم) لوگوں کا ایک ڈرامہ تھا، اور یہ سب صرف اقتدار کے حصول کے لیے تھا۔ یہ بھگوان شیو کی توہین ہے؛ ان میں عقل کی کمی ہے۔ اگر ‘تیسری آنکھ’ کھل گئی، تو ‘انڈیا’ اتحاد کا صفایا ہو جائے گا۔ جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو وہ بس اپنے گھروں سے باہر نکل آتے ہیں انہیں دور کا سفر نہیں کرنا پڑتا انہیں ایک تیار پلیٹ فارم مل جاتا ہے اور وہ اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ بس مودی کے خلاف بولنا چاہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مودی نے انہیں بے روزگار کر دیا ہے، لہٰذا احتجاج کے سوا ان کے پاس اور کیا چارہ ہے؟

Continue Reading

(جنرل (عام

نیویارک میں بنگلہ دیشی تارکینِ وطن نے محمد یونس کو گھیر لیا، نعرے لگائے : ’تم دہشت گرد ہو، یہاں کیوں آئے؟‘

Published

on

نیویارک : بنگلہ دیش میں سابق عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک غصے میں تصادم کا سامنا کرنا پڑا جہاں کچھ بنگلہ دیشی تارکین وطن نے انہیں “دہشت گرد” قرار دے کر ان کی شدید تذلیل کی، ان پر ہزاروں لوگوں کے قتل اور جنوبی ایشیائی ملک میں جمہوریت کو تباہ کرنے کا الزام لگایا۔ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں، ایک مظاہرین کو یونس پر چیختے ہوئے اور کہتے ہوئے سنا گیا، “اے دہشت گرد، تم یہاں کیوں آئے؟ تم نے میرے ملک کی جمہوریت کو تباہ کر دیا ہے۔” ایک اور شخص نے یونس پر بنگلہ دیش میں ہزاروں لوگوں کی موت کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا۔ اس نے کہا: ’’تم دہشت گرد، تم نے بنگلہ دیش میں ہزاروں لوگوں کو مار ڈالا‘‘۔ فوٹیج میں مظاہرین کو یونس پر الزامات لگاتے ہوئے دکھایا گیا جب وہ وہیل چیئر پر ہوائی اڈے سے باہر لے جا رہے تھے۔ کچھ نے اس پر بنگلہ دیشی پولیس کے ہزاروں اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام لگایا، جب کہ دوسروں نے سابق چیف ایڈوائزر پر “گو بیک” کا نعرہ لگایا۔

بنگلہ دیشی اخبار ‘ڈیلی سن’ نے رپورٹ کیا کہ یونس 12 اکتوبر کو دوحہ سے قطر ایئرویز کی پرواز میں سوار ہو کر نیویارک کے ہوائی اڈے پر پہنچے اور ٹرمینل 8 پر پہنچنے کے بعد لوگوں کے ایک گروپ سے ان کا سامنا ہوا۔ یہ تصادم عبوری حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے یونس کے 18 ماہ کے دور حکومت پر مسلسل تنقید کے درمیان ہوا ہے، جسے سیاسی انتقام، من مانی گرفتاریوں، اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور وکلاء، سیاست دانوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سیاسی کارکنوں کی طویل حراست کے الزامات کا سامنا ہے۔ ڈیلی سن کی ایک حالیہ رپورٹ میں عوامی طور پر دستیاب ریکارڈ کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا گیا ہے جس میں اس عرصے کے دوران گرفتار کیے جانے والے، باضابطہ طور پر چارج کیے جانے والے یا ان پر مقدمہ چلانے والے افراد کی تعداد کی تفصیل ہے۔ “عبوری حکومت کے اہم وعدوں میں سے ایک ریاستی اداروں میں جامع اصلاحات کرنا تھا۔ اس کے بجائے، ناقدین کا دعویٰ ہے کہ گورننس پر تیزی سے غیر منتخب سول سوسائٹی کی شخصیات کا غلبہ ہوتا گیا – جن میں سے اکثر کے پاس مبینہ طور پر غیر ملکی شہریت، ایک بااثر ‘کچن کیبنٹ’، اور دیگر مفاد پرست مفادات تھے جنہوں نے رپورٹ میں قابلِ غور احتسابی اثر و رسوخ کو استعمال کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عبوری انتظامیہ پر ایک اور بڑی تنقید ریاستی اداروں کی مبینہ سیاسی کاری تھی۔ ناقدین کا حوالہ دیتے ہوئے، اس نے نوٹ کیا کہ عبوری مدت کے دوران سیاسی عدم استحکام نے جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کو بیوروکریسی اور دیگر ریاستی اداروں کے حصوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے قابل بنایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکمرانی کو بہتر بنانے کے بجائے، اس دور کی خصوصیت “سرپرستی، خود غرضی اور بدعنوانی” میں اضافہ تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان