(جنرل (عام
ایام حیض کے دوران بھی کورونا ویکسین لگوانا محفوظ۔ ڈاکٹر ارون شرما
کورونا ویکسین کے سلسلے میں لوگوں اور سوشل میڈیا میں طرح کی غلط فہمی اور گمراہ کن باتیں پھیلی ہوئی ہیں، ان میں سے ایک گمراہ کن بات یہ بھی پھیلی ہوئی ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو ایام حیض کے دوران کورونا ویکسن کا ٹیکہ نہیں لگوانا چاہئے، اس سے خواتین کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ ایسی تمام باتوں کو آئی سی ایم آر سے وابستہ کمیونٹی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر ارون شرما نے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہا کہ کیا خواتین کو حیض یا ماہواری کے پانچ دن تک کورونا ویکسن نہیں لینا چاہئے؟ ڈاکٹر شرما نے کہاکہ زیادہ تر لوگوں کے ذریعہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ایام حیض میں خواتین کو پانچ دن تک کورونا ویکسین نہیں لینی چاہئے، اس وقت قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ کووڈ ویکسین لینے سے خواتین کی ماہواری یا حیض کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ خواتین کسی بھی وقت ٹیکے لگواسکتی ہیں۔
کیا حاملہ خواتین کے حمل کو ویکسین سے کوئی خطرہ ہے، کیا انہیں ویکسین لینے کے بعد اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ حاملہ خواتین کے لئے ابھی ویکسین نہیں ہے، حاملہ خواتین ابھی ویکسین نہ لگوائیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ ویکسین حاملہ خواتین کو کسی طرح کوئی نقصان پہنچائے گی لیکن حاملہ خواتین پر اس ویکسین کا ابھی تک ٹیسٹ نہیں کیا گیا ہے، لہذا ہم ویکسین اور حاملہ خواتین کی صحت کے بارے میں پر یقین نہیں ہیں۔ لہذا، اس وقت جو ہدایات ہیں اس کے مطابق، حاملہ خواتین کو ویکسین نہیں لگوانی ہیں۔
یہ وہم بھی پھیلی ہوئی ہے کہ ویکسین سے خواتین کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی؟ کیا یہ سچ ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ارون شرمانے بالکل نہیں، حاملہ خواتین کی حاملہ ہونے کی صلاحیت پر کورونا ویکسین کا کوئی برا اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی یہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر ے گی، یہ ایک غلط مفروضہ ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ایسا نہیں سوچنا چاہئے۔
کیا ویکسین لینے کے بعد خواتین خون کا عطیہ کرسکتی ہیں، عام طور پر ویکسین لینے کے بعد کتنا انتظار کرنا چاہئے؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر کسی شخص کو خون کی ضرورت ہے اور کورونا ویکسین لینے کے بعد آپ کو کسی کو خون دینا پڑے، تو میں یہ کہوں گا کہ کورونا ویکسین کا خون کے عطیہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ کب خون کا عطیہ دینا چاہتے ہیں، اس کا ویکسین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
کیا خواتین کو کورونا ویکسین لینے کے بعد ورزش یا ورک آؤٹ نہیں کرنا چاہئے؟ اس بارے میں انہوں نے کہاکہ نہیں، ایسی کوئی بھی ممانعت نہیں ہے کہ آپ ویکسین لگوانے کے بعد ورزش یا ورک آؤٹ نہیں کرسکتے، ہاں البتہ ایک بات کا دھیان رکھنا ضروری ہے کہ جہاں ویکسین لگائی گئی ہے اس جگہ پر کچھ درد ہوسکتا ہے، اور وہاں کچھ سوجن بھی ہوسکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں جہاں ویکسین لگی ہے اور درد اور سوجن ہے، جب تک یہ ٹھیک نہ ہو اس ہاتھ سے ورزش نہیں کرنا چاہئے۔
کیا پی سی او ایس کی شکار خواتین کو ویکسین لینے کے بعد کوئی خاص احتیاط برتنے کی ضرورت ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر شرما نے کہاکہ پی سی او ایس یعنی پولی سسٹک اوورین سنڈروم، لیکن ایسی کوئی سائنسی تحقیق میرے علم میں نہیں آئی ہے، اس تعلق سے میں نے تحقیقی مقالہ بھی پڑھا ہے، کہیں کوئی ایسی معلومات نہیں ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ جنہیں پی سی او ایس ہے انہیں ویکسین لگوانے سے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسی کوئی تحقیق سامنے نہیں آئی ہے لیکن اگر کسی کو بھی اس بات میں شک ہے، تو پہلے وہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
کیا کورونا ویکسین جنین (شکم میں بچے) پر کوئی اثر ڈال سکتی ہے؟ کے سوال کے جواب انہوں نے کہاکہ حاملہ خواتین پر ابھی تک ویکسین کا تجربہ نہیں کیا گیا ہے، جس سے یہ کہا جاسکے کہ اس ویکسین سے شکم میں پلنے والے بچے یا جنین کو کسی طرح کا نقصان ہوگا، کیوں کہ فی الحال حاملہ خواتین کے لئے یہ ویکسین نہیں ہے۔ جو اب تک تحقیق ہوئی ہے اس میں ایک دیگر بات دیکھنے میں آئی ہے کہ اگر حاملہ عورت کو کورونا کا انفیکشن ہوتا ہے تو،اس سے شکم میں بچے پر اس کا کیا اثر پڑے گا، اس کے اب تک صرف دو معاملے دیکھے گئے ہیں، لیکن اس کے کوئی حتمی نتائج نہیں ملے ہیں۔
واضح رہے کہ یکم مئی سے ملک بھر میں 18 سال سے زیادہ عمر کے نوجوانوں کے لئے کورونا ٹیکہ کاری کی مہم شروع کر دی جائے گی۔ ماہواری یا حیض کے وقت خواتین کو ویکسین لگوانے سے متعلق بہت سے پیغامات سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں، جس میں حیض اور قوت مدافعت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کو حیض کے وقت ویکسین نہیں لگوانی چاہیئے، اس وقت جسم میں قوت مدافعت یا بیماری سے لڑنے کی طاقت کی سطح کم ہوتی ہے۔ لڑکیوں کے ویکسین لگوانے سمیت بہت سی غلط فہمیوں کے حوالے سے آئی سی ایم آر سے وابستہ کمیونٹی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر ارون شرما نے اہم سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : اندھیری ۶۰ لاکھ سے زائد کے زیورات چوری کا ڈرامہ تیار کرنے والے دو ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی پولس دو ایسے شاطر ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے, جنہوں نے چوری اور سڑک حادثہ کی من گھڑت کہانی بنا کر ۶۰ لاکھ کے زیورات چوری ہونے کا ڈرامہ تیار کیا تھا, لیکن پولس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ سونے کے زیورات کی ڈیلیوری کرنے والا ہی چور ہے اور اس نے اپنے ساتھی دوست کے ساتھ مل کر یہ چوری کی تھی۔ ایم آئی ڈی سی پولس نے گولڈ اسٹار کمپنی کے کنچن پوار کی شکایت پر چوری کا کیس درج کر لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ نے اپنے ملازم اویناش گنگادھر کدم ۲۶ سالہ کو سونے کے زیورات ڈیلیوری کے لئے بھیجا تھا۔ اسی دوران اس نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل ایکٹیوا کو حادثہ پیش آیا ہے اور اسی دوران سونے کے زیورات و بیگ بھی چوری ہو گئے۔ اس نے بلا کسی چوٹ اور زخم کے اسپتال میں داخلہ کےلئے ڈرامہ کیا, اس دوران پولس نے متعدد سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ اس مشتبہ شخص حادثہ سے قبل یہاں مشتبہ حالت میں گشت کر رہا تھا۔ جس کا نام منوج ہیمنت جوگڈنڈ ۴۱ سالہ ہے۔ اس سے تفتیش میں پولس کو یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں نے ہی چوری کا ڈرامہ کیا تھا اور اس واقعہ کو حادثہ بتا کر لوٹ مار کی منصوبہ بندی تیار کی تھی۔ اس کے بعد پولس نے اویناش کو بھی زیر حراست لیا اس معاملہ میں پولس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر کے معمہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : بی ایم سی نے مانسون سے پہلے ہیلپ لائن ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم’ شروع کی، گڑھے بھرنے پر توجہ مرکوز کی

ممبئی ممبئی میں گڑھوں کو بھرنے کےلئے بی ایم سی نے خصوصی ہیلپ لائن جاری کیا ہے شہریوں کی شکایات کا فوری اور مؤثر طریقے سے ازالہ کرنے کے مقصد کے ساتھ، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال ایک مربوط شکایتی انتظامی نظام‘مائی بی ایم سی مارگ’ (شکایات کے انتظام اور ازالے کانظام) نافذ کیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے شہری میونسپل کارپوریشن سے متعلق 114 مختلف قسم کی شکایات کو ایک ہی درخواست کے ذریعے درج کر سکیں گے اور وہ ان کی پیروی بھی کر سکیں گے۔ اس کے تحت ‘مائی بی ایم سی مارگ’ سسٹم پر سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کرنے کی سہولت شہریوں کو فراہم کی گئی ہے۔
مانسون کے موسم میں سڑکوں پر بعض اوقات گڑھے بن جاتے ہیں۔ اس تناظر میں میونسپل کارپوریشن شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا فوری نوٹس لینے اور ضروری اصلاحی کارروائی کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ شہریوں کے لیے گڑھوں کی شکایات کے اندراج کے عمل کو آسان اور موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے سڑکوں پر گڑھوں کے بارے میں شکایات درج کرنے کے لیے ایک الگ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ شروع کی تھی۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے شہری معلومات، تصاویر اور سڑکوں پر گڑھوں کی جگہ کے ساتھ شکایات درج کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے اچھا رسپانس ملا۔اس دوران شہریوں کو میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں سے متعلق شکایات کے لیے مختلف سسٹم استعمال کرنا پڑا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مزید جامع اور آسان خدمات فراہم کرنے کے لیے اس سال سے ایک جامع نظام ‘مائی بی ایم سی مارگ’ شروع کیا ہے۔ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ کو اس سسٹم میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں بشمول گڑھے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج کے مسائل، پانی کی فراہمی، سڑک کی دیکھ بھال، پارکس، صحت عامہ، پیسٹ کنٹرول، تجاوزات، لائٹنگ سے متعلق کل 114 قسم کی شکایات درج کرنے کی سہولت ’مائی بی ایم سی مارگ‘ پر دستیاب ہے۔
‘مائی بی ایم سی مارگ’سسٹم خصوصیت یہ ہے کہ شہریوں کےلیے ایک پلیٹ فارم سے شکایات کا اندراج کرنا، متعلقہ تصاویر اپ لوڈ کرنا، شکایت کی موجودہ صورتحال کی جانچ کرنا، متعلقہ محکمے کی طرف سے کی گئی کارروائی کا پتہ لگانا اور شکایت کے حل ہونے کے بعد اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس لیے شکایت کے اندراج سے لے کر ازالے تک کا پورا عمل زیادہ شفاف اور شہریوں پر مبنی ہو گیا ہے۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام نے شکایت کے اندراج کے عمل کو آسان، شفاف اور موثر بنا دیا ہے اور شہریوں کو شکایات کے ازالے پر عمل کرنے کے لیے ایک واحد جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔خاص طور پر جب شہری سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کراتے ہیں تو متعلقہ محکمے کے لیے فوری کارروائی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے گڑھے کی مرمت کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اینڈرائیڈ صارفین اپنے اسمارٹ فونز پر مائی بی ایم سی مارگ ایپلیکیشن کو مائی بی ایم سی مارگ – گوگل پلے پر ایپس کا استعمال کرکے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں اور آئی فون کے صارفین مائی بی ایم سی مارگ ایپ – ایپ اسٹور کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ ممبئی کے لوگ میونسپل کارپوریشن سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر گڑھوں سے متعلق تمام شکایات ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم پر درج کریں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ڈاکٹر سیجل پوار متنازع بیان و تبصرہ کے سبب رخصتی پر روانہ، جانچ سے قبل ہی کے ای ایم اسپتال کی سخت کارروائی

ممبئي ممبئي کی ایک مزاحیہ تقریب میں طالب علم سیجل، پولار کو ڈاکٹر کو ویڈیو اور بیان کے طور پر سیج کے ساتھ ۱۵ تاریخ کی چھٹی دے دی گئی اور انکوائری کا آغاز کیا گیا اس کی رپورٹ کے بعد ہی مزید کارروائی ہوگی۔ ڈاکٹر سیجل پور سے متعلقہ ادارے میں کارروائی کی جاتی ہے۔
سیٹھ جی ایس میڈیکل کالج اور کے ای ایم ہاسپٹل نے ایک مزاحیہ پروگرام کے دوران ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ سیجل پوار کے ریمارکس اور اس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعلقہ ویڈیو مواد کی گردش سے پیدا ہونے والی عوامی تشویش کا مناسب ادراک کیا ہے۔
شکایات کی وصولی کے فوراً بعد، انسٹی ٹیوٹ نے حقائق کی تلاش کا ایک ابتدائی عمل شروع کیا۔ متعلقہ طالب علم کو بلایا گیا، اس کی وضاحت/معافی ریکارڈ پر لی گئی، اور متعلقہ مواد کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی نتائج، معاملے کی حساسیت، اور متوفی افراد، جسم کے عطیہ دہندگان کے وقار کو برقرار رکھنے کی ضرورت اور میڈیکل طلباء سے متوقع پیشہ ورانہ معیارات کے پیش نظر پوار پر آج ایک عبوری تادیبی/انتظامی حکم جاری کیا گیا ہے۔
اس کے مطابق، پوار کو 15 دن کی مدت کے لیے لازمی چھٹی پر رکھا گیا ہے، جس کا اثر ۱۳ مئی سے ہے، تفصیلی انکوائری اور مزید احکامات زیر التواء ہیں۔ آج صبح 10:30 بجے، اسے مذکورہ مدت کے دوران اس کے والدین/سرپرستوں کی دیکھ بھال اور نگرانی سونپی گئی تھی۔ انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ادارہ جاتی انکوائری میں مکمل تعاون کریں اور جب بھی انکوائری کمیٹی کے ذریعہ بلایا جائے،ازخود یا آن لائن موڈ کے ذریعے دستیاب رہیں۔
ایک جامع پانچ رکنی انکوائری کمیٹی کی تشکیل کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جس میں سینئر فیکلٹی، ایک بیرونی/نان فیکلٹی ممبر اور مناسب ادارہ جاتی نمائندگی شامل ہے۔ کمیٹی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حقائق، سیاق و سباق، اثرات اور متعلقہ ریکارڈز بشمول سوشل میڈیا کی گردش کے پہلو کا جائزہ لے گی اور مزید کارروائی کے لیے اپنی معقول سفارشات پیش کرے گی۔انسٹی ٹیوٹ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ مریضوں، فوت شدہ افراد، جسم کے عطیہ دہندگان اور ان کے اہل خانہ کا احترام طبی تعلیم کی بنیادی قدر ہے۔ معاملے کو سنجیدگی، حساسیت اور طریقہ کار کے ساتھ انصاف کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ تفصیلی انکوائری رپورٹ کی وصولی کے بعد قابل اطلاق این ایم سی ایم یو ایچ ایس ، بی ایم سی اور ادارہ جاتی اصولوں کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔اس مرحلے پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس وقت جامع انکوائری کا عمل جاری ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
