(جنرل (عام
کورونا گائیڈ لائن کے خلاف مالیگاؤں کے دانشوروں کا فیصلہ کہیں احمقانہ تو نہیں ؟؟؟
کورونا کی دوسری لہر نے مہاراشٹر میں تباہی و بربادی کے دہانے کھول دیئے ہیں . کچھ مہینوں سے جہاں مہاراشٹر میں نہایت آہستگی سے زندگی کی ریل پٹریوں پر دوڑنے لگی تھی. وہیں کورونا کی دوبارہ دستک سے ایک بار واپس سے شہر ویرانے میں تبدیل ہونا شروع ہوگئے. مطلب جہاں جہاں کورونا بے قابو ہورہا ہے. اس کے مطابق حکومت فیصلے لے رہی ہیں. گذشتہ چند دنوں سے کوویڈ. 19 کے مریضوں میں بے تحاشہ اضافے نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ کی نیندیں اڑا دیں. کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات نے مہاراشٹر کو ایک اور لاک ڈاؤن کی دہلیز پر کھڑا کردیا ہے. ویسے تو جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے. نائٹ کرفیو اور احتیاطی تدابیر جیسے شوشل ڈسٹنسنگ, ماسک اور سینٹائزر کا استعمال کیا جارہا ہے. ایسے میں حکومت کی جانب سے گذشتہ دنوں ایک گائیڈ لائن جاری کی گئی . جس کے مطابق کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر حکومت نے کچھ سخت فیصلے لئے . جس کے مطابق شادی بیاہ کی تقریب میں 50 افراد, آخری رسومات میں 20 افراد اور مذہبی عبادت گاہوں میں 5 افراد کی شرکت کو لازمی قرار دیا گیا. اس کے علاوہ جلسے جلوس , مذہبی اور سیاسی تقریبات پر پابندی عائد کی گئی اور ساتھ ہی بھیڑ بھاڑ سے پرہیز برتنے کی ہدایت کی گئی. حکومت کا یہ فیصلہ اس وقت آیا جب عنقریب مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہونے والا ہے. حکومت کا یہ فرمان مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں پر بم بن کر گرا. آنا فانا ائمہ مساجد اور دینی و ملی تنظیموں کے ذمے داران نے ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی . حس میں فیصلہ یہ ہوا کہ مسجد کسی بھی صورت بند نہیں کی جائے گی . رمضان المبارک میں تراویح اور عیدالفطر کی نماز عید گاہ پر ادا کرنے کا اعلان کیا . مالیگاؤں والوں کے اس جراءتمندانہ اقدام کی جہاں ستائش کی جارہی ہیں وہیں کچھ افراد اس کی مخالفت بھی کررہے ہیں. بے شک ہم بھی مالیگاؤں والوں کے اس اقدام کی پذیرائی ہی کرتے مگر خوش و جذبات میں لئے گئے اس فیصلے کی تہہ میں اگر جاکر دیکھا جائے تو وہاں اس کے منفی اثرات بھی نظر آئیں گے. گذشتہ سال جس وقت کورونا نے ہندوستان میں اپنی دھماکے دار انٹری دی تھی. اس وقت جلد بازی میں بغیر کسی حکمت عملی کے مرکزی حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کرکے جو جہاں تھا اسے وہیں ٹھہرنے پر مجبور کردیا تھا. ایسے میں دہلی کے نظام الدین مرکز میں تبلیغی جماعت کے افراد پھنس گئے تھے. لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اپنے شہر واپس نہیں جاسکتے تھے تب شرپسند عناصر اور گودی میڈیا نے کورونا کا سارا ٹھیکڑا تبلیغی پر پھوڑ دیا تھا. نظام الدین مرک اور تبلیغی جماعت پر جم کر گودی میڈیا نے اپنا بخار نکالا تھا . ان پھنسے ہوئے افراد کو چھپے ہوئے کہہ کر اپنے چینل کی ٹی آر پی بڑھائی تھی. اس کے بعد ان شرپسندوں کی آنکھوں میں شہتیر کی چبھنے والا مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں لگ گیا. یہاں بھی جم کر بھڑاس نکالی گئی. اب جب کہ کورونا نے دوبارہ مہاراشٹر پر یلغار کر دی ہیں. ایسے میں جب ناسک ضلع میں کورونا دوبارہ موت کا تانڈو رچ رہا ہے. ایسے میں مالیگاؤں والوں کا یہ فیصلہ کہیں احمقانہ تو نہیں ہے؟ یہاں بات ایک وباء کی ہے. جو کہ مہلک اور جاں لیوا ہے. پچھلے سال کورونا نے مالیگاؤں میں موت کی تباہی کا ایک باب رقم کیا تھا. کتنی ہی جانیں تلف ہوئیں تھیں. ایسے میں جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہیں. بحالت مجبوری ہم عبادت گھر میں بھی کرسکتے ہیں. ہمیں ہمارے دینی فریضے کو ادا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا. مالیگاؤں اور دیگر علماء نے کہا ہے کہ الیکشن کی ریلی کو اجازت ہے تو مسجدیں بند کیوں تو اُن کو یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ جہاں تک الیکشن کی بات ہے تو الیکشن مغربی بنگال میں ہورہے ہیں اور وہاں مساجد میں کوئی پابندی نہیں.. مالیگاؤں والوں کے اس فیصلے سے مسلمانوں کی طرف سے ایک غلط پیغام جائے گا. برادران وطن نے بھی ہولی سادگی سے منائی ہیں. ہم الحمداللہ مسلمان ہیں اور ہمارا دیں کہتا ہے کہ حس ملک میں رہو اس کے قانون کی پاسداری کرو. اس طرح اعلان کردیئے سے ہماری ضدی طبیعت ظاہر ہوگی. اور مسلمان متولون مزاج ہے. کہیں اس فیصلے کی وجہ سے اور بہت سی زندگیوں کو تو داؤ پر نہیں لگا رہے. یہ سوچنے کا مقام ہے.
(جنرل (عام
ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔
وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔
دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔
چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
