Connect with us
Friday,04-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

بابری مسجد کے فریق اقبال انصاری نے کہاکہ مسجد کے لئے زمین اصل اجودھیا میں دی جانی چاہئے

Published

on

iqbal ansari

رام مندر۔بابری مسجد متنازع اراضی ملکیت معاملے میں بابری مسجد کے فریق اقبال انصاری نے حکومت کی جانب سے مسجدکی تعمیر کے لئے 5 ایکڑ زمین سوہاول تحصیل کے روناہی تھانے کے دھنی پور گاؤں میں دئیے جانے کے اعلان کے بعد کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے ہدایات کو نظر انداز کیا ہے۔مسجدکے لئے زمین اصل اجودھیا میں دی جانی چاہئے۔
مسٹر انصاری نے یواین آئی سے بات چیت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے جہاں رام مندر تعمیر کے لئے ٹرسٹ بنانے کو کہا تھا تو وہیں مسجد کی تعمیر کے لئے اجودھیا میں ہی زمین فراہم کرنے کا کہا تھا۔ لیکن حکومت نے اجودھیا میں مسجد کے لئے زمین نہ دے کر رام جنم بھومی سے تقریبا 22 کلو میٹر دور تحصیل سوہاول کے گرام دھنی پور تھانہ روناہی میں زمین دینے کا اعلان کیا ہے جوکہ سپریم کورٹ کی ہدایت کی خلاف ورزی ہے۔
مسٹر انصاری نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد ہی ضلع فیض آباد کا نام بدل کر اجودھیا رکھا گیا ہےاس سے قبل فیض آباد ضلع تھا اوراجودھیا اس میں ایک شہر تھا۔ لہذا مسجد کے لئے زمین ضلع فیض آباد کے ضلع اجودھیا بننے سے قبل جو اصل اجودھیا کا رقبہ تھا اسی کے اندر دی جانی چاہئے تھی۔
انہوں نے کہا کہ مندر۔مسجد تنازع کئی سال پرانا ہے۔اس وقت اجودھیا اور فیض آباد الگ الگ شہر تھے۔اور اجودھیا ضلع فیض آباد میں آتا تھا۔نیز فیض آباد کورٹ اور ہائی کورٹ کا جب فیصلہ آیا تھاتو اس وقت ضلع فیض آباد تھا اور جب معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تھا تو اس وقت بھی ضلع کا نام فیض آباد ہی تھا اور اجودھیا فیض آباد کا ایک شہر تھا۔اور ایک محدود دائرے تک ہی اجودھیا کا رقبہ محدود تھا۔
میں دی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تکنیکی طریقہ اختیار کرتے ہوئے پورے ضلع فیض آباد کو ضلع اجودھیا میں تبدیل کرنے کے بعد اصل اجودھیا سے دور دراز علاقے میں مسجد کے لئے زمین فراہم کرکے اجودھیا میں ہی زمین دینے کا دعوی کررہی ہے جوکہ کورٹ کی ہدایت کے خلاف ہے۔
مسٹر انصاری نے کہا کہ فیصلے کے بعد میں نے اپنے گھر کے سامنے کھالی پڑی زمین پر اسکول،اسپتال اور مسجد بنانے کے لئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا یہا ں کافی زمین دستیاب ہے اس میں مسجد کے ساتھ استپال اور غریبوں کے لئے اسکول بنائے جاسکتے ہیں۔لیکن مرکزی وریاستی حکومت نے میرے مطالبے کو نظر انداز کرکے ہیڈکوارٹر سے تقریبا 22 کلومیٹر دور مسجد کے لئے پانچ ایکڑ زمین دئیے جانے کا اعلان کیا ہے۔
اقبال انصاری نے رام مندر کی تعمیر کے لئے وزیر اعظم کی جانب سے مجوزہ رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر کے نام سے ٹرسٹ قائم کئے جانے کے اعلان کا استقبال کیا۔

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading

سیاست

نتیش رانے کا سنجے راؤت کو جواب، اپنی حد میں رہو… ہم پاکستان کو ہندو ملک بنانا چاہتے ہیں۔

Published

on

nitesh rane sanjay raut

ممبئی : مہاراشٹر حکومت کے وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما نتیش رانے نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی پاکستان کو ‘ہندو قوم’ بنانا چاہتی ہے۔ ماہی پروری اور بندرگاہ کی ترقی کے وزیر رانے نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر دیا۔ اپنی پوسٹ میں، انہوں نے شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت کے اس الزام کا جواب دیا جس میں راوت نے کہا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ہندوستان کو ‘ہندو پاکستان’ بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم پاکستان کو ہندو قوم بنانا چاہتے ہیں، رانے نے لکھا۔ اس کو ذہن میں رکھیں اور اپنی حدود میں رہیں۔ وزیر کا یہ بیان شیو سینا (یو بی ٹی) کے ترجمان ‘سامنا’ میں شائع ہونے والے راؤت کے حالیہ ہفتہ وار مضمون کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے، جس میں انہوں نے بی جے پی پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور ہندوستان کو ‘ہندو پاکستان’ بنانے کی طرف لے جانے کا الزام لگایا تھا۔ اس سے پہلے رانے نے چھترپتی سمبھاج نگر ضلع کے خلت آباد میں واقع اورنگ زیب کے مقبرے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کیرالہ کو ‘منی پاکستان’ بھی کہا۔

آپ کو بتا دیں کہ پچھلے مہینے ادھو ٹھاکرے کی پارٹی نے نتیش رانے کے ایک بیان پر قانونی نوٹس بھیجا تھا۔ یہ نوٹس شیوسینا لیڈر اور سابق ایم پی ونائک راوت کے وکیل عاصم سرودے نے بھیجا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ نتیش رانے آئین کے آرٹیکل 164 (3) کے مطابق وزیر کے عہدے کا حلف لیتے وقت اپنا آئینی فرض ادا نہیں کر رہے تھے۔ ماہی پروری اور بندرگاہ کی ترقی کے وزیر رانے نے 13 فروری کو سندھو درگ ضلع کے کدل میں بی جے پی کی ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں چاہے وہ ضلعی منصوبہ بندی فنڈ ہو، پارٹی فنڈ ہو یا کوئی بھی سرکاری فنڈ، یہ صرف مہایوتی کے کارکنوں کو دیا جائے گا اور کسی کو نہیں دیا جائے گا۔ رانے نے یہ بھی کہا کہ میں آپ کو پہلے ہی بتا رہا ہوں کہ میں ان گاؤں کو ایک روپیہ نہیں دوں گا جہاں ادھو بالا صاحب ٹھاکرے (یو بی ٹی) اور مہا وکاس اگھاڑی کے سرپنچ یا عہدیدار ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کرائم برانچ کی بروقت کارروائی، سائبر دغابازی سے قبل ۱۱ کروڑ منجمد

Published

on

cyber-crime

ممبئی : ممبئی میں سائبر فرا ڈ اور دغابازوں پرقدغن لگانے کے ساتھ ممبئی کرائم کا سائبر سیل انتہائی الرٹ ہے, اس نے 24 گھنٹے کے اندر ہی گیارہ کروڑ روپے محفوظ کر لئے اور دغاباز کےاکاؤنٹ میں منتقلی سے پہلے ہی اسے منجمد کر دیا۔ ممبئی 3 مارچ، تقریباً ڈیڑھ بجے ممبئی کے پوائی سے ایک شکایت کنندہ نے ممبئی پولیس کی 1930 سائبر ہیلپ لائن سے رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ ایک نامعلوم شخص نے کمپنی کے بینک اکاؤنٹ سے منسلک ای میل آئی ڈی کو ہیک کر لیا ہے۔ دھوکہ باز نے پھر کمپنی کے نام پر کوٹک مہندرا بینک کو ایک ای میل بھیجا، جس نے کاروباری کارروائیوں کے جھوٹے بہانے کے تحت بینک کو 11,34,85,258/ کے دو مختلف کھاتوں میں لین دین کی کارروائی میں گمراہ کیا، اس طرح سائبر فراڈ کا ارتکاب کیا۔

دھوکہ دہی کا پتہ لگانے کے بعد، شکایت کنندہ نے فوری طور پر 1930 سائبر ہیلپ لائن کو معاملے کی اطلاع دی۔ تیزی سے جواب دیتے ہوئے، پی آئی نورتی باوسکر، اے پی آئی ناگرال، پی ایس آئی راول، اور پی ایس آئی کاکڑ نے فوری طور پر این سی سی آر پی پورٹل پر شکایت درج کی اور بینک حکام کے ساتھ تال میل کیا۔ ان کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں 11,19,50,501/- (11.19 کروڑ) کو دھوکہ دہی والے کھاتوں اکاؤنٹ میں کامیابی سے منجمد کیا گیا، جس سے مزید مالی نقصان کو روکا گیا۔

یہ اطلاع آج یہاں دتا نلاواڑے ڈی سی پی (ڈیٹیکشن) کرائم برانچ، ممبئی نے دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com