Connect with us
Thursday,06-August-2026

جرم

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی سابق میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹھی کے خلاف جانچ و کارروائی کا حکم

Published

on

بھیونڈی : انتظامی بے ضابطگی اور بدعنوانی کے ایک معاملے میں بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی سابق میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی کے خلاف میونسپل کارپوریشن کے چیف آڈیٹر کے ذریعے کی جانے والی خفیہ تحقیقات کی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ میونسپل کمشنر نے مذکورہ حکم مرکزی ہیلتھ مہم ممبئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر مہیش بوٹلے کے ذریعے سابق انچارج میڈیکل آفیسر کے خلاف کارروائی کرکے اس کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے دئیے گئے حکم کے بعد دیا ہے۔ سابق میئر جاوید دلوی نے سابق انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی اور صحت محکمہ کے دیگر ملازمین کے خلاف انتظامی بے ضابطگیوں اور اقتصادی بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے محکمہ صحت عامہ کو تحقیقات کرکے ان کے خلاف فوجداری کا معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سابق میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی نے بتایا کہ ان کے خلاف تحقیقات جاری ہے جس میں وہ اپنا مؤقف پیش کریں گی۔
غور طلب ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے عوامی محکمہ صحت اور طبی شعبے کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں 15 صحت کے سب مرکز موجود ہیں۔ ان صحت مراکز میں آنے والے مریضوں کے علاج کے لئے حکومت کی جانب سے ہر سال لاکھوں روپے کی ادویات فراہم کی جاتی ہے۔ بی جے پی اور شیوسینا کے کارپوریٹروں نے سابق میئر جاوید دلوی سے شکایت کی تھی کہ گزشتہ سنہ 2015 سے 2019 کے درمیان حکومت کی جانب سے بھیجی جانے والی دوائیوں کے اندراج کے معاملے میں انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی کے ذریعے انتظامی بے ضابطگیوں اور بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی کرنے کا ارتکاب پایا گیا تھا۔ کارپوریٹروں کے ذریعے کی جانے والی شکایت کے بعد سابق میئر نے ڈاکٹر ودیا شیٹی سمیت محکمہ صحت کے دیگر ملازمین کے خلاف تحقیقات کرکے ان کے خلاف فوجداری کا معاملہ درج کرانے کا مطالبہ محکمہ صحت عامہ سے کیا تھا۔
سابق میئر کے مطالبے پر سابق میونسپل کمشنر منوہر ہیرے نے میونسپل کارپوریشن کے چیف آڈیٹر کالیداس جادھو کو تفتیشی افسر کے طور پر مقرر کرکے ڈاکٹر ودیا شیٹی سمیت صحت محکمہ کے دیگر ملازمین کے خلاف خفیہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد کالیداس جادھو نے خفیہ تحقیقات کرکے سماعت بھی کی تھی لیکن اس سماعت میں ڈاکٹر ودیا شیٹی کی جانب سے اس معاملے کے متعلق اہم دستاویزات پیش نہیں کئے گئے تھے۔ ڈاکٹر ودیا شیٹی نے گوڈاؤن میں آگ لگنے کے سبب اہم دستاویزات جل جانے کا بہانہ بتایا تھا لیکن اس کے لئے انہوں نے پولیس اسٹیشن میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ جس کے بعد تفتیشی افسر میونسپل کارپوریشن کے چیف آڈیٹر جادھو نے رپورٹ تیار کرکے ریاستی صحت محکمہ کو روانہ کردیا تھا۔ میونسپل کارپوریشن کے چیف آڈیٹر کی رپورٹ کی جانچ کرنے کے بعد قومی صحت مہم ممبئی محکمہ کے جوائنٹ ڈائریکٹر ، مہیش بوٹلے نے میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آشیہ کو مکتوب لکھ کر سابق انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح ہو کہ اپنا نجی اسپتال چلانے والی ڈاکٹر ودیا شیٹی کو انچارج میڈیکل آفیسر کے عہدے پر تقرری سابق میونسپل کمشنر اچیوت ہانگے کے ذریعے کی گئی تھی۔ ڈاکٹر ودیا شیٹی اپنی تقرری کے بعد سے ہی ہمیشہ تنازعات میں گھری رہیں ، جس کی وجہ سے انہیں میڈیکل آفیسر کے عہدے سے بھی دستبردار کردیا گیا تھا ۔
مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی ملی بھگت سے شہر کے غریب اور ضرورت مند مریضوں کے علاج کے لئے لاکھوں روپے کی دوائیں صرف میونسپل کارپوریشن کے کاغذات پر ہی ہوتی ہیں ۔ شہریوں کا الزام ہے کہ گذشتہ 10 سالوں میں میونسپل کارپوریشن کے تمام 15 صحت مراکز ایک ساتھ کھلتے ہی نہیں تھے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر صحت مراکز میں ڈاکٹر دستیاب نہیں تھے ، جہاں ڈاکٹر ملتے تھے وہاں دوائیاں نہیں ملتی تھی۔
اس ضمن میں ڈاکٹر ودیا شیٹی سابق انچارج میڈیکل آفیسر نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہے جہاں وہ اپنا موقف پیش کریں گی۔ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل تحقیقات پر اثر انداز ہونے والا کوئی بیان نہیں دینا چاہتی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان