Connect with us
Monday,21-September-2026

جرم

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی سابق میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹھی کے خلاف جانچ و کارروائی کا حکم

Published

on

بھیونڈی : انتظامی بے ضابطگی اور بدعنوانی کے ایک معاملے میں بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی سابق میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی کے خلاف میونسپل کارپوریشن کے چیف آڈیٹر کے ذریعے کی جانے والی خفیہ تحقیقات کی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ میونسپل کمشنر نے مذکورہ حکم مرکزی ہیلتھ مہم ممبئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر مہیش بوٹلے کے ذریعے سابق انچارج میڈیکل آفیسر کے خلاف کارروائی کرکے اس کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے دئیے گئے حکم کے بعد دیا ہے۔ سابق میئر جاوید دلوی نے سابق انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی اور صحت محکمہ کے دیگر ملازمین کے خلاف انتظامی بے ضابطگیوں اور اقتصادی بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے محکمہ صحت عامہ کو تحقیقات کرکے ان کے خلاف فوجداری کا معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سابق میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی نے بتایا کہ ان کے خلاف تحقیقات جاری ہے جس میں وہ اپنا مؤقف پیش کریں گی۔
غور طلب ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے عوامی محکمہ صحت اور طبی شعبے کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں 15 صحت کے سب مرکز موجود ہیں۔ ان صحت مراکز میں آنے والے مریضوں کے علاج کے لئے حکومت کی جانب سے ہر سال لاکھوں روپے کی ادویات فراہم کی جاتی ہے۔ بی جے پی اور شیوسینا کے کارپوریٹروں نے سابق میئر جاوید دلوی سے شکایت کی تھی کہ گزشتہ سنہ 2015 سے 2019 کے درمیان حکومت کی جانب سے بھیجی جانے والی دوائیوں کے اندراج کے معاملے میں انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی کے ذریعے انتظامی بے ضابطگیوں اور بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی کرنے کا ارتکاب پایا گیا تھا۔ کارپوریٹروں کے ذریعے کی جانے والی شکایت کے بعد سابق میئر نے ڈاکٹر ودیا شیٹی سمیت محکمہ صحت کے دیگر ملازمین کے خلاف تحقیقات کرکے ان کے خلاف فوجداری کا معاملہ درج کرانے کا مطالبہ محکمہ صحت عامہ سے کیا تھا۔
سابق میئر کے مطالبے پر سابق میونسپل کمشنر منوہر ہیرے نے میونسپل کارپوریشن کے چیف آڈیٹر کالیداس جادھو کو تفتیشی افسر کے طور پر مقرر کرکے ڈاکٹر ودیا شیٹی سمیت صحت محکمہ کے دیگر ملازمین کے خلاف خفیہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد کالیداس جادھو نے خفیہ تحقیقات کرکے سماعت بھی کی تھی لیکن اس سماعت میں ڈاکٹر ودیا شیٹی کی جانب سے اس معاملے کے متعلق اہم دستاویزات پیش نہیں کئے گئے تھے۔ ڈاکٹر ودیا شیٹی نے گوڈاؤن میں آگ لگنے کے سبب اہم دستاویزات جل جانے کا بہانہ بتایا تھا لیکن اس کے لئے انہوں نے پولیس اسٹیشن میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ جس کے بعد تفتیشی افسر میونسپل کارپوریشن کے چیف آڈیٹر جادھو نے رپورٹ تیار کرکے ریاستی صحت محکمہ کو روانہ کردیا تھا۔ میونسپل کارپوریشن کے چیف آڈیٹر کی رپورٹ کی جانچ کرنے کے بعد قومی صحت مہم ممبئی محکمہ کے جوائنٹ ڈائریکٹر ، مہیش بوٹلے نے میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آشیہ کو مکتوب لکھ کر سابق انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ودیا شیٹی کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح ہو کہ اپنا نجی اسپتال چلانے والی ڈاکٹر ودیا شیٹی کو انچارج میڈیکل آفیسر کے عہدے پر تقرری سابق میونسپل کمشنر اچیوت ہانگے کے ذریعے کی گئی تھی۔ ڈاکٹر ودیا شیٹی اپنی تقرری کے بعد سے ہی ہمیشہ تنازعات میں گھری رہیں ، جس کی وجہ سے انہیں میڈیکل آفیسر کے عہدے سے بھی دستبردار کردیا گیا تھا ۔
مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی ملی بھگت سے شہر کے غریب اور ضرورت مند مریضوں کے علاج کے لئے لاکھوں روپے کی دوائیں صرف میونسپل کارپوریشن کے کاغذات پر ہی ہوتی ہیں ۔ شہریوں کا الزام ہے کہ گذشتہ 10 سالوں میں میونسپل کارپوریشن کے تمام 15 صحت مراکز ایک ساتھ کھلتے ہی نہیں تھے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر صحت مراکز میں ڈاکٹر دستیاب نہیں تھے ، جہاں ڈاکٹر ملتے تھے وہاں دوائیاں نہیں ملتی تھی۔
اس ضمن میں ڈاکٹر ودیا شیٹی سابق انچارج میڈیکل آفیسر نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہے جہاں وہ اپنا موقف پیش کریں گی۔ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل تحقیقات پر اثر انداز ہونے والا کوئی بیان نہیں دینا چاہتی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

حیدرآباد میں 10 روپے بدلنے پر آٹو رکشہ ڈرائیور کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔

Published

on

حیدرآباد، ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کو مبینہ طور پر لوگوں کے ایک گروپ نے روپئے کو لے کر جھگڑے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے بتایا کہ حیدرآباد کے پرانے شہر میں 10 تبدیلی۔ یہ واقعہ اتوار کی شام فلک نما پولیس اسٹیشن کی حدود میں وٹے پلی میں پیش آیا۔ مقتول کی شناخت محمد مکرم (42) کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کے بھائی محمد افروز نے بتایا کہ اس کے خاندان کے افراد کے سامنے اس پر وحشیانہ حملہ کیا گیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ افروز کے مطابق، جب ایک مسافر جس نے مکرم کو 10 روپے کے آٹو کرایہ میں 200 روپے کا نوٹ دیا، مکرم نے اس سے تبدیلی کی رقم ادا کرنے کو کہا۔ اس سے جھگڑا ہوا اور مسافر نے کچھ اور لوگوں کو بلایا جنہوں نے مکرم کو پیٹا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اس نے ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔ افروز نے الزام لگایا کہ ایک مقامی نیوز چینل کے رپورٹر عظیم، شعیب اور دیگر 6-8 افراد اس قتل میں ملوث تھے۔

افروز نے میڈیا کے سامنے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا، “میرا بھائی مرگی اور کمزور دل تھا۔ میری اسے بچانے کی درخواست کے باوجود وہ اس پر گولیوں کی بارش کرتے رہے اور وہ گر گیا۔” مکرم کے پسماندگان میں بیوی اور چار بچے ہیں۔ افروز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دیکر خاندان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔پولیس نے کہا کہ انہوں نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ایم ایل اے محمد مبین نے علاقے کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان کو تسلی دی۔ ایم ایل اے نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وٹے پلی علاقے میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور پولیس سے گشت کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ حیدرآباد میں قتل کی وارداتوں کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا۔ شہر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران قتل کی آٹھ وارداتیں ہوئیں۔ پرہجوم جگہوں پر قتل کو نشانہ بنانے کے لیے چاقو، درانتی اور دیگر تیز دھار ہتھیاروں کے استعمال سے عوام میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے بندلا گوڈا علاقے میں شراب کی دکان کے پرمٹ روم کے اندر ایک بدمعاش کو قتل کر دیا گیا۔ بچپن کے دوست کے ساتھ پچھلی دشمنی کو قتل کے پیچھے محرک بتایا گیا تھا۔ قتل کے سلسلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے حال ہی میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولیس کے انسداد قتل اسکواڈس قائم کیے جائیں تاکہ ایک سال کے اندر تیز تحقیقات اور سزاؤں کو یقینی بنایا جاسکے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پاکستان : خیبر پختونخواہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور کا مسجد پر حملہ، 15 ہلاک اور 50 زخمی

Published

on

blast

اسلام آباد : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعے کو ایک زبردست بم دھماکے سے لرز اٹھا۔ ضلع کوہاٹ کے علاقے پولیس لائنز میں ایک مسجد کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ نماز جمعہ کے دوران اس وقت ہوا جب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا۔ مسجد کے اندر اور باہر زیادہ ہجوم کی وجہ سے دھماکے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کے ایم ایس طاہر علی شاہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ دھماکے کے بعد 15 لاشیں اور 50 زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا۔ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس لائنز میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ دھماکے سے مسجد کے بیرونی حصے کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار گر گئی۔ کوہاٹ میں ڈی ایچ کیو انتظامیہ نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد حکام نے کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ پولیس اور متعلقہ ادارے حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ فائرنگ کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت میں ایک اور خودکش دھماکہ ہوا۔ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) نے بتایا کہ آئی جی پی نے کوہاٹ ریجنل پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پاکستان کا صوبہ کے پی ایک طویل عرصے سے تشدد اور بدامنی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صوبے میں کئی مسلح گروہوں نے پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ان گروہوں نے مسلسل پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کے پی نے حالیہ مہینوں میں کئی بڑے حملوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ پاکستانی فوج نے سخت کارروائی کرنے کا عزم کیا ہے لیکن اب تک وہ ان گروہوں کے خلاف بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

Continue Reading

جرم

کٹکا: بہار کے شخص نے بیوی کو قتل کر دیا، گلا گھونٹ کر گرم تیل ڈالا۔

Published

on

death

بنگلورو، ایک چونکا دینے والے واقعے میں، ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کے جسم پر گرم تیل ڈالا اور اس کی کھال چھیلنے کی کوشش کی اور بنگلورو کے مائیکو لے آؤٹ پولیس اسٹیشن حدود کے تحت بلیکاہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جھگڑے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ بہار سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا اپنے دو بچوں کے ساتھ بنگلورو میں رہتا تھا اور مبینہ طور پر ان کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جوڑے کے بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ گپتا اور گنجا میں مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے بعد میں جسم پر گرم تیل ڈالا اور مبینہ طور پر جلد کو چھیلنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاش برآمد کی تو وہ بری طرح زخمی حالت میں پائی گئی۔

مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد گپتا گھر سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے بعد اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور اس کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران گپتا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا، پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گپتا نے واقعے کے بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اس کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حالات اور طریقے کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس جھگڑے اور اس کے بعد قتل کی وجہ بننے والے حالات کی تفتیش کر رہی ہے۔ گپتا کی مبینہ کارروائیوں کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قتل کے بعد ہونے والے واقعات اور مبینہ طور پر جسم پر گرم تیل ڈالنے کی وجہ جاننے کے لیے پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔مقدمہ اور ملزم کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان