Connect with us
Sunday,22-March-2026

(جنرل (عام

طلاق ثلاثہ کےمتعلق ادھوری معلومات کا معاشرے پر منفی اثر

Published

on

TALAK MATTER.jpg

دھولیہ(اسٹاف رپورٹر) شریعت مخالف قانون بنے پر ملک میں ہر جگہ احتجاج کیا گیا ،چوٹی کے علمائے کرام نے اس ضمن میں کہہ دیا تھا کہ طلاق ثلاثہ کی نوبت ہی پیش نہ آنے دیں، ہمارا مسئلہ ہم خود ہی حل کرنے کی کوشش کریں۔علماء کی بات سن کرکورٹ کی دہلیز نہ چڑھ کر شرعی عدالت میں اگر طلاق ثلاثہ کا مسئلہ جاتا ہےتو شہر قاضی کے پاس پہنچنے سے قبل مسئلہ لے کر جانے والے مرد اور خواتین میں شرعی مسئلہ اور ملک کے قانون کا علم ہونا ضروری ہے۔شکایت کنندہ کی کم عملی کی وجہ سے شہر قاضی کو اپنا کام چھوڑ کر پولس اسٹیشن اور کورٹ کی دہلیز پر وقت گزارنا پڑ سکتا ہے۔ شہر دھولیہ میں ایک گھر کا آپسی تنازع طول پکڑا تو معاملہ شرعی عدالت میں پہنچا ۔ازدواجی زندگی میں کڑواہٹ پیدا ہوتی ہے تو دوریاں بڑھنا فطری عمل ہوتا ہے۔شہر دھولیہ کے چالیس گاؤں روڈ پولس اسٹیشن میں پولس سب انسپکٹر کے پاس سماجی خدمتگار ،شہر قاضی ،ایڈوکیٹ اور وکیل کی موجودگی میں طلاق اور خلع کے مسئلہ پر دیر تک زبانی بحث و تکرار چلنے کے بعد فیصلہ کچھ نہیں نکل سکا ۔شہر قاضی نے یکم اپریل ۲۰۱۹؁ کی تاریخ میں خلع نامہ کے کاغذات کو پیش کرکے اپنی ذمہ داری نبھانے کی صفائی پیش کی ، لیکن متاثرہ لڑکی نے اپنی ازدواجی زندگی میں ظلم و زیادتی کی بات کرکے معاملہ کے رخ کو موڑنا چاہا ۔ اصل مسئلہ خلع اور طلاق کا تھا ،شہر قاضی کے مطابق لڑکی کے اصرار کرنے پر خلع نامہ لکھ کر دیا گیا مزید ایک نوٹری لکھوا کر لڑکا اور لڑکی کی دستخط لے کر دونوں کو علٰحیدہ رہنے کی اجازت دے دی گئی۔لڑکی دنیاوی اعتبار سے تعلیم یافتہ ہیں اور تدریسی شعبہ سے جڑی ہوئی تھی لیکن شادی کے بعد مجبوری میں ملازمت چھوڑنا پڑی ،لڑکی کے مطابق خلع کا مسئلہ سسرال والوں کو صرف ڈرانے دھمکانے کے لیے تھا ۔ ازدواجی زندگی جیسی بھی تھی وہ ساتھ رہنے کے لیے تیار تھی ، لڑکی نے کہا کہ لڑکے نے طلاق کی نوٹری پر دستخط کرکے ظلم کیا ہے،جبکہ لڑکی کی دستخط بھی موجود تھی ۔ جب لڑکی سے سوال کیا گیاکہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود تم جھوٹ کیوں بول رہی ہو ؟ دستخط کرنے سے پہلے پڑھ کر دستخط کرنا تھی تو لڑکی نے کہا کہ بینک کا فارم بھرتے ہوئے ہم فارم پورا نہیں پڑتے ہیں اور دستخط کرتے ہیں تو اتنے بڑے شہر قاضی کے کاغذات پر ہمیں بھروسہ نہیں ؟ ہم نے پڑھا نہیں اور دستخط کردی ،ہمیں لگا کہ ہمارا ازدواجی مسئلہ حل ہونے کے لیے دستخط لی گئی۔ لڑکی کی ماں کے مطابق شوہر لڑکی کو رکھنا ہی نہیں چاہتا تھا اس لیے اس نے پورا کھیل رچ کر طلاق دی ہے۔ پولس سب انسپکٹر بھی فریقین کی بات سن کر معاملہ کو سمجھنے سے قاصر رہے کیونکہ ۵؍ افراد کی بات سن کر شکایت کے متعلق فیصلہ کرنا مشکل ترین عمل ہوگیا تھا۔ لڑکی طلاق کے مسئلہ کی شکایت کا اندراج کروانی چاہتی تھی جبکہ سب انسپکٹر نے شکایت کا اندراج کرنے سے انکار کردیا ہے اور ایس پی آفس میں موجود خواتین پولس محکمہ میں شکایت درج کرنے کی بات کی۔ جب لڑکی سے اس کی منشاء پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہتی تھی اور مستقبل میں بھی ان کے ساتھ رہنا چاہوں گی ورنہ قانونی لڑائی لڑ کر میرا حق حاصل کروں گی۔معاملہ گھنٹوں تک چلتا رہا لیکن حل کچھ نکل نہیں سکا۔ ایسے معاملہ میں لڑکی کا پولس اسٹیشن تک جانا اور وہاں شہر قاضی کو آکر صفائی پیش کرنے کے لیے گھنٹوں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ شہرمیں عالمہ فاضلہ اور طلاق ثلاثہ کا قانون جاننے والی خواتین کی تعداد کم نہیں ہے، شہری سطحی کمیٹی بناکر خواتین میں بیداری مہم کی اشد ضرورت ہے اسی طرح مرد حضرات میں بھی ازدواجی زندگی کی اہمیت کے معاملہ میں دیندار اور تعلیم یافتہ افراد کی مشترکہ کمیٹی بناکر ازدواجی زندگی کے معاملوں کو حل کرنا چاہیے ۔ ورنہ علم نہ ہونے کی صورت میں معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جائے گا ۔ معاملہ پیچیدہ ہوکر کورٹ پہنچا تو فریقین کے ساتھ شہر قاضی ،سماجی خدمتگاروں کا وقت بھی ضائع ہوسکتا ہے، جب وقت کورٹ میں ضائع ہونے کی نوبت پیش آسکتی ہے اصلاحی کاموں میں وقت لگا کر وقت کو قیمتی بنانا چاہیے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : سائبر دھوکہ دہی میں سم کارڈ کا استعمال، ناگپاڑہ سمیت اندھیری کے سم کارڈ ایجنٹوں پر کیس درج

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ کی سائبر سیل نے اب ایسے سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کے فروخت کردہ سم کارڈ دھوکہ دہی میں استعمال کیا گیا کرائم برانچ نے پانچ سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو دھوکہ دہی کے کیس میں تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ سائبر دھوکہ دہی کے لیے ایجنٹ اور دکاندار کے معرفت ملزمین سم کارڈ کی حصولیابی کیا کرتے تھے اور یہی نمبر دھوکہ دہی کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ سم کارڈ فروخت کرنے والے اپنی دکان سے گاہک کے دستاویزات کا غلط استعمال کرکے اگر گاہک ایک سم کارڈ طلب کرتا تو اس کے دستاویز پر ایک دو یا تین سم کارڈ جاری کرواتے تھے اور پھر یہ سم کارڈ یہ لوگ خود کے فائدہ کےلیے استعمال کرتے تھے اور سائبر جرائم میں مفرور ملزمین کو فراہم کرتے تھے سائبر سیل نے ناگپاڑہ سے سم کارڈ فروخت کرنے والے ملزمین محمد سلطان محمد حنیف ، ذیشان کمال کے خلاف آئی ڈی ایکٹ سمیت دیگر دفعات میں کیس درج کیا ہے۔ اسی طرح دیا شنکر بھگوان شکلا، پردیپ کمار برنل والا ، نیرج شیورام کے خلاف کیس درج کیا ہے ان پر بھی غیر قانونی طریقے سے سم کارڈ فروخت کرنے کا کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایماء پر ڈی سی پی سائبر سیل پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے۔ سائبر سیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل نمبر سے متعلق سنچار ساتھی ایپ پر جانچ کرے اگر انہیں اپنے نام پر دیگر نمبر ملتا ہے تو اس پر وہ رپورٹ کرے اور اس معاملہ میں عوام سنچار ساتھی ایپ میں شکایت بھی کر سکتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ میں بڑی بے ضابطگیاں، ریاست بھر میں جانچ کے احکامات

Published

on

ممبئی: ( قمر انصاری )
مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ سے متعلق ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ اور عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس معاملے نے زمین کی ملکیت کے حقوق اور سرکاری نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سے بڑی تعداد میں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں رہنے والے افراد۔

یہ معاملہ مہاراشٹر لینڈ ریونیو کوڈ کی ایک شق کے مبینہ غلط استعمال سے جڑا ہوا ہے، جس کا مقصد صرف معمولی غلطیوں جیسے ٹائپنگ یا دفتری خامیوں کو درست کرنا ہوتا ہے۔ تاہم الزام ہے کہ اسی شق کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی ملکیت میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تبدیلیاں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق کئی معاملات میں بغیر مناسب جانچ پڑتال اور قانونی طریقہ کار کے زمین کے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئیں، جس سے غیر قانونی طور پر زمین کی منتقلی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے اصل مالکان میں اپنی جائیداد کھونے کا خوف پیدا کر دیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں اس شق کے تحت کیے گئے تمام اندراجات کی جامع جانچ کا حکم دیا ہے۔ ضلعی سطح پر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام تبدیلیوں کا جائزہ لیں اور ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں۔

ابتدائی جانچ سے یہ اشارہ ملا ہے کہ یہ معاملہ صرف چند واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ اس جانچ کا مقصد حقیقت کو سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری مقدمات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد کے حقوق کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کے حقوق کا تحفظ اور زمین کے ریکارڈ کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : باندرہ بی کے سی پاسپورٹ آفس کو بم سے اڑانے کی دھمکی، تلاشی کے دوران کوئی بھی دھماکہ خیز مادہ برآمد نہیں، علاقہ میں الرٹ جاری

Published

on

Bomb-Disposal-Team

ممبئی : باندرہ بی کے سی میں بم کی دھمکی کے بعد سنسی پھیل گئی ہے ۔ای میل میں 19 سائینائیڈ بم نیوکلیر بم ممبئی کے بی کے سی میں پاسپورٹ آفس میں نصب ہونے کی ای میل موصول ہونے کے بعد علاقے میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ پولیس کو فوری طور پر اس ای میل کی اطلاع ملنے کے بعد بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں پاسپورٹ آفس میں بم کی دھمکی ملنے کے بعد ہنگامہ برپاہو گیا۔ یہ دھمکی ای میل کے ذریعے دی گئی ہے۔ پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں سائینائیڈ سے بھرے 19 بموں کی تنصیب کی دھمکی دی گئی۔ ای میل موصول ہونے کے بعد خوف و دہشت پیدا ہوگئی دھمکی آمیز ای میل میں کہا گیا کہ بم آج دوپہر 1.30 بجے پھٹ جائیں گے۔ اس دھمکی آمیز ای میل کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ موقع پر پہنچ گیا۔ پورے علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے اور بم اسکواڈ نے تلاشی لی لیکن کچھ نہیں ملا۔ اس لیے پولیس اس ای میل کی تفصیلات لے رہی ہے جس کے ذریعے یہ دھمکی بھیجی گئی تھی۔ ممبئی پولیس پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

: تین ای میل آئی ڈیز پر دھمکی آمیز میل
بدھ کو، بی کے سی میں پاسپورٹ آفس کو تین دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئے۔ جس میں پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں رکھے گئے 19 سائینائیڈ بم دوپہر 1.30 بجے پھٹنے کی دھمکی دی گئی۔ دھمکی آمیز میل Sourav_biswas21@hotmail.com، rpo.mumbai@mea.gov.in اور rpo.mumbai@cpo.gov.in ای میل پتے پر موصول ہوئی تھی۔ اس کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں اور ممبئی پولیس کو فوری طور پر اس کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملنے پر سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی شروع کردی۔ بی کے سی پولیس اسٹیشن کے سینئر افسران، اے ٹی ایس کی ٹیم اور یونٹ 8 کے افسران فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے پورے علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔

: شہریوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل
بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پاسپورٹ آفس کی لابی، مرکزی داخلی دروازے، داخلی اور خارجی راستوں، علاقے میں موجود درختوں اور جھاڑیوں اور تمام اطراف کے علاقوں کا مکمل معائنہ کیا۔ خوش قسمتی سے اس معائنہ میں انہیں کوئی مشکوک یا قابل اعتراض چیز نہیں ملی۔ پھر بھی پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شہریوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کہیں بھی کوئی مشکوک چیز نظر آئے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

جعلی دھمکی آمیز ای میلز بھی اکثر بھیجی جاتی ہیں۔ ایسی جعلی ای میلز خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے سائبر پولیس نے ای میل آئی ڈی کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ پاسپورٹ آفس کے سیکورٹی اہلکاروں کو بھی چوکس رہنے اور حفاظتی معیارات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

Continue Reading
Advertisement

رجحان