Connect with us
Monday,21-September-2026

جرم

رتلام میں منہ زور جوانی نے اپنے ہی والدین کو ہوس کی بھینٹ چڑھا کر عاشق جوڑا پہنچا جیل

Published

on

jail

خیال اثر مالیگانوی

ماضی میں بے شمار واقعات ایسے رونما ہوئے ہیں جن میں والدین کے شادی سے انکار کے بعد نوجوان لڑکیاں اپنے عاشقوں کے ہمراہ فرار ہو جایا کرتی تھیں. چند دنوں ہوس کی آگ ٹھنڈی ہونے پر دوبارہ مرجھائی اور مسلی ہوئی کلیوں کی طرح پھر سے والدین کی چوکھٹ پر آ کر تا زندگی سماج و معاشرہ سے منہ چھپائے اپنی نادانی پر پشیمانی کے عالم میں زندگی جینے کی ناکام کوشش کرتی تھیں لیکن بدلتے دور نے نسل نو کو نت نئے گر سے اس طرح آشنا کردیا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے انسان سے حیوان بن جاتے ہیں.

ان کے لئے کسی کا قتل کر دینا بھی انتہائی آسان اور سہل ہو جاتا ہے.برسوں سے ہم سنتے آئے ہیں کہ وجود زن سےہے تصویر کائنات میں رنگ ” لیکن فی زمانہ اس مصرعہ کا مفہوم بدل کر رہ گیا ہے اس لئے اسے یوں کہنا چاہیے کہ “وجود زن ہے قتل و خون کا سبب “ایسا ہی ایک خونی واقعہ گزشتہ دنوں ضلع رتلام میں پیش آیا. رتلام کے ایک پولیس کانسٹبل کی جوان بیٹی کے تعلقات اسی شہر کے ایک 22سالہ دھننجئے نامی نوجوان سے ہو گئے. پیار و محبت کی یہ کہانی طویل سے طویل ہوتی گئی اور جب نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اس نوجوان لڑکی نے اپنے ہی عاشق سے بیاہ رچانے کا عندیہ ظاہر کیا. لڑکی کے والدین اس رشتے کے لئے کسی صورت راضی ہونے کا نام نہیں لیتے تھے.

لڑکی کے والد نے اپنی جوان بیٹی پر پابندیاں بھی عائد کی .ہر طرح کی سختیاں جھیلنے کے باوجود لڑکی کے پر جوش جذبات کسی بھی صورت قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہے تھے. پولیس کانسٹبل کی نوجوان دوشیزہ اپنی نفسانی خواہشیات کی تکیمل کے لئے ہر حد سے گزرنے کو تیار تھی. دھننجئے نے بھی اپنے پیار کی زنجیروں میں اس ہوس کی غلام دوشیزہ کو کچھ اس طرح جکڑ رکھا تھا کہ اسے کسی بھی انجام کی پرواہ نہیں تھی. اپنے والدین کے پچھے قدم نہ ہٹانے کے اٹل فیصلے کو دیکھتے ہوئے منہ زور جوانی کے جذبات نے اپنے والدین کو راستے سے ہٹانے کا ارادہ کر لیا. والدین کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس بے رحم عاشق و معشوق جوڑے نے اپنے مشفق والدین کو راستے کا پتھر جان کر ملن کی راہوں سے ہٹانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دیا اور پھر ایک رات چار بجے لڑکی اپنے کتے کو ساتھ لئے چہل قدمی کے لئے نکلی تاکہ پڑوسیوں کو اس واردات کا علم نہ ہوسکے.

تب اس کا عاشق نظریں بچا کر لڑکی کے مکان میں داخل ہوا اور انتہائی بے رحمی سے لڑکی کے والدین جو گہری نیند سورہے تھے کا قتل کر دیا. نوجوان دھننجئے نے لڑکی کے والدین کو اپنے راستے کا پتھر سمجھ کر لمحوں میں اس کے ہی خون سے اس طرح نہلا دیا کہ ان کی آتما پرلوک سدھار گئی. اس سفاکانہ قتل کے بعد قاتل دھننجئے نامی نوجوان راہ فرار اختیار کر لی تھی.اندور کے ڈی آئی جی ہری نارائن مشرا نے کہا کہ اپنے ہی والدین کو قتل کرنے والی نابالغ لڑکی اور اس کے 22 سالہ بوائے فرینڈ کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس کا نام دھنن جے ہے وہ رتلام کا رہنے والا ہے۔واضح رہے کہ پولیس اہکار اور ان کی بیوی جمعرات کی صبح رکمنی نگر میں واقع اپنے مکان میں مردہ پائے گئے، ان کے جسموں پر زخم کے متعدد نشان تھے۔مقتولین کے نابالغ بیٹے کو اس قتل کا سب سے پہلے علم ہوا جو پڑوس میں اپنے دادا دادی کے ساتھ رہتا تھا۔اس کی ماں اس کے دادا کیلئے چائے لے کر جانے والی تھی لیکن کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی جب وہ نہیں آئی تو بچے کے دادا نے اسے دیکھنے کیلئے بھیجا۔جب بچہ گھر میں داخل ہوا تو اس نے اپنے والدین خو خون میں لت پت زمین پر پڑا ہوا پایا۔پولیس کے مطابق جب گھر والوں کو علم ہوا کہ ان کی بیٹی بھی گھر پر نہیں ہے تو انہیں یہ گمان ہوا کہ وہ اغوا ہوگئی ہے۔لیکن ایک خط برآمد ہونے کے بعد لڑکی کلیدی مجرم کے طور پر سامنے آئی.

لاش کے جسم پر جا بجا زخموں کے نشانات دیکھ کر معلوم ہوا کہ اسے انتہائی اذیت دیتے ہوئے بری طرح سے جان لیوا زخم پہنچائے گئے تھے. لاش کے چہار جانب خون ہی خون بکھرا ہوا تھا..حواس باختہ بیٹے نے قتل کی اطلاع پولیس کو دی . چونکہ مقتول پولیس ملازم تھا اس لئے محمکہ پولیس بھی اپنی فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی جانفشانی سے تفتیش میں مصروف ہو گئی. مقتول کے گھرکی ساری قیمتیں چیزیں موجود رہنے کی وجہ سے چوری اور ڈکیتی کا خدشہ خارج کرتے ہوئے پولیس نے اپنی تفیش کا رخ دوسری جانب موڑ دیا. گھر کی تلاشی لینے پر پولیس کو ایک محبت بھرا مکتوب دستیاب ہوا جو کہ دھننجئے نامی نوجوان نے اپنی محبوبہ کے لئے لکھا تھا. محمکہ پولیس تلاش بسیار کے بعد دھننجئے تک جا پہنچی. پولیس کی سختیاں نہ جھیل پائے دھننجئے نے سارا عقدہ لمحوں میں فاش کردیا تب پولیس پر یہ راز کھلا کہ ان عاشق و معشوق نے منظم سازش کے تحت اس قتل کو انجام دیا ہے.

نوجوان دوشیزہ اپنی نفسانی خواہشیات کی تکمیل کے لئے اپنےباپ کو قتل کرنے کے لئے کس طرح راضی ہو گئی. سگے باپ کے قتل کے باوجود اس لڑکی کی منہ زور جوانی اپنے معشوق کے سینے سے لپٹنے کے لئے بے قرار تھی. باپ کے قتل کے بعد بھی اس الہڑ نازنین کو کسی بھی قسم کی پشیمانی کا احساس نہیں تھا. اپنے ہی سگے باپ کو قتل کرنے کے بعد یہ دوشیزہ اپنے ہی باپ کے خون سے اپنے ہاتھوں میں مہندی سجائے آج پولیس کی گرفت میں آنسو بہا رہی ہے تو پولیس ذمہ داران بھی ساری کہانی سامنے آنے پر محو حیرت ہیں کہ کیا کوئی لڑکی ہوس میں اندھی ہو کر نازوں سے پرورش کرنے والے اپنے ہی سگے باپ کے قتل کی سازش میں معاون و مدگار بن کر اپنے ہی باپ کے قتل کا سبب بن سکتی ہے دوسری طرف اس کا دل پھینک عاشق بھی وصال کی تمنا لئے پھانسی کے پھندوں کا منتظر ہے. ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں قانونی منہ شگافیوں کے طفیل یہ قاتل نوجوان عاشق و پھانسی کے پھندوں سے بچ جائیں لیکن عمر بھر یہ قاتل رومیوں جولیٹ ایک دوسرے سے دور رہ کر جیل کی سلاخوں کی گنتی کرتے رہیں گے.

ان کے وصال کی تمنائیں تا عمر ہجر کے شب و روز میں دم توڑتی جائیں گی.
یہ ہے منہ زور جوانی کی خونیں کہانی جو ایسے ہی جوانی کے جذبات میں مبتلاہر نئے زمانوں کی لیلاؤں اور مجنوؤں کو درس عبرت دیتی ہے. ساتھ ہی نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو بھی یہ بتاتی ہے کہ والدین اپنے نوجوان بچوں پر یوں ہی بےجا پابندیاں نہیں کرتے ہیں. والدین ہمیشہ ہی اپنے بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے انتہائی سوچ سمجھ کر مناسب اور بروقت فیصلہ صادر کرتے ہیں اس لئے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندھے جذبات کو ہوس کا شکار نہ بننے دیں اسی میں ان کی بھلائی کا راز پوشیدہ ہے کیونکہ آج گلیوں گلیوں ہوس کار گدھ منڈلا رہے ہیں جونوجوان اور نا سمجھ لڑکیوں کے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہوئے نہ صرف انکی عزت نفس سے کھیلنے کے بعد ان نوجوان لڑکیوں کو کسی قحبہ خانے کی زینت بننے کے لئے بے یار و مدگار چھوڑ جاتے ہیں اور پھر کچھ دنوں کے بعد پھر کسی دوسری ناسمجھ فاختہ کی تلاش میں نکل کر انھیں اپنا شکار بنا لیتے ہیں.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

حیدرآباد میں 10 روپے بدلنے پر آٹو رکشہ ڈرائیور کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔

Published

on

حیدرآباد، ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کو مبینہ طور پر لوگوں کے ایک گروپ نے روپئے کو لے کر جھگڑے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے بتایا کہ حیدرآباد کے پرانے شہر میں 10 تبدیلی۔ یہ واقعہ اتوار کی شام فلک نما پولیس اسٹیشن کی حدود میں وٹے پلی میں پیش آیا۔ مقتول کی شناخت محمد مکرم (42) کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کے بھائی محمد افروز نے بتایا کہ اس کے خاندان کے افراد کے سامنے اس پر وحشیانہ حملہ کیا گیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ افروز کے مطابق، جب ایک مسافر جس نے مکرم کو 10 روپے کے آٹو کرایہ میں 200 روپے کا نوٹ دیا، مکرم نے اس سے تبدیلی کی رقم ادا کرنے کو کہا۔ اس سے جھگڑا ہوا اور مسافر نے کچھ اور لوگوں کو بلایا جنہوں نے مکرم کو پیٹا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اس نے ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔ افروز نے الزام لگایا کہ ایک مقامی نیوز چینل کے رپورٹر عظیم، شعیب اور دیگر 6-8 افراد اس قتل میں ملوث تھے۔

افروز نے میڈیا کے سامنے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا، “میرا بھائی مرگی اور کمزور دل تھا۔ میری اسے بچانے کی درخواست کے باوجود وہ اس پر گولیوں کی بارش کرتے رہے اور وہ گر گیا۔” مکرم کے پسماندگان میں بیوی اور چار بچے ہیں۔ افروز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دیکر خاندان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔پولیس نے کہا کہ انہوں نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ایم ایل اے محمد مبین نے علاقے کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان کو تسلی دی۔ ایم ایل اے نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وٹے پلی علاقے میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور پولیس سے گشت کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ حیدرآباد میں قتل کی وارداتوں کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا۔ شہر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران قتل کی آٹھ وارداتیں ہوئیں۔ پرہجوم جگہوں پر قتل کو نشانہ بنانے کے لیے چاقو، درانتی اور دیگر تیز دھار ہتھیاروں کے استعمال سے عوام میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے بندلا گوڈا علاقے میں شراب کی دکان کے پرمٹ روم کے اندر ایک بدمعاش کو قتل کر دیا گیا۔ بچپن کے دوست کے ساتھ پچھلی دشمنی کو قتل کے پیچھے محرک بتایا گیا تھا۔ قتل کے سلسلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے حال ہی میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولیس کے انسداد قتل اسکواڈس قائم کیے جائیں تاکہ ایک سال کے اندر تیز تحقیقات اور سزاؤں کو یقینی بنایا جاسکے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پاکستان : خیبر پختونخواہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور کا مسجد پر حملہ، 15 ہلاک اور 50 زخمی

Published

on

blast

اسلام آباد : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعے کو ایک زبردست بم دھماکے سے لرز اٹھا۔ ضلع کوہاٹ کے علاقے پولیس لائنز میں ایک مسجد کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ نماز جمعہ کے دوران اس وقت ہوا جب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا۔ مسجد کے اندر اور باہر زیادہ ہجوم کی وجہ سے دھماکے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کے ایم ایس طاہر علی شاہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ دھماکے کے بعد 15 لاشیں اور 50 زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا۔ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس لائنز میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ دھماکے سے مسجد کے بیرونی حصے کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار گر گئی۔ کوہاٹ میں ڈی ایچ کیو انتظامیہ نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد حکام نے کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ پولیس اور متعلقہ ادارے حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ فائرنگ کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت میں ایک اور خودکش دھماکہ ہوا۔ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) نے بتایا کہ آئی جی پی نے کوہاٹ ریجنل پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پاکستان کا صوبہ کے پی ایک طویل عرصے سے تشدد اور بدامنی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صوبے میں کئی مسلح گروہوں نے پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ان گروہوں نے مسلسل پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کے پی نے حالیہ مہینوں میں کئی بڑے حملوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ پاکستانی فوج نے سخت کارروائی کرنے کا عزم کیا ہے لیکن اب تک وہ ان گروہوں کے خلاف بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

Continue Reading

جرم

کٹکا: بہار کے شخص نے بیوی کو قتل کر دیا، گلا گھونٹ کر گرم تیل ڈالا۔

Published

on

death

بنگلورو، ایک چونکا دینے والے واقعے میں، ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کے جسم پر گرم تیل ڈالا اور اس کی کھال چھیلنے کی کوشش کی اور بنگلورو کے مائیکو لے آؤٹ پولیس اسٹیشن حدود کے تحت بلیکاہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جھگڑے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ بہار سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا اپنے دو بچوں کے ساتھ بنگلورو میں رہتا تھا اور مبینہ طور پر ان کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جوڑے کے بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ گپتا اور گنجا میں مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے بعد میں جسم پر گرم تیل ڈالا اور مبینہ طور پر جلد کو چھیلنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاش برآمد کی تو وہ بری طرح زخمی حالت میں پائی گئی۔

مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد گپتا گھر سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے بعد اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور اس کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران گپتا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا، پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گپتا نے واقعے کے بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اس کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حالات اور طریقے کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس جھگڑے اور اس کے بعد قتل کی وجہ بننے والے حالات کی تفتیش کر رہی ہے۔ گپتا کی مبینہ کارروائیوں کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قتل کے بعد ہونے والے واقعات اور مبینہ طور پر جسم پر گرم تیل ڈالنے کی وجہ جاننے کے لیے پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔مقدمہ اور ملزم کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان