Connect with us
Wednesday,17-June-2026

جرم

ممبئی میں شرابی باپ نے اپنی کمسن بیٹی کو بنایا ہوس کا نشانہ

Published

on

rape

ممبئی (خیال اثر)
شراب کو ام الخبائث ” یوں ہی نہیں قرار دیا گیا ہے. ایک بار جو بھی اس بنت عنب کے حصار میں جا پہنچتا ہے وہ تا زندگی اس سے نہیں نکل پاتا. جب بھی بنت عنب کے شکار افراد گلے تک اس میں ڈوب جاتے ہیں تب انگور کی اس بیٹی کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے. اس کا عادی فرد سماج و معاشرہ اور ہر جائز و ناجائز رشتہ کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے. بنت عنب کی نشیلی بانہوں میں جکڑا ہوا فرد سماج و معاشرہ کے لئے کسی ناسور سے کم ثابت نہیں ہوتا. جام و پیالہ یا ساغر و مینا سے شغل فرمانے والا یہ انسان لمحوں میں انسانیت کا چولا پھینک کر شیطان بن جاتا ہے تب ایسے شیطان نما انسان کی جنسی ہوس کاریاں بڑھتے ہوئے ہر مقدس و متعبر رشتوں کی پامالی کی جانب گامزن ہو جاتی ہیں ایسا ہی ایک دلدوز واقعہ گذشتہ 12 جون کو ممبئی جیسے ترقی یافتہ شہر میں پیش آیا جہاں اجین کے ایک شہری نے جو ممبئی کی کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم تھا.

عیاں رہے کہ مذکورہ شخص ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کی وجہ سے انتہائی آسودہ حال زندگی گزار رہا تھا. خطیر تنخواہ اور روپیوں کی فراوانی نے اس انسانی بھیڑیئے کو انگور کی بیٹی نامی سیال حسینہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر بنادیا کہ اسے اپنی خود کی کمسن بیٹی کسی غیر حیسنہ کی طرح دعوت نظارہ دینے لگی اور پھر ایک دن یوں ہوا کہ شراب کے نشے میں چور یہ بد قماش شخص اپنی ہی کمسن بیٹی کے اوپر کسی خوںخوار بھیڑیئے کی طرح جھپٹ پڑا اور لمحوں میں اس کی عزت و آبرو اپنے ہوس ناک پنجوں سے نوچ ڈالی . کمسن بچی کی ماں اس دوران کسی بیماری میں مبتلا رہتے ہوئے معالجے کی غرض سے داخل اسپتال تھی . ایک باپ کے ذریعے سگی اور کمسن بچی کا جنسی استحصال ایک دو بار نہیں بلکہ روز بروز ہونے لگا تھا. اپنی سگی بیٹی کے ساتھ زبردستی آبرو ریزی پر جب لڑکی تیار نہ ہوتی تھی تو اس کا ظالم و جابر درندہ صفت باپ بری طرح اسے مارتا پیٹتا بھی تھا. ایسے ہی حالات نے ایک دن جب اس کی ماں صحت مند ہو کر اپنے گھر واپس لوٹ آئی تو اس کی معصوم بچی نے جنس زدہ ماحول سے نقاب اٹھاتے ہوئے اپنے درندہ صفت باپ کی ساری شیطانی حرکات اپنی ماں کے گوش گزار دی تب سارا عقدہ کھلا کہ ایک سگا باپ کیسے ایک جنس زدہ بھیڑئیے کا روپ دھارن کر گیا اور اپنی ہی سگی بیٹی کو اپنی ہوس کا شکار بنانے کے لئے اپنی ہی معصوم بیٹی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا رہا.

سارا ماجرا سننے کے بعد ماں کے قدموں تلے زمین کھسک گئی مانو اس کے سر پر کوئی بھاری چٹان گر گئی ہو . اپنی معصوم بچی سے اس کی عزت و آبرو اپنے ہی سگے باپ کے ذریعے تار تار کئے جانے کا معاملہ سن کر اس کی صحت مندی پل بھر میں کافور ہو گئی تھی اسے لگا کہ ایک مرض سے تو وہ صحت مند ہو کر اپنے گھر لوٹ آئی ہے لیکن اس کے شوہر نے اپنی کمسن بچی کے ساتھ جو کھیل رچایا تھا اسے وہ جس اذیت اور مرض میں مبتلا کر گیا ہے اس سے وہ شاید ہی کبھی جانبر ہو پائے گی. یہ اذیت پوشی شاید ہی اسے زندہ رہنے دے گی اور جب بھی اپنے شوہر نامدار کے ذریعے اپنی بیٹی کی جنسی ہراسانی کا واقعہ یاد آئے گا تب تب وہ زندہ در گور ہوتی جائے گی. اندر سے ٹوٹی ہوئی ایک ماں اپنے شوہر کے سارے کالے کرتوت معلوم ہونے پر جنسی ہراسانی کی شکار اپنی معصوم بچی کو لے کر پولیس تھانہ جا پہنچی اور اپنے ہی شوہر کے خلاف اپنی بیٹی کے ساتھ زنا بالجبر کی شکایت درج کروائی. سارا معاملہ سننے کے بعد پولیس محمکہ بھی متحرک ہوا اور اس شیطان صفت باپ کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی تو معلوم ہوا کہ یہ ساری کارستانی ام الخبائث کی ہے کہ اس بھیڑیئے نما باپ کے سر پر اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اور نہ ہی وہ ایسی کسی مذموم اور ذلیل حرکت پر مائل ہوتا.

آج یہ جنس زدہ شیطانی بھیڑیا اپنی ہی سگی بیٹی کی عزت کو بار بار پامال کرنے اور انکار پر ظلم کے پہاڑ توڑنے جیسے جرم کی وجہ سے حوالات کی سلاخیں گن رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اپنی ہی سگی بیٹی کے ساتھ ناجائز رشتہ قائم کرنے کی وجہ سے اسے کڑی سے کڑی سزا کا اہل گردانا جائے. یہاں اس بات کا بھی خلاصہ ہوتا ہے کہ اگر قانون و عدلیہ اس ظالم شخص کو پھانسی پر بھی لٹکا دے تو کیا اس معصوم لڑکی کی عزت و ناموس واپس آ سکے گی اور اس کے گلے میں زور زبردستی کے بل جو بدنامی کا طوق ڈال دیا گیا ہے اس سے وہ معصوم بچی باہر نکل سکے گی. ایسے معاملات میں قانون و عدلیہ بھی مجبور و بےبس نظر آتی ہے کیونکہ قانون و عدلیہ ایسے جنس زدہ شیطانوں کو لاکھ کڑی سے کڑی سزائیں دے دیں لیکن کسی مجبور و بے کس لڑکی کی لٹی ہوئی عزت واپس لوٹا نہیں سکتی. ہائے ری مجبوری قانون و عدلیہ کی. آج ضرورت ہے کہ قانون کی دیوی کی آنکھوں پر بندھی ہوئی کالی پٹی کھول دی جائے تاکہ وہ اپنی کھلی آنکھوں سے ایسی مجبور و بےبس ہوس کی شکار معصوم لڑکیوں کی تار تار عزت کا تماشہ دیکھ سکے.

جرم

بنگلورو میں لیو ان پارٹنر نے خاتون کو گلا دبا کر قتل کر دیا۔

Published

on

بنگلورو کے ملیشورم میں کرائے کے مکان میں ایک 20 سالہ خاتون کو اس کے ساتھی نے مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کر دیا۔ متاثرہ کی شناخت انوشا کے طور پر ہوئی ہے اور ملزم 25 سالہ شرتھ ہے جو ہاسن ضلع کے سکلیش پور کا رہنے والا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ دونوں کی ملاقات انسٹاگرام پر ہوئی تھی اور وہ گزشتہ چھ ماہ سے مالیشورم میں ایک ساتھ رہ رہے تھے۔ ہفتہ کی رات مبینہ طور پر ذاتی معاملات پر جھگڑا بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں شہر میں پانی کے ٹینکر ڈرائیور شرتھ نے انوشا کا گلا دبا کر قتل کر دیا۔

یہ واقعہ پیر کو اس وقت سامنے آیا جب شرتھ نے مبینہ طور پر اپنے وکیل کو قتل کے بارے میں مطلع کیا۔ وکیل نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد سشادری پورم پولیس اسٹیشن کے افسران گھر پہنچے اور لاش کو برآمد کیا۔ مقدمہ درج کر لیا گیا، سرچ آپریشن کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد، انوشا کی لاش اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی، جب کہ پولیس تحقیقات کے حصے کے طور پر شرتھ سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

اس سے قبل 13 جون کو بنگلورو میں ایک خاتون اپنے کرائے کے گھر میں مردہ پائی گئی تھی۔ متوفی، جس کی شناخت بھوانی ایس کے نام سے ہوئی تھی، نے بی ایس سی مکمل کیا تھا۔ کی ڈگری حاصل کی اور ٹگارپالیا میں ایک موبائل فون کی دکان پر بلنگ ایگزیکٹو کے طور پر کام کر رہا تھا۔ وہ جی ہوساہلی روڈ پر آرکڈز اسکول کے قریب کرائے کے مکان میں اکیلی رہتی تھی۔

والد سرینواس نے بتایا کہ 13 جون کی صبح ان کی بھابھی نے خاندان کو انسٹاگرام کہانی کے بارے میں مطلع کیا جس میں بھوانی کو ایک نامعلوم شخص کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ جب بھوانی کو بار بار کال کی گئی تو جواب نہیں ملا، خاندان نے اپنے آجر کی بیوی سے رابطہ کیا اور ان سے بھوانی کی خیریت دریافت کرنے کی درخواست کی۔

خاتون نے گھر کو اندر سے بند پایا۔ دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد جب اسے کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ جب پولیس گھر میں داخل ہوئی تو بھوانی فرش پر مردہ پائی گئی، جبکہ چندر شیکھر (عرف چندن یا چندو) نامی شخص بے ہوش لیکن سانس لے رہا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

جرم

پنجاب : پولیس کی منشیات فروشی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی، ایک گرفتار

Published

on

heroin

چندی گڑھ : پنجاب پولیس نے منشیات اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تین افراد کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا ہے۔ پولیس فی الحال ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ معاملے کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔

پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں کسی بھی ملزم کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے آتی ہے تو وہ ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ پولیس نے اس کارروائی کی معلومات اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی ہیں۔

پولیس کے مطابق ان ملزمان سے 5.775 کلو گرام ہیروئن، 133640 ممنوعہ کیپسول/گولیاں، 39 کارتوس اور 36600 روپے نقدی برآمد ہوئی ہے۔ ان کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فی الحال تفتیش جاری ہے۔

پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر پورے نیٹ ورک کی تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون کون ملوث ہے اور وہ کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر کوئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پنجاب کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے ایسی کارروائی ضروری ہے۔ “ہمارا واحد مقصد پنجاب کو منشیات سے پاک کرنا ہے، اور اس سمت میں ہماری بھرپور کوششیں جاری رہیں گی۔ ہم نہیں چاہتے کہ پنجاب کے نوجوان کسی بھی قسم کی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہوں۔”

واضح رہے کہ سرحد پار سے پنجاب میں منشیات کی سمگلنگ مسلسل ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس پہلے ہی کئی بڑی کارروائیاں کر چکی ہے۔ اس سے قبل، پنجاب پولیس نے 11 جون کو ایک کارروائی کے دوران 30 کلو گرام ہیروئن پکڑی تھی۔ اس کیس میں گرفتار ملزمان دبئی میں مقیم سمگلروں سے رابطے میں تھے اور ان کی مدد سے منشیات پنجاب سمگل کرتے تھے۔

Continue Reading

تعلیم

دہلی میں این ای ای ٹی کی تیاری کرنے والے طالب علم نے خودکشی کرلی، خودکشی نوٹ برآمد

Published

on

نئی دہلی: دہلی میں این ای ای ٹی کی تیاری کرنے والے ایک طالب علم نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہے۔ ہلاک ہونے والی طالبہ کی شناخت رینو کے طور پر کی گئی ہے، جو جنوب مغربی دہلی کے پالم علاقے میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھی۔

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ طالب علم نے 3 مئی کو این ای ای ٹی کے امتحان میں شرکت کی تھی اور مبینہ طور پر امتحان منسوخ ہونے کے بعد سے ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ پولیس نے بتایا کہ رینو کے والد اپنے سسر کی موت کے بعد 13 جون کو اپنے سسرال گئے تھے۔ واقعہ کے وقت رینو گھر میں اکیلی تھی۔ اس نے مبینہ طور پر 13 جون کی شام کو پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی۔

جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والے خودکشی نوٹ سے اس کی ذہنی پریشانی کا پتہ چلتا ہے۔ نوٹ میں، اس نے اپنے والدین سے معافی مانگی اور لکھا کہ وہ ان کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہیں۔ خاندان کا اصل تعلق راجستھان سے ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلباء کی ذہنی صحت کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے، خاص طور پر این ای ای ٹی امتحان سے متعلق تنازعہ اور پیپر لیک ہونے کے الزامات کے بعد۔

اس ہفتے کے شروع میں، راجستھان کے سیکر ضلع میں این ای ای ٹی کے ایک 22 سالہ امیدوار نے خودکشی کر لی۔ امیش مالی 21 جون کو ہونے والے این ای ای ٹی امتحان میں اپنی تیسری کوشش کی تیاری کر رہے تھے۔ سیکر میں این ای ای ٹی کے امیدوار کی یہ دوسری خودکشی تھی۔

پولیس کے مطابق امیش جھنجھنو ضلع کے نوال گڑھ کا رہنے والا تھا۔ اس کے والد ممبئی میں ٹائل کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ امتحان کی تیاری کے دوران وہ اپنی ماں، بڑی بہن اور چھوٹے بھائی کے ساتھ سیکر کے صنعت نگر تھانہ علاقے میں ایک فلیٹ میں رہ رہا تھا۔

منگل کو سامنے آنے والے اسی طرح کے ایک واقعے میں، دہرادون میں ایک 23 سالہ خاتون نے مبینہ طور پر این ای ای ٹی کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد اپنی جان لے لی۔ اس نے اپنے والدین کے نام ایک نوٹ چھوڑا، جس میں لکھا تھا، “ماں اور پاپا، میں آپ سے پیار کرتا ہوں۔”

پولیس کے مطابق، ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کافی عرصے سے این ای ای ٹی امتحان کی تیاری کر رہی تھی اور میڈیکل کے شعبے میں اپنا کیریئر بنانا چاہتی تھی۔

دریں اثنا، این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ نے منگل کو امیدواروں کو یقین دلایا کہ دوبارہ امتحان محفوظ طریقے سے اور بغیر کسی بے ضابطگی کے منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے طلباء اور والدین کو بھی خبردار کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر کام کرنے والے ایسے ریاکٹ سے ہوشیار رہیں جو لیک شدہ پیپرز کو بھاری رقم کے عوض فروخت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

ایک ویڈیو پیغام میں ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ دوبارہ امتحان کا کوئی پرچہ لیک نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے امیدواروں کو خبردار کیا کہ وہ ٹیلی گرام چینلز کا استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی کے شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی گرام ایپ کو 22 جون تک عارضی طور پر معطل کرنے کا مقصد امتحان سے متعلق جعلی خبروں اور گمراہ کن دعوؤں کو روکنا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان