Connect with us
Monday,06-April-2026

سیاست

ہندوستان جیسی معیشت میں ایک فرد کا فیصلہ لینا خطرناک

Published

on

ممبئی :رگھو رام راجن نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستان جیسے ملک کی معیشت کو ایک ہی فرد اپنی مرضی سے نہیں چلا سکتا۔ ہندوستانی معیشت کافی بڑی ہو گئیے، ایسے میں کسی ایک فرد کے ذریعہ اس کو چلایا نہیں جا سکتا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس کے نتیجے ہم دیکھ چکے ہیں۔‘‘غور طلب ہے کہ رگھو رام راجن پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اگر ایک ہی شخص معیشت کے بارے میں سبھی فیصلے لے گا تو یہ خطرناک ثابت ہوگا۔ انھوں نے ملک کے بڑھتے سرکاری خسارے پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معیشت پر منفی اثر پڑے گا اور اس سے باہر آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔رگھو رام راجن نے براؤن یونیورسٹی میں ایک لیکچر میں کہا کہ معیشت کے بارے میں حکومت کے ذریعہ کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھانے سے ابھی سستی کا ماحول ہے۔ دھیان رہے کہ 2016 کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی شرح ترقی 9 فیصد کے قریب تھی، جو اب گھٹ کر 5.3 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔ راجن نے کہا کہ ملک میں مالیاتی اور بجلی سیکٹر کو مدد کی ضرورت ہے، لیکن اس کے باوجود شرح ترقی کو بڑھانے کے لیے نئے سیکٹرس کی طرف دھیان نہیں دیا گیا۔انھوں نے کہا کہ مالیاتی سیکٹر میں جو عدم استحکام کا ماحول ہے، وہ ایک طرح کی نشانی ہے، نہ کہ پوری طرح سے ذمہ دار۔ سابق آر بی آئی گورنر نے کہا کہ معاشی سستی کے لیے پہلے نوٹ بندی اور پھر جلدبازی سے نافذ کیا گیا جی ایس ٹی ذمہ دار ہے۔ اگر یہ دونوں نہیں ہوتے تو معیشت اچھی کارکردگی کر رہی ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت نے بغیر کسی کی صلاح کے نوٹ بندی کو نافذ کر دیا۔ اس طرح کے تجربات کرنے سے پہلے پوری طرح سے غور و خوض ہونا چاہیے تھا۔ نوٹ بندی سے صرف نقصان ہوا اور اس سے کسی کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ راجن نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتا سرکاری خسارہ ایشیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کو ایک بے حد فکر انگیز حالت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی معیشت پر سنگین بحران کا سبب معیشت کو لے کر نظریہ میں دیکھنے کو مل رہی غیر یقینی ہے۔رگھو رام راجن نے معاشی مسائل کی حقیقی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے سے موجود پریشانیوں کا حل نہیں نکالا۔ انھوں نے کہا کہ اصل دقت یہ ہے کہ ہندوستان ترقی کے نئے ذرائع کا پتہ لگانے میں ناکام رہا ہے۔ راجن نے مشورہ دیا کہ ’’ہندوستان کے مالی بحران کو ایک علامت کی شکل میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ اصل وجہ کے طور پر۔‘‘ انھوں نے شرح ترقی میں آئی گراوٹ کے لیے سرمایہ کاری، خرچ اور برآمدگی میں سستی کے ساتھ ساتھ این بی ایف سی سیکٹر کے بحران کو ذمہ دار ٹھہرایا۔‘‘

بزنس

ممبئی والوں کے لیے بڑی خوشخبری… ویسٹرن ریلوے نے 15 کوچز کے لیے پلیٹ فارم کی توسیع مکمل کر لی۔ ویرار سے ٹرین سروس جلد شروع ہوگی۔

Published

on

Local-Train

ممبئی : مغربی ریلوے کے ویرار ریلوے اسٹیشن پر پلیٹ فارم کی توسیع کا کام مکمل ہو گیا ہے، جس سے 15 کوچ والی لوکل ٹرینوں کو وہاں رکنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پلیٹ فارم 3اے اور 4اے کو 4 میٹر تک چوڑا کر دیا گیا ہے۔ ممبئی ریل وکاس نگم (ایم آر وی سی) نے یہ کام صرف چار ماہ میں مکمل کیا۔ اسٹیشن کے مغربی جانب ایک نیا ہوم پلیٹ فارم نمبر 5اے بھی بنایا گیا ہے۔ اس سے اسٹیشن پر آنے اور روانہ ہونے والی لوکل ٹرینوں کا آپریشن مزید ہموار اور منظم ہو جائے گا۔ جلد ہی 15 کوچ والی لوکل سروسز بھی متعارف کرائی جائیں گی۔ حکام کے مطابق تمام مکمل شدہ پلیٹ فارم جلد ہی ویسٹرن ریلوے کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

ویرار-ڈاہانو روڈ کوڈرلیٹرلائزیشن پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر ویرار ریلوے اسٹیشن پر وسیع پیمانے پر ترقیاتی کام جاری ہے۔ اس کا مقصد مستقبل میں مسافروں کی ٹریفک کو سنبھالنا، سہولیات کو بہتر بنانا اور مقامی خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنا ہے۔ حکام کے مطابق، ان کاموں کی تکمیل سے ویرار-ڈاہانو روڈ سیکشن پر ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوگا اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم ہوں گی۔ حال ہی میں ویسٹرن ریلوے اور ایم آر وی سی کے ساتھ مل کر 15 کوچ والی لوکل ٹرین کا کامیاب ٹرائل رن بھی مکمل کیا گیا۔

ایم آر وی سی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ولاس واڈیکر نے کہا کہ ویرار اسٹیشن پر صلاحیت بڑھانے کا یہ کام پورے سیکشن کے لیے اہم ہے۔ یہ پروجیکٹ ایم آر وی سی اور ویسٹرن ریلوے کے ساتھ مل کر مکمل کیا گیا ہے، جس سے مسافروں کی حفاظت اور کم سے کم رکاوٹ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ویرار سے 15 کوچ والی لوکل ٹرین کے آغاز سے ہزاروں مسافروں کو فائدہ ہوگا۔ زیادہ مسافر ایک ہی لوکل ٹرین میں سفر کر سکیں گے، جس سے اسٹیشن کی بھیڑ میں کمی آئے گی۔ ویرار اسٹیشن سے سفر کرنے والے لوکل ٹرین کے مسافر نئی سروس کے آغاز کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

Continue Reading

بزنس

بھارتی اسٹاک مارکیٹ سبز رنگ میں بند ہوئی، سینسیکس 787 پوائنٹس کی چھلانگ لگائی

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ پیر کے تجارتی سیشن میں سبز رنگ میں بند ہوئی۔ دن کے اختتام پر، سینسیکس 787.30 پوائنٹس یا 1.07 فیصد کے اضافے کے ساتھ 74,106.85 پر تھا اور نفٹی 255.15 پوائنٹس یا 1.12 فیصد کے اضافے کے ساتھ 22,968.25 پر تھا۔ مارکیٹ کے بیشتر انڈیکس سبز رنگ میں بند ہوئے۔ نفٹی کنزیومر ڈیوربلس (2.60 فیصد)، نفٹی فائنانشل سروسز (2.34 فیصد)، نفٹی پی ایس یو بینک (2.33 فیصد)، نفٹی ریئلٹی (2.23 فیصد)، نفٹی پرائیویٹ بینک (2.16 فیصد) اور نفٹی سروسز (1.66 فیصد) اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔ صرف نفٹی آئل اینڈ گیس (1.37 فیصد) اور نفٹی میڈیا (0.22 فیصد) خسارے کے ساتھ بند ہوئے۔ لارج کیپس کے ساتھ ساتھ مڈ کیپس اور سمال کیپس میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 815.60 پوائنٹس یا 1.52 فیصد بڑھ کر 54,492.65 پر تھا اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 202.55 پوائنٹس یا 1.29 فیصد بڑھ کر 15,853.05 پر تھا۔ سینسیکس پیک میں، ٹرینٹ، ایکسس بینک، ٹائٹن، ایل اینڈ ٹی، الٹرا ٹیک سیمنٹ، بجاج فائنانس، انڈیگو، ایچ ڈی ایف سی بینک، بجاج فنسر، پاور گرڈ، این ٹی پی سی، بی ای ایل، ایس بی آئی، آئی سی آئی سی آئی بینک، ٹاٹا اسٹیل، ٹی سی ایس اور ایچ یو ایل نے فائدہ اٹھایا۔ ریلائنس انڈسٹریز، ایچ سی ایل ٹیک اور سن فارما خسارے میں رہے۔ مارکیٹ میں تیزی کی وجہ روپے کی قدر میں اضافے اور ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکان کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ایل کے پی سیکیورٹیز کے جتن ترویدی نے کہا، “قیاس آرائیوں کو روکنے اور ڈالر کی سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے آر بی آئی کے حالیہ اقدامات سے روپے کو 30 پیسے کی مضبوطی میں مدد ملی ہے اور یہ 93.00 کے قریب ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی توقعات پر خطرے کے جذبات میں بہتری نے بھی بحالی کی حمایت کی ہے، اگرچہ غیر یقینی کی سطح بلند ہے۔ بحالی کے باوجود، خام تیل کی قیمتوں اور عالمی غیر یقینی صورتحال کا دباؤ برقرار ہے۔ قریب کی مدت میں، یو ایس ڈی آئی این آر کی حمایت 92.45 پر دیکھی گئی ہے، جبکہ مزاحمت 93.75-94.00 کے قریب ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد سے کلینا ودیا پیٹھ تک نئی بس سروس شروع کرنے کا ابوعاصم اعظمی مطالبہ

Published

on

ممبئی: مانخورد شیواجی نگر حلقہ کے سینکڑوں غریب اور نادار طلباء ممبئی یونیورسٹی کے کلینا کیمپس میں زیر تعلیم ہیں۔ صرف، یا طلبہ کی نقل و حمل کے لیے بیسٹ بسوں کی کمی، نقل و حمل کی ٹکٹ زیادہ ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے ‘بیسٹ’ کمیٹی کے چیئرمین کو خط لکھ کر نئی بس سروس شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اعظمی نے اپنے خط میں بتایا بروقت سفر کے لیے بسوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے طلبہ کو صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے اور شام 5 سے 6 بجے کے درمیان عجلت سفر کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود طلبا کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے طلباء کا تعلیمی نقصان ہوتا ہے اور انہیں جسمانی اور ذہنی صدمے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ 90 فٹ روڈ پر واقع نئے بس اسٹینڈ سے کلینا ودیا پیٹھ تک نئی بس سروس فراہم کی جائے اور اوقات میں زیادہ بسیں فراہم کی جائیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان