Connect with us
Saturday,26-September-2026

(جنرل (عام

حیدرآباد:تبلیغی جماعت سے واپس کورونا سے روبہ صحت شخص کا تالیوں کی گونج میں ہیرو کی طرح بین مذہبی شاندار استقبال

Published

on

حیدرآباد کے علاقہ بورابنڈہ کے این آر آر پورم سائٹ تری کا ایک پرانا مکان معمولی نظر آتا ہے تاہم اس کی امید،بین طبقہ ہم آہنگی کی کہانی غیر معمولی ہے۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران جب کبھی تبلیغی جماعت کا لفظ سننے میں آیا،اس لفظ کو صرف تنازعہ کی حد یا لوگوں کو ہندو اور مسلم کے خطوط پر تقسیم کرنے کے پس منظرمیں سناگیا،اس کے ذریعہ منافرت پھیلانے والوں کو ایک موقع ملا۔ اس دوران کورونا جہاد جیسا ناگوار لفظ بھی بعض متعصب افراد سے سناگیا لیکن حیدرآباد کے اس چھوٹے سے محلہ میں لوگ،دہلی کے تبلیغی جماعت کے مرکز میں کورونا سے متاثرہونے کے بعد اس سے روبہ صحت شخص کوہمدری اور شفقت کے ساتھ ہیرو کی طرح شاندار استقبال کرتے ہوئے منافرت پھیلانے والوں کا مقابلہ کرنے اوران کے دعوے کو غلط ثابت کرتے ہوئے اپنے جذبہ کو تحریک میں تبدیل کرنے کے لئے آگے آئے۔اس طرح کے استقبال کے ذریعہ ان افراد نے یہ ثابت کردیا کہ شہر حیدرآباد میں گنگاجمنی تہذیب ابھی باقی ہے اوریہ واقعہ اس کی تازہ مثال ہے۔روبہ صحت شخص کا تالیوں کی گونج میں پھول نچھاور کرتے ہوئے بلالحاظ مذہب وملت استقبال کیاگیا۔اس موقع پر بابا فصیح الدین ڈپٹی مئیر گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی) نے گلدستہ پیش کرتے ہوئے ان کا شاندار استقبال کیا۔محمد رفیع اللہ خان جو روبہ صحت ہوکر اپنے گھر پہنچے، اس تعلق سے بتاتے ہیں کہ 5 اپریل کو وہ شہر حیدرآباد کے گاندھی اسپتال میں داخل کئے گئے جو کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لئے ایک بڑے مرکز کے طورپر ابھرا ہے۔تقریبا 43دن اسپتال میں وہ زیرعلاج رہے۔اسپتال سے روبہ صحت ہونے کے بعد گھر واپسی پر ان کا ہیرو کا طرح استقبال کیاگیا۔سڑک کی دونوں جانب لوگوں نے تالیاں بجاکران کا استقبال کیا۔ساتھ ہی ایک عالم دین، ایک پادری اور ایک ہندو خاتون جو موظف گزیٹیڈ آفیسر نے ان کا شاندار خیرمقدم کیا۔ہندو خاتون نے جہاں ان کی آرتی اتاری تو پادری نے ان کے لئے دعائیہ کلمات اداکئے اور عالم دین نے ان کو دعا دی۔رفیع صاحب نے کہا”میری یہ ابتدا میں سونچ تھی کہ چونکہ میں بیماری سے روبہ صحت ہورہا ہوں تو پتہ نہیں میرے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کیاجائے گاتاہم محلہ پہنچنے پر میرے کے لئے حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ میرابین طبقاتی استقبال کیاگیا۔میرا یہ احساس تھا کہ روبہ صحت ہونے کے بعد اس بیماری کے تعلق سے پیداخدشات کے درمیان میری طرف کوئی بھی پلٹ کر نہیں دیکھاگاکیونکہ عالمی سطح پر اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیاجارہا ہے اور سماجی فاصلہ کے نام پر دوررہنے کی بات کہی جارہی ہے لیکن جب میں اپنے محلہ پہنچا تو تالیوں کے ساتھ میرا ستقبال کیاگیا جس پر مجھے کافی مسرت ہوئی۔تمام افراد بالخصوص ہندو،مسلم،عیسائی طبقات کے لوگ بھی میرااستقبال کرنے والوں میں تھے“۔ان کاکہنا ہے”ابتدا ہی سے اس علاقہ میں ہندو،مسلم لوگ ایک دوسرے سے مل جل کر رہتے ہیں۔میں میرا استقبال کرنے والوں کا شکرگذار ہوں،میری وجہ سے اس علاقہ کے 70تا80گھروں میں رہنے والوں کو تکلیف ہوئی کیونکہ میرے مثبت پائے جانے کے بعد اس علاقہ کوکنٹینمنٹ زون میں تبدیل کردیاگیاتھا۔میری وجہ سے ان مکانات کے افراد گھروں سے باہر نہیں نکل پارہے تھے۔اس کے لئے میں ان تمام افراد سے معذرت خواہی کرتا ہوں۔یہ افراد میرے لئے قابل احترام ہیں۔جس طرح میرا استقبال کیاگیا اورمذہبی رواداری کا مظاہرہ کیاگیا اس سے اپنے آپ کوجدا رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہمیں تمام کے ساتھ رہنا ہے“۔
خاندان کے ایک فرد کی طرح رفیع صاحب کا استقبال کیاگیا۔دراصل رفیع اللہ خان اُس ہندوستان کی یاد دلارہے ہیں جو ہنوز زندہ ہے۔اس میں مذہب کے نام پر بیر نہیں ہے۔محمد رفیع اللہ خان اس طرح کے شاندار استقبال پر روپڑے اور کہاکہ اسپتال میں ان کو تمام طرح کی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔انہوں نے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے ساتھ ساتھ ڈپٹی مئیر گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی)بابا فصیح الدین کا شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہاکہ اسپتال میں کھانا وقت پر دیاگیا اور ہر چیز وقت پر ان کو فراہم کی گئی۔اسپتال میں بہترین سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ بابافصیح الدین اس علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ اور انسانی بھائی چارہ کے لئے کافی بڑھ چڑھ کرکام کررہے ہیں۔ان کی مساعی کافی قابل ستائش ہے۔ان کے کارناموں کو یاد رکھاجائے گا۔تین افراد جو تین مختلف مذاہب کے نمائندے ہیں نے انسانیت اور ہمدردی کا اظہار رفیع اللہ خان کے لئے کیا ہے۔ نارالکشمی موظف گزیٹیڈ آفیسرجنہوں نے رفیع اللہ خان کی آمد پر ان کا استقبال کرتے ہوئے ان کی آرتی اتاری کا کہنا ہے ”انسانی بنیادوں پر ان کا استقبال کیاگیا اور ہندو طریقہ کے مطابق یہ آرتی اتاری گئی جس کے بعد میں نے رفیع اللہ خان کو آیوشمان سُکھی بھوا بھی کہا۔ مذہب،طبقہ،ذات میں کوئی فرق نہیں ہے۔تمام کو ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہئے۔ میں نے رفیع اللہ خان کی حوصلہ افزائی کیلئے ان کی آرتی اتاری“۔پادری پرکاش جنہوں نے رفیع اللہ خان کے استقبال کے موقع پر دعائیہ کلمات کہے نے کہا”اس مرض کے تعلق سے رفیع صاحب،ان کے خاندان کے دل میں کسی بھی قسم کا کوئی شک وشبہ نہ رہے، اس کے لئے میں نے دعائیہ کلمات اداکئے“۔اس سوال پر کہ اس طرح کے انسانی رشتہ سے لوگوں کو کیابتانامقصد ہے؟توپادری پرکاش نے کہا”کورونا کے اس ملک میں آنے کے بعد مذہب کی بنیاد پر اس کی تقسیم کی گئی،لوگوں کا پیار محبت تقسیم ہوگیا،اس کورونا معاملہ نے تمام مذاہب کو تقسیم کردیا تھاتاہم تین مذاہب کی جانب سے روبہ صحت شخص کے استقبال سے ملک کے لئے بہتر پیام دینے کا کام کیاگیا ہے“۔

مولانااحمد جنہوں نے رفیع اللہ خان کی آمد کے موقع پر ان کو دعادی کا کہنا ہے”میں نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ کوروناوائرس کا جلد از جلد خاتمہ کیاجائے کیونکہ اس وبا کی وجہ سے ساری انسانیت پریشان ہے،پوری دنیا میں لوگ پریشان ہیں، رفیع اللہ صاحب کی صحت کے لئے بھی دعا کی گئی۔کورونا وائرس کی وجہ سے وہ ذہنی تناو کا شکار ہوگئے تھے،تمام افراد کے ٹہر کر ان کا استقبال کرنے سے تمام کو نئی خوشی ملی اور خود ان کو بھی خوشی ہوئی۔تمام نے ٹہر کر ان کو دعا دی“۔اس خصوص میں مقامی نوجوان صحافی ابرار نے کہا کہ جس طرح رفیع اللہ خان کا استقبال کیاگیا اس سے وہ کافی متاثر ہوئے۔ملک میں نفرت کے اس ماحول میں ہمیں اتحاد کے ساتھ رہنا ہوگا۔آج بھوک مری،مزدوروں کے مسائل ہیں،ہمیں ہندو،مسلم،سکھ،عیسائی بھول کرانسانیت کے پیچھے جانا چاہئے۔رفیع اللہ کی کم عمر بیٹی نے کہا کہ ان کو ان کے والد کے بیمار ہونے کے وقت تھوڑا خوف انہیں تھا۔ بابافصیح الدین ڈپٹی مئیر گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی) نے لوگوں کی اس مساعی میں اہم رول ادا کیا۔انہوں نے لوگوں کے اس اقدام کی کافی ستائش کی اوراسے گنگاجمنی تہذیب کی علامت سے تعبیر کیا۔بابافصیح الدین اس علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی،مذہبی رواداری کو فروغ دینے میں کافی سرگرم عمل ہیں۔انہوں نے گاندھی اسپتال سے رفیع اللہ خان کو خود ان کی گاڑی میں گھر پہنچایا۔ان کا کہنا ہے کہ مرکز کے معاملہ کو تبلیغی جماعت سے جوڑ کر بعض افراد کی جانب سے سما ج میں تفرقہ ڈالنے کا کام کیاجارہا ہے اورمسلم طبقہ کو نشانہ بنایاجارہا ہے،اس کو دور کرنے کے لئے مقامی افراد نے رفیع اللہ کے استقبال کے لئے جو اقدامات کئے وہ لائق ستائش ہیں۔
بابا فصیح الدین جنہوں نے رفیع اللہ کے مناسب علاج کے سلسلہ میں نمایاں رول اداکیا نے کہاکہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی قیادت میں تلنگانہ میں سیکولر حکومت برسراقتدار ہے۔یہاں پر ہمیشہ گنگاجمنی تہذیب کو فروغ دیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ رفیع اللہ خان کے کورونا سے مثبت پائے جانے کے بعد ان کی بیوی اور بچوں کے بھی طبی معائنے کروائے گئے تاہم ان کی رپورٹس منفی آئیں جس کے بعد ان کو اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ ان کے ڈسچارج ہونے کے بعد سائٹ تری کالونی کے تمام افراد نے گنگاجمنی تہذیب کے مطابق رفیع اللہ خان کا استقبال کیا۔ڈپٹی مئیر نے اس علاقہ کے کنٹیمنٹ زون میں رہنے والوں کے لئے رمضان کی ابتداسے ہی روزانہ سحری کا معقول انتظام کیا اور دیگر خدمات انجام دیں کی کافی ستائش کی جارہی ہے۔ رفیع اللہ خان، پادری پرکاش،نارالکشمی اور مولانا احمد نے ان کے اس قدم کی کافی ہمت افزائی کی۔اس کالونی کے دیگر افراد نے بھی مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وائرس کے متاثرین کے بہتر علاج کو یقینی بنانے پر حکومت تلنگانہ سے وہ اظہار تشکرکرتے ہیں۔اس موقع پر رفیع اللہ کے بھائی نے بھی تمام سے اس سلسلہ میں اظہار تشکر کیااور کہا کہ محلہ کے تمام افراد بالخصوص بابا فصیح الدین کا تعاون کافی زیادہ رہا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

غیر شفاف طریقہ کار اور ساتھی کمشنروں کی آراء کو نظر انداز کرنے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جواب دہی طے کی جائے : پروف۔ سلیم انجینئر

Published

on

نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے دو دیگر الیکشن کمشنروں کی شمولیت کے بغیر ہی اہم فیصلے لیے جانے کی اطلاعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات نے اس اہم آئینی ادارے کی آزادی، شفافیت اور کارکردگی پرسنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ انڈین ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ووٹروں کے اندراج، ناموں کے اخراج اور بحالی، ووٹر ڈیٹابیس، فارم 6 اور اسپیشل سمری ریویژن سے متعلق اہم معاملات پر 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات اٹھائے ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن کے اہم فیصلوں سے انہیں الگ رکھا گیا۔ یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 1995 میں ٹی این سیشن معاملے میں اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارہ ہے اور چیف الیکشن کمشنر دیگر کمشنروں کے مابین مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اس طرح کا طرز عمل نہیں اختیار کرسکتے کہ جیسے الیکشن کمیشن ان کا ذاتی ادارہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو آزادانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ان فیصلوں سے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً 13 کروڑ نام ووٹر لسٹ سے خارج کئے جاچکے ہیں۔ لاکھوں لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ایس آئی آر کا طریقۂ کار نہایت پیچیدہ ہے اور اس میں ایسے دستاویزات طلب کئے جارہے ہیں جو بہت سے شہریوں کے پاس موجود نہیں ہیں۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے ذریعے تقریباً 27 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کر دئے گئے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ 16.1 لاکھ ایسے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے اپیلیں دائر کی گئیں جن کے نام پہلے ہی ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے کے لیے کلیئر ہوچکے تھے۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ فارم 6 کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ فارم 6 ان شہریوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے جن کی عمر 18 سال مکمل ہوچکی ہو اور جو ووٹر کے طور پر اپنا نام درج کرانا چاہتے ہوں۔ الیکشن کمیشن نے درخواست دہندگان کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ اپنے والدین یا دادا دادی۔ نانا نانی کے نام اس طرح فراہم کریں جیسے وہ گزشتہ ایس آئی آر کی انتخابی فہرست میں درج تھے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو، دونوں نے خبردار کیا تھا کہ قواعد میں ترمیم کئے بغیر فارم 6 میں اس طرح کی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اس کے باوجود چیف الیکشن کمشنر نے یہ تبدیلی برقرار رکھی۔ اگر ووٹ دینے کے حق کو متاثر کرنے والے قانون میں ترمیم ضروری ہے تو بھی الیکشن کمیشن خود سے اس طرح کی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر وہ قانونی طور پر مجاز افسر ہے جو انتخابی فہرستوں میں ناموں کے اندراج، اخراج اور تصحیح کے ذمہ دار ہے۔ تاہم دونوں الیکشن کمشنروں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ای سی آئی نیٹ ڈیٹابیس کو الیکشن کمیشن میں منتقل کیا جارہا تھا جبکہ ان افسران کو اسے چلانے کے لیے مناسب رسائی نہیں دی جارہی تھی۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے اسپیشل سمری ریویژن (ایس یس آر) میں غیر معمولی تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس آر انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ رکھنے اور ووٹ کے اہل 18 سالہ نوجوانوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا ایک اہم سالانہ عمل ہے۔ یکم جنوری، یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر، ان چارتاریخوں میں نوجوان شہری سال کے مختلف اوقات میں ووٹ دینے کے اہل ہوسکتے ہیں۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے جنوری 2024 کے بعد سے سالانہ ایس ایس آر نہیں کرایا ہے یہ تاخیر صورت حال کو مزید تشویش ناک بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ایس آئی آر کے دوران یہ جاننے کے لیے قانونی رائے طلب کی کہ آیا ایس ایس آرکرانا ضروری ہے، جبکہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اس کی بحالی کی پُر زور وکالت کی تھی۔ ایس ایس آر محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہے بلکہ انتخابی فہرستوں کو تازہ ترین اور درست رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے ووٹر بننا آسان بنایا جائے، مشکل نہیں۔ ووٹ دینے کا حق اسی وقت بامعنی ہوسکتا ہے جب شہری غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کراسکیں۔ الیکشن کمیشن ملک کے آئین اور عوام کا ادارہ ہے، کسی ایک عہدے دار کا ذاتی ادارہ نہیں ہے۔ شہریوں کو ان کے بنیادی حقِ رائے دہی سے محروم کرنا محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ملک اور اس کے عوام کے ساتھ سنگین غداری کے مترادف ہے۔ اس کے ذمہ دار عہدے داروں کے خلاف غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو لوگ قصوروار پائے جائیں ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ووٹر لسٹ کا تحفظ ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد کا تحفظ ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پراپرٹی سیل اور کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، ایم پی ایس سی ڈرگ انسپکٹر امتحان کے سوالیہ پرچہ لیک کیس میں مزید چار گرفتار

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی ) نے 22 مارچ 2026 کو ڈرگ انسپکٹر، گروپ بی، فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کیڈر کی 154 آسامیوں کے لیے مہاراشٹر کے چھ امتحانی مراکز میں اسکریننگ ٹیسٹ کا انعقاد کیا۔ کف پریڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج تھااس کے تحت امتحانی سوالیہ پرچہ کی رازداری کی خلاف ورزی اور مالی فائدے کے لیے سوال سیٹ کے غیر مجاز لیک ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات پراپرٹی سیل، کرائم برانچ، ممبئی کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے۔ تکنیکی تحقیقات کی بنیاد پر غیر قانونی طریقوں سے سوالیہ پرچہ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کو دو درمیانی افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ماہرین کے ذریعہ منتخب کردہ سوالات کے سیٹوں کی کاپیاں ایم پی ایس سی کے خفیہ کمرے میں تیار کی گئیں اور پھر مالی فائدہ کے لیے غیر قانونی طور پر لیک کی گئیں۔ اس سے پہلے، انڈر سکریٹری ابھیجیت لینڈوے، اسسٹنٹ روم آفیسر وشویشور نکٹے، اسسٹنٹ روم آفیسر گوپال مراٹھے، کوٹیلیہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروین پاٹل، درمیانی امرت پاٹل، لوکیش عرف گورو پاٹل، اور امیدوار ریتوجا پاٹل کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید تفتیش کے نتیجے میں امیدواروں ساجد سانڈھے (سانگلی) اور وجے کنگر (بلڈھانہ) کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے غیر قانونی طریقوں سے سوالات کے سیٹ حاصل کیے، اور سندیپ خلتے اور بھیروناتھ کدم (نوی ممبئی) جنہوں نے ثالث کے طور پر کام کیا، کو پراپرٹی سیل، کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 22 ستمبر، 2026 کو گرفتار کیا۔اس کارروائی کے ساتھ ہی اس معاملے میں گرفتار ملزمان کی کل تعداد 11 ہو گئی ہے۔ یہ کارروائی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کمبھارے، ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (کرائم) کرشناکانت اپادھیائے اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس ڈٹیکشن راج تلک روشن کی رہنمائی میں کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سدانند رانے اور انچارج پولس انسپکٹر منگیش دیسائی نے تحقیقات کی قیادت کی اور برانچ کے پولیس افسران نے تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کیا۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ہسپتالوں کے معمول کے دورے کے بعد درجنوں پاکستانی بچے ایچ آئی وی کا شکار : رپورٹ

Published

on

Childs

نئی دہلی : پاکستان میں صحت کا ایک بڑھتا ہوا بحران ابھرا ہے، جہاں درجنوں والدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچوں کو ہسپتالوں میں معمول کے مطابق علاج کروانے کے بعد ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہوا، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقوں، بشمول انجیکشن اور انٹراوینس (چہارم) ڈرپس کے لیے سرنجوں اور سوئیوں کا بار بار استعمال، والدین کے مطابق این پی آر کی رپورٹ کے ذریعے ان کے بچوں کو وائرس سے متاثر کیا۔ ویب سائٹ کے مطابق، ان کے بچوں کو عام بیماریوں اور معمول کے طریقہ کار کے لیے صحت کی سہولیات میں لے جایا گیا تھا، صرف بعد میں ایچ آئی وی کے لیے مثبت ٹیسٹ کرنے کے لیے۔ چونکا دینے والی تشخیص نے خاندانوں کو تباہ کر دیا ہے، بہت سے لوگوں کو یہ سمجھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے کہ خطرے کے کوئی عوامل نہ ہونے کے باوجود ان کے بچے کیسے متاثر ہوئے۔ اس وباء کے المناک نتائج برآمد ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر کم از کم چھ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ بہت سے دوسرے اب زندگی بھر کی حالت کے ساتھ جی رہے ہیں جس کے لیے مسلسل طبی علاج اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

ایچ آئی وی جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے اور، اگرچہ جدید ادویات کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک دائمی بیماری ہے جو صحت، مالی اور سماجی بوجھ کو لے سکتی ہے۔ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ جوابدہی اور سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے وہ روکے جانے والے سانحے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ بہت سے والدین نے ہسپتال کے عملے پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ انفیکشن پر قابو پانے کے بنیادی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں نوجوان مریضوں میں وائرس پھیل گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاج کی لاگت، باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ اور بدنامی کے خدشات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ والدین نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ ایسی تشخیص کے ساتھ آتے ہیں جس سے بچا جا سکتا تھا۔ اس واقعے نے پاکستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے کچھ حصوں میں مریضوں کی حفاظت اور انفیکشن پر قابو پانے کے معیارات کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ حقوق کے علمبردار اور متاثرہ خاندان مکمل تحقیقات، طبی سہولیات کی مضبوط نگرانی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی وبا دوبارہ نہ ہو۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان