Connect with us
Saturday,08-August-2026

(جنرل (عام

حیدرآباد:تبلیغی جماعت سے واپس کورونا سے روبہ صحت شخص کا تالیوں کی گونج میں ہیرو کی طرح بین مذہبی شاندار استقبال

Published

on

حیدرآباد کے علاقہ بورابنڈہ کے این آر آر پورم سائٹ تری کا ایک پرانا مکان معمولی نظر آتا ہے تاہم اس کی امید،بین طبقہ ہم آہنگی کی کہانی غیر معمولی ہے۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران جب کبھی تبلیغی جماعت کا لفظ سننے میں آیا،اس لفظ کو صرف تنازعہ کی حد یا لوگوں کو ہندو اور مسلم کے خطوط پر تقسیم کرنے کے پس منظرمیں سناگیا،اس کے ذریعہ منافرت پھیلانے والوں کو ایک موقع ملا۔ اس دوران کورونا جہاد جیسا ناگوار لفظ بھی بعض متعصب افراد سے سناگیا لیکن حیدرآباد کے اس چھوٹے سے محلہ میں لوگ،دہلی کے تبلیغی جماعت کے مرکز میں کورونا سے متاثرہونے کے بعد اس سے روبہ صحت شخص کوہمدری اور شفقت کے ساتھ ہیرو کی طرح شاندار استقبال کرتے ہوئے منافرت پھیلانے والوں کا مقابلہ کرنے اوران کے دعوے کو غلط ثابت کرتے ہوئے اپنے جذبہ کو تحریک میں تبدیل کرنے کے لئے آگے آئے۔اس طرح کے استقبال کے ذریعہ ان افراد نے یہ ثابت کردیا کہ شہر حیدرآباد میں گنگاجمنی تہذیب ابھی باقی ہے اوریہ واقعہ اس کی تازہ مثال ہے۔روبہ صحت شخص کا تالیوں کی گونج میں پھول نچھاور کرتے ہوئے بلالحاظ مذہب وملت استقبال کیاگیا۔اس موقع پر بابا فصیح الدین ڈپٹی مئیر گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی) نے گلدستہ پیش کرتے ہوئے ان کا شاندار استقبال کیا۔محمد رفیع اللہ خان جو روبہ صحت ہوکر اپنے گھر پہنچے، اس تعلق سے بتاتے ہیں کہ 5 اپریل کو وہ شہر حیدرآباد کے گاندھی اسپتال میں داخل کئے گئے جو کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لئے ایک بڑے مرکز کے طورپر ابھرا ہے۔تقریبا 43دن اسپتال میں وہ زیرعلاج رہے۔اسپتال سے روبہ صحت ہونے کے بعد گھر واپسی پر ان کا ہیرو کا طرح استقبال کیاگیا۔سڑک کی دونوں جانب لوگوں نے تالیاں بجاکران کا استقبال کیا۔ساتھ ہی ایک عالم دین، ایک پادری اور ایک ہندو خاتون جو موظف گزیٹیڈ آفیسر نے ان کا شاندار خیرمقدم کیا۔ہندو خاتون نے جہاں ان کی آرتی اتاری تو پادری نے ان کے لئے دعائیہ کلمات اداکئے اور عالم دین نے ان کو دعا دی۔رفیع صاحب نے کہا”میری یہ ابتدا میں سونچ تھی کہ چونکہ میں بیماری سے روبہ صحت ہورہا ہوں تو پتہ نہیں میرے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کیاجائے گاتاہم محلہ پہنچنے پر میرے کے لئے حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ میرابین طبقاتی استقبال کیاگیا۔میرا یہ احساس تھا کہ روبہ صحت ہونے کے بعد اس بیماری کے تعلق سے پیداخدشات کے درمیان میری طرف کوئی بھی پلٹ کر نہیں دیکھاگاکیونکہ عالمی سطح پر اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیاجارہا ہے اور سماجی فاصلہ کے نام پر دوررہنے کی بات کہی جارہی ہے لیکن جب میں اپنے محلہ پہنچا تو تالیوں کے ساتھ میرا ستقبال کیاگیا جس پر مجھے کافی مسرت ہوئی۔تمام افراد بالخصوص ہندو،مسلم،عیسائی طبقات کے لوگ بھی میرااستقبال کرنے والوں میں تھے“۔ان کاکہنا ہے”ابتدا ہی سے اس علاقہ میں ہندو،مسلم لوگ ایک دوسرے سے مل جل کر رہتے ہیں۔میں میرا استقبال کرنے والوں کا شکرگذار ہوں،میری وجہ سے اس علاقہ کے 70تا80گھروں میں رہنے والوں کو تکلیف ہوئی کیونکہ میرے مثبت پائے جانے کے بعد اس علاقہ کوکنٹینمنٹ زون میں تبدیل کردیاگیاتھا۔میری وجہ سے ان مکانات کے افراد گھروں سے باہر نہیں نکل پارہے تھے۔اس کے لئے میں ان تمام افراد سے معذرت خواہی کرتا ہوں۔یہ افراد میرے لئے قابل احترام ہیں۔جس طرح میرا استقبال کیاگیا اورمذہبی رواداری کا مظاہرہ کیاگیا اس سے اپنے آپ کوجدا رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہمیں تمام کے ساتھ رہنا ہے“۔
خاندان کے ایک فرد کی طرح رفیع صاحب کا استقبال کیاگیا۔دراصل رفیع اللہ خان اُس ہندوستان کی یاد دلارہے ہیں جو ہنوز زندہ ہے۔اس میں مذہب کے نام پر بیر نہیں ہے۔محمد رفیع اللہ خان اس طرح کے شاندار استقبال پر روپڑے اور کہاکہ اسپتال میں ان کو تمام طرح کی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔انہوں نے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے ساتھ ساتھ ڈپٹی مئیر گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی)بابا فصیح الدین کا شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہاکہ اسپتال میں کھانا وقت پر دیاگیا اور ہر چیز وقت پر ان کو فراہم کی گئی۔اسپتال میں بہترین سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ بابافصیح الدین اس علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ اور انسانی بھائی چارہ کے لئے کافی بڑھ چڑھ کرکام کررہے ہیں۔ان کی مساعی کافی قابل ستائش ہے۔ان کے کارناموں کو یاد رکھاجائے گا۔تین افراد جو تین مختلف مذاہب کے نمائندے ہیں نے انسانیت اور ہمدردی کا اظہار رفیع اللہ خان کے لئے کیا ہے۔ نارالکشمی موظف گزیٹیڈ آفیسرجنہوں نے رفیع اللہ خان کی آمد پر ان کا استقبال کرتے ہوئے ان کی آرتی اتاری کا کہنا ہے ”انسانی بنیادوں پر ان کا استقبال کیاگیا اور ہندو طریقہ کے مطابق یہ آرتی اتاری گئی جس کے بعد میں نے رفیع اللہ خان کو آیوشمان سُکھی بھوا بھی کہا۔ مذہب،طبقہ،ذات میں کوئی فرق نہیں ہے۔تمام کو ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہئے۔ میں نے رفیع اللہ خان کی حوصلہ افزائی کیلئے ان کی آرتی اتاری“۔پادری پرکاش جنہوں نے رفیع اللہ خان کے استقبال کے موقع پر دعائیہ کلمات کہے نے کہا”اس مرض کے تعلق سے رفیع صاحب،ان کے خاندان کے دل میں کسی بھی قسم کا کوئی شک وشبہ نہ رہے، اس کے لئے میں نے دعائیہ کلمات اداکئے“۔اس سوال پر کہ اس طرح کے انسانی رشتہ سے لوگوں کو کیابتانامقصد ہے؟توپادری پرکاش نے کہا”کورونا کے اس ملک میں آنے کے بعد مذہب کی بنیاد پر اس کی تقسیم کی گئی،لوگوں کا پیار محبت تقسیم ہوگیا،اس کورونا معاملہ نے تمام مذاہب کو تقسیم کردیا تھاتاہم تین مذاہب کی جانب سے روبہ صحت شخص کے استقبال سے ملک کے لئے بہتر پیام دینے کا کام کیاگیا ہے“۔

مولانااحمد جنہوں نے رفیع اللہ خان کی آمد کے موقع پر ان کو دعادی کا کہنا ہے”میں نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ کوروناوائرس کا جلد از جلد خاتمہ کیاجائے کیونکہ اس وبا کی وجہ سے ساری انسانیت پریشان ہے،پوری دنیا میں لوگ پریشان ہیں، رفیع اللہ صاحب کی صحت کے لئے بھی دعا کی گئی۔کورونا وائرس کی وجہ سے وہ ذہنی تناو کا شکار ہوگئے تھے،تمام افراد کے ٹہر کر ان کا استقبال کرنے سے تمام کو نئی خوشی ملی اور خود ان کو بھی خوشی ہوئی۔تمام نے ٹہر کر ان کو دعا دی“۔اس خصوص میں مقامی نوجوان صحافی ابرار نے کہا کہ جس طرح رفیع اللہ خان کا استقبال کیاگیا اس سے وہ کافی متاثر ہوئے۔ملک میں نفرت کے اس ماحول میں ہمیں اتحاد کے ساتھ رہنا ہوگا۔آج بھوک مری،مزدوروں کے مسائل ہیں،ہمیں ہندو،مسلم،سکھ،عیسائی بھول کرانسانیت کے پیچھے جانا چاہئے۔رفیع اللہ کی کم عمر بیٹی نے کہا کہ ان کو ان کے والد کے بیمار ہونے کے وقت تھوڑا خوف انہیں تھا۔ بابافصیح الدین ڈپٹی مئیر گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی) نے لوگوں کی اس مساعی میں اہم رول ادا کیا۔انہوں نے لوگوں کے اس اقدام کی کافی ستائش کی اوراسے گنگاجمنی تہذیب کی علامت سے تعبیر کیا۔بابافصیح الدین اس علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی،مذہبی رواداری کو فروغ دینے میں کافی سرگرم عمل ہیں۔انہوں نے گاندھی اسپتال سے رفیع اللہ خان کو خود ان کی گاڑی میں گھر پہنچایا۔ان کا کہنا ہے کہ مرکز کے معاملہ کو تبلیغی جماعت سے جوڑ کر بعض افراد کی جانب سے سما ج میں تفرقہ ڈالنے کا کام کیاجارہا ہے اورمسلم طبقہ کو نشانہ بنایاجارہا ہے،اس کو دور کرنے کے لئے مقامی افراد نے رفیع اللہ کے استقبال کے لئے جو اقدامات کئے وہ لائق ستائش ہیں۔
بابا فصیح الدین جنہوں نے رفیع اللہ کے مناسب علاج کے سلسلہ میں نمایاں رول اداکیا نے کہاکہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی قیادت میں تلنگانہ میں سیکولر حکومت برسراقتدار ہے۔یہاں پر ہمیشہ گنگاجمنی تہذیب کو فروغ دیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ رفیع اللہ خان کے کورونا سے مثبت پائے جانے کے بعد ان کی بیوی اور بچوں کے بھی طبی معائنے کروائے گئے تاہم ان کی رپورٹس منفی آئیں جس کے بعد ان کو اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ ان کے ڈسچارج ہونے کے بعد سائٹ تری کالونی کے تمام افراد نے گنگاجمنی تہذیب کے مطابق رفیع اللہ خان کا استقبال کیا۔ڈپٹی مئیر نے اس علاقہ کے کنٹیمنٹ زون میں رہنے والوں کے لئے رمضان کی ابتداسے ہی روزانہ سحری کا معقول انتظام کیا اور دیگر خدمات انجام دیں کی کافی ستائش کی جارہی ہے۔ رفیع اللہ خان، پادری پرکاش،نارالکشمی اور مولانا احمد نے ان کے اس قدم کی کافی ہمت افزائی کی۔اس کالونی کے دیگر افراد نے بھی مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وائرس کے متاثرین کے بہتر علاج کو یقینی بنانے پر حکومت تلنگانہ سے وہ اظہار تشکرکرتے ہیں۔اس موقع پر رفیع اللہ کے بھائی نے بھی تمام سے اس سلسلہ میں اظہار تشکر کیااور کہا کہ محلہ کے تمام افراد بالخصوص بابا فصیح الدین کا تعاون کافی زیادہ رہا۔

(جنرل (عام

جے پی ایس سی – جے ایس ایس سی کے طلباء اور حکومت کے درمیان آج بات چیت کا دوسرا دور

Published

on

protest

رانچی : جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی خواہش مند نیا منچ کے طلباء اور حکومت کے درمیان بات چیت کا دوسرا دور ہفتہ کو صبح 10:30 بجے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس، رانچی میں طے ہے۔ فورم کا آٹھ رکنی طلبہ وفد حکومت کے مقرر کردہ وفد سے روبرو مذاکرات کرے گا۔ جے پی ایس سی کی جانب سے 2 جولائی کو 14ویں سول سروسز کے ابتدائی امتحان میں بے قاعدگیوں کا پردہ فاش کرنے کے بعد فورم کے طلباء 5 جولائی سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا غیر معینہ احتجاج آج 15ویں روز میں داخل ہو گیا۔ طلبہ لیڈر دیویندر ناتھ مہتو طلبہ کی حمایت میں گزشتہ چھ دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

فورم نے حکومت کو جمع کرائے گئے میمورنڈم کے لیے طلبہ کے ایک آٹھ رکنی وفد کو نامزد کیا ہے۔ ان میں چندن کمار، دین بندھو منڈل، روی شنکر، پریم کمار، پوجا کماری، راماوتار مہتو، بمل کمار، اور امیت کمار شرما شامل ہیں۔ اس سے قبل حکومت اور طلبہ کے درمیان پہلی باضابطہ بات چیت جمعہ کی شام کو مورابادی کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ہوئی۔ یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی اور رات 9:25 پر ختم ہوئی۔ طلباء کے نمائندوں نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا، لیکن وہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ طلباء نے واضح کیا کہ جب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا اور ان کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے ستیہ گرہ جاری رہے گا۔

مذاکرات میں پانچ رکنی حکومتی ٹیم اور 10 رکنی طلبہ کے وفد نے شرکت کی۔ طلباء نے اپنے مطالبات کا ایک ایک نکتہ حکومت کو پیش کیا۔ انہوں نے بھرتی کے امتحانات میں شفافیت، بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور امتحانی نظام میں بہتری کے اپنے مطالبات کا اعادہ کیا۔ طلباء نے کہا کہ انہیں ٹھوس کارروائی کی توقع ہے۔ حکومت کے چار وزراء نے بات چیت میں حصہ لیا: چمارا لنڈا، سدیبیا کمار سونو، دیپیکا پانڈے سنگھ، اور سنجے پرساد یادو۔ ترقیاتی کمشنر اجے کمار سنگھ بھی موجود تھے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

جموں و کشمیر کے انٹیلی جنس ونگ نے دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے الزام میں وادی میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔

Published

on

RAID

سری نگر : جموں و کشمیر پولیس کی کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) برانچ نے ہفتہ کو دہشت گردی کی آن لائن تسبیح کے سلسلے میں پہلے درج کی گئی ایف آئی آر کے سلسلے میں وادی میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ حکام نے کہا، “یہ مقدمہ دہشت گردی کی تعریف کرنے اور افراد کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کے لیے متاثر کرنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔” بارہمولہ، شوپیاں، اننت ناگ، کپواڑہ، بانڈی پورہ اور دیگر اضلاع میں تلاشی لی جارہی ہے۔

سی آئی کے جموں و کشمیر پولیس کے کرمنل انوسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کی ایک خصوصی شاخ ہے جو وادی کشمیر کے اندر دہشت گرد نیٹ ورکس، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور ملک دشمن سرگرمیوں کا پتہ لگانے، تفتیش کرنے اور انہیں ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ سی آئی کے کے بنیادی کاموں میں خفیہ بھرتی کے ماڈیولز کا پتہ لگانا، وائٹ کالر دہشت گرد سرگرمیاں، اور سرحد پار ہینڈلر نیٹ ورک شامل ہیں۔ سی آئی کے کے فرائض میں تکنیکی دستخطوں کو روکنا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس کے غلط استعمال کو روکنا، اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے منسلک سائبر فراڈ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ سی آئی کے کے چھاپوں کو عدالتی وارنٹ کی حمایت حاصل ہے جو مجرمانہ ڈیجیٹل ثبوت اور کمیونیکیشن ہارڈویئر کو ضبط کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

سی آئی کے جموں اور کشمیر پولیس کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کی ایک خصوصی شاخ ہے، جو وادی کشمیر میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس، دہشت گردی کی مالی معاونت اور ملک مخالف سرگرمیوں کی نگرانی، تفتیش اور انہیں ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ سی آئی کے کا بنیادی کام خفیہ بھرتی کے ماڈیولز، وائٹ کالر دہشت گرد نیٹ ورکس، اور سرحد پار سے کام کرنے والے دہشت گرد ہینڈلرز کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہے۔ سی آئی کے کی ذمہ داریوں میں تکنیکی سگنلز کی نگرانی، خفیہ کردہ میسجنگ ایپس کے غلط استعمال کا مقابلہ کرنا، اور دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے سائبر فراڈ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ سی آئی کے کے چھاپے مجرمانہ ڈیجیٹل ثبوت اور مواصلاتی آلات کو ضبط کرنے کے لیے عدالتی وارنٹ کی بنیاد پر مارے جاتے ہیں۔

فوجداری تحقیقات کے محکمے کے ایک حصے کے طور پر، جموں اور کشمیر پولیس کے اہم انٹیلی جنس ونگ، سی آئی کے مرکزی زیر انتظام علاقے کی حفاظت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سی آئی ڈی پالیسی فیصلوں کی حمایت کرنے، امن و امان کو مضبوط بنانے، اور موثر انتظامیہ کو یقینی بنانے کے لیے انٹیلی جنس جمع کرنے، تجزیہ کرنے اور شیئر کرنے کی ذمہ دار ہے۔ ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رینک کے افسر کی سربراہی میں، سی آئی ڈی جموں و کشمیر میں اپنی اسپیشل برانچ اور کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹوں کے ذریعے کام کرتی ہے۔

اسپیشل برانچ سیاسی اور دیگر حساس معاملات سے متعلق انٹیلی جنس کو اکٹھا کرتی ہے اور اس کا جائزہ لیتی ہے۔ کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں، انسداد جاسوسی کی سرگرمیوں، جاسوسی، اسمگلنگ، اور سرحد پار سرگرمیوں کی نگرانی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ یونٹس مل کر امن عامہ کو برقرار رکھنے اور قومی سلامتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انٹیلی جنس سرگرمیوں کے علاوہ، سی آئی ڈی مختلف قانونی اور انتظامی تصدیقی کام بھی انجام دیتی ہے، بشمول سرکاری خدمات کے معاملات، پاسپورٹ، ویزا، این آر آئیز، ہجرت، اور سیکورٹی کے خطرے کی تشخیص سے متعلق تحقیقات۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان