Connect with us
Thursday,13-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ سے سینکڑوں فائلیں غیر قانونی طور پر غائب :شبیر انصاری

Published

on

(خیال اثر )
مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ سے سینکڑوں فائلیں غیر قانونی طورپرغائب کی جارہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔اورنگ آباد میں تحریک اوقاف کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں آل انڈیا مسلم اوبی سی آرگنائزیشن اور تحریک اوقاف کے قومی صدر شبیر احمد انصاری نے اس طرح کا سنسنی خیز انکشاف کیا۔ گزشتہ دنوں اورنگ آبادمیں وزیر اوقاف نواب ملک کی پریس کانفرنس کو گمراہ کن اور اوقاف کے بنیادی مسائل سے عدم واقفیت کی واضح دلیل بتایا انہوں نے صحافیوں کے اس سوال پرکہ وزیر موصوف نے مہاراشٹر وقف بورڈکا مرکزی دفترممبئی منتقل کرنے کے اعلان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہاکہ یہ وقف بورڈ کو بربادکرنے والا اور اس کو سنگین نقصان پہنچانے والا ان کا اعلان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ وزیراوقاف نواب ملک سے ملاقات کر ان مطالبات کا تذکرہ کیا مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقاف کے بنیادی مسائل کے یکسوئی کے سنجیدہ نہیں ہے۔
پریس کانفرنس کی ابتداء میں تحریک اوقاف کے سیکریٹری مرزاعبدالقیوم ندوی نے تحریک کی بنیاد اور گزشتہ چار سالوں میں کیے گئے کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ”تحریک اوقاف“ ایک تحریک ہے، جو سماجی رہنما علماء کرام،دانشور اوروکلاء کی سرپرستی و رہبری میں مہاراشٹرمیں گزشتہ چار سالوں چلائی جارہی ہے۔جس کامقصداوقاف کے مسائل کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کراناہے۔
شبیر انصاری نے کہاکہ ہمارے حکومت سے سردست تین مطالبات ہیں جو ہم نے مہاراشٹرکے سابقہ وزیر اعلی دیویندر فرنڈویس کوپیش کیے تھے (۱) ہر ضلع میں وقف آفس ہو اور خصوصاََ چھ علاقائی دفتار قائم کیے جائے کیونکہ اس وقت مہاراشٹرمیں 92ہزرا ایکڑ وقف اراضی ہے جبکہ ہر سال اس پر قبضہ میں اضافہ ہورہاہے۔ فی الحال پورے مہاراشٹر میں وقف بورڈ کاصرف اورنگ ا ٓباد میں ہی آفس ہے۔ہمارامطالبہ ہے کہ مہاراشٹر کے ہر ضلع میں ایک آفس قائم کیاجائے اسی طرح مہاراشٹرکے ہر ڈیویژن میں ایک آفس قائم کیاجائے۔(۲)وقف بورڈ میں نئے ملازمین کا تقرر کیاجائے۔ فی الحال مہاراشٹر وقف بورڈ میں صرف 43کا عملہ ہے (جو آج کی تاریخ میں 24رہ گیا ہے) ناکافی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے بڑھا کر 813کیاجائے۔(۳)حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وقف بورڈ کو 100کروڑ کی گرانٹ دی جائے اوراس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیریٹی کمشنر کے پاس وقف بورڈ کے پانچ کروڑروپیے فکس ڈپازٹ میں ہے جو آج کے حساب سے 15تا 20کروڑ روپے ہوسکتے ہے،اس میں سے صرف ایک کروڑ روپیے دیاگیا ہے۔ حکومت چیریٹی کمشنر کو حکم دیں کہ وہ جلد سے جلد وقف بورڈ کو لوٹا دے۔ وزیر اعلی نے وفد کی باتوں کو بڑے غور سے سناہی نہیں بلکہ ان تینوں مطالبات پر فوری عمل کیاجائے اسی کی ہدایات پرنسپل سیکریٹری شیام تانگڑے کو دیں۔ پرنسپل سیکریٹری نے ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر عمل آوری کے لیے الگ الگ محکمہ جات کو ہدایات دیں۔ اس وقت مہاراشٹر وقف بور ڈ میں صرف دس ممبران تھے، (آج افسوس کے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی تعدا د صرف 4 رہ گئی ہے۔) ان ممبران کو ان مطالبات کو حل کرنے کے لیے پوری کوشش کرنا چاہئے تھا اس کے بجائے ان ممبران نے اپنی انا کو سامنے لاتے ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہیں اور تحریک اوقاف نے جو مطالبات مہاراشٹر کے وزیر اعلی کے دییئے تھے اس پر عمل آوری کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ جس کی وجہ سے یہ مسائل جو ں کاتوں برقرار ہیں۔اس کے بعد مہاراشٹرمتحدہ محاذ کے حکومت قائم ہوئی۔ حکومت قائم ہونے کے بعد تین سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکومت میں آپسی اختلافات کی وجہ سے کچھ کام نہیں ہوپارہا تھا۔ حکومت بننے کے کچھ ہی مہینوں کے بعد کویڈ19کے سبب سارے کام کاج ٹھپ ہوکر رہ گئے۔اس کے باجود بھی ان کے مقصد و مفاد کے کام وہ برابر کیے جارہے تھے۔
۔ تحریک اوقاف اب پورے مہاراشٹر میں اس کو ایک عوامی تحریک بناکر ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ہر جمہوری طرز کو اپنا کر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور بہت جلد ممبئی آزاد میدان میں ایک بڑا دھرنا دیاجائے گا۔ پریس کانفرنس میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سیکریٹری مجتبی فاروق، سید شکیل پونہ ضلع صد ر تحریک اوقاف، یوسف نظامی اور غفران انصاری موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ایف-ساؤتھ’ اور ‘ایچ-ایسٹ’ وارڈوں کی طرف سے کی گئی کارروائی، دادر اور سانتا کروز علاقوں میں 15 دکانیں ہٹا دی گئیں

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ راہگیر پہلے مہم کے ایک حصے کے طور پر سخت کارروائی کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فٹ پاتھوں سے رکاوٹیں ہٹانا اور پیدل چلنے والوں کے لیے چلنے کے قابل بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت، دادر کے علاقے (‘ایف-ساؤتھ’ وارڈ کی طرف سے) اور سانتاکروز کے علاقے (‘ایچ-ایسٹ’ وارڈ کی طرف سے) میں فٹ پاتھ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے والی 15 غیر مجاز دکانوں اور 15 غیر مجاز ہاکروں کو آج (13 اگست 2026) ہٹا دیا گیا۔ ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی رہنمائی میں۔ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) کی قیادت پراجکتا ورمالاونگیرے، ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کو نافذ کر رہی ہے، اس طرح رکاوٹوں سے پاک فٹ پاتھوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر (زون-2) پرشانت ساپکلے کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنر (ایف-ساؤتھ وارڈ) کی قیادت میں ‘ایف-ساؤتھ’ وارڈ کے ذریعہ دادر (مشرقی) علاقے میں کارروائی کی گئی اس مہم کے دوران، دادر (مشرق) میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے والے 04 غیر مجاز دکانوں، 12 عارضی ترپالوں کے شیڈ، 06 غیر مجاز پلیٹ فارم (کٹے*) اور 15 ہاکروں کو ہٹا دیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر (زون-3) وشواس موٹے کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنر (ایچ-ایسٹ) کی قیادت میں۔ مردولا اینڈے، ‘ایچ-ایسٹ’ وارڈ نے آج سانتا کروز (ایسٹ) کے علاقے میں تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی۔ اس کارروائی میں ٹی پی ایس-3 علاقے میں سڑک 6، 7 اور 11 کے ساتھ واقع چھ غیر مجاز دکانوں کے ساتھ ساتھ نانا صاحب دھرمادھیکاری مارگ کے ساتھ فٹ پاتھ پر واقع پانچ غیر مجاز دکانوں کو مسمار کرنا شامل ہے۔ اس آپریشن میں ایک فوڈ وین بھی شامل تھی۔ اس ڈرائیو نے تقریباً 500 میٹر فٹ پاتھ کی جگہ صاف کر دی ہے، جس سے پیدل چلنے والوں کے لیے پیدل چلنا آسان ہو گیا ہے۔

دریں اثنا، میونسپل کارپوریشن پیدل چلنے والوں کے لیے صاف اور قابل رسائی فٹ پاتھوں کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ نتیجتاً، انتظامیہ نے فٹ پاتھوں میں رکاوٹ بننے والی غیر مجاز تعمیرات یا ان پر کوئی مواد رکھنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ایسی خلاف ورزیاں دیکھنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہوٹل بل کی ادائیگی پر تنازع قتل سے سنسنی، پولس کی بڑی کارروائی ۲۴ گھنٹے میں قتل کا معمہ حل، دو گرفتار ملزمین کا اعتراف جرم

Published

on

ARREST..2

ممبئی میں ایک ہوٹل میں بل کی ادائیگی کے تنازع کے بعد ایک نوجوان کے قتل کا سنسنی خیزواقعہ پیش آیا جس کے بعد یہاں کشیدگی پھیل گئی, جبکہ پولس نے ۲۴ گھنٹے کے اندر ہی ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ گوریگاؤں پولس اسٹیشن کی حدود میں ۱۱ اگست کو رات میں سلمان ہوٹل کے قریب ایک شخص کو شدید طور سے زدوکوب کیا گیا۔ عزیز محمد عتیق خان ۳۰ سالہ کو اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیا۔ پولس نے اس قتل کی انکوائری شروع کر دی۔ پولس میں مقتول کے بھائی کے بتایا کہ عزیز خان نے سلمان ہوٹل کے مالک دانش خان کو دو افراد کو ہوٹل کے بل کی ادائیگی کرنے کو کہا اس دوران مقتول سے اس دونوں نے حجت کی اور کہاُ کہ اس سے تیرا کیا تعلق ہے تو ہم کو نہیں جانتا۔ تیرے کو دیکھ لیں گے۔۔۔ پھر ان دونوں نے متاثرہ پر حملہ کر دیا عزیز خان کے سر پر لکڑی کا باکس مار دیا جس سے وہ شدید طور سے زخمی ہو گیا اور ڈاکٹروں نے اسے علاج کے دوران مردہ قرار دیا۔ پولس نے قتل کا معاملہ درج کر کے ملزمین کی تلاش شروع کردیا ملزمین کی گرفتاری کے لئے ۶ ٹیمیں تشکیل دی گئی اس کے بعد پولس کو خفیہ اطلاع ملی اور پولس نے ملزمین کو گرفتار کرلیا اور انہوں نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔ ملزمین کی شناخت اجئے منی اپادھیائے ۳۹ سالہ اور وکاس دیوراج پاسوان ۳۲ آفس بوائے کے طور پر ہوئی ہے۔ ۲۴ گھنٹے کےاندر ہی پولس نے اس قتل کے معمہ کو حل کر کے ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بین الریاستی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک پر مشتمل دو الگ الگ کارروائیوں میں چرس ٹرما ڈول ادویات نشہ آور شے ضبط 02 گرفتار

Published

on

Drugs

ممبئی : مخصوص معلومات کی بنیاد پر، این سی بی ممبئی نے 108 کلو گرام وزنی کوڈین بیسڈ کف سرپ (سی بی سی ایس) کی 1080 بوتلیں ضبط کیں اور ٨ اگست کو ممبئی میں این شیخ کو گرفتار کیا۔ اس نے روپوشی کی کوشش کی تھی، ضبط شدہ سی بی سی ایس بوتلیں گجرات سے ممبئی کے درمیان چلنے والی مسافر بس کے ذریعے منتقل کی جا رہی تھیں۔ ضبط شدہ منشیات کو ممبئی، بھیونڈی اور ملحقہ علاقوں میں فروخت کیا جانا تھا اسپاٹ تفتیش کے دوران گجرات میں مقیم ڈسٹری بیوٹر کی شناخت کی گئی۔ فوری طور پر فالو اپ ٹیم گجرات روانہ ہوئی اور وسیع فیلڈ نگرانی کے بعد، وڈودرا، گجرات میں ایک ڈسٹری بیوٹر اور اس کا گودام واقع تھا جہاں سے مزید 13938 سی بی سی ایس بوتلیں اور 12,240 ٹراماڈول گولیاں ضبط کی گئیں۔ سی بی سی ایس بوتلوں کے ڈائیورشن کے نشانات سے بچنے کی کوشش میں، متعدد سی بی سی ایس بوتلوں کے بیچ نمبروں میں چھیڑ چھاڑ پائی گئی۔ مزید برآں، جعلی رسیدوں سمیت متعدد مجرمانہ دستاویزات جو کہ این آر ایکس یعنی نارکوٹکس پر مبنی ادویات کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھیں، بھی ضبط کی گئیں۔

تفتیش کے دوران، یہ نوٹ کیا گیا کہ این شیخ، جو بنیادی طور پر مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے بھیونڈی علاقے سے کام کر رہا تھا، اس سے پہلے مہاراشٹر پولیس نے ایک اور این ڈی پی ایس کیس میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے آپریشن کا علاقہ بھیونڈی تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ گجرات میں مقیم ڈسٹری بیوٹر پولیس کے ذریعے درج کیے گئے این ڈی پی ایس کیسوں میں مطلوب ہے۔

ٹراماڈول اور سی بی سی ایس سختی سے نسخے پر مبنی اوپیئڈ ادویات ہیں جن کا طبی استعمال جائز ہے۔ ٹراماڈول مرکزی اعصابی نظام (سی این ایس) کو تبدیل کرتا ہے اور درد کو سنبھالنے کے لیے سمجھتا ہے۔ اس کا غیر تجویز کردہ استعمال سانس لینے، تیز دل کی دھڑکن کی شرح کا سبب بنتا ہے جو مہلک نتائج کا باعث بنتا ہے۔ اس کے شدید انخلا کے اثرات ہیں جو اسے منشیات کے استعمال کے لیے خطرناک مادہ بناتا ہے۔ سی بی سی ایس عام طور پر عام کھانسی اور سردی کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، کوڈین ایک اوپیئڈ ہونے کی وجہ سے نشہ آور اور سی این ایس کو متاثر کرنے والے اثرات رکھتا ہے جس کی زیادہ مقدار سانس کے شدید مسائل، جگر اور گردے کو مہلک نتائج کے ساتھ نقصان پہنچا سکتی ہے۔

مخصوص معلومات کی بنیاد پر، این سی بی ممبئی نے ۱۲ اگست کو گھاٹ کوپر، ممبئی میں اے جے شیخ نامی ایک خاتون کے گھر کی تلاشی کے دوران 1.060 کلو گرام چرس ضبط کی۔ ضبط شدہ چرس کو گھریلو سامان میں چھپایا گیا تھا اور اسے حال ہی میں ممبئی اور ملحقہ علاقوں میں فروخت کرنے کے لیے خریدا گیا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کے نفاذ کے سخت اقدامات اور آئندہ تہواروں کےموسم کی وجہ سے چرس کی آمد کو کافی حد تک روک دیا گیا تھا جس کی وجہ سے پکڑی گئی چرس کو اے جے شیخ اور اس کے منشیات کے ساتھیوں نے مہنگے داموں فروخت کر کے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے خریدا تھا۔ منشیات کے دیگر اہم ساتھیوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے ان کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

چرس ایک قدرتی طور پر تیار کی جانے والی دوا ہے جس میں زیادہ طاقتور ٹی ایچ سی ہوتی ہے جو عام طور پر اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں اگائے جانے والے بھنگ کے پودے سے حاصل کی جاتی ہے۔ چرس کا طویل استعمال یادداشت پر مضر اثرات کے ساتھ علمی اور اضطراری نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔ دونوں کیسز کی تفتیش جاری ہے۔ دونوں آپریشن منشیات کے منظم گروہوں کو ختم کرنے اور منشیات کے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے والے عادی مجرموں کو نشانہ بنانے میں این سی بی کی مسلسل کوششوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان