Connect with us
Saturday,03-October-2026

(جنرل (عام

مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ سے سینکڑوں فائلیں غیر قانونی طور پر غائب :شبیر انصاری

Published

on

(خیال اثر )
مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ سے سینکڑوں فائلیں غیر قانونی طورپرغائب کی جارہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔اورنگ آباد میں تحریک اوقاف کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں آل انڈیا مسلم اوبی سی آرگنائزیشن اور تحریک اوقاف کے قومی صدر شبیر احمد انصاری نے اس طرح کا سنسنی خیز انکشاف کیا۔ گزشتہ دنوں اورنگ آبادمیں وزیر اوقاف نواب ملک کی پریس کانفرنس کو گمراہ کن اور اوقاف کے بنیادی مسائل سے عدم واقفیت کی واضح دلیل بتایا انہوں نے صحافیوں کے اس سوال پرکہ وزیر موصوف نے مہاراشٹر وقف بورڈکا مرکزی دفترممبئی منتقل کرنے کے اعلان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہاکہ یہ وقف بورڈ کو بربادکرنے والا اور اس کو سنگین نقصان پہنچانے والا ان کا اعلان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ وزیراوقاف نواب ملک سے ملاقات کر ان مطالبات کا تذکرہ کیا مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقاف کے بنیادی مسائل کے یکسوئی کے سنجیدہ نہیں ہے۔
پریس کانفرنس کی ابتداء میں تحریک اوقاف کے سیکریٹری مرزاعبدالقیوم ندوی نے تحریک کی بنیاد اور گزشتہ چار سالوں میں کیے گئے کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ”تحریک اوقاف“ ایک تحریک ہے، جو سماجی رہنما علماء کرام،دانشور اوروکلاء کی سرپرستی و رہبری میں مہاراشٹرمیں گزشتہ چار سالوں چلائی جارہی ہے۔جس کامقصداوقاف کے مسائل کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کراناہے۔
شبیر انصاری نے کہاکہ ہمارے حکومت سے سردست تین مطالبات ہیں جو ہم نے مہاراشٹرکے سابقہ وزیر اعلی دیویندر فرنڈویس کوپیش کیے تھے (۱) ہر ضلع میں وقف آفس ہو اور خصوصاََ چھ علاقائی دفتار قائم کیے جائے کیونکہ اس وقت مہاراشٹرمیں 92ہزرا ایکڑ وقف اراضی ہے جبکہ ہر سال اس پر قبضہ میں اضافہ ہورہاہے۔ فی الحال پورے مہاراشٹر میں وقف بورڈ کاصرف اورنگ ا ٓباد میں ہی آفس ہے۔ہمارامطالبہ ہے کہ مہاراشٹر کے ہر ضلع میں ایک آفس قائم کیاجائے اسی طرح مہاراشٹرکے ہر ڈیویژن میں ایک آفس قائم کیاجائے۔(۲)وقف بورڈ میں نئے ملازمین کا تقرر کیاجائے۔ فی الحال مہاراشٹر وقف بورڈ میں صرف 43کا عملہ ہے (جو آج کی تاریخ میں 24رہ گیا ہے) ناکافی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اسے بڑھا کر 813کیاجائے۔(۳)حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وقف بورڈ کو 100کروڑ کی گرانٹ دی جائے اوراس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیریٹی کمشنر کے پاس وقف بورڈ کے پانچ کروڑروپیے فکس ڈپازٹ میں ہے جو آج کے حساب سے 15تا 20کروڑ روپے ہوسکتے ہے،اس میں سے صرف ایک کروڑ روپیے دیاگیا ہے۔ حکومت چیریٹی کمشنر کو حکم دیں کہ وہ جلد سے جلد وقف بورڈ کو لوٹا دے۔ وزیر اعلی نے وفد کی باتوں کو بڑے غور سے سناہی نہیں بلکہ ان تینوں مطالبات پر فوری عمل کیاجائے اسی کی ہدایات پرنسپل سیکریٹری شیام تانگڑے کو دیں۔ پرنسپل سیکریٹری نے ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر عمل آوری کے لیے الگ الگ محکمہ جات کو ہدایات دیں۔ اس وقت مہاراشٹر وقف بور ڈ میں صرف دس ممبران تھے، (آج افسوس کے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی تعدا د صرف 4 رہ گئی ہے۔) ان ممبران کو ان مطالبات کو حل کرنے کے لیے پوری کوشش کرنا چاہئے تھا اس کے بجائے ان ممبران نے اپنی انا کو سامنے لاتے ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہیں اور تحریک اوقاف نے جو مطالبات مہاراشٹر کے وزیر اعلی کے دییئے تھے اس پر عمل آوری کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ جس کی وجہ سے یہ مسائل جو ں کاتوں برقرار ہیں۔اس کے بعد مہاراشٹرمتحدہ محاذ کے حکومت قائم ہوئی۔ حکومت قائم ہونے کے بعد تین سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکومت میں آپسی اختلافات کی وجہ سے کچھ کام نہیں ہوپارہا تھا۔ حکومت بننے کے کچھ ہی مہینوں کے بعد کویڈ19کے سبب سارے کام کاج ٹھپ ہوکر رہ گئے۔اس کے باجود بھی ان کے مقصد و مفاد کے کام وہ برابر کیے جارہے تھے۔
۔ تحریک اوقاف اب پورے مہاراشٹر میں اس کو ایک عوامی تحریک بناکر ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ہر جمہوری طرز کو اپنا کر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور بہت جلد ممبئی آزاد میدان میں ایک بڑا دھرنا دیاجائے گا۔ پریس کانفرنس میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سیکریٹری مجتبی فاروق، سید شکیل پونہ ضلع صد ر تحریک اوقاف، یوسف نظامی اور غفران انصاری موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کستوربا مارگ پولس ۱۰۰چوری شدہ موبائل برآمد، اصل مالکان کے سپرد

Published

on

Mobile-Recovery

ممبئی کستوربا مارگ پولیس تھانہ کی حد سے چوری شدہ اور گمشدہ موبائل فون کے بارے میں موصول شکایتوں کے سلسلے میں سی ای آئی آر پورٹل کے ذریعے دستیاب معلومات کا تجزیہ کرکے اور موبائل فون کی تکنیکی تفتیش کی گئی۔مذکورہ تکنیکی تفتیش کے دوران موبائل فون کی معلومات، آئی ایم ای آئی نمبر اور اس کا استعمال کرنے والے شخص کی معلومات کی تصدیق کرکے کستوربا مارگ پولیس تھانے کے پولیس افسر اور اہلکاروں نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر ریاستوں میں تلاش کرکے کل 100 موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ برآمد کیے گئے 100 موبائل فون کی اندازاً کل قیمت 22,70,658/- روپے اتنی ہے۔ مذکورہ برآمد 100 موبائل میں سے 18 موبائل شکایت کنندہ / مالکان کو ان کے فون واپس کیے گئے ہیں جن میں 1) راجندر پوری 2) خوش ساو 3) کرپا لودھیا 4) شریا ساٹم 5) اتل ساٹھے 6) پریانکا مستری 7) بنو ترنگ 8) پریم گپتا 9) آدیا شیخ 10) شویتا شاہ 11) سندھیا پنڈت 12) دیپک ساوڈیکر 13) سوربھ جھانگڑ 14) کیتن شیٹے 15) اونکار راؤت 16) جیالال یادو 17) لکشمی اپا کرپا گری 18) پروین دوبے اور باقی شہریوں کو ان کے موبائل فون واپس کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ مذکورہ کارکردگی ڈی سی پی شمالی پری منڈل 3، ممبئی-راجانے کستوربا مارگ پولیس تھانہ، بالاصاحب بنکرانجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر سے مونسون کی مزید واپسی، کونکن علاقے کے لیے گرم اور مرطوب موسم کی الرٹ جاری

Published

on

ممبئی : محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے ہفتہ، 3 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا ہے کہ جنوب مغربی مونسون مہاراشٹر کے بعض حصوں کے ساتھ ساتھ شمالی ہند کے بقایا علاقوں، پورے گجرات اور مدھیہ پردیش سے مکمل طور پر رخصت ہو چکا ہے۔مونسون کی واپسی کی موجودہ لائن مہاراشٹر میں ہرنائی، بارامتی، پربھنی اور برہماپوری سے گزر رہی ہے، جو آگے بڑھتے ہوئے رائے پور، رانچی اور سپول تک پھیلی ہوئی ہے۔ موسمیاتی حکام کا کہنا ہے کہ اگلے 2 سے 3 دنوں کے دوران مراٹھواڑہ، ودربھ اور مدھیہ مہاراشٹر کے مزید علاقوں سے مونسون کی رخصتی کے لیے حالات سازگار ہیں۔ ساحلی مہاراشٹر کے لیے گرم اور مرطوب موسم کا الرٹ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو اس ویک اینڈ پر بڑھتی ہوئی گرمی اور حبس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ڈی نے 3 اکتوبر سے 5 اکتوبر تک کونکن اور گوا کے خطے کے لیے گرم اور مرطوب (ہاٹ اینڈ ہیومیڈ) موسم کی وارننگ جاری کی ہے۔ اس خشک اور حبس زدہ دور کے بعد علاقے میں معمولی بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔ 6 سے 9 اکتوبر کے درمیان کونکن و گوا اور مدھیہ مہاراشٹر میں کچھ مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں کی صورتحال ایک طرف جہاں ملک کے مرکزی اور شمالی حصوں سے مونسون رخصت ہو رہا ہے، وہیں جنوبی ریاستوں میں شدید بارش کی تنبیہ کی گئی ہے۔ کیرالہ، ماہے، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل میں 4 سے 6 اکتوبر کے دوران، جبکہ جنوبی اندرونی کرناٹک میں 5 اور 6 اکتوبر کو بعض مقامات پر بھاری بارش کا امکان ہے۔

شمال مشرقی ریاستوں میں، آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش میں 3 اکتوبر کو متفرق مقامات پر تیز بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ ماہی گیروں اور کسانوں کے لیے ہدایت بحر عرب میں چکراتی ہوائی نظام (سائیکلونک سرکولیشن) کے پیش نظر، آئی ایم ڈی نے ماہی گیروں کو 3 اکتوبر کو ساحل کیرالہ، لکشدیپ، مالدیپ اور کومورین کے علاقوں سے ملحقہ سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ نیز، بھاری بارش والے علاقوں کے کسانوں کو فصلوں کے نقصان کو روکنے کے لیے کھیتوں سے پانی کے نکاس کا مناسب انتظام کرنے اور کٹی ہوئی فصلوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کرائم برانچ نے طالب علم کی خودکشی کے معاملے میں آئی آئی ٹی کے پروفیسر کا بیان ریکارڈ کر لیا، دولا نے تمام الزامات سے انکار کر دیا۔

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ، جو آئی آئی ٹی بمبئی کے طالب علم ساحل وکوڈے کے خودکشی کے لیے مبینہ طور پر اکسانے کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، نے پروفیسر سوری نارائن ڈولا کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ پروفیسر سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی جس کے دوران ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ اس نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی۔ وکوڑے کے والدین نے اپنی پولیس شکایت میں کہا تھا کہ پروفیسر ڈولا نے ان کے بیٹے کو ہراساں کیا تھا۔ الزامات پر کارروائی کرتے ہوئے، کرائم برانچ نے پروفیسر سے وکوڈ کی موت تک پیش آنے والے واقعات اور طالب علم کے ساتھ ان کی بات چیت کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران پروفیسر دولا نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کیا، ذرائع کے مطابق۔ ممبئی کرائم برانچ جلد ہی آئی آئی ٹی بمبئی کے ڈائریکٹر شیشے کو بھی طلب کرے گی۔ تفتیش۔ دریں اثنا، پولس وکوڈے کی موت سے پہلے کے واقعات اور سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات اکٹھا کرنے کے لیے امتحانی ہال کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔ کرائم برانچ نے اب تک تقریباً 50 لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں، جن میں وکوڈے کے والدین اور ہم جماعت کے ساتھی شامل ہیں۔

18 ستمبر کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر پروفیسر ڈولا کو ایک امتحان کے دوران موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر پکڑنے کے بعد وکوڈے کو ایک طرف کھینچتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وکوڈ کی موت کے بعد، آئی آئی ٹی بمبئی نے کہا تھا کہ طالب علم نے جوابات حاصل کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر سوالنامہ اپ لوڈ کیا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس واقعے کے سلسلے میں اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔ وکوڑے کے والد رویندر وکوڑے نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بیٹے نے انھیں پروفیسر دولہ کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا تھا۔ “میرے بیٹے نے مجھے اس امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا تھا، لیکن میں نے اسے بتایا کہ اس کا داخلہ حاصل کرنا مشکل ہے،” اس نے پولیس کو بتایا کہ آئی آئی ٹی ایم میں اس کا داخلہ لینا مشکل ہے۔ بعد ازاں وکوڈے کے والد کی شکایت کی بنیاد پر خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم آئی آئی ٹی بمبئی کی فیکلٹی پروفیسر دولہ کی حمایت میں سامنے آئی، اور یہ کہتے ہوئے کہ انھیں محض اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صرف اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے، پھر یہ ملک کی پوری تدریسی برادری کے لیے ایک مسئلہ ہے،‘‘ پروفیسر راجکمار پنت، آئی آئی ٹی-بمبئی فیکلٹی فورم کے سربراہ نے کہا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان