Connect with us
Wednesday,17-June-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں کورونا وائرس کے باوجود صفائی نظام ٹھپ، ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کا سخت رد عمل

Published

on

مالیگاؤں (وفا ناہید)
مالیگاؤں کے پڑوسی شہر دھولیہ، جلگاؤں، اورنگ آباد، چالیس گاؤں، بھیونڈی اور ناسک مسلسل ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اوج ثریا کا سفر طے کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں، اور مسلم ایم ایل اے، مسلم میئر، مسلم اسٹینڈنگ کمیٹی چئرمین، مسلم کارپوٹرس رکھنے والا مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں آج بھی پچاس سال پچھے چل رہا ہے۔
مالیگاؤں سمیت پوری دنیا کورونا وائرس کے خوف سے دہشت زدہ ہے اس کے باوجود شہر میں صاف صفائی نظام کا بد سے بدتر حال ہے. شہری انتظامیہ کی لاپراوہی پر اپنے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے معروف سماجی خادم مومن نفیس انصاری نے کہا کہ ہر پانچ سال پر یہاں کی مسلم عوام کو سبز باغ دکھانا اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنے منشور کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دینا یہاں کے لیڈروں کا شیوہ رہا ہے۔ شہر میں الزام تراشی کی روایت کو زندہ رکھ کر یہاں عوامی نمائندے تعمیری کاموں سے عوام کو دور رکھنے میں اکثر کامیاب رہتے ہیں۔ چناؤ کے وقت بھی اشتہاری جلسوں سے شہر کی ترقی کو چھوڑ کر ایک دوسرے پر الزام تراشی کر کے بھولی بھالی عوام کو انوکھے انداز میں گمراہ کیا جاتا ہے۔
گزشتہ کئی سالوں سے عوامی نمائندگان ٹیکس دہندگان کے جمع شدہ روپیوں سے حاصل شدہ کارپوٹرس فنڈ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے بے جا اور خستہ حال تعمیری کام کرتے جارہے ہیں۔ سڑکوں پر سڑک بنانا اور گٹروں میں گٹر کی تعمیر کرنا ایک عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے۔ اسی طرح شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کے نام پر ارباب اقتدار اور عوامی نمائندگان کے ذریعے خطیر رقم خرچ کرتے ہوئے کمانی گیٹ اور چوک چوراہوں کے بورڈ بھی زبردستی تعمیر کئے جارہے ہیں، جبکہ کمانی گیٹ، چوک چوراہوں اور سڑکوں کے ناموں کا بورڈ جہاں پر موجود ہوتا ہے وہاں کچروں کا ڈھیر اور راستے خستہ حالی کا شکار رہتے ہوئے آمدورفت میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہوئے حادثوں کی آمجگاہ بنے رہتے ہیں. ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کے صدر ابوللیث انصاری نے موجودہ حالات کے تناظر میں کہا کہ مالیگاؤں شہر روز اول سے امن کا گہوارہ رہا ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے ہمارے اپنے شہر مالیگاؤں میں فحاشی بڑھتی جارہی ہے. آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ہر روز نئے کارنامے عوام کے سامنے شوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں. ہمارے شہر میں سماجی اور سیاسی صورتحال کیوں بِگڑتی جا رہی ہے۔
اس وقت پورے ملک میں این۔ پی۔ آر، این آر سی اور سی اے اے جیسے قوانین کے خلاف پورا دیش سراپا احتجاج بنا ہوا ہے، لیکن شہر میں نہ ہی کوئی ایک پلیٹ فارم نظر آیا اور نہ ہی سیاسی لیڈران نے اپنی ذمہ داری کے احساس کو سمجھا. افسوسناک بات ہے کہ لیڈران آج بھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگے ہوئے ہیں. الیکشن ختم ہوئے چھ مہینہ گذر چُکا ہے، لیکن عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے کوسوں دور ہے۔ کیا یہی ہمارے اسلاف کا طریقہ تھا۔ یا پھر صرف ہمارے شہر کو بدنام کرنے اور ہمارے اسلاف کے کاموں اور محنتوں کو برباد کرنے کیلئے یہ سب کیا جارہا ہے. آخر سیاسی لیڈران کب تک غفلت کی نیند سوتے رہیں گے. حیرت کی بات ہے کہ جب یہ ہوش میں آتے بھی ہیں تو صِرف ایک دوسرے کے اوپر کیچڑ اچھالنے کا کام کرتے ہیں. آخر اس شہر کی عوام کا استحصال کب تک کیا جاتا رہے گا۔؟

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اندھیری ۶۰ لاکھ سے زائد کے زیورات چوری کا ڈرامہ تیار کرنے والے دو ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس دو ایسے شاطر ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے, جنہوں نے چوری اور سڑک حادثہ کی من گھڑت کہانی بنا کر ۶۰ لاکھ کے زیورات چوری ہونے کا ڈرامہ تیار کیا تھا, لیکن پولس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ سونے کے زیورات کی ڈیلیوری کرنے والا ہی چور ہے اور اس نے اپنے ساتھی دوست کے ساتھ مل کر یہ چوری کی تھی۔ ایم آئی ڈی سی پولس نے گولڈ اسٹار کمپنی کے کنچن پوار کی شکایت پر چوری کا کیس درج کر لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ نے اپنے ملازم اویناش گنگادھر کدم ۲۶ سالہ کو سونے کے زیورات ڈیلیوری کے لئے بھیجا تھا۔ اسی دوران اس نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل ایکٹیوا کو حادثہ پیش آیا ہے اور اسی دوران سونے کے زیورات و بیگ بھی چوری ہو گئے۔ اس نے بلا کسی چوٹ اور زخم کے اسپتال میں داخلہ کےلئے ڈرامہ کیا, اس دوران پولس نے متعدد سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ اس مشتبہ شخص حادثہ سے قبل یہاں مشتبہ حالت میں گشت کر رہا تھا۔ جس کا نام منوج ہیمنت جوگڈنڈ ۴۱ سالہ ہے۔ اس سے تفتیش میں پولس کو یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں نے ہی چوری کا ڈرامہ کیا تھا اور اس واقعہ کو حادثہ بتا کر لوٹ مار کی منصوبہ بندی تیار کی تھی۔ اس کے بعد پولس نے اویناش کو بھی زیر حراست لیا اس معاملہ میں پولس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر کے معمہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بی ایم سی نے مانسون سے پہلے ہیلپ لائن ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم’ شروع کی، گڑھے بھرنے پر توجہ مرکوز کی

Published

on

ممبئی ممبئی میں گڑھوں کو بھرنے کےلئے بی ایم سی نے خصوصی ہیلپ لائن جاری کیا ہے شہریوں کی شکایات کا فوری اور مؤثر طریقے سے ازالہ کرنے کے مقصد کے ساتھ، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال ایک مربوط شکایتی انتظامی نظام‘مائی بی ایم سی مارگ’ (شکایات کے انتظام اور ازالے کانظام) نافذ کیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے شہری میونسپل کارپوریشن سے متعلق 114 مختلف قسم کی شکایات کو ایک ہی درخواست کے ذریعے درج کر سکیں گے اور وہ ان کی پیروی بھی کر سکیں گے۔ اس کے تحت ‘مائی بی ایم سی مارگ’ سسٹم پر سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کرنے کی سہولت شہریوں کو فراہم کی گئی ہے۔

مانسون کے موسم میں سڑکوں پر بعض اوقات گڑھے بن جاتے ہیں۔ اس تناظر میں میونسپل کارپوریشن شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا فوری نوٹس لینے اور ضروری اصلاحی کارروائی کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ شہریوں کے لیے گڑھوں کی شکایات کے اندراج کے عمل کو آسان اور موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے سڑکوں پر گڑھوں کے بارے میں شکایات درج کرنے کے لیے ایک الگ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ شروع کی تھی۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے شہری معلومات، تصاویر اور سڑکوں پر گڑھوں کی جگہ کے ساتھ شکایات درج کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے اچھا رسپانس ملا۔اس دوران شہریوں کو میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں سے متعلق شکایات کے لیے مختلف سسٹم استعمال کرنا پڑا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مزید جامع اور آسان خدمات فراہم کرنے کے لیے اس سال سے ایک جامع نظام ‘مائی بی ایم سی مارگ’ شروع کیا ہے۔ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ کو اس سسٹم میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں بشمول گڑھے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج کے مسائل، پانی کی فراہمی، سڑک کی دیکھ بھال، پارکس، صحت عامہ، پیسٹ کنٹرول، تجاوزات، لائٹنگ سے متعلق کل 114 قسم کی شکایات درج کرنے کی سہولت ’مائی بی ایم سی مارگ‘ پر دستیاب ہے۔

‘مائی بی ایم سی مارگ’سسٹم خصوصیت یہ ہے کہ شہریوں کےلیے ایک پلیٹ فارم سے شکایات کا اندراج کرنا، متعلقہ تصاویر اپ لوڈ کرنا، شکایت کی موجودہ صورتحال کی جانچ کرنا، متعلقہ محکمے کی طرف سے کی گئی کارروائی کا پتہ لگانا اور شکایت کے حل ہونے کے بعد اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس لیے شکایت کے اندراج سے لے کر ازالے تک کا پورا عمل زیادہ شفاف اور شہریوں پر مبنی ہو گیا ہے۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام نے شکایت کے اندراج کے عمل کو آسان، شفاف اور موثر بنا دیا ہے اور شہریوں کو شکایات کے ازالے پر عمل کرنے کے لیے ایک واحد جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔خاص طور پر جب شہری سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کراتے ہیں تو متعلقہ محکمے کے لیے فوری کارروائی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے گڑھے کی مرمت کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اینڈرائیڈ صارفین اپنے اسمارٹ فونز پر مائی بی ایم سی مارگ ایپلیکیشن کو مائی بی ایم سی مارگ – گوگل پلے پر ایپس کا استعمال کرکے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں اور آئی فون کے صارفین مائی بی ایم سی مارگ ایپ – ایپ اسٹور کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ ممبئی کے لوگ میونسپل کارپوریشن سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر گڑھوں سے متعلق تمام شکایات ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم پر درج کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈاکٹر سیجل پوار متنازع بیان و تبصرہ کے سبب رخصتی پر روانہ، جانچ سے قبل ہی کے ای ایم اسپتال کی سخت کارروائی

Published

on

ممبئي ممبئي کی ایک مزاحیہ تقریب میں طالب علم سیجل، پولار کو ڈاکٹر کو ویڈیو اور بیان کے طور پر سیج کے ساتھ ۱۵ تاریخ کی چھٹی دے دی گئی اور انکوائری کا آغاز کیا گیا اس کی رپورٹ کے بعد ہی مزید کارروائی ہوگی۔ ڈاکٹر سیجل پور سے متعلقہ ادارے میں کارروائی کی جاتی ہے۔

سیٹھ جی ایس میڈیکل کالج اور کے ای ایم ہاسپٹل نے ایک مزاحیہ پروگرام کے دوران ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ سیجل پوار کے ریمارکس اور اس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعلقہ ویڈیو مواد کی گردش سے پیدا ہونے والی عوامی تشویش کا مناسب ادراک کیا ہے۔

شکایات کی وصولی کے فوراً بعد، انسٹی ٹیوٹ نے حقائق کی تلاش کا ایک ابتدائی عمل شروع کیا۔ متعلقہ طالب علم کو بلایا گیا، اس کی وضاحت/معافی ریکارڈ پر لی گئی، اور متعلقہ مواد کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی نتائج، معاملے کی حساسیت، اور متوفی افراد، جسم کے عطیہ دہندگان کے وقار کو برقرار رکھنے کی ضرورت اور میڈیکل طلباء سے متوقع پیشہ ورانہ معیارات کے پیش نظر پوار پر آج ایک عبوری تادیبی/انتظامی حکم جاری کیا گیا ہے۔

اس کے مطابق، پوار کو 15 دن کی مدت کے لیے لازمی چھٹی پر رکھا گیا ہے، جس کا اثر ۱۳ مئی سے ہے، تفصیلی انکوائری اور مزید احکامات زیر التواء ہیں۔ آج صبح 10:30 بجے، اسے مذکورہ مدت کے دوران اس کے والدین/سرپرستوں کی دیکھ بھال اور نگرانی سونپی گئی تھی۔ انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ادارہ جاتی انکوائری میں مکمل تعاون کریں اور جب بھی انکوائری کمیٹی کے ذریعہ بلایا جائے،ازخود یا آن لائن موڈ کے ذریعے دستیاب رہیں۔

ایک جامع پانچ رکنی انکوائری کمیٹی کی تشکیل کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جس میں سینئر فیکلٹی، ایک بیرونی/نان فیکلٹی ممبر اور مناسب ادارہ جاتی نمائندگی شامل ہے۔ کمیٹی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حقائق، سیاق و سباق، اثرات اور متعلقہ ریکارڈز بشمول سوشل میڈیا کی گردش کے پہلو کا جائزہ لے گی اور مزید کارروائی کے لیے اپنی معقول سفارشات پیش کرے گی۔انسٹی ٹیوٹ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ مریضوں، فوت شدہ افراد، جسم کے عطیہ دہندگان اور ان کے اہل خانہ کا احترام طبی تعلیم کی بنیادی قدر ہے۔ معاملے کو سنجیدگی، حساسیت اور طریقہ کار کے ساتھ انصاف کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ تفصیلی انکوائری رپورٹ کی وصولی کے بعد قابل اطلاق این ایم سی ایم یو ایچ ایس ، بی ایم سی اور ادارہ جاتی اصولوں کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔اس مرحلے پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس وقت جامع انکوائری کا عمل جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان