Connect with us
Saturday,13-June-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

تعلیمی بدعنوانی کے خلاف ہیومن ایڈ فاؤنڈیشن نے وزیر تعلیم کو میمورنڈم پیش کیا ، بدعنوان تعلیمی اداروں ، ٹرسٹیان ، افسران و ملازمین کے خلاف فوری طور پر کاروائی کی جائے _ انجینئر نوید بیتاب

Published

on

bhiwandi-mucchi

بھیونڈی: (نامہ نگار ) علمی و ادبی گہوارہ کہلانے والا شہر بھیونڈی ان دنوں نہ صرف کسادبازاری کی مار جھیل رہا ہے بلکہ اپنی ادبی ، ثقافتی اور علمی شناخت ، بدعنوان تعلیمی ادارے ، ذمہ داران و عہدیداران کے سبب کھونے کے درپر ہے جو باعث تشویش ہے اور شہریان کو اپنی آئندہ نسلوں تک تعلیم کی رسائی کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ مشہور زمانہ حربہ ہے کہ اگر کسی کو بنا جنگ و جدل کے شکست فاش دینا ہو تو اس کی علمی حس چھین کر اسے تعلیم سے بے بہرہ کردیا جائے۔

ان ہی فکروں کی بنیاد پر حصول حق کی خاطر بھیونڈی کی علمی ، سماجی ، فلاحی و قانونی تنظیم ہیومن ایڈ فاؤنڈیشن نے مہاراشٹر کے وزیر تعلیم کو کثیر نکاتی مطالباتی و شکایتی میمورنڈم پیش کیا ہے جس میں تنظیم کے قومی صدر انجینئر نوید بیتاب نے حکومت مہاراشٹر کے 21 مئی 2010 کے جی آر نمبر 2009/(108/09) ماشی _ 3 اور بتاریخ 26 فروری 2020 کے جی آر نمبر /2020/50/ ایس ڈی _ 4 کے حوالے سے مطالبہ کیا ہے کہ جب حکومت نے امدادی ، غیر امدادی ، اور مستقل غیر امدادی اداروں کو فیس اور ڈونیشن (عطیہ) کے تعلق سے مکمل وضاحت کردی ہے پھر بھی ادارے و ذمہ داران دھڑلے سے نا صرف من مانی فیس وصول کررہے ہیں بلکہ ڈونیشن جیسے تعزیری عمل کو بھی جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ2010 کے 21 نکاتی جی آر میں ابتدائی وضاحت ہی کافی ہے کہ کسی بھی صورت میں ادارے کسی بھی قسم کی نفع خوری نہیں کرسکتے اور نا ہی فی کس طلباء ذرائع آمدنی بنا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ فیس یا اس کے اضافہ میں فیصلے مکمل شفافیت ، حالات ، اور جائز اخراجات کے مدنظر کئے جائیں جو کہ سالانہ چھ فیصدی (% 6) سے زائد نہ ہو۔

اسی طرح ادارے کو دیگر ذرائع سے ملنے والی آمدنی جیسے ہال ، میدان ، و کینٹین وغیرہ کا کرایہ سبھی ادارے کے آڈٹ (جمع پونجی) میں دکھانا ہوگا جو کہ براہ راست طلباء کے تعلیمی اخراجات میں منہا ہوگا۔

ادارہ فیس یا اضافہ کے تعلق سے کسی بھی قسم کا کوئی بھی حساب کتاب یا تجویز ہر صورت میں پہلے اساتذہ و والدین تنظیم کے سامنے پیش کرنا ہوگا پھر گزٹ میں درج جدول الف یا جدول ب کے مطابق اساتذہ و والدین کی تنظیم اور ان سے متعلقہ تنظیموں کی حمایت کے بناء پر ہی رقم ، فیس و درجہ میں اضافہ کرسکتے ہیں جس کی میعاد 5 سال ہوگی۔ مگر اس کے برعکس تعلیمی ادارے اور اس کے ذمہ داران اپنی خواہشات اور مفاد کے مطابق قانون کو پیروں تلے روندتے ہوئے سارا نظام چلا رہے ہیں۔جسے یہ ذمہ داران عوامی املاک کو اپنی نجی املاک سمجھ کر کام کررہے ہیں۔

عوامی مفاد ، حق و انصاف کے لئے ” معزز گورنر مہاراشٹر ” گزٹ و حکم صادر کرتے ہیں مگر مقامی محکمہ تعلیم کے بدعنوان افسران و ملازمین ان اداروں کے ذمہ داروں کے ساتھ ساز باز کرکے عوام کے حقوق و انصاف کی حصولیابی کا کوئی بھی در خالی نہیں چھوڑتے کہ عوام جہاں جا کر انصاف کی گہار لگائے۔

اپنے مکتوب میں ہیومن ایڈ فاؤنڈیشن کے قومی صدر انجینئر نوید بیتاب نے اساتذہ اور والدین تنظیم کے پیش نظر اس کے قوی اطلاق کا مطالبہ کیا ہے تو وہیں 2020 کے گزٹ کے مطابق شکایت ازالہ کمیٹی کے فوراً سے پیشتر مقامی سطح پر نفاذ اور عمل آوری کا مطالبہ کیا ہے جو کہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ہزارہا مدعے و شکایتیں معقول نظم نہ ہونے کے سبب التواء کا شکار ہیں۔

ہیومن ایڈ فاؤنڈیشن نے اپنے 10 نکاتی مطالبہ میں ایک طرف تو 21 مئی 2010 کے گزٹ کے مطابق ، گزٹ کے مکمل اطلاق و نفاذ مع عمل آوری ، بالخصوص “جدول الف اور جدول ب” کے ہمراہ مکمل گزٹ کا سٹیزن چارٹر بورڈ (عوامی سند تختہ) کی اسکول و ادارے کے اندر و باہر مستقل آویزاں کریں۔ دوسری طرف اساتذہ و والدین تنظیم کا مضبوط نفاذ مع عمل آوری کے ساتھ تمامی ممبران کو نا صرف تحریری نوٹس دی جائے بلکہ علاحدہ نوٹس بورڈ لگایا جائے۔

اسی طرح 26 فروری 2020 کے گزٹ کے مطابق گزٹ کا مکمل اطلاق و نفاذ مع عمل آوری ہو بالخصوص شکایت ازالہ کمیٹی کو ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ مقامی سطح کے محکمہ تعلیم آفس میں فوراً سے پیشتر شروع کیا جائے تاکہ نہ صرف وقت اور روپے کے ضیاع سے بچا جائے بلکہ زائد از شکایتوں کا ازالہ ہوسکے۔ ساتھ ہی ہیومن ایڈ فاؤنڈیشن کی طرح دیگر تنظیموں کو بھی شکایت ازالہ کمیٹی میں نامزد کیا جائے۔

ہیومن ایڈ فاؤنڈیشن نے قوی مطالبہ کیا ہے کہ تمامی امداد یافتہ اسکولوں و اداروں کو ڈونیشن اور فیس سے بالکل مبرا کیا جائے۔ اداروں اور اسکولوں کو پابند کیا جائے کہ اپنی اسکول و ادارے کے بیرون و اندرون ” نو فیس ، نو ڈونیشن ” کوئی فیس نہیں کوئی ڈونیشن نہیں کا بورڈ ( تختی ) آویزاں کریں۔ اسی طرح ہر نئے سال پر مقامی محکمہ تعلیم کی طرف سے تمامی جگہوں پر مقامی روزنامہ اخباروں میں حکومتی امداد یافتہ اسکولوں کی فہرست کے ساتھ کوئی فیس نہیں کوئی ڈونیشن نہیں کا اشتہار شائع کریں۔

اگر کوئی بھی رکاوٹ یا پریشانی آتی ہے تو ہماری ہیومن ایڈ فاؤنڈیشن عوامی مفاد میں ہر سال ایسے سارے اخراجات برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔ ہیومن ایڈ فاؤنڈیشن نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ رائٹ ٹو ایجوکیشن (یکساں حصول تعلیم حق) کے تحت نامزد تمامی اسکولوں کو سختی سے پابند کیا جائے کہ نا طلباء سے فیس لی جائے اور نا ہی ہراساں کیا جائے ورنہ تعزیری کارروائی کی جائے گی۔

بھیونڈی شہر میں حصول تعلیم حق کے تحت کل 32 اسکولوں میں سے صرف 3 ہی اسکولوں میں طلباء کا داخلہ جونیئر کے جی سے لیا جاتا ہے ، تمامی اسکولوں کو جونئیر کے جی سے داخلہ دینے کا پابند کیا جائے۔اس ضمن میں حکومت مہاراشٹر کی وزیر تعلیم محترمہ ورشا گائیکواڑ سے وفد نے ملاقاتی کی ۔مذکورہ وفد میں ہیومن ایڈ فاؤنڈیشن کے قومی صدر انجینئر نوید بیتاب ،انصاری ریحان ماسٹر ، ڈاکٹر وفا فاروقی ، عمار خان ، ثمر نوید بیتاب ، عیاد خان ، انس انصاری ، فیاض خوشحال ، قادر وڑگم ، زاہد گاندھی ، عاقب عطر والے ، ابو سفیان انصاری ، اور فصیح انصاری وغیرہ شامل تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

نفرت انگیز بیانات، تفریح ​​کے نام پر فحاشی برداشت نہیں کی جائے گی، سخت ایکشن لیا جائے گا : میئر ریتو تاوڑے

Published

on

ritu

ممبئی : اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے کے لائیو شو میں کے ای ایم اسپتال کی میڈیکل کی طالبہ سیجل پوار کے نفرت انگیز بیان کے معاملے میں اسپتال انتظامیہ نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔ تفریح ​​کے نام پر نفرت انگیزبیانات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسپتال انتظامیہ کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے وضاحت کی ہے۔

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے اس پورے واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور فنکاروں اور مواد تخلیق کرنے والوں سے سماجی ذمہ داری سے آگاہ رہنے کی اپیل کی ہے۔ اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے کے شو کے دو کلپس جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں شہریوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ پہلے کلپ میں ہمانشو جگڈا نامی شخص ایک خاتون کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کا واقعہ بیان کیا، جب کہ دوسرے کلپ میں کے ای ایم ہسپتال کی میڈیکل کی طالبہ سیجل پوار نے ان مردوں کی لاشوں کے بارے میں انتہائی نفرت انگیز، فحش اور جارحانہ تبصرے کیے جنہوں نے اپنی لاشیں طبی تعلیم کے لیے عطیہ کی تھیں۔ ان دونوں صورتوں میں کامیڈین پرنیت نے اعتراض کرنے کے بجائے ہنسی اور تالیاں بجائیں۔ ان دونوں کلپس میں غیر حساسیت کا نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر سائبر پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے پر میونسپل کارپوریشن کا موقف واضح کرتے ہوئے اور قانونی کارروائی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے وضاحت کی ہے کہ مہاراشٹر سائبر ڈپارٹمنٹ نے کارروائی کی ہے۔ اس کے علاوہ کے ای ایم ہسپتال انتظامیہ نے سیجل پوار کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی مقرر کی ہے۔ میئر نے واضح کیا کہ اسپتال انتظامیہ کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

میئر تاوڑے نے مزید کہا کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا ایک بہت اہم حصہ ہے، لیکن اس آزادی کے نام پر خواتین کی توہین کرنے والا مواد، فحاشی، نفرت انگیز بیانات، نفرت انگیز قسم کے مواد یا سماج میں غلط پیغام بھیجنے والے مواد کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ عوامی فورم میں خواتین، رضامندی اور طبی شعبے سے متعلق حساس مسائل پر بات کرتے ہوئے ہر ایک کو حدود کی پابندی کرنی چاہیے۔ ممبئی ثقافت، فن اور سوچ کی آزادی کا شہر ہے۔ تاہم یہ سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تفریح ​​کے نام پر کسی کی عزت کو پامال نہ کیا جائے۔ چونکہ سوشل میڈیا کا نوجوانوں پر بڑا اثر ہے، اس لیے معاشرے پر اس طرح کے مواد کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے سب کو حساس ہونا چاہیے۔ تمام فنکاروں، ڈیجیٹل مواد کے تخلیق کاروں اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے سماجی دلچسپی، حساسیت اور اخلاقیات کا احساس برقرار رکھنا چاہیے۔ شہریوں کو بھی سوشل میڈیا پر ذمہ داری سے برتاؤ کرنا چاہیے اور نفرت، فحاشی اور خواتین مخالف ذہنیت کو فروغ دینے والی چیزوں کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیے، اس موقع پر ریتو تاوڑے نے بھی اپیل کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محرم الحرام وعظ و مجالس کو رات 9 بجے تک اجازت دی جائے، ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کا وزیر داخلہ سے مطالبہ

Published

on

Abu-Asim-Fadnavis

ممبئی : محرم الحرام کے متبرک ایام کی اہمیت کے پیش نظر اس دوران منعقد ہونے والی عوامی مذہبی تقاریر وعظ و مجالس کا وقت ۱۰ بجے سے بڑھا کر ۱۲ بجے تک کیا جائے، ایسا پرزور مطالبہ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ریاست کے وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس کو ایک میمورنڈم ارسال کیا۔ ایم ایل اے اعظمی نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ محرم کے دوران رات کے وقت مختلف علاقوں میں عوامی تقاریر وعظ مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں بڑی تعداد میں جانثاراں حسین شریک ہوتے ہیں۔ فی الحال شام کو تقریباً ۷ بجے مغرب کی نماز ہوتی ہے، جس کے بعد عشاء کی نماز مکمل ہونے تک کافی وقت صرف ہوتا ہے۔ پولیس انتظامیہ کی جانب سے فی الحال صرف رات ۱۰ بجے تک کی ہی اجازت دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے نماز کے بعد اصل پروگرام کے لیے بہت کم وقت درکار ہے۔ اس وقت کی قلت کی وجہ سے مسلمانوں میں بے چینی ہے اور وہ ان مذہبی تقاریر سے پوری طرح مستفیض نہیں ہو پا رہے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر، امن و امان کا پورا احترام کرتے ہوئے محرم کی طے شدہ تاریخوں کے لیے یہ وقت رات ۱۲ بجے تک بڑھایا جانا چاہیے۔ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر داخلہ خود اس معاملے میں مداخلت کریں اور پولیس انتظامیہ کو فوری طور پر مثبت احکامات جاری کریں۔ اس میمورنڈم کی کاپیاں وزیر اعلیٰ اور ممبئی پولیس کے جوائنٹ کمشنر (لاء اینڈ آرڈر) دیوین بھارتی کو بھی ضروری کارروائی کے لیے روانہ کی گئی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

میرا روڈ سی کوئین پیلس آرکسٹرا بار پر چھاپہ مارا،12 خواتین کی بازیابی، ۹ گرفتار

Published

on

Bear

ممبئی : میرا روڈ ایم بی وی وی پولیس کمشنریٹ، سرکل 1 کے ڈی سی پی راہول چوان کی قیادت میں ایک ٹیم نے میرا روڈ کے کاشیگاؤں پولیس اسٹیشن کی حدود میں ممبئی احمد آباد ہائی وے پر دراز ڈھابہ کے سامنے سی کوئین پیلس آرکسٹرا بار پر چھاپہ مارا۔ اس چھاپہ مار کارروائی کے دوران پولس نے 12 خواتین کو بچا لیا گیا۔ ایک کیشیئر اور 8 ویٹر گرفتار کیے گئے جس میں بار کا ڈرائیور مالک اور مینیجر مفرور ہیں, چھاپہ مار کاروائی کے دوران 50,000 روپے نقد ضبط کر لیے گئے۔ اس کے ساتھ وہسکی اور بیئر کا غیر قانونی ذخیرہ ضبط کیا گیا اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ غیر قانونی طور پر بار میں رقص و سرور کی محفل جاری تھی اسی دوران پولس نے چھاپہ مار اور ملزمین کو گرفتار کر کے ۱۲ بار رقاصاؤں کو بھی آزاد کروایا گیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان