Connect with us
Monday,26-October-2026

سیاست

دارالعلوم دیو بند اور جمعیۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ ادھوری : مولانا ارشد مدنی

Published

on

arshad madni

ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کی آزادی تاریخ دارالعلوم دیو بند اور جمعۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ یہ بات انہوں نے یوم جمہوریہ کے موقع پر جاری ایک مضمون میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی ہی نہیں ملک کی کوئی بھی تاریخ ہندوستان کے علمائے کرام کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی، خواہ وہ ملی یا قومی قیادت و سیادت ہو یا آزادیئ وطن کے لئے میدان جنگ، کسی تحریک کی قیادت ہو یا پھر کسی مصیبت اور پریشانی کے وقت میں لوگوں کی مدد و غمگساری، ہر میدان میں علماء نے اہم کارنامے انجام دئے ہیں اور حکومتِ وقت کے سامنے سینہ سپر ہوکر حق اور سچ بات رکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک بڑی تاریخی سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کی آزاد ی کی تحریک علماء اور مسلمانوں نے شروع کی تھی اور یہاں کے عوام کو غلامی کا احساس اس وقت کرایا جب اس بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا، ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت علماء نے ہی بلند کیا تھا اور جنگ آزادی کا صوربھی انہوں نے ہی پھونکا تھا۔

مولانا نے جنگ آزادی کی تاریخ سے لاعلمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے بے شمار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی پہلی آزادی کی لڑائی 1857ء میں لڑی گئی تھی، لیکن یہ بات اپنی تاریخ اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ آزادی کی تاریخ 1857سے نہیں بلکہ 1799ء میں اس وقت شروع ہوئی جب سلطان ٹیپو شہیدؒ نے سرنگاپٹم میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا، جس وقت ان کے خون میں لتھڑی ہوئی لاش پر انگریز فوجی نے کھڑے ہوکر یہ بات کہی تھی کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے“ اس کے بعدہی انگریزیہ کہنے کی ہمت پیدا کر پائے کہ ”اب کوئی طاقت ہمارا مقابلہ کرنے والی، ہمارے پنجے میں پنجہ ڈالنے والی نہیں ہے“ اور پھر انہوں نے عملی طورپرچھوٹے چھوٹے نوابوں اور راجاؤں کو شکست دیکر ان کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کردیا۔
مولانا نے کہا کہ ٹیپو سلطانؒ کی شہادت اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے بعد علمائے کرام نے غلامی کی آہٹ کو محسوس کرلیا تھا اور اس کے بعد سے ہی جہادِ آزادی کا آغاز ہوا، جب انگریز نے 1803 میں دہلی کے اندر یہ اعلان کیا کہ ”خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا“ لیکن آج سے حکم ہمارا ہے، اس دن اس ملک کے سب سے بڑے عالم دین اور خدا رسیدہ بزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے بڑے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ نے دلّی میں یہ فتوی دیا کہ ”آج ہمارا ملک غلام ہوگیا اور اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے جہاد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔“ یہ جراء تمندانہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا کہ اس عالم دین کے علاوہ ہندوستان کے اندر کوئی ایسا نہیں تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقابلہ میں اپنی زبان سے آزادئ وطن کے لیے جہاد کا اعلان کرسکتا تھا۔ اس فتویٰ کی پاداش میں ان کو بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں، انھیں زہر دے دیا گیا، ان کی جائداد کو قرق کرلیا گیا، ان کی آنکھوں کی بینائی اس زہر سے جاتی رہی، ان کو دلّی شہر سے در بدر کر دیا گیا، وہ ان تمام سخت ترین حالات میں بھی انھوں نے اپنی موت سے پہلے دو روحانی شاگرد پیدا کر دیئے، ایک حضرت سیّد احمد شہید رائے بریلویؒ اور دوسرے شاہ اسماعیل شہیدؒ، ان لوگوں نے پورے ملک کے دورے کئے، اور مسلمانوں سے جہاد کی بیعت اور اس کا عہد لیا کہ وہ ہمارے ساتھ ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کر دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بالاکوٹ کے میدان میں ہزاروں مسلمان ان دونوں صاحبان کے ساتھ سب سے پہلی آزادیئ وطن کی جنگ میں شہید ہوئے، یہ سب سے پہلا آزادیئ وطن کے لئے جہاد تھا جو دوسرے جہاد آزادی (1857) کا مقدمہ تھا، جو لوگ وہاں اس وقت ناکامی کے بعد واپس ہوئے ان لوگوں نے واپس آکر پھر اِکائیوں کو جمع کیا اور افراد کو تیار کیا، اور چھبیس سال کی محنت کے بعد 1857 میں دوبارہ آزادیئ وطن کے لئے جہاد شروع ہوا، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے لیکن مسلمان زیادہ تھے اور ہندو کم تھے۔

آزادیئ وطن کے لئے یہ دوسرا جہاد بھی ناکام ہوا، اس جہاد کی پاداش میں علماء کو گرفتار بھی کیا گیا اور کچھ علماء نے اپنے آپ کو نظر بند کرلیا، جب یہ علماء تین چار سال کے بعد جیل سے باہر نکلے اور عام معافی کا اعلان ہوا تو انھوں نے بڑی عجیب و غریب چیز دیکھی کہ وہ یتیم جن کے باپ جامِ شہادت نوش کر گئے، انگریز کی دشمنی کی وجہ سے ان کے یتیم بچے سڑکوں پر ہیں، ان کے سر پر کوئی ہاتھ رکھنے والا نہیں ہے، ان حالات کا فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے فکری محاذ پر بھی اپنی لڑائی تیز کر دی، چنانچہ کرسچن اسکول، عیسائی پوپ اور چرچ کے لوگ باہر نکل کر ان یتیموں کا ہاتھ پکڑتے اور کہتے کہ ہمارے ساتھ چلو ہم تم کو کھانا، رہائش اور تعلیم مفت دیں گے، مقصد ذہنی اعتبار سے ان کو انگریز بنانا تھا۔ یہ وہ بچے تھے جن کے آباء واجداد نے انگریز دشمنی میں جہاد آزادی میں جامِ شہادت نوش کیا لیکن اب انہیں کی اولاد انگریزوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ ان کو فکری اعتبار سے اپنا غلام بنانا چاہتے تھے، ان حالات کو دیکھ کر علماء کرام سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ لیا کہ دو جہادوں میں مجاہدین شہید کر دئے گئے اب ہمیں آزادیئ وطن کے لئے ایسی فیکٹری کی ضرورت ہے، جہاں اپنے ملک ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے مجاہدین تیار کئے جائیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

لارنس بشنوئی گینگ کے شوٹروں نے ٹائیگر شراف فائرنگ سے قبل آر اے کالونی جنگل میں شوٹنگ پریکٹس کی تھی

Published

on

ممبئی : ٹائیگر شراف فائرنگ کے بعد تفتیش میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ لارنس بشنوئی کے نشانے پر پونے میں ایک تاجر اور ممبئی میں ایک فلم اسٹارتھاگینگ کا مقصد فلم انڈسٹری اور تاجروں میں خوف پیدا کر کے ہفتہ وصولی یا تاوان وصولی کرنا ہے لارنس بشنوئی گینگ کا مقصد قتل نہیں بلکہ فلم انڈسٹری اور تاجروں میں خوف و دہشت پیدا کرنا ہے ۔ لارنس بشنوئی گینگ کے 56 کارندے ممبئی کی مختلف جیلوں میں بند ہیں اور انہوں نے گزشتہ 2-3 برسوں میں ممبئی پونے میں 10 سے زیادہ جرائم کی وارداتیں انجام دی ہیں ۔ بالی ووڈ کو نشانہ بنانا لارنس گینگ کا مقصد ہے اور تاجر برادری میں خو ف و دہشت پیدا کرنے کے لئے گینگ فلم اداکار کو نشانہ بنانے کی سازش میں ملوث ہے ۔

ٹائیگر شراف کیس میں آر اے کالونی جنگل میں شوٹروں نے فائرنگ کی تربیت حاصل کی تھی ایک چرواہے نے ان شوٹروں کو فائرنگ کرتے ہوتے دیکھا تھا وہ اس میں چشم دید گواہ کی حیثیت رکھتا ہے چرواہے کے مطابق تین سے چار افراد نے یہاں فائرنگ کی تربیت حاصل کی تھی اس نے ان شوٹروں کو گولی داغتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ٹائیگر شراف سے متعلق کیس میں نت نئے خلاصے ہو رہے ہیں کرائم برانچ کی تفتیش میں کئی اہم پیش رفت بھی ہوئی ہے اس معاملہ میں اسلحہ جات کی برآمدگی بھی ہوئی ہے اس کے علاوہ پولس نے اس معاملہ میں جن شوٹروں کو گرفتار کیا ہے ان سے تفتیش میں لارنس بشنوئی گینگ کے انیل پنڈت سے متعلق بھی انکشاف ہوا ہے شوٹر انیل پنڈت کے رابطے میں تھے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اے این سی کی بڑی کارروائی منشیات فروشوں کی گرفتاری

Published

on

ممبئی : ۲۵ اکتوبر کو انٹی نارکوٹکس سیل اے این سی نے قتل میں مطلوب ملزمین کو منشیات کے ساتھ گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ممبئی گھاٹکوپر یونٹ ٹیم نے گشت کے دوران شری کرشنا کامپلیکس کے مین گیٹ قریب نیشنل پارک سامنے، مغربی بوریولی ممبئی یہاں ایم ڈی فروخت کرنے والے تین افراد کو حراست میں لے کران کی تلاشی لی اور ان کے قبضے سے ان کے قبضے سے 01 کلو 028 گرام وزنی ‘ایم ڈی میفیڈرون منشیات برآمد ہوئی پولس نے(کستوربا مارگ پولس 728/2026) دفعہ 8(ک) سہ 22(ک)، 29 این ڈی پی ایس قانون 1985 کے تحت جرم درج کرکے گرفتار کیا گیا۔ مذکورہ گرفتار ملزمان سے کی گئی تفتیش کے دوران یہ پایا گیا کہ وہ قتل میں بھی ملوث ہے ملزمین نے نالاسوپارہ سے منشیات لایا تھااور یہاں فروخت کرنے کی غرض سےآئے تھے

گرفتار ملزمین ایک 28 سالہ شخص ، 2) ایک شخص، 28 سالہ 3) ایک شخص، عمر 39 سال شامل ہے ۔ تینوں ملزمان سے 01 کلو 28 گرام وزنی ‘ایم ڈی میفیڈرون منشیات ضبط کی گئی۔مذکورہ کامیاب کارکردگی یہ پولس کمشنر دیوین بھارتی ، جوائنٹ پولس کمشنر جرائم انل کنبھارے، ایڈیشنل کمشنر کانت اپادھیائے، ڈی سی پی پورنیما چوگلےشرینگی کی رہنمائی میں انجام دی ہے ۔

Continue Reading

سیاست

او پی راج بھر کا اکھلیش یادو کو مشورہ: ’سماج وادی‘ پارٹی کا نام بدل کر ’اے آئی وادی‘ رکھ لیں

Published

on

نئی دہلی : اترپردیش کے وزیر اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے سربراہ او پی راج بھر نے اتوار کے روز سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے بعد کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بناتے ہوئے ایک اے آئی-ویڈیو کے استعمال پر طنز کیا، اور مشورہ دیا کہ وہ اپنی پارٹی کا نام “سماج وادی سے بدل کر اے آئی وادی ” کر دیں۔ ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں، راج بھر نے ایس پی سربراہ کو اپنا “دوست” کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا: “ایسا لگتا ہے کہ چونکہ آپ سیفائی مہوتسو نہیں منا سکے، اس لیے اب آپ اے آئی کے ذریعے تہواروں کے لیے اپنا شوق پورا کر رہے ہیں۔” “اگر آپ کو اس کا اتنا ہی شوق ہے تو آپ اپنی پارٹی کا نام “سماج وادی” سے بدل کر “اے آئی وادی” کیوں نہیں کرتے؟” اس نے پوچھا. یاد کرتے ہوئے کہ سماج وادی پارٹی کی بنیاد آنجہانی ملائم سنگھ یادو نے جئے پرکاش نارائن، رام منوہر لوہیا، آچاریہ نریندر دیو، کرپوری ٹھاکر، چودھری چرن سنگھ، اور جنیشور مشرا کے اصولوں پر رکھی تھی، وزیر نے اکھلیش یادو پر الزام لگایا کہ وہ پارٹی کو ایک “اے آئی سی” میں تبدیل کر رہے ہیں۔

“جو بھی سچا سوشلسٹ ہے وہ اب یہ دیکھ کر مایوس ہو گیا ہے کہ آنجہانی ملائم سنگھ یادو کا بیٹا، جسے ‘مٹی کا آدمی’ کہا جاتا تھا، ایک ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر اے آئی ویڈیوز بناتا ہے اور وہم میں رہتا ہے۔ آپ انگریزی گانوں پر مبنی جعلی ویڈیوز بنانے اور ہوا میں قلعے بنانے میں مصروف ہیں،” راجبھر نے کہا۔ مزید، انہوں نے اکھلیش یادو کو “چاندی کے چمچے کے ساتھ پیدا ہونے والے” کے طور پر مخاطب کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ سیاست گاؤں، غریبوں اور کسانوں کے درمیان جا کر، اور زمین پر پسینہ بہا کر کی جاتی ہے، نہ کہ “موبائل اسکرینوں پر ناچنے اور گانا یا اے آئی ریلز بنا کر”۔

اتر پردیش کے وزیر نے کہا کہ دیہات میں لوگ اب پوچھ رہے ہیں کہ، پچھلے 10 سالوں سے، ایس پی اقتدار سے باہر ہے، اس کے پاس کوئی سرکاری ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جوابدہ ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر آپ چاہتے تو آپ ہر روز ریاست کے ایک مختلف گاؤں کا دورہ کر سکتے تھے اور ایک ایک کر کے لوگوں سے مل سکتے تھے۔ اس کے بجائے، آپ نے ایئر کنڈیشنڈ آرام سے بیٹھ کر اور ٹویٹر پر دس سال ضائع کیے،” انہوں نے کہا۔ راج بھر نے مزید ریمارکس دیے کہ چونکہ ایس پی کے پیروں کے نیچے سے “زمین کھسک گئی ہے”، “لوگوں کے درمیان جانے کے بجائے، آپ اے آئی کے چشمے پہن کر محض اپنے سفاکوں اور وفاداروں کی تفریح ​​کر رہے ہیں”۔ اکھلیش یادو کو متنبہ کرتے ہوئے، انہوں نے مزید کہا، “یہ یاد رکھیں، غیر یادو پسماندہ طبقات اور اتر پردیش کی بہوجن کمیونٹی اب آپ کی چالوں میں نہیں پڑیں گی۔” ہمیں، انتہائی پسماندہ طبقات اور بہوجنوں کو ایسے لیڈر کی ضرورت نہیں ہے جو کھیتوں اور کھیتوں کو چھوڑ کر انٹرنیٹ پر حرکات میں ملوث ہو۔ 2027 میں، اتر پردیش کے غریب لوگ آپ کی اے آئی-ویڈیو سیاست کا ایسا خاتمہ کریں گے کہ آپ کو اپنی سائیکل کے نشان کے ہینڈل بار تک تلاش کرنا چھوڑ دیا جائے گا،” انہوں نے ایس پی سربراہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان