Connect with us
Saturday,25-July-2026

سیاست

دارالعلوم دیو بند اور جمعیۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ ادھوری : مولانا ارشد مدنی

Published

on

arshad madni

ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کی آزادی تاریخ دارالعلوم دیو بند اور جمعۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ یہ بات انہوں نے یوم جمہوریہ کے موقع پر جاری ایک مضمون میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی ہی نہیں ملک کی کوئی بھی تاریخ ہندوستان کے علمائے کرام کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی، خواہ وہ ملی یا قومی قیادت و سیادت ہو یا آزادیئ وطن کے لئے میدان جنگ، کسی تحریک کی قیادت ہو یا پھر کسی مصیبت اور پریشانی کے وقت میں لوگوں کی مدد و غمگساری، ہر میدان میں علماء نے اہم کارنامے انجام دئے ہیں اور حکومتِ وقت کے سامنے سینہ سپر ہوکر حق اور سچ بات رکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک بڑی تاریخی سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کی آزاد ی کی تحریک علماء اور مسلمانوں نے شروع کی تھی اور یہاں کے عوام کو غلامی کا احساس اس وقت کرایا جب اس بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا، ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت علماء نے ہی بلند کیا تھا اور جنگ آزادی کا صوربھی انہوں نے ہی پھونکا تھا۔

مولانا نے جنگ آزادی کی تاریخ سے لاعلمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے بے شمار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی پہلی آزادی کی لڑائی 1857ء میں لڑی گئی تھی، لیکن یہ بات اپنی تاریخ اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ آزادی کی تاریخ 1857سے نہیں بلکہ 1799ء میں اس وقت شروع ہوئی جب سلطان ٹیپو شہیدؒ نے سرنگاپٹم میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا، جس وقت ان کے خون میں لتھڑی ہوئی لاش پر انگریز فوجی نے کھڑے ہوکر یہ بات کہی تھی کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے“ اس کے بعدہی انگریزیہ کہنے کی ہمت پیدا کر پائے کہ ”اب کوئی طاقت ہمارا مقابلہ کرنے والی، ہمارے پنجے میں پنجہ ڈالنے والی نہیں ہے“ اور پھر انہوں نے عملی طورپرچھوٹے چھوٹے نوابوں اور راجاؤں کو شکست دیکر ان کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کردیا۔
مولانا نے کہا کہ ٹیپو سلطانؒ کی شہادت اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے بعد علمائے کرام نے غلامی کی آہٹ کو محسوس کرلیا تھا اور اس کے بعد سے ہی جہادِ آزادی کا آغاز ہوا، جب انگریز نے 1803 میں دہلی کے اندر یہ اعلان کیا کہ ”خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا“ لیکن آج سے حکم ہمارا ہے، اس دن اس ملک کے سب سے بڑے عالم دین اور خدا رسیدہ بزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے بڑے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ نے دلّی میں یہ فتوی دیا کہ ”آج ہمارا ملک غلام ہوگیا اور اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے جہاد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔“ یہ جراء تمندانہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا کہ اس عالم دین کے علاوہ ہندوستان کے اندر کوئی ایسا نہیں تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقابلہ میں اپنی زبان سے آزادئ وطن کے لیے جہاد کا اعلان کرسکتا تھا۔ اس فتویٰ کی پاداش میں ان کو بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں، انھیں زہر دے دیا گیا، ان کی جائداد کو قرق کرلیا گیا، ان کی آنکھوں کی بینائی اس زہر سے جاتی رہی، ان کو دلّی شہر سے در بدر کر دیا گیا، وہ ان تمام سخت ترین حالات میں بھی انھوں نے اپنی موت سے پہلے دو روحانی شاگرد پیدا کر دیئے، ایک حضرت سیّد احمد شہید رائے بریلویؒ اور دوسرے شاہ اسماعیل شہیدؒ، ان لوگوں نے پورے ملک کے دورے کئے، اور مسلمانوں سے جہاد کی بیعت اور اس کا عہد لیا کہ وہ ہمارے ساتھ ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کر دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بالاکوٹ کے میدان میں ہزاروں مسلمان ان دونوں صاحبان کے ساتھ سب سے پہلی آزادیئ وطن کی جنگ میں شہید ہوئے، یہ سب سے پہلا آزادیئ وطن کے لئے جہاد تھا جو دوسرے جہاد آزادی (1857) کا مقدمہ تھا، جو لوگ وہاں اس وقت ناکامی کے بعد واپس ہوئے ان لوگوں نے واپس آکر پھر اِکائیوں کو جمع کیا اور افراد کو تیار کیا، اور چھبیس سال کی محنت کے بعد 1857 میں دوبارہ آزادیئ وطن کے لئے جہاد شروع ہوا، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے لیکن مسلمان زیادہ تھے اور ہندو کم تھے۔

آزادیئ وطن کے لئے یہ دوسرا جہاد بھی ناکام ہوا، اس جہاد کی پاداش میں علماء کو گرفتار بھی کیا گیا اور کچھ علماء نے اپنے آپ کو نظر بند کرلیا، جب یہ علماء تین چار سال کے بعد جیل سے باہر نکلے اور عام معافی کا اعلان ہوا تو انھوں نے بڑی عجیب و غریب چیز دیکھی کہ وہ یتیم جن کے باپ جامِ شہادت نوش کر گئے، انگریز کی دشمنی کی وجہ سے ان کے یتیم بچے سڑکوں پر ہیں، ان کے سر پر کوئی ہاتھ رکھنے والا نہیں ہے، ان حالات کا فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے فکری محاذ پر بھی اپنی لڑائی تیز کر دی، چنانچہ کرسچن اسکول، عیسائی پوپ اور چرچ کے لوگ باہر نکل کر ان یتیموں کا ہاتھ پکڑتے اور کہتے کہ ہمارے ساتھ چلو ہم تم کو کھانا، رہائش اور تعلیم مفت دیں گے، مقصد ذہنی اعتبار سے ان کو انگریز بنانا تھا۔ یہ وہ بچے تھے جن کے آباء واجداد نے انگریز دشمنی میں جہاد آزادی میں جامِ شہادت نوش کیا لیکن اب انہیں کی اولاد انگریزوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ ان کو فکری اعتبار سے اپنا غلام بنانا چاہتے تھے، ان حالات کو دیکھ کر علماء کرام سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ لیا کہ دو جہادوں میں مجاہدین شہید کر دئے گئے اب ہمیں آزادیئ وطن کے لئے ایسی فیکٹری کی ضرورت ہے، جہاں اپنے ملک ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے مجاہدین تیار کئے جائیں۔

بین الاقوامی خبریں

یوکرین کے صدر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ روس کی اہم فوجی اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

Published

on

Russia

نئی دہلی : روس یوکرین جنگ کے درمیان، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعہ کو دعوی کیا کہ روس کی اہم فوجی تنصیبات اور تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا ہے۔ زیلنسکی کے مطابق ان حملوں نے روس کے فوجی سپلائی سسٹم کو متاثر کیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “سابق” پر لکھا، “جمعہ کو یوکرین کی دفاعی افواج نے روس کے شہر کیروف میں ایک اہم روسی فوجی تنصیب پر حملہ کیا۔ یہ کمپنی روسی فوجی طیاروں اور میزائل سسٹم کے لیے اہم پرزے تیار کرتی ہے، جو ہمارے شہروں اور بستیوں پر بڑے پیمانے پر حملوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ میں اپنے فوجیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی درست کارروائی مکمل طور پر درست ہے۔”

زیلینسکی نے کہا کہ ہماری طویل فاصلے تک کی بمباری کا اثر تقریباً 1,350 کلومیٹر دور واقع تیل کی تنصیب پر بھی واضح طور پر نظر آیا۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے کامیاب حملے بھی کیے گئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی سپلائی چین کے خلاف ہماری مہم جو کہ روسی فوج کو ڈرون کے پرزے، نیوی گیشن آلات اور دیگر فوجی ساز و سامان فراہم کرتی ہے، جاری ہے۔ میں اپنی مسلح افواج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور یوکرائنی سیکورٹی سروس کی ہر یونٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ان کامیابیوں کو ممکن بنایا۔ درحقیقت دونوں طرف سے جوابی حملے ہو رہے ہیں۔ روس یوکرین کے خلاف جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

جمعرات کو پاولوہراڈ میں ایک صنعتی کمپلیکس پر روسی فضائی حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ زیلنسکی نے روس پر بار بار رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ زیلنسکی کے مطابق، روس نے کھیرسن پر بھی حملہ کیا، کئی اپارٹمنٹ عمارتوں اور رہائشی گھروں، علاقائی بچوں کے طبی ہسپتال اور کئی تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچا۔ وہاں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ یوکرائنی صدر نے مزید کہا کہ روس نے سومی اور کھارکیو کے علاقوں میں اہم انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا۔ اوڈیسا کو بھی میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کی قیادت میں امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک پرامن ترنگا ریلی اختتام پذیر

Published

on

Mumbai-Protest

ممبئی بھیونڈی کے شہریوں نے جمعہ کے روز بے ساختہ ایک ‘ترنگا پیدل یاترا’ (ترنگا مارچ) کا اہتمام کیا تاکہ ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک اسکینڈل پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاسکے اور ملک گیر طلباء کے احتجاج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاسکے۔ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے (بھیونڈی ایسٹ) رئیس شیخ کی قیادت میں پیدل مارچ میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ مارچ بھیونڈی کے امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک کے راستے کا احاطہ کرتے ہوئے شام کو جلوس نکالا گئا جلسے کے دوران کسی سیاسی جماعت کے جھنڈے نہیں لہرے گئے بلکہ ہاتھوں میں ترنگا تھام کر شہریوں نے یکجتی کا جذبہ کو سرشار کیا۔ پرامن جلوس کے ذریعے اتحاد کے جذبے ایک قوم، ایک جذبہ’ کا مظاہرہ کیا۔ “انقلاب زندہ باد” (انقلاب زندہ باد) جیسے نعرے سمیت دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبات کے نعرے لگائے گئے بہت سے شرکاء نے ہندوستانی قومی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ دیگر نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ مارچ کا اختتام بھیونڈی سب ڈویژنل افسر کو میمورنڈم پیش کرنے کے ساتھ ہوا۔

تقریب کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ ’ترنگا مارچ‘ کسی مخصوص سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں تھا بلکہ بھیونڈی کے شہریوں کی طرف سے ایک بے ساختہ اقدام تھا۔ انہوں نے ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک ہونے اور احتجاج کرنے والے طلباء پر وحشیانہ لاٹھی چارج کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے ملک گیر غم و غصے کو نوٹ کیا۔ مارچ کا مقصد طلبہ کی تحریک کی حمایت کرنا اور امتحانی نظام میں بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک کے واقعہ کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ ’ترنگا ریلی‘ کے ذریعہ جاری کردہ میمورنڈم میں چار مطالبات پیش کیے گئے ہیں: دہلی کے ’جنتر منتر‘ پر طلبہ کے مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج کی عدالتی تحقیقات؛ این ای ای ٹی پیپر لیک ہونے پر خودکشی کرنے والے طلباء کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے کی مالی امداد؛ اور دہلی کے ساتھ ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں طلباء مظاہرین کے خلاف درج پولیس مقدمات کو واپس لے لیا جائے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے روبیو کے ریمارکس پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جارحیت ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔

Published

on

iran-america

تہران : ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے جاری رکھنے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ مذاکراتی کوششوں کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات کو زمینی حقائق سے منقطع قرار دیا۔ “وہ لوگ جو امریکی انتظامیہ میں معاہدے کی وکالت کر رہے ہیں وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور صرف 2028 پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں،” اراغچی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا۔ انہوں نے کہا، “وہ جن لاپرواہ فوجی حملوں کی وکالت کر رہے ہیں وہ صرف اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ٹرمپ اس معاہدے کے لیے زیادہ قیمت ادا کریں جو وہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

عراقچی کا ردعمل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایران تنازع کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ نجی طور پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، حالانکہ تہران فی الحال کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جمعرات کو منیلا میں آسیان کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے “آنکھ کے لیے سر” کی پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی فوجی کارروائی جاری رہی تو تہران کو بھاری قیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دریں اثنا، امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شام (مقامی وقت) کو ایرانی فوجی اڈوں پر حملوں کا ایک اور دور شروع کیا۔ یہ ایران پر امریکی فوجی حملوں کی مسلسل 13ویں رات ہے۔

قبل ازیں جمعرات کو ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے کہا کہ اس نے تین آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا جب ان میں سے ایک پھٹ گیا اور آگ لگ گئی۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، آئی آر جی سی نے ایک بیان میں کہا، “تین آئل ٹینکرز امریکی فوج کی اشتعال انگیزی اور ترغیب کے تحت آبنائے ہرمز کے جنوب میں بارودی سرنگ سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک کے پھٹنے اور آگ لگنے کے بعد، باقی دو تیزی سے پیچھے ہٹ گئے۔” آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ کوئی بھی بحری جہاز امریکہ کے زیر اثر ایران کی منظوری کے بغیر ایران سے گزرنے کی کوشش کرے گا، اسے بھی ایسے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر کہا کہ حملے شام 6:45 پر شروع ہوئے۔ ایسٹرن ٹائم۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد “ایران کو جوابدہ بنانا اور اسلامی انقلابی گارڈ کور سے تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان