Connect with us
Thursday,10-September-2026

سیاست

دارالعلوم دیو بند اور جمعیۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ ادھوری : مولانا ارشد مدنی

Published

on

arshad madni

ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کی آزادی تاریخ دارالعلوم دیو بند اور جمعۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ یہ بات انہوں نے یوم جمہوریہ کے موقع پر جاری ایک مضمون میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی ہی نہیں ملک کی کوئی بھی تاریخ ہندوستان کے علمائے کرام کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی، خواہ وہ ملی یا قومی قیادت و سیادت ہو یا آزادیئ وطن کے لئے میدان جنگ، کسی تحریک کی قیادت ہو یا پھر کسی مصیبت اور پریشانی کے وقت میں لوگوں کی مدد و غمگساری، ہر میدان میں علماء نے اہم کارنامے انجام دئے ہیں اور حکومتِ وقت کے سامنے سینہ سپر ہوکر حق اور سچ بات رکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک بڑی تاریخی سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کی آزاد ی کی تحریک علماء اور مسلمانوں نے شروع کی تھی اور یہاں کے عوام کو غلامی کا احساس اس وقت کرایا جب اس بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا، ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت علماء نے ہی بلند کیا تھا اور جنگ آزادی کا صوربھی انہوں نے ہی پھونکا تھا۔

مولانا نے جنگ آزادی کی تاریخ سے لاعلمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے بے شمار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی پہلی آزادی کی لڑائی 1857ء میں لڑی گئی تھی، لیکن یہ بات اپنی تاریخ اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ آزادی کی تاریخ 1857سے نہیں بلکہ 1799ء میں اس وقت شروع ہوئی جب سلطان ٹیپو شہیدؒ نے سرنگاپٹم میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا، جس وقت ان کے خون میں لتھڑی ہوئی لاش پر انگریز فوجی نے کھڑے ہوکر یہ بات کہی تھی کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے“ اس کے بعدہی انگریزیہ کہنے کی ہمت پیدا کر پائے کہ ”اب کوئی طاقت ہمارا مقابلہ کرنے والی، ہمارے پنجے میں پنجہ ڈالنے والی نہیں ہے“ اور پھر انہوں نے عملی طورپرچھوٹے چھوٹے نوابوں اور راجاؤں کو شکست دیکر ان کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کردیا۔
مولانا نے کہا کہ ٹیپو سلطانؒ کی شہادت اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے بعد علمائے کرام نے غلامی کی آہٹ کو محسوس کرلیا تھا اور اس کے بعد سے ہی جہادِ آزادی کا آغاز ہوا، جب انگریز نے 1803 میں دہلی کے اندر یہ اعلان کیا کہ ”خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا“ لیکن آج سے حکم ہمارا ہے، اس دن اس ملک کے سب سے بڑے عالم دین اور خدا رسیدہ بزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے بڑے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ نے دلّی میں یہ فتوی دیا کہ ”آج ہمارا ملک غلام ہوگیا اور اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے جہاد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔“ یہ جراء تمندانہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا کہ اس عالم دین کے علاوہ ہندوستان کے اندر کوئی ایسا نہیں تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقابلہ میں اپنی زبان سے آزادئ وطن کے لیے جہاد کا اعلان کرسکتا تھا۔ اس فتویٰ کی پاداش میں ان کو بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں، انھیں زہر دے دیا گیا، ان کی جائداد کو قرق کرلیا گیا، ان کی آنکھوں کی بینائی اس زہر سے جاتی رہی، ان کو دلّی شہر سے در بدر کر دیا گیا، وہ ان تمام سخت ترین حالات میں بھی انھوں نے اپنی موت سے پہلے دو روحانی شاگرد پیدا کر دیئے، ایک حضرت سیّد احمد شہید رائے بریلویؒ اور دوسرے شاہ اسماعیل شہیدؒ، ان لوگوں نے پورے ملک کے دورے کئے، اور مسلمانوں سے جہاد کی بیعت اور اس کا عہد لیا کہ وہ ہمارے ساتھ ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کر دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بالاکوٹ کے میدان میں ہزاروں مسلمان ان دونوں صاحبان کے ساتھ سب سے پہلی آزادیئ وطن کی جنگ میں شہید ہوئے، یہ سب سے پہلا آزادیئ وطن کے لئے جہاد تھا جو دوسرے جہاد آزادی (1857) کا مقدمہ تھا، جو لوگ وہاں اس وقت ناکامی کے بعد واپس ہوئے ان لوگوں نے واپس آکر پھر اِکائیوں کو جمع کیا اور افراد کو تیار کیا، اور چھبیس سال کی محنت کے بعد 1857 میں دوبارہ آزادیئ وطن کے لئے جہاد شروع ہوا، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے لیکن مسلمان زیادہ تھے اور ہندو کم تھے۔

آزادیئ وطن کے لئے یہ دوسرا جہاد بھی ناکام ہوا، اس جہاد کی پاداش میں علماء کو گرفتار بھی کیا گیا اور کچھ علماء نے اپنے آپ کو نظر بند کرلیا، جب یہ علماء تین چار سال کے بعد جیل سے باہر نکلے اور عام معافی کا اعلان ہوا تو انھوں نے بڑی عجیب و غریب چیز دیکھی کہ وہ یتیم جن کے باپ جامِ شہادت نوش کر گئے، انگریز کی دشمنی کی وجہ سے ان کے یتیم بچے سڑکوں پر ہیں، ان کے سر پر کوئی ہاتھ رکھنے والا نہیں ہے، ان حالات کا فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے فکری محاذ پر بھی اپنی لڑائی تیز کر دی، چنانچہ کرسچن اسکول، عیسائی پوپ اور چرچ کے لوگ باہر نکل کر ان یتیموں کا ہاتھ پکڑتے اور کہتے کہ ہمارے ساتھ چلو ہم تم کو کھانا، رہائش اور تعلیم مفت دیں گے، مقصد ذہنی اعتبار سے ان کو انگریز بنانا تھا۔ یہ وہ بچے تھے جن کے آباء واجداد نے انگریز دشمنی میں جہاد آزادی میں جامِ شہادت نوش کیا لیکن اب انہیں کی اولاد انگریزوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ ان کو فکری اعتبار سے اپنا غلام بنانا چاہتے تھے، ان حالات کو دیکھ کر علماء کرام سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ لیا کہ دو جہادوں میں مجاہدین شہید کر دئے گئے اب ہمیں آزادیئ وطن کے لئے ایسی فیکٹری کی ضرورت ہے، جہاں اپنے ملک ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے مجاہدین تیار کئے جائیں۔

سیاست

وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے این سی رکنِ اسمبلی کے ’پاجامہ والے بیان‘ کا کیا دفاع، اسے تاریخی حقیقت قرار دیا

Published

on

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس (این سی) کے ترجمان اور ایم ایل اے تنویر صادق کے متنازعہ ‘پاجامہ ریمارک’ کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی حقیقت قرار دیا۔ تنویر صادق نے حال ہی میں یہ کہہ کر یہ کہہ کر بھڑکایا تھا کہ یہ این سی کے بانی مرحوم شیخ محمد عبداللہ تھے جن کی قیادت میں پاجاما کشمیریوں کو پہننا ممکن ہوا۔ 8 ستمبر کو شیخ محمد عبداللہ کی 44ویں برسی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ اس وقت تک پورے محلہ (علاقہ) کے پاس صرف ایک پاجامہ تھا جسے وہ باری باری پہنتے تھے۔

آج یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ تنویر صادق یا این سی کو اس ریمارک پر معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عمر عبداللہ کے مطابق یہ بیان تاریخی طور پر درست تھا۔ وزیر اعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ ماضی میں کشمیریوں کو درپیش غربت اور مشکلات کو مورخین نے اچھی طرح سے دستاویزی شکل دی ہے اور تنویر کی ذاتی رائے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے کیا کہا، عمر عبداللہ نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ والٹر لارنس اور کئی دوسرے مورخین نے جموں و کشمیر کے بارے میں لکھا ہے، خاص طور پر کشمیریوں کی غربت اور جس طرح سے لوگ جاگیرداروں کے نظام میں پھنسے ہوئے ہیں۔

“لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے۔ تنویر نے پہلے اس بارے میں بات نہیں کی، ہوسکتا ہے کہ ہمارے صدر سے لے کر جنرل سکریٹری تک کوئی سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر ہو، جس نے اس بارے میں بات نہیں کی،” وزیر اعلیٰ نے کہا، “ایک وقت تھا جب کشمیری اتنے غریب تھے کہ انہیں مسجد سے پاجامہ لے کر شہر آنا پڑتا تھا، یہ تنویر کی اپنی سوچ نہیں ہے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، وزیر اعلیٰ تنویر نے کہا ” کشمیریوں نے ان مشکل حالات میں جو پیش رفت کی ہے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لوگ اب اپنے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں اور ڈاکٹر اور انجینئر پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا اس مسئلے کو اٹھانے کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔

“تنویر کو اس کے لیے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی اسے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت ہے۔ نہ ہی میری پارٹی (این سی) کو اس کے لیے معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔ تنویر نے کچھ غلط نہیں کیا،” انہوں نے کہا۔ کانگریس کی طرف سے وندے ماترم کے مکمل گانے گانے پر اعتراض کرنے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حکومت کو موجودہ قانون پر عمل کرنا ہوگا اور اگر ہم کانگریس کے موجودہ قانون کی پاسداری کریں گے۔ طاقت، وہ قانون کو منسوخ کر سکتے ہیں لیکن جب تک قانون موجود ہے، ہمیں اس پر عمل کرنا ہو گا۔” عمر عنداللہ نے کہا کہ دو گورنروں، لیفٹیننٹ گورنر اور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کی شرکت میں لازمی طور پر قومی ترانہ بجانا ہوگا، جبکہ موجودہ دفعات میں بھی وندے ماترم کے مکمل بندوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شق صرف جموں و کشمیر تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ کانگریس کی حکومت والی ریاستوں سمیت پورے ملک میں لاگو ہوتی ہے۔ “اگر ایسا نہیں ہوتا ہے، تو جو لوگ (قومی گیت) کے مکمل بند پر کھڑے نہیں ہوتے ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، تو کانگریس کیا چاہتی ہے؟ کشمیریوں کو اس بہانے سے قید کیا جائے،” انہوں نے سوال کیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اندھیری : کمپنی کے ڈرائیور نے انکم ٹیکس چھاپہ کی سازش کی تیار، ایک کروڑ روپے ہفتہ طلب کر افسر ظاہر کرنے والے گینگ کے تمام ۱۰ ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : پولس نے فلمی انداز میں انکم ٹیکس کا چھاپہ مار کر ہفتہ طلب کرنے والے فرضی افسر و گروہ کو بےنقاب کیا جو اسپشل ۲۶ فلم کے طرز پر ممبئی کے اندھیری میں انکم ٹیکس کا چھاپہ مار کر مالک وملازمین کو یرغمال بنا کر ان کے موبائل بھی چھین لئے تھےاور اسٹاف کو یرغمال بنایا تھا۔ انکم ٹیکس اور کرائم برانچ کے افسر بتاکر جعلی چھاپہ مار کر 1 کروڑ روپے کا ہفتہ طلب کرنے والی گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کے ساتھ مفرور ملزمین کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مذکورہ مقدمے کی مختصر تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ راجکمار کنڈاسامی، عمر 49 سال کے پاس پہلے ڈرائیور کے طور پر ملازم شخص سنتوش ادئے کھوپٹکر اور شکایت کنندہ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ اس وجہ سے شکایت کنندہ نے 06 مہینے کی تنخواہ نہ دیتے ہوئے سنتوش کھوپٹکر کو نوکری سے نکال دیا۔ اس بات سے ناراض سنتوش ادئے کھوپٹکر نے اس کے پاس موجود شکایت کنندہ کے متعلق معلومات کا استعمال کرکے اس کے شناسائی 06 مرد اور 3 خواتین کے ساتھ مل کر مجرمانہ سازش رچ کر انکم ٹیکس اور کرائم برانچ محکمہ کے سرکاری افسر و ملازم ہونے کا جھوٹا دعوی کرکے شکایت کنندہ کی ملکیت کے آفس میں زبردستی غیر قانونی طور پر داخل ہوئے۔ نیز جعلی سرکاری شناختی کارڈ دکھا کر شکایت کنندہ اور اس کی بیوی کا اغوا کرکے نیز شکایت کنندہ اور اس کی بیوی اور دفتر کے دیگر 10 ملازمین کے موبائل چھین کر انہیں دفتر کے باہر جانے سے غیر قانونی طور پر روک کر انکم ٹیکس محکمہ کی طرف سے قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دے کر گالی گلوچ کی۔ نیز کارروائی ٹالنے کے لیے 1 کروڑ روپے کا ہفتہ طلب کیااس لیے شکایت کنندہ نے مذکورہ نامعلوم اشخاص کے خلاف قانونی شکایت دینے پر ان کا تفصیلی بیان نوٹ کرکے 892/2026 دفعہ 61(2), 204, 205, 233, 140(2), 127(1), 351(2), 308(4) بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔مذکورہ مقدمے کے سلسلے میں ملزمان کو تکنیکی جانچ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار کیے گئے ملزمین میں 1) سنتوش ادئے کھوپٹکر عمر 37 سال، 2) ونئے رمیش مورے عمر 37 سال، 3) پریم کسن سبنانی عمر 50 سال، 4) پرگیہ ہریش مائن عمر 27 سال، 5) ریشمہ شامراؤ وارنگ عمر 41 سال، 6) شبنیہ حفیظ شیخ عمر 48 سال, مذکورہ گرفتار ملزمان سے کی گئی پوچھ تاچھ میں مذکورہ ملزمین میں سے ملزم نمبر 7 اور 8 یہ انکم ٹیکس محکمہ میں بالترتیب انکم ٹیکس انسپکٹر اور ٹیکس اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کر رہے ہیں اور مذکورہ ملزم یہ مذکورہ ملزم نمبر 02 سے 06 اور ملزم نمبر 09 اور 10 کے ساتھ شکایت کنندہ کے آفس میں جاکر مذکورہ مجرمانہ سازش میں شامل ہونے کی معلومات حاصل ہونے پر مذکورہ ملزمین کی تلاش لے کر انہیں موجودہ مقدمے میں تاریخ ۱۰ ستمبر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمین میں7) سریش مہاویر پرساد مشرا عمر 57 سال (انکم ٹیکس انسپکٹر)، 8) سنیل منوہر گورے عمر 59 سال (ٹیکس اسسٹنٹ)، 9) جتو عرف جتیندر نامدیو مورے عمر 52 سال 10) اشوک وٹھوبا شندے عمر 57 سال شامل ہے، یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے اور ملزمین کو گرفتار کر کے اس گینگ کو بے نقاب کیا ہے۔ ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے بتایا کہ اس سے قبل بھی معاملہ میں ۶ ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا, لیکن اس میں انکم ٹیکس انسپکٹر اور اسسٹنٹ کی بھی شمولیت تھی جس کے بعد آج مزید مفرور ملزمین کو بھی گرفتار کر کے اس پورے گینگ پر ہی کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پرنس رحیم آغا خان پنجم نے صدر مرمو سے ملاقات کی۔

Published

on

شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 50 ویں موروثی امام (روحانی پیشوا) اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے چیئر پرنس رحیم آغا خان پنجم نے جمعرات کو راشٹرپتی بھون میں صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔ اپنی بات چیت کے دوران صدر مرمو نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی طرف سے شروع کیے گئے کام کی تعریف کی۔”عزت مآب پرنس رحیم آغا خان پنجم نے صدر دروپدی مرمو سے راشٹرپتی بھون میں ملاقات کی۔صدر نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی طرف سے شروع کیے گئے کام کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کے ساتھ شراکت میں کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیمیں کس طرح ریاستی عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنا سکتی ہیں۔”

اس سے پہلے دن میں نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے آغا خان کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں کھیل اور تعلیم سمیت کئی شعبوں میں ہندوستان اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کے دوران، دونوں لیڈروں نے بنیاد پرستی کو ختم کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بات چیت ہی امن، استحکام اور خوشحالی کا راستہ ہے۔ عزت مآب نائب صدر ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج اپراشٹرپتی بھون میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے پانی اور صفائی، خواتین کی زیر قیادت سیلف ہیلپ گروپس، تعلیم اور کمیونٹی کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا اور مشرقی افریقہ اور افغانستان میں اس کے مؤثر اقدامات کی تعریف کی۔

“انہوں نے کھیل اور تعلیم جیسے شعبوں میں ہندوستان اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بنیاد پرستی کے خاتمے کی ضرورت کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بات چیت ہی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کا راستہ ہے۔” صحت کی دیکھ بھال، زراعت، دیہی ترقی، نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانا۔” ہز ہائینس پرنس رحیم آغا خان پنجم سے مل کر خوشی ہوئی۔ اپنے والد مرحوم آغا خان چہارم اور ترقیاتی کوششوں میں ان کی لازوال شراکت کو یاد کیا۔ میٹنگ۔ پرنس رحیم آغا خان پنجم نائب صدر رادھا کرشنن کی دعوت پر ہندوستان کے سات روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان