Connect with us
Friday,29-May-2026
تازہ خبریں

سیاست

دارالعلوم دیو بند اور جمعیۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ ادھوری : مولانا ارشد مدنی

Published

on

arshad madni

ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کی آزادی تاریخ دارالعلوم دیو بند اور جمعۃ علماء ہند کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ یہ بات انہوں نے یوم جمہوریہ کے موقع پر جاری ایک مضمون میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی ہی نہیں ملک کی کوئی بھی تاریخ ہندوستان کے علمائے کرام کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی، خواہ وہ ملی یا قومی قیادت و سیادت ہو یا آزادیئ وطن کے لئے میدان جنگ، کسی تحریک کی قیادت ہو یا پھر کسی مصیبت اور پریشانی کے وقت میں لوگوں کی مدد و غمگساری، ہر میدان میں علماء نے اہم کارنامے انجام دئے ہیں اور حکومتِ وقت کے سامنے سینہ سپر ہوکر حق اور سچ بات رکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک بڑی تاریخی سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کی آزاد ی کی تحریک علماء اور مسلمانوں نے شروع کی تھی اور یہاں کے عوام کو غلامی کا احساس اس وقت کرایا جب اس بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا، ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت علماء نے ہی بلند کیا تھا اور جنگ آزادی کا صوربھی انہوں نے ہی پھونکا تھا۔

مولانا نے جنگ آزادی کی تاریخ سے لاعلمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے بے شمار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی پہلی آزادی کی لڑائی 1857ء میں لڑی گئی تھی، لیکن یہ بات اپنی تاریخ اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ آزادی کی تاریخ 1857سے نہیں بلکہ 1799ء میں اس وقت شروع ہوئی جب سلطان ٹیپو شہیدؒ نے سرنگاپٹم میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا، جس وقت ان کے خون میں لتھڑی ہوئی لاش پر انگریز فوجی نے کھڑے ہوکر یہ بات کہی تھی کہ ”آج سے ہندوستان ہمارا ہے“ اس کے بعدہی انگریزیہ کہنے کی ہمت پیدا کر پائے کہ ”اب کوئی طاقت ہمارا مقابلہ کرنے والی، ہمارے پنجے میں پنجہ ڈالنے والی نہیں ہے“ اور پھر انہوں نے عملی طورپرچھوٹے چھوٹے نوابوں اور راجاؤں کو شکست دیکر ان کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کردیا۔
مولانا نے کہا کہ ٹیپو سلطانؒ کی شہادت اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے بعد علمائے کرام نے غلامی کی آہٹ کو محسوس کرلیا تھا اور اس کے بعد سے ہی جہادِ آزادی کا آغاز ہوا، جب انگریز نے 1803 میں دہلی کے اندر یہ اعلان کیا کہ ”خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا“ لیکن آج سے حکم ہمارا ہے، اس دن اس ملک کے سب سے بڑے عالم دین اور خدا رسیدہ بزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے بڑے بیٹے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ نے دلّی میں یہ فتوی دیا کہ ”آج ہمارا ملک غلام ہوگیا اور اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے جہاد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔“ یہ جراء تمندانہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا کہ اس عالم دین کے علاوہ ہندوستان کے اندر کوئی ایسا نہیں تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقابلہ میں اپنی زبان سے آزادئ وطن کے لیے جہاد کا اعلان کرسکتا تھا۔ اس فتویٰ کی پاداش میں ان کو بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں، انھیں زہر دے دیا گیا، ان کی جائداد کو قرق کرلیا گیا، ان کی آنکھوں کی بینائی اس زہر سے جاتی رہی، ان کو دلّی شہر سے در بدر کر دیا گیا، وہ ان تمام سخت ترین حالات میں بھی انھوں نے اپنی موت سے پہلے دو روحانی شاگرد پیدا کر دیئے، ایک حضرت سیّد احمد شہید رائے بریلویؒ اور دوسرے شاہ اسماعیل شہیدؒ، ان لوگوں نے پورے ملک کے دورے کئے، اور مسلمانوں سے جہاد کی بیعت اور اس کا عہد لیا کہ وہ ہمارے ساتھ ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کر دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بالاکوٹ کے میدان میں ہزاروں مسلمان ان دونوں صاحبان کے ساتھ سب سے پہلی آزادیئ وطن کی جنگ میں شہید ہوئے، یہ سب سے پہلا آزادیئ وطن کے لئے جہاد تھا جو دوسرے جہاد آزادی (1857) کا مقدمہ تھا، جو لوگ وہاں اس وقت ناکامی کے بعد واپس ہوئے ان لوگوں نے واپس آکر پھر اِکائیوں کو جمع کیا اور افراد کو تیار کیا، اور چھبیس سال کی محنت کے بعد 1857 میں دوبارہ آزادیئ وطن کے لئے جہاد شروع ہوا، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے لیکن مسلمان زیادہ تھے اور ہندو کم تھے۔

آزادیئ وطن کے لئے یہ دوسرا جہاد بھی ناکام ہوا، اس جہاد کی پاداش میں علماء کو گرفتار بھی کیا گیا اور کچھ علماء نے اپنے آپ کو نظر بند کرلیا، جب یہ علماء تین چار سال کے بعد جیل سے باہر نکلے اور عام معافی کا اعلان ہوا تو انھوں نے بڑی عجیب و غریب چیز دیکھی کہ وہ یتیم جن کے باپ جامِ شہادت نوش کر گئے، انگریز کی دشمنی کی وجہ سے ان کے یتیم بچے سڑکوں پر ہیں، ان کے سر پر کوئی ہاتھ رکھنے والا نہیں ہے، ان حالات کا فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے فکری محاذ پر بھی اپنی لڑائی تیز کر دی، چنانچہ کرسچن اسکول، عیسائی پوپ اور چرچ کے لوگ باہر نکل کر ان یتیموں کا ہاتھ پکڑتے اور کہتے کہ ہمارے ساتھ چلو ہم تم کو کھانا، رہائش اور تعلیم مفت دیں گے، مقصد ذہنی اعتبار سے ان کو انگریز بنانا تھا۔ یہ وہ بچے تھے جن کے آباء واجداد نے انگریز دشمنی میں جہاد آزادی میں جامِ شہادت نوش کیا لیکن اب انہیں کی اولاد انگریزوں کے ہاتھ میں تھی اور وہ ان کو فکری اعتبار سے اپنا غلام بنانا چاہتے تھے، ان حالات کو دیکھ کر علماء کرام سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ لیا کہ دو جہادوں میں مجاہدین شہید کر دئے گئے اب ہمیں آزادیئ وطن کے لئے ایسی فیکٹری کی ضرورت ہے، جہاں اپنے ملک ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے مجاہدین تیار کئے جائیں۔

(جنرل (عام

صدی کا طویل ترین سورج گرہن، زمین 6 منٹ 23 سیکنڈ تک تاریکی میں رہے گی، جانیئے سب سے زیادہ کہاں نظر آئے گا۔

Published

on

solar eclipse

واشنگٹن : اگر آپ مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو آپ کو اگلے چند سالوں میں ایک نادر موقع ملے گا۔ 2026 اور 2028 کے درمیان تین مکمل سورج گرہن زمین سے نظر آئیں گے، لیکن چاند گرہن کے شوقین افراد میں پہلے دو کے بارے میں بحث جاری ہے۔ پہلا اس سال 12 اگست کو ہونے والا ہے، جبکہ دوسرا تقریباً ایک سال بعد، 2 اگست 2027 کو ہوگا۔ دونوں واقعات سورج کے کورونا کے شاندار نظاروں کا وعدہ کرتے ہیں جنہیں آپ شاید بھول جائیں گے۔ 2027 کا سورج گرہن خاص طور پر خاص ہوگا، کیونکہ چاند سورج کی ڈسک کو مکمل طور پر دھندلا دے گا۔ اس دوران آسمان چھ منٹ سے زیادہ تاریک ہو جائے گا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اسے صدی کا طویل ترین سورج گرہن قرار دیا ہے۔

ناسا کے حسابات کے مطابق 2 اگست 2027 کو مکمل سورج گرہن کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 6 منٹ اور 23 سیکنڈ ہو گا جو اسے 21 ویں صدی کا سب سے طویل مکمل سورج گرہن بنا دے گا۔ آخری بار زمین پر لوگوں نے اتنی لمبائی کے مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ 1991 میں کیا تھا۔ NASA کے مطابق، اس طرح کا اگلا نایاب موقع 2114 میں آئے گا۔ صدی کے سب سے مکمل سورج گرہن کا راستہ جنوبی سپین سے شروع ہو گا، جو شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ تک پھیلے گا۔ یہ تیونس اور مصر جیسی جگہوں پر پوری طرح سے نظر آئے گا۔ لکسر، مصر ایک بڑا پرکشش مقام ہوگا، جہاں اس کا دورانیہ 6 منٹ اور 19 سیکنڈ ہوگا۔ اس مقام کو قدیم مقامات جیسے کرناک مندر اور قریبی بادشاہوں کی وادی کی موجودگی نے مزید بڑھایا ہے۔

چاند گرہن کی لمبائی کے پیچھے کی وجہ کا براہ راست تعلق فلکیات سے ہے۔ سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان سے گزرتا ہے۔ چاند کی زمین سے قربت کی وجہ سے، یہ سورج کے کورونا کو مختصر طور پر دھندلا دیتا ہے، جس سے دن میں کچھ وقت کے لیے سورج کے نظارے کو روکا جاتا ہے۔ چاند زمین سے جتنا قریب ہوگا، گرہن اتنا ہی طویل رہے گا۔ 2 اگست 2027 کو، چاند اپنے پیریجی (زمین کے قریب ترین نقطہ) کے قریب ہوگا۔ اس کی وجہ سے یہ اتنا بڑا نظر آئے گا کہ یہ غیر معمولی طور پر طویل عرصے تک سورج کو مکمل طور پر دھندلا دے گا۔ سورج گرہن کا سب سے بڑا نقطہ اس علاقے میں پڑتا ہے جہاں سورج تقریباً اوپر ہوتا ہے، جس سے سائے کی مدت میں چند قیمتی سیکنڈز کا اضافہ ہوتا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، آبنائے ہرمز سے پابندیاں ہٹا دی جائیں گی، امریکی فوجی بھی واپس آجائیں گے۔

Published

on

تہران : ایران کے سرکاری ٹی وی نے کہا کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ اپنے تنازع کو ختم کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے لیے ابتدائی، غیر رسمی فریم ورک کا مسودہ موصول ہوا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت، ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کو ایک ماہ کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کر دے گا، جب کہ امریکہ ایران کے ارد گرد سے اپنے فوجی دستوں کو واپس بلا لے گا اور بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ سرکاری ٹی وی نے کہا کہ فریم ورک، جس میں فوجی جہاز شامل نہیں ہیں اور جس میں ایران عمان کے تعاون سے آبنائے کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کا انتظام کرے گا، کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے اور تہران “ٹھوس تصدیق” کے بغیر کوئی اقدام نہیں کرے گا۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر 60 دنوں کے اندر کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرار داد کے طور پر منظور کیا جا سکتا ہے۔

یہ ابھرتی ہوئی امریکہ-ایران مفاہمت کی یادداشت فروری کی جنگ بندی کے بعد شروع کی گئی بالواسطہ بات چیت کا نتیجہ ہے، جس میں پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کے طور پر مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ جنگ اس سال کے شروع میں اس وقت شروع ہوئی جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ دونوں فریقوں نے میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے، جس سے خلیجی علاقے میں جہاز رانی میں خلل پڑا اور امریکی افواج کو شامل کیا، جس سے ایک بڑے علاقائی تنازعے کا خدشہ پیدا ہوا۔ تاہم بعد میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا اور اس کے بعد سے حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکہ-ایران جنگ بندی معاہدے کے ارد گرد کی قیاس آرائیوں کے درمیان، ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئے سرے سے تنازعے کا امکان کم ہے۔ تسنیم خبررساں ایجنسی نے آئی آر جی سی نیوی کے نائب سیاسی سربراہ محمد اکبر زادہ کے حوالے سے بتایا کہ “دشمن کی کمزوری کے پیش نظر جنگ کا امکان کم ہے، لیکن ایرانی مسلح افواج پوری طرح تیار اور چوکس ہیں۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اے این سی کی کارروائی منشیات اسمگلر ہارون ایک سال کے لئے یروڈہ جیل بھیجا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل (اے این سی) نے منشیات اسمگلر ہارون فاروق خان ۴۱ سالہ کو ایک سال کے لئے پونہ یروڈہ جیل بھیجا دیا ہے۔ اس کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ملزم ضمانت پر رہائی کے بعد بھی منشیات فروشی میں ملوث پایا گیا اس لئے اس پر کارروائی کرتے ہوئے اے این سی نے پی آئی ٹی این ڈی پی ایس ایکٹ ۱۹۸۸ کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی تجویز پیش کی, اور وزارت داخلہ سے منظوری کے بعد اسے ایک سال کے لئے یروڈہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ہارون منشیات فروشی میں سرگرم ہے اس کے خلاف مختلف پولس اسٹیشن میں ۸ معاملات این ڈی پی ایس کے درج ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان