Connect with us
Monday,16-March-2026

(جنرل (عام

خالد کی درخواست پر سماعت، امام کی درخواست ضمانت 27 جولائی تک ملتوی کر دی گئی

Published

on

dehli high court

دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طلباء عمر خالد، شرجیل امام اور جامعہ ملیہ اسلامیہ (اے اے جے ایم آئی) طلباء یونین کے سابق صدر شفا الرحمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 27 جولائی تک ملتوی کر دی۔ ان سبھی پر فروری 2020 میں دہلی فسادات کی ایک بڑی سازش رچنے کا الزام ہے۔

دہلی پولیس نے خالد، امام، رحمان اور کئی دیگر کے خلاف سخت غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مبینہ طور پر فسادات کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس نے سماجی کارکن خالد سیفی، جے این یو کی طالبات نتاشا ناروال اور دیونگنا کلیتا، جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی رکن صفورا زرگر، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سابق کونسلر طاہر حسین اور کئی دیگر کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون اور شہریوں کے قومی رجسٹر کے خلاف مظاہروں کے دوران فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

ٹرائل کورٹ نے بالترتیب 24 مارچ اور 11 اپریل کو خالد اور امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی تھیں۔ اس کیس میں ٹرائل کورٹ نے 24 مارچ کو خالد، 7 اپریل کو رحمان اور 11 اپریل کو امام کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد ان لوگوں نے دہلی ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی۔

دہلی پولیس نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اسے معقول حکم کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔

خالد کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سینئر وکیل کووڈ-19 کی وجہ سے عدالت میں پیش ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اس لیے عدالت کی کارروائی چند روز کے لیے ملتوی کی جائے۔ ساتھ ہی سرکاری وکیل نے کہا کہ تمام کیس آپس میں جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ سازش کا کیس ہے۔

جسٹس سدھارتھ مردول اور جسٹس رجنیش بھٹناگر کی ڈویژن بنچ نے ضمانت کی درخواست پر سماعت 27 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے خالد کی طرف سے دلائل سنے گی، اور پھر کیس کے دیگر ملزمان کے خلاف کارروائی کرے گی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی کریٹ سومیا کے دباؤ میں کیس درج, خوانچہ فروشوں سمیت دیگر پر کارروائی

Published

on

ممبئی: ملا ڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی پر پولس نے کریٹ سومیا کی شکایت کے بعد کیس درج کرلیا ہے اور اس معاملہ ریلوے کی ملکیت پر نماز ادا کرنے پر ملزمین کو نوٹس بھی ارسال کردی ہے بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے ریلوے اسٹیشن پر نماز کی ادائیگی پر اعتراض کرتے ہوئے فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا تھا اتنا ہی نہیں ہے اسے مراٹھی ممبئی کو مسلم ممبئی قرار دینے کی سازش بھی قرار دیا تھا اس کے بعد کریٹ سومیا نے جائے وقوع کا بھی معائنہ کیا اور پھر ریلوے پولس میں شکایت درج کروانے کےلیے ایک تحریری شکایت بھی کی تھی ایک مسافر نے سوشل میڈیا پرنماز کا ویڈیو جاری کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد کریٹ سومیا نے اس پر نوٹس لیا اور پھر کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ممبئی میں جس طرح سے نماز پر کریٹ سومیا نے اعتراض درج کرایا ہے اسی طرز پر کیا وہ ریلوے میں بھجن منڈلی اور دیگر خرافات پر بھی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ ریلوے پولس نے ملاڈریلوے اسٹیشن پر نماز
کے خلاف کارروائی شروع کردی پولس نے اس معاملے میں اسٹیشن ماسٹر کی شکایت کے بعد مشتاق بابو لون (عمر 35) ہاکر، صہیب صداقت ساہا (عمر 25) ہاکر، بسم اللہ دین انصاری (عمر 43) ہاکر اور دیگرکے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ ریلوے پروٹیکشن فورس آر پی ایف نے ریلوے ایکٹ کی دفعہ 147 کے تحت شکایت درج کی ہے۔ریلوے پولیس جی آر پی نے بی این ایس کی دفعہ 168 کے تحت نوٹس جاری کیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ پولس کی اس کارروائی کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریلوے پولس نے جس طرح کریٹ سومیا کے دباؤ میں کارروائی کرتے ہوئے کیس درج کر لیا ہے کیا اسی طرز پر ریلوے میں غیر قانونی بھجن منڈلیوں کے خلاف کارروائی ہو گی ۔ اس معاملہ میں جن ملزمین پر کیس درج کیا گیا ہے وہ خوانچہ فروش ہے اور اس کے ساتھ پولس اس معاملہ مزید تفیش میں مشغول ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان