Connect with us
Saturday,30-May-2026
تازہ خبریں

جرم

ہاتھرس کیس: بلگاری گاؤں عارضی قلعہ میں تبدیل، کسی بھی شخص کو متاثرہ کے کنبے سے ملنے کی اجازت نہیں

Published

on

اترپردیش کے ضلع ہاتھرس میں 19 سالہ دلت متاثرہ کے گاؤں میں ملزمین کی کنبے کی جانب سے اپنے بچوں کو بے قصور بتانے اور متاثرہ کے والد کی جانب سے پورے سانحہ کی سی بی آئی جانچ کرانے کے مطالبے کے ساتھ گاؤں میں اضطراب انگیز سکون کا دور دورہ ہے۔گاؤں کو عارضی قلعہ میں تبدیل کردیا گیا ہے بشمول گاؤں باشندوں کے کسی کو بھی متاثرہ کے کنبے سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔
جمعہ کو پولیس نے بلگاری گاؤں کے نزدیک گاؤں میں متعدد افراد کو تلاش کر کے حراست میں لیا جو متاثرہ کے گاؤں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ متاثرہ کے والد نے الزام لگایا کہ ضلع انتظامیہ ان پر میڈیا کو دئیے گئے بیان کو تبدیل کرنے کا دباؤ ڈلا رہا ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ پر سخت نتائج جھیلنے کی دھمکی دینے کا بھی الزام لگایا۔
متاثرہ کے والد کے مطابق’ہم ضلع انتظامیہ سے عاجز آچکے ہیں۔وہ ہم پر لگاتار اس بات کے لئے دباؤ بنا رہے ہیں کہ وہم میڈیا سے نہ ملیں میڈیا کو دئیے گئے اپنے بیان کو تبدیل کردیں۔والد نے پولیس پر ایک سادے کاغذ پر زبردستی دستخط لینے کا بھی الزام لگایا۔

وہیں اس پورے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاستی اور ہاتھرس ضلع انتظامیہ کے ساتھ متاثرہ کنبے کو 12اکتوبر کو عدالت میں طلب کیا ہے۔اس ضمن میں کورٹ کا احساس تھا کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے کچھ تساہلی پائی گئی تو وہ اعلی سطحی جانچ کا حکم دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کرے گا۔
اس درمیان مرکزی وزیر رام مادھو 3اکتوبر کو لکھنؤپہنچ رہے ہیں جہاں وہ گورنر آنندی بین پٹیل اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ہاتھرس واقعہ کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔وہیں دوسری جانب کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے متاثرہ کے والد کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ‘وہ پولیس تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کا پریوار پورے واقعہ کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ چاہتا ہے ۔
ویڈیو میں والد یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ہمیں پولیس نے گھر میں نظر بند کررکھا ہے اور بشمول میڈیا کسی سے ملنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔اس سے قبل ہاتھرس کے ڈی ایم پروین کمار لکشر کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش میں تھا جس میں متاثرہ کے والد کو غیر قانونی آخری رسوم کی ادائیگی کے معاملے میں اپنا بیان تبدیل کرنے کے لئے دھمکی اور زبردستی کرتے نظر آرہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

ممبئی پوائی قتل کیس میں مفرور ملزم گرفتار، ہفتہ قبل تنازع پر غصہ قتل کا شاخسانہ، قتل کے بعد پولس تفتیش میں خلاصہ

Published

on

ARREST-1

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۱۰ نے قتل میں ملوث مفرور ملزم کو سورت گجرات سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پوائی تنگا گاؤں ساکی وہار میں ۲۴ مئی کو ایک ۵۵ سالہ یوسف نامی شخص کی لاش ملی تھی, جسے کسی نے دھاردار ہتھیار سے وار کر کے سینے پر وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولس نے اس معاملہ میں قتل کا کیس درج کر کے تفتیش شروع کر دیا اور پھر اس معاملہ میں تقریبا ۱۰۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور معلوم ہوا کہ گجرات میں قتل کے بعد ملزم فرار ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ملزم کو یہاں سے گرفتار کیا اور مزید کارروائی کے لئے پوائی پولس کے سپرد کر دیا ہے۔ ملزم دیپک عرف دیپا نتھو پرساد ورما ۲۶ سالہ کی یوسف سے کسی بات پر تنازع ہوا, ایک ہفتہ قبل تنازع ہوا تھا جس کا غصہ اس کے دل میں تھا اور اسی نے طیش میں آکر یوسف کو قتل کر دیا اور فرار ہوگیا, پولس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی ڈٹیکشن نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : آگری پاڑہ ہائی پروفائل رہائش گاہ میں بڑے پیمانے پر ایم ڈی ڈرگس ریکیٹ کا پردہ فاش، ملزمین کی تفتیش مبینہ بنگلہ دیشی کا بھی شبہ، 51 کروڑ کی ایم ڈی ضبط

Published

on

ARRESTED

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل ششی کانت جگدالے کی قیادت میں کاندیوالی اے این سی یونٹ نے منشیات سازی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ملزمین مبینہ طور پر آگری پاڑہ میں ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں ایم ڈی ڈرگس تیار کر رہے تھے۔آپریشن کے دوران، پولیس نے تقریباً 51 کروڑ روپے مالیت کا 14 کلو گرام ایم ڈی اور مائع ایم ڈی ضبط کیا۔ پولیس نے ملزمان سے ایک پستول اور 19 زندہ کارتوس بھی برآمد کرلیں۔ اس معاملے میں کل تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ان ملزمین میں سے ایک کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ممبئی شہر میں یہ ملزمین ایم ڈی سازی کیا کرتے تھے۔ ایک ملزم کے پاس سے پستول کی برآمدگی بھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ مبینہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہے۔ ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کہا کہ پولس ہر پہلو پر اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ جبکہ پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جس میں 51 کروڑ مالیت کی ایم ڈی اور مائع ایم ڈی برآمد کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد ملوث ہے, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اے این سی کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے, ان کی شناخت محمد شعیب شوکت علی منصوری ۳۱ سالہ (یاسمین ٹاور)، سفیان سلیم منصوری ۲۸ سالہ اور رینا اختر دختر اشرف الاسیکدار ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان