Connect with us
Tuesday,21-April-2026

(جنرل (عام

ہلدوانی تجاوزات کیس میں سپریم کورٹ نے کہا، 50,000 لوگوں کو راتوں رات نہیں اجاڑا جاسکتا

Published

on

Haldwani

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ہلدوانی تجاوزات کیس میں نینی تال ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ حکومت اور ریلوے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ابھے ایس۔ اوک کی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کولن نے دلائل کا آغاز کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے نینی تال ہائی کورٹ کا حکم پڑھ کر سنایا اور کہا کہ یہاں پکی عمارتیں، اسکول اور کالج ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ متاثرہ افراد کا فریق پہلے بھی نہیں سنا گیا تھا اور پھر وہی ہوا۔ ہم نے ریاستی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے ریلوے کے خصوصی ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے تجاوزات ہٹانے کا حکم دے دیا۔

اس پر سپریم کورٹ نے پوچھا کہ اتراکھنڈ یا ریلوے کی طرف سے کون ہے؟ ریلوے کی طرف سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ کچھ اپیلیں زیر التوا ہیں۔ لیکن کسی بھی معاملے میں کوئی پابندی نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ لوگ وہاں کئی سالوں سے رہ رہے ہیں۔ ان کی بحالی کے لیے کوئی اسکیم، آپ صرف 7 دن کا وقت دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ خالی کرو، یہ انسانی معاملہ ہے۔ اتراکھنڈ حکومت کی طرف سے کون ہے؟ اس معاملے میں حکومت کا کیا موقف ہے؟ عدالت عظمیٰ نے پوچھا کہ جن لوگوں نے نیلامی میں زمین خریدی ہے اسے آپ کیسے ڈیل کریں گے؟ لوگ وہاں 50/60 سال سے رہ رہے ہیں۔ ان کی بحالی کے لیے کوئی منصوبہ بندی تو ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے ریلوے کی طرف سے پیش ہونے والی اے ایس جی ایشوریہ بھاٹی سے کہا، ”ایسا نہیں ہے کہ آپ ترقی کے لیے تجاوزات ہٹا رہے ہیں۔ آپ صرف تجاوزات ہٹا رہے ہیں، اس کے جواب میں ریلوے نے کہا، ‘یہ فیصلہ راتوں رات نہیں کیا گیا۔ قوانین پر عمل کیا گیا ہے۔ یہ کیس غیر قانونی کان کنی سے شروع ہوا تھا۔ درخواست گزاروں کے وکیل کولن نے کہا، “زمین کا ایک بڑا حصہ ریاستی حکومت کا ہے۔ ریلوے کی زمین کم ہے۔ جسٹس کول نے کہا، “ہمیں اس معاملے کو حل کرنے کے لیے عقلی انداز کو اپنانا ہوگا۔ کچھ لوگوں کے پاس 1947 سے پہلے کے بھی پٹے ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ اس معاملے میں کچھ لوگوں نے نیلامی میں بھی زمین خریدی ہے۔ لوگوں سے 7 دن میں زمین خالی کرانے کا فیصلہ درست نہیں ہے، اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے نینی تال ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی، ریلوے اور اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا۔

جرم

ممبئی مصالحہ کی دکان میں چوری ملازم یوپی سے گرفتار نقدی برآمد

Published

on

Arrest

ممبئی : کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان سے ۱۳ لاکھ ۸۶ ہزار۲۰۰ روپیہ کی چوری کرنے والے ایک ملازم چور کو پولس نے یوپی ایودھیا اترپردیش سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان پر ۸ دنوں کا جمع شدہ پیسہ غلہ میں رکھا ہوا تھا اور دوسرے روز شکایت کنندہ دکان مالک نے غلہ میں پیسہ تلاش کیا تو اسے یہ برآمد نہیں ہوا, اس کے بعد اس نے پولس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائی اور پولس نے انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ دکان پر کام کرنے والا ملازم صبح سے غیر حاضر ہے, جس پر پولس کو شبہ ہوا اور پولیس نے یوپی کے ایودھیا سے اجئے کمار شیام سندر کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے نقدی ۱۰ لاکھ سے زائد برآمد کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی راگسودھا نے حل کر لیا اور پولس نے ملزم کو یوپی سے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : دوٹانکی مولانا شوکت علی مارگ پر فرنیچر فروشوں کے خلاف ‘ای’ وارڈ کی بے دخلی کی کارروائی

Published

on

2-Tank-Road

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ وارڈ ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں ‘ای’ ڈیپارٹمنٹ کے تحت مولانا شوکت علی مارگ پر پرانے فرنیچر فروشوں اور دیگر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنرآنند کنکل کی قیادت میں کی گئی۔ ای ڈپارٹمنٹ میں مولانا شوکت علی مارگ پر تجاوزات بالخصوص مرلی دیورا آئی اسپتال سے جے جے اسپتال سگنل تک کے علاقے میں راہگیروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا تھا۔ راہگیروں کو فٹ پاتھ کے بجائے سڑک پر گزرنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا جس کی وجہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔ اس صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ ڈویژن کی کنزرویشن اینڈ انکروچمنٹ ایلیمینیشن ٹیموں نے ممبئی پولیس کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک مہم شروع کی۔ اس بے دخلی کی کارروائی کے دوران فرنیچر فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور سخت کارروائی کی گئی۔ فٹ پاتھوں پر پڑے پرانے فرنیچر کو جے سی بی کی مدد سے موقع پر ہی تباہ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ٹوٹے ہوئے فرنیچر کے فضلے کو بھی فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ فٹ پاتھ پر تمام تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ علاوہ ازیں علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ جس کے باعث سڑک کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

اس مہم میں 1 جے سی بی، 4 مزدور، 3 افسران اور 2 انجینئروں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ناگ پاڑہ پولیس اسٹیشن کے 9 اہلکاروں کو سیکورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ دریں اثنا، ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ‘ای’ ڈویژن اس موقع پر ایک بار پھر واضح کر رہا ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محافظ کو نشانہ نہ بنائیں… سمیر وانکھیڈے کے کیس میں بامبے ہائیکورٹ کا اہم تبصرہ

Published

on

ممبئی: این سی بی کے زونل ڈایکٹرسمیر وانکھیڈے رشوت ستانی کیس میں بامبے ہائیکورٹ نے سماعت کرتے ہوئے کئی اہم تبصرے کئے ہیں اور ایجنسی سے سوال کئے ہیں جس میں پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ ملزم کے بیان پر انکوائری کرسکتے ہیں ؟ این سی بی نے اس سے قبل سمیر وانکھیڈے کی انکوائری سے متعلق بند لفالفے میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وانکھیڈے پر انکوائری نواب ملک یا کسی سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ انکوائری نامعلوم شکایت اور خط پر کی جارہی ہے اس کے ساتھ ہی شکایت کنندہ کرن سجنانی بھی سمیر وانکھیڈے کے طریقہ کار پر انکوائری کا مطالبہ کیا تھا جبکہ سمیر وانکھیڈے نے ہی کرن سجنانی کو ڈرگس کیس گرفتار کیا تھا اور اس کے ساتھ اس کے شریک کار سمیر خان کو بھی گرفتار کیا تھا سمیر خان نواب ملک کا داماد ہے سمیر خان کاایک کار حادثہ میں انتقال ہو چکا ہے۔ عدالت سمیر وانکھیڈے سے متعلق تبصرہ کیا گیا ہے کہ سماج میں بہتر کام کرنے والے افسر و محافظ کو نشانہ بنایا جائے یہ تبصرہ عدالت نے سمیر وانکھیڈے پر ملزم کی جانب سے شکایت پر انکوائری پر کیا ہے اس کے ساتھ ہی جس ملزم کی شکایت پر انکوائری کی جارہی ہے اس پر ڈرگس فروشی کا الزام ہے اس کےخلاف الزام ہے کہ وہ اور اس کا پارٹنر ممبئی میں واڈہ پاؤ کی طرح ڈرگس منشیات فروشی کا منصوبہ تیار کر چکے تھے سمیر وانکھیڈے نے ڈرگس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کورڈیلیا کروز کیس میں آرین خان کو گرفتار کیا تھا اس سے ۲۵ کروڑ روپے رشوت طلبی کا بھی ان پر الزام ہے اس میں سی بی آئی نے کیس درج کیا ہے اسی معاملے میں ایک پرائیوٹ عرضی گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ رشوت دینا اور لینا دونوں جرم کے زمرے میں آتا ہے اگر وانکھیڈے نے رشوت وصول کی ہے تو پھر شاہ رخ خان کو بھی اس معاملہ میں ملزم بنایا جائے کیونکہ رشوت دینا بھی جرم ہے اس معاملہ میں ہائیکورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے وانکھیڈے کو راحت پہنچائی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان