Connect with us
Sunday,15-March-2026

(جنرل (عام

یان واپی معاملہ : مسجد توڑنے کی نہیں، مستقل پوجا کی اجازت طلب کی ہے : ہندو فریق

Published

on

gyan-vapi-masjid

اترپردیش کے ضلع وارانسی میں واقع گیان واپی مسجد احاطے میں شرنگار گوری استھل کی مستقل پوجا۔ ارچنا کی اجازت دینے کی مطالبے والی عرضی پر ضلع جج کی عدالت میں بدھ کو لگاتار دوسرے دن دونوں فریقین نے اپنی دلیلیں پیش کیں۔

ہندو فریق کے وکیل نے کہا کہ عرضی گذار نے مسجد کو توڑنے کی نہیں بلکہ شرنگار گوری استھل اور وضو خانے میں ملے شیولنگ سمیت دیگر مورتیوں کی مستقل پوجا کرنے کی اجازت دینے کی عدالت سے استدعا کی ہے۔

معاملے میں جرح جاری ہے اور جمعرات کو بھی دونوں فریقین بحث کریں گے۔ ضلع جج ڈاکٹر اجئے کرشن وشویش کی عدالت میں مسلم فریق اور ہندو فریق کے وکیلوں نے اپنی دلیلیں پیش کی ہیں۔ ضلع عدالت میں سرکاری وکیل رانا سنجیو سنگھ نے سماعت کے بعد میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ عدالت نے جمعرات کو بھی شنوائی جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

آج کی سماعت کے دوران مسلم فریق کے وکیل ابھئے ناتھ یادو نے آئین کے آرٹیکل 25 کو بنیاد بناتے ہوئے دلیل دی کی یہ معاملہ نچلی عدالت میں سماعت کے قابل نہیں ہے لہذا عرضی کو خارج کردیاجائے۔ ہندو فریق کے وکیل ہری شنکر جین نے کہا کہ ہندو قانون میں مرئی اورغیر مرئی دیو مورتیوں اور ان کی تقدیس کے بارے میں واضح قانون موجود ہے۔

انہوں نے اپنی دلیل کی حمایت میں 1977 کے’ نیائے مورتی راماسوامی معاملے’فیصلہ کن فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ جین نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے تمام ایسے فیصلوں کا ذکر کیا جن میں عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون کو درکنار کرتے ہوئے فیصلےصادر کئے گئے ہیں۔

ہندو فریق کے ایک دیگر وکیل مدن موہن یادو نے سناتن وصولوں کے حوالے سے کہا کہ گیان واپی مسجد احاطے کے وضو خانے میں ملا شیولنگ اپنے مقام پر قائم ہے۔ اس لئے اس کی دوبارہ تقدیس کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے مختلف شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ مندر کو توڑ کر اس کے مقام پر مسجد بنائی گئی تھی۔

یادو نے کہا کہ ہندو فریق نے عدالت میں صرف شرنگار ستھل کی مستقل پوجا کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ یادو نے واضح کیا کہ عرضی گذار نے مسجد کو توڑنے کی نہیں بلکہ شرنگار گوری اور وضو خانے میں واقع شیولنگ اور دیگر مورتیوں کی مستقل پوجا کی اجازت طلب کی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی کریٹ سومیا کے دباؤ میں کیس درج, خوانچہ فروشوں سمیت دیگر پر کارروائی

Published

on

ممبئی: ملا ڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی پر پولس نے کریٹ سومیا کی شکایت کے بعد کیس درج کرلیا ہے اور اس معاملہ ریلوے کی ملکیت پر نماز ادا کرنے پر ملزمین کو نوٹس بھی ارسال کردی ہے بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے ریلوے اسٹیشن پر نماز کی ادائیگی پر اعتراض کرتے ہوئے فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا تھا اتنا ہی نہیں ہے اسے مراٹھی ممبئی کو مسلم ممبئی قرار دینے کی سازش بھی قرار دیا تھا اس کے بعد کریٹ سومیا نے جائے وقوع کا بھی معائنہ کیا اور پھر ریلوے پولس میں شکایت درج کروانے کےلیے ایک تحریری شکایت بھی کی تھی ایک مسافر نے سوشل میڈیا پرنماز کا ویڈیو جاری کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد کریٹ سومیا نے اس پر نوٹس لیا اور پھر کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ممبئی میں جس طرح سے نماز پر کریٹ سومیا نے اعتراض درج کرایا ہے اسی طرز پر کیا وہ ریلوے میں بھجن منڈلی اور دیگر خرافات پر بھی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ ریلوے پولس نے ملاڈریلوے اسٹیشن پر نماز
کے خلاف کارروائی شروع کردی پولس نے اس معاملے میں اسٹیشن ماسٹر کی شکایت کے بعد مشتاق بابو لون (عمر 35) ہاکر، صہیب صداقت ساہا (عمر 25) ہاکر، بسم اللہ دین انصاری (عمر 43) ہاکر اور دیگرکے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ ریلوے پروٹیکشن فورس آر پی ایف نے ریلوے ایکٹ کی دفعہ 147 کے تحت شکایت درج کی ہے۔ریلوے پولیس جی آر پی نے بی این ایس کی دفعہ 168 کے تحت نوٹس جاری کیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ پولس کی اس کارروائی کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریلوے پولس نے جس طرح کریٹ سومیا کے دباؤ میں کارروائی کرتے ہوئے کیس درج کر لیا ہے کیا اسی طرز پر ریلوے میں غیر قانونی بھجن منڈلیوں کے خلاف کارروائی ہو گی ۔ اس معاملہ میں جن ملزمین پر کیس درج کیا گیا ہے وہ خوانچہ فروش ہے اور اس کے ساتھ پولس اس معاملہ مزید تفیش میں مشغول ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان