Connect with us
Thursday,18-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

جموں و کشمیر میں گرو نانک دیوجی کا 551 واں جنم دن مذہبی جوش و خروش سے منایا گیا

Published

on

وادی کشمیر میں پیر کے روز سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیوجی کا 551 واں جنم دن مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔
وادی میں پیر کی صبح سخت سردی کے باوجود سکھ برادری کے لوگوں، جو نئے کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، کا گردواروں اور دوسری مذہبی مقامات پر تانتا بندھا رہا۔
سری نگر میں سب سے بڑی تقریب بالائی شہر کے برزلہ علاقے میں واقع گردوارہ میں منعقد ہوئی۔ سکھ عقیدتمندوں کی بڑی تعداد جس میں خواتین اور بچوں کی خاصی تعداد شامل تھی، نے پیر کی صبح سے ہی اس گردوارے پر حاضری دینا شروع کی۔ اس موقع پر سکھ عقیدتمندوں کے لئے خصوصی لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
بتادیں کہ وادی کشمیر میں گرو نانک دیوجی کے جنم دن کی سب سے بڑی تقریب کوہ ماراں کے دامن میں واقع سکھوں کے مشہور چھٹی پادشاہی گردوارہ میں منعقد ہوتی تھی لیکن یہاں مرمتی کام جاری رہنے کی وجہ سے امسال سب سے بڑی تقریب برزلہ میں منعقد کی گئی۔
چھٹی پادشاہی گردوارہ ایک تاریخی جگہ پر قائم ہے جہاں حضرت محبوب العالم شیخ حمزہ مخدومی (رح) کی زیارت گاہ اور شاریکا دیوی کا مندر قریب میں ہی واقع ہیں۔
چھٹی پادشاہی گردوارہ میں مرمتی کام جاری رہنے کے باوجود عقیدتمندوں نے یہاں حاضری دی اور دعائیں و منتیں مانگیں۔
برزلہ گردوارہ تقریب کی طرز پر بارہمولہ، ترال، جواہر نگر، بڈگام، صنعت نگر اور وادی کے دوسرے مقامات پر بھی تقاریب کا انعقاد عمل میں آیا۔
خصوصی تقریبات کا انعقاد جنوبی کشمیرکے بجبہاڑہ اور مٹن میں ہوا جہاں گرو نانک دیوجی نے لداخ کے راستے چین جانے سے قبل کچھ وقت کے لئے قیام کیا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ چین جانے سے قبل گرو جی کچھ وقت کے لئے لیہہ میں بھی رکے تھے جہاں بعد میں ایک گردوارہ تعمیر کیا گیا تھا۔
کشمیری مسلمان اور کشمیر پنڈت سکھوں کو گرو نانک دیوجی کے 551 ویں جنم دن کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔
خطہ جموں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں بھی گرو نانک دیوجی کا جنم دن مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔
شری گرو نانک دیوجی گردوارہ چاند نگر جموں سمیت شہر کے تمام گردواروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ خطہ کے دوسرے اضلاع بشمول ادھم پور، کٹھوعہ اور سانبہ میں بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق صوبہ جموں میں ضلعی گردوارہ پربندھک کمیٹیوں کی جانب سے صوبہ جموں کے سبھی گردواروں میں ‘گور پورب’ کے موقع پر تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔
اس سلسلے میں سب بڑی تقریب جموں کے بی بی چاند کور گردوارہ میں منعقد ہوئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کر کے گردوارہ میں ماتھا ٹیکا نیز کورونا وائرس سے نجات اور جموں و کشمیر میں امن و امان کے لئے دعائیں مانگیں۔
اس موقع پر راگی جتھوں نے بھجن کرتن کر کے عقیدتمندوں کو محظوظ کیا۔ جبکہ مقررین نے گرو نانک دیو کی زندگی اور تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گورو نانک دیو جی ایک عظیم سنت تھے اور ان کی تعلیمات آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔
انہوں نے ملک میں آپسی بھائی چارے اور باہمی روا داری کے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لئے گرو نانک دیوجی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔ اس موقع پر خصوصی لنگر کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو جی کا جنم غیر منقسم ہندوستان کے لاہور کے تلونڈی (ننکانہ صاحب) میں 15 اپریل 1469 کو ہوا اور وفات 22 دسمبر 1539 کو شہر کرتار پور میں ہوئی۔ گورونانک دیو جی سکھ مذہب کے بانی اورپہلے گرو ہیں۔
دریں اثنا سکھ مذہب کے بانی شری گرو نانک دیو جی کے جنم دن پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مبارک باد پیش کی ہے۔
اپنے پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گرو نانک دیو جی کے پاکیزہ اصول، ایماندارانہ زندگی اور بے لوث خدمت بغیر امتیاز کے ایک ہم آہنگ معاشرے کے قیام کا بنیادی جز ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گرو جی کی زندگی اور ان کا پیار و محبت، مساوات، امن اور بھائی چارہ کا پیغام آج بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔
انہوں نے گرو جی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لوگوں کے درمیان محبت، سالمیت اور باہمی خیر سگالی کے روابط کو مستحکم کرنے کے لئے اُن کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

شندے کے کام پر عوامی نمائندوں کا اعتماد بلند، ادھو ٹھاکرے کے اراکین پارلیمان کو ان کی قیادت پر اعتماد نہیں تھا : ملند دیورا

Published

on

شیو سینا کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ملند دیورا نے ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی میٹنگ میں کئی ممبران پارلیمنٹ کی غیر موجودگی پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت ہی اس کا جواب دے سکتی ہے کہ یو بی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کی پارٹی کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو اراکین اجلاس غیر حاضر تھے ان میں اپنی پارٹی کی قیادت پر اعتماد کا فقدان ہے۔

دیورا نے کہا کہ آج عوام اور عوامی نمائندوں کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے کام اور قیادت پر بھروسہ ہے۔ ایکناتھ شندے صاحب ان لوگوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کام کرتے ہیں جو شندے صاحب کی قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں۔سنجے راؤت کو نشانہ بناتے ہوئے ملند دیورا نے کہا کہ انہیں پارلیمانی روایات اور قواعد کا علم نہیں ہے۔ یو بی ٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ کس قسم کی میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں اور وہپ کے قواعد کیا ہے ۔ وہپ کے معاملے پر دیورا نے کہا کہ وہپ صرف ایوان میں ووٹنگ کے لیے جاری کیا جاتا ہے، کسی سیاسی میٹنگ میں شرکت کے لیے نہیں۔ یہ پارلیمانی قاعدہ ہے اور جو لوگ برسوں سے رکن ہیں انہیں اس کا علم ہونا چاہیے۔ملند دیورا نے مزید کہا کہ سنجے راوت کبھی اپنے ہی ممبران پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں، کبھی دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام ممبران پارلیمنٹ ان کے ساتھ ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ان کے ممبران پارلیمنٹ کو پیسے دیے گئے، اور کبھی ممبران پارلیمنٹ پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ اس کے متضاد رویے کی عکاسی کرتا ہے۔سنجے راوت نے اپنے ہی ایم پیز کی توہین کی۔ اس طرح کے رویے کے ساتھ، کون اس کے ساتھ کام کرنا چاہے گا؟انہوں نے کہا کہ کسی بھی رہنما کا یو بی ٹی کی قیادت پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ عوامی نمائندے چاہتے ہیں کہ ان کا لیڈر انہیں دستیاب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لیڈر اب بھی ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ شیوسینا ہر اس شخص کا خیر مقدم کرتی ہے جو اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا مقصد کسی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ عوام کو مضبوط کرنا ہے۔آخر میں، دیورا نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ میں ان کی خیر خواہی ہی کرسکتا ہوں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے سلسلے میں معاہدہ و مفاہمت پر دستخط

Published

on

ممبئی ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کاتصور اس کی تاریخی خوبصورتی کو زندہ کرنا ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ میونسپل کارپوریشن اس قلعے کا تحفظ کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان آج (18 جون 2026)ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے کام کے سلسلے میں ایک مفاہمت معاہدہ پر دستخط کیے گئے ہیں، جسے ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔ لاس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی، محکمہ کسٹم کے پرنسپل کمشنر جناب اجے کمار پانڈے، محکمہ کسٹم کے ایڈیشنل کمشنر نتن تاگڑے، وکرم پھڑکے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائکواڑ، ڈپٹی کمشنر (جنوبی زون)پرشانت گائیکواڑ، اسسٹنٹ کمشنر (جنوبی زون) پرشانت گائیکواڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر یوگیش دیسائی، قدیم ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری، ویرماتا جیجا بائی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر کے کے سانگلے وغیرہ موجود تھے

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی ہدایت کے مطابق ممبئی میں قدیم ڈھانچوں کا تحفظ اور تحفظ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی کی رہنمائی میں کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ کے تحفظ اور احیاء کی پہل کی ہے۔ اس معاہدہ نامے کے تحت قلعہ ماہم کے خستہ حال ڈھانچے کو مضبوط اور دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ قلعہ کے علاقے میں موجود تاریخی کنویں کی تلاش اور کھدائی کی جائے گی۔ قلعہ کے اندرونی چاروں طرف پیدل چلنے کا راستہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ قلعہ کی بنیاد کی حفاظت کے لیے حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے لیے 20 کروڑ روپے بھی مختص کئے گئے ۔میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈپارٹمنٹ نے ماہم قلعہ پر سے تجاوزات کو ہٹا کر مقیم مقامی باشندوں کی بازآبادکاری کی ہے۔ لہٰذا اب اس قلعے کی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی جائے گی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹراشونی جوشی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ پر جو ایک تاریخی اور قدیم ورثہ ہے، پر تجاوزات کو ہٹانے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اب انتظامیہ اس قلعے کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

کسٹم ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل کمشنراجے کمار پانڈے نے کہا کہ ایک تاریخی ورثہ ہونے کے علاوہ ماہم قلعہ کو محکمہ کسٹم کے کسٹم اسٹیشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے شروع کیا گیا تحفظ اور بحالی کا کام اس قلعے کو مشہور کرے گا۔ نیز، یہ قلعہ ممبئی والوں کے لیے ایک سیاحتی مقام کے طور پر ترقی کرے گا۔ماہم ایک قدیم قلعہ ہے اور راجہ بیمب دیو کی اولاد نے 12ویں اور 13ویں صدی کے آس پاس یہ قلعہ تعمیر کیا تھا۔ ممبئی کے سات جزیروں میں سے ماہم طاقت کا مرکزی مرکز تھا اور یہ قلعہ اسی شاندار تاریخ کی علامت ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے 1975 میں قلعہ ماہم کو ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا تھا۔ قلعہ کا کل رقبہ تقریباً 3 ہزار 796.02 مربع میٹر ہے۔ فی الحال یہ قلعہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ قلعہ ماہم کے موجودہ ڈھانچے پر کچی آبادیوں کی شکل میں تجاوزات تھیں۔ پورے علاقے کا سروے کرنے کے بعد، درست دستاویزات کی تصدیق کی گئی اور 275 کچی آبادیوں کو کرلا اور ملاڈ میں پروجیکٹ متاثرین کے لیے دستیاب فلیٹوں میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ تاہم یہاں ایک مذہبی ڈھانچے کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ قلعہ کی بحالی اور تحفظ کا کام ممبئی میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈویژن آفس، کسٹم ڈپارٹمنٹ، قدیم ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری اور ویرماتا کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر سانگل کے جیجا بائی کی رہنمائی میں کرنے کی تجویز ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں آپریشن ٹائیگر باغی اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا جائے : ابوعاصم اعظمی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر میں شیوسینا کے جاری آپریشن ٹائیگر پر بات کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی ممبئی/مہاراشٹر کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے کہا، “آج کے عوامی نمائندے، لیڈر، اور کارکن اب نظریے پر نہیں چلتے، وہ لالچی ہو گئے ہیں۔ جو لوگ عوام کا ووٹ لیتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے پارٹیاں بدلتے ہی ان کےعہدہ کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ ابوعاصم اعظمی نے مزید کہا کہ اگر کوئی پارٹی کی جانب سے الیکشن لڑتا ہے تو اسے پارٹی کا جھنڈا، بینر، نشان اور رقم فراہم کی جاتی ہے۔ کارکنان اپنے امیدوار کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ نمائندے پارٹی کے نظریے کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں، اور لوگ اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں ، اس لیے وہ انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ تاہم فتح کے بعد وہ پارٹی سے بغاوت کرتے ہیں ۔ ایسا قانون بنایا جائے کہ اگر کوئی امیدوار فتحیابی کے بعد دوسری پارٹی میں شامل ہو جائے تو اس کا عہدہ کالعدم قراردیا جائے ۔ بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو لالچ دینے، ڈرانے دھمکانےاور اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے طاقت کا غلط استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ شامل نہیں ہوتے ہیں تو انہیں کیجریوال اور سنجے سنگھ کی طرح جیل بھیج دیا جاتا ہے، لیکن وہ بے قصور ثابت ہوئے تھے۔بی جے پی دیگرپارٹی میں شگاف پیداکرنے کےلئے کوشاں ہوگئی ہے اس لئے مسلسل کئی پارٹیوں کے دو حصے ہوگئے ہیں ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان