Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

جموں و کشمیر میں گرو نانک دیوجی کا 551 واں جنم دن مذہبی جوش و خروش سے منایا گیا

Published

on

وادی کشمیر میں پیر کے روز سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیوجی کا 551 واں جنم دن مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔
وادی میں پیر کی صبح سخت سردی کے باوجود سکھ برادری کے لوگوں، جو نئے کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، کا گردواروں اور دوسری مذہبی مقامات پر تانتا بندھا رہا۔
سری نگر میں سب سے بڑی تقریب بالائی شہر کے برزلہ علاقے میں واقع گردوارہ میں منعقد ہوئی۔ سکھ عقیدتمندوں کی بڑی تعداد جس میں خواتین اور بچوں کی خاصی تعداد شامل تھی، نے پیر کی صبح سے ہی اس گردوارے پر حاضری دینا شروع کی۔ اس موقع پر سکھ عقیدتمندوں کے لئے خصوصی لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
بتادیں کہ وادی کشمیر میں گرو نانک دیوجی کے جنم دن کی سب سے بڑی تقریب کوہ ماراں کے دامن میں واقع سکھوں کے مشہور چھٹی پادشاہی گردوارہ میں منعقد ہوتی تھی لیکن یہاں مرمتی کام جاری رہنے کی وجہ سے امسال سب سے بڑی تقریب برزلہ میں منعقد کی گئی۔
چھٹی پادشاہی گردوارہ ایک تاریخی جگہ پر قائم ہے جہاں حضرت محبوب العالم شیخ حمزہ مخدومی (رح) کی زیارت گاہ اور شاریکا دیوی کا مندر قریب میں ہی واقع ہیں۔
چھٹی پادشاہی گردوارہ میں مرمتی کام جاری رہنے کے باوجود عقیدتمندوں نے یہاں حاضری دی اور دعائیں و منتیں مانگیں۔
برزلہ گردوارہ تقریب کی طرز پر بارہمولہ، ترال، جواہر نگر، بڈگام، صنعت نگر اور وادی کے دوسرے مقامات پر بھی تقاریب کا انعقاد عمل میں آیا۔
خصوصی تقریبات کا انعقاد جنوبی کشمیرکے بجبہاڑہ اور مٹن میں ہوا جہاں گرو نانک دیوجی نے لداخ کے راستے چین جانے سے قبل کچھ وقت کے لئے قیام کیا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ چین جانے سے قبل گرو جی کچھ وقت کے لئے لیہہ میں بھی رکے تھے جہاں بعد میں ایک گردوارہ تعمیر کیا گیا تھا۔
کشمیری مسلمان اور کشمیر پنڈت سکھوں کو گرو نانک دیوجی کے 551 ویں جنم دن کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔
خطہ جموں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں بھی گرو نانک دیوجی کا جنم دن مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔
شری گرو نانک دیوجی گردوارہ چاند نگر جموں سمیت شہر کے تمام گردواروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ خطہ کے دوسرے اضلاع بشمول ادھم پور، کٹھوعہ اور سانبہ میں بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق صوبہ جموں میں ضلعی گردوارہ پربندھک کمیٹیوں کی جانب سے صوبہ جموں کے سبھی گردواروں میں ‘گور پورب’ کے موقع پر تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔
اس سلسلے میں سب بڑی تقریب جموں کے بی بی چاند کور گردوارہ میں منعقد ہوئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کر کے گردوارہ میں ماتھا ٹیکا نیز کورونا وائرس سے نجات اور جموں و کشمیر میں امن و امان کے لئے دعائیں مانگیں۔
اس موقع پر راگی جتھوں نے بھجن کرتن کر کے عقیدتمندوں کو محظوظ کیا۔ جبکہ مقررین نے گرو نانک دیو کی زندگی اور تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گورو نانک دیو جی ایک عظیم سنت تھے اور ان کی تعلیمات آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔
انہوں نے ملک میں آپسی بھائی چارے اور باہمی روا داری کے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لئے گرو نانک دیوجی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔ اس موقع پر خصوصی لنگر کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو جی کا جنم غیر منقسم ہندوستان کے لاہور کے تلونڈی (ننکانہ صاحب) میں 15 اپریل 1469 کو ہوا اور وفات 22 دسمبر 1539 کو شہر کرتار پور میں ہوئی۔ گورونانک دیو جی سکھ مذہب کے بانی اورپہلے گرو ہیں۔
دریں اثنا سکھ مذہب کے بانی شری گرو نانک دیو جی کے جنم دن پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مبارک باد پیش کی ہے۔
اپنے پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گرو نانک دیو جی کے پاکیزہ اصول، ایماندارانہ زندگی اور بے لوث خدمت بغیر امتیاز کے ایک ہم آہنگ معاشرے کے قیام کا بنیادی جز ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گرو جی کی زندگی اور ان کا پیار و محبت، مساوات، امن اور بھائی چارہ کا پیغام آج بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔
انہوں نے گرو جی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لوگوں کے درمیان محبت، سالمیت اور باہمی خیر سگالی کے روابط کو مستحکم کرنے کے لئے اُن کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی، بل پر سوال اٹھائے

Published

on

Asaduddin-Owaisi

نئی دہلی : پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف ترمیمی بل کے خلاف قانونی جنگ اب تیز ہونے لگی ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں 128 ارکان کی حمایت سے پاس ہوا جب کہ 95 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ یہ بل لوک سبھا میں 3 اپریل کو منظور کیا گیا تھا جس کی 288 ارکان نے حمایت کی اور 232 نے مخالفت کی۔ حالانکہ وقف بل پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے، اب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی جارہی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل کی دفعات مسلمانوں اور مسلم کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بل کا خوب چرچا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر من مانی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل مسلم کمیونٹی کی مذہبی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وکیل انس تنویر کے ذریعے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس میں ان پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو دیگر مذہبی اداروں کے انتظام میں نہیں ہیں۔ اس سے قبل کانگریس سمیت انڈیا الائنس کی تمام جماعتوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے جمعہ کو کہا کہ وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اس پر صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں اور پھر اسے قانونی جنگ سے گزرنا پڑے گا۔ پرمود تیواری نے مزید کہا کہ ہم وہی کریں گے جو آئینی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ترمیمی بل غیر آئینی ہے۔

اگرچہ وقف ترمیمی بل پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا نے پاس کیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر یہ بہت کمزور بل ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے کہا کہ یہ بل عدالت میں کھڑا نہیں ہوگا اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تنخا نے اس کے نفاذ کے عمل اور اس کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ساتھ ہی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے کہا کہ بل پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن پورے ملک میں یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ متحد ہے۔ مرکزی حکومت پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر جاوید علی خان نے بھی اس بل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے ہی طے تھا کہ بل منظور کیا جائے گا لیکن یہ غیر آئینی ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل پر طویل بحث ہوئی۔ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ جس پر 12 گھنٹے سے زائد میراتھن بحث ہوئی، پھر رات دیر گئے 2 بجے کے بعد ووٹنگ میں حکمراں جماعت بل کو منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ پھر اگلے دن یعنی جمعرات کو مرکزی وزیر رجیجو نے راجیہ سبھا میں بل پیش کیا۔ راجیہ سبھا میں بھی 12 گھنٹے سے زیادہ بحث کے بعد دیر رات 2.32 بجے وقف بل کو ووٹنگ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ اس دوران بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے اتحاد میں شامل تمام پارٹیاں، چاہے وہ نتیش کمار کی جے ڈی یو ہو یا چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، سبھی نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اسی وجہ سے حکومت وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com