Connect with us
Thursday,16-July-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

نومبر میں جی ایس ٹی محصولات کلیکشن ایک لاکھ کروڑ روپے کے پار

Published

on

gst

اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی)کا کلیکشن نومبر 2019 میں تین مہینے کے بعد پھر سے ایک لاکھ کروڑ روپے کے پار 103492روپے پر پہنچ گیا جو نومبر 2018 میں جمع کئے گئے محصولات سے تقریباً چھ فیصد زیادہ ہے اس سال جولائی میں 102083کروڑ روپے کا محصولات جمع ہوا تھا۔اس کے بعد اگست سے لے کر اکتوبر تک اس میں گراوٹ آنے لگی تھی۔اگست میں 98202کروڑ روپے،ستمبر میں 91916کروڑ روپے اور اکتوبر مین 95380کروڑ روپے کا کلیکشن ہوا تھا۔اب نومبر میں پھر سے یہ رقم ایک لاکھ کروڑ روپے کو پار کرگئی ہے۔اس سال اپریل ،مئی اور جولائی میں یہ رقم ایک لاکھ کروڑ روپےسے زیادہ رہی تھی۔جون میں یہ تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے،ریاستی جی ایس ٹی کلیکشن 27144کروڑ روپے،انٹیگریٹڈ جی ایس ٹی کلیکشن49028کروڑ روپے برآمدات سے حاصل ہوئے ہیں۔اکتوبر مہینے کےلئے 30نومبر تک 77.83لاکھ جی ایس ٹی آر -3بی فارم بھرے گئے۔
حکومت نے انٹیگریٹڈ جی ایس ٹی کلیکشن سے 25150کروڑ روپے مرکزی جی ایس ٹی اور 17431کروڑ روپے ریاستی جی ایس ٹی کے کھاتے میں منتقل کیا ہے۔باقاعدہ الاٹمنٹ کے بعد نومبر میں مرکزی حکومت کا کل جی ایس ٹی محصولات 44742کروڑ روپے اور ریاستوں کی کل رقم 44576کروڑ روپے رہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اے آئی ایم آئی ایم گوونڈی کارپوریٹر کے شوہر عتیق خان ایک سال کیلئے شہر بدر، سوشل میڈیا پر عوام سے انتہائی جذباتی اپیل اور معذرت

Published

on

Atiq-Khan

ممبئی : مہاراشٹر اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اور گوونڈی سے کارپوریٹر کے شوہر عتیق خان کو ممبئی پولیس نے ایک سال کیلئے تڑی پار شہر بدر کر دیا ہے۔ عتیق خان نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام میں یہ کہا ہے کہ انہیں ممبئی شہر و مضافات سے ایک سال کیلئے شہر بدر کر دیا گیا ہے, اس لئے وہ زیر التواء کاموں یا علاقہ میں دورہ کرنے سے قاصر رہیں گے۔ ایک سال تک ان کی علاقہ میں عدم موجودگی کے سبب عوام یا طلباء کو تعلیمی دشواری ہوتی ہے, تو وہ اس کیلئے معذرت خواہ ہے۔ پولیس نے عتیق خان پر تشدد اور فساد برپا کرنے کا کیس درج کیا تھا, اسی مناسبت سے انہیں تڑی پار کیا گیا ہے۔ اس لئے ایک سال تک ان کے علاقہ میں داخلہ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس تڑی پار حکمنامہ کی پابندی کا اطلاق آج ہوگا۔ اس لئے عتیق خان نے انتہائی جذباتی ویڈیو تیار کر کے سوشل میڈیا پر عوام سے معذرت بھی طلب کی ہے اور عوامی خدمت کے جذبہ کا بھی اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عوامی خدمت کرتے رہیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی گوونڈی میں قرض لینے پر قتل سے سنسنی

Published

on

policeline

ممبئی : ممبئی کے گوونڈی علاقہ میں پیسوں کے لین دین کے تنازع میں شیواجی نگر پولیس اسٹیشن میں حدود میں ایم ایچ ڈی ڈے اے کالونی میں مقیم ریاض شیخ 24 سالہ کو ملزم نے قتل کر دیا۔ ابتدائی تفتیش میں یہ معلوم ہوا کہ مقتول اور ملزم کے گھریلو تعلقات ہے, اس نے ملزم سے قرض لیا تھا, اسی دوران ملزم نے تیز دھار ہتھیار سے ریاض شیخ کا قتل کر دیا۔ اس قتل کے بعد علاقہ میں سراسیمگی پھیل گئی مقتول اور ملزم کے خاندان کے خاندانی مراسم بھی ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے معاملہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ اس کی تصدیق ممبئی پولیس کے ڈی سی پی سمیر شیخ نے کی ہے۔

Continue Reading

سیاست

ممبئی ریلوے نیٹ ورک میں توسیعی منصوبہ کی تکمیل میں اہم رکاؤٹ، ریلوے زمینات پر قبضہ جات کے سبب کئی پروجیکٹ التوا کا شکار، آر ٹی آئی میں انکشاف

Published

on

railway-lands

ممبئی : ممبئی شہر میں ریلوے پروجیکٹوں میں تاخیر کی ایک اہم وجہ ریلوے کی زمینات پر قبضہ جات ہے اس کی حصولیابی میں تاخیر کے سبب پروجیکٹ التوا کاشکار ہو گئے ہیں اور ان کے تخمینہ میں بھی اضافہ ہوا ہے, یہ انکشاف آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی کے معرفت داخل آر ٹی آئی معلومات میں ہوا ہے آر ٹی آئی سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 17,000 مربع میٹر اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے دو بڑے ایم آر وی سی ریل پروجیکٹس کے لیے 1,574 تجاوزات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی کی جانب سے حق معلومات (آر ٹی آئی) ایکٹ 2005 کے تحت مانگی گئی معلومات میں انکشاف ہوا ہے کہ ممبئی ریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آر وی سی) کے دو اہم ریل پروجیکٹوں کے لیے زمین کے حصول کے دوران کل 1,574 تجاوزات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان میں سے اب تک 998 تجاوزات ہٹائی جا چکی ہیں جبکہ تقریباً 17,068 مربع میٹر اراضی پر تجاوزات پائی گئی ہیں۔ایم آر وی سی کی طرف سے 14 جولائی 2026 کو آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق، یہ معلومات کلیان۔بدلاپور تیسرے اور چوتھے ریل لائن پروجیکٹس اور ایرولی۔ کولا ایلیویٹڈ کوریڈور پروجیکٹ سے متعلق ہے۔

کلیان ۔ بدلا پور تیسرا اور چوتھا ریلوے لائن پروجیکٹ
ایم آر وی سی کے مطابق، کلیان اور بدلا پور کے درمیان سینٹرل ریلوے کی تیسری اور چوتھی ریلوے لائنوں کے لیے زمین کے حصول کے دوران 706 تجاوزات کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں ریلوے کی زمین اور نئی حاصل کی گئی زمین پر واقع جھونپڑیاں اور دیگر تعمیرات شامل ہیں۔ ان میں سے 620 تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں جبکہ تقریباً 9668 مربع میٹر اراضی پر تجاوزات پائی گئیں۔ ایم آر وی سی نے یہ بھی کہا کہ ہر تجاوزات مختلف سالوں میں ہوئی ہیں، اس لیے کسی مخصوص سال کی نشاندہی کرنا ممکن نہیں ہے۔ پروجیکٹ کے لیے جن تجاوزات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ کلیان اور بدلاپور ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان واقع ہیں۔

ایرولی – کلوا ایلیویٹڈ کوریڈور پروجیکٹ
ایرولی ۔ کلوا ایلیویٹڈ کوریڈور پروجیکٹ کے لیے زمین کے حصول کے دوران، 868 تجاوزات کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں ریلوے کی زمین پر تعمیرات اور نئی حاصل کی گئی اراضی شامل تھی۔ اب تک 378 تجاوزات ہٹائی جا چکی ہیں جبکہ تقریباً 7400 مربع میٹر اراضی پر قبضہ پایا گیا۔ یہ تجاوزات دیگھا گاؤں اور کلوا اسٹیشن کے درمیان واقع ہیں۔ ایم آر وی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام تجاوزات مختلف سالوں میں ہوئی ہیں۔

دوبارہ تجاوزات کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں
آر ٹی آئی درخواست میں یہ بھی پوچھا گیا کہ تجاوزات ہٹانے کے بعد کتنے علاقوں میں دوبارہ تجاوزات قائم کی گئیں۔ ایم آر وی سی نے جواب دیا کہ متعلقہ معلومات دستیاب نہیں ہے۔

انیل گلگلی نے اہم سوالات اٹھائے۔
آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی نے کہا کہ ممبئی کے ریلوے پروجیکٹوں میں تجاوزات ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ منصوبے میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور عوامی فنڈز پر اضافی بوجھ کی ایک بڑی وجہ تجاوزات ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف تجاوزات ہٹانا کافی نہیں ہے۔ ریلوے اور ایم آر وی سی کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہٹائے گئے علاقوں میں دوبارہ تجاوزات نہ بنائی جائیں۔ اس کے حصول کے لیے باقاعدہ نگرانی، حفاظتی اقدامات اور جوابدہی ضروری ہے۔

گلگلی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ زمین کے حصول، تجاوزات، بحالی، اور تمام ریل پروجیکٹوں کے لیے تجاوزات کو ہٹانے میں پیش رفت سے متعلق معلومات کو وقتاً فوقتاً ایک عوامی پورٹل پر دستیاب کرایا جائے، تاکہ شفافیت کو بڑھایا جا سکے اور شہریوں کو حقیقی وقت کی معلومات فراہم کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی کے تیزی سے ترقی پذیر ریل نیٹ ورک کے لیے زمین کی دستیابی بہت ضروری ہے۔ اگر تجاوزات پر مؤثر طریقے سے قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں پبلک ٹرانسپورٹ کے بہت سے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت، ریلوے اور مقامی انتظامیہ کو مل کر اس کا مستقل حل نکالنا چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان