Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

یونانی ڈاکٹروں کو راحت ممبئی ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے تمام ڈاکٹروں کو ان کی پسند کے اضلاع میں تقرری کی جائے گی

Published

on

یونانی ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر آج ممبئی ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے یونانی ڈاکٹروں کی تقرری کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیئے نیز عدالت نے سرکاری وکیل کے بیان کو اپنے ریکارڈ پر درج کیا جس نے عدالت کو بتایا کہ میرٹ کی بنیاد پر تقرری کے اہل تما م ڈاکٹروں کو ان کی پسند کے اضلاع میں تقرری کیئے جانے کی کوشش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آیوش بھارت یوجنا کے تحت آیورویدا اور یونانی نرسنگ کی سی ایچ او پوسٹ بھرتی کے لیئے 6 ماہ کی خصوصی ٹریننگ کو لازمی قرارد یا گیاتھا لیکن بعد میں یونانی ڈاکٹروں کی ٹریننگ کو 8 ماہ کردیا گیا ہے تھا جس کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)نے ممبئی ہائیکورٹ سے رجو ع کیا تھا کیونکہ یونانی ڈاکٹروں کے علاوہ دیگر ڈاکٹروں کو ٹریننگ 6 ماہ ہی کرنا قرار دیا گیا تھا جبکہ یونانی ڈاکٹرس جس میں اکثریت مسلم ڈاکٹروں کی ہے کو دو ماہ زیادہ ٹریننگ کرنا لازمی قرارد یا گیاتھا جس کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ سے رجو ع کیا گیا تھا۔
گذشتہ ایک ہفتہ سے ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس گیان سنگھ بشت کے روزنہ بحث ہورہی ہے جس کے دوران ایڈوکیٹ افروز صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ یونانی ڈاکٹروں کے علاوہ تمام ڈاکٹروں کو چھ ماہ کی ٹریننگ کا حکم دیا گیا ہے جبکہ یونانی ڈاکٹروں کو آٹھ ماہ کی ٹریننگ نیز چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد میرٹ کی بنیاد پر ڈاکٹروں کی تقرری کردی جائے گی جس کی وجہ سے آٹھ ماہ کی ٹریننگ کرنے والے یونانی ڈاکٹروں کے لیئے نوکریاں ختم ہوجائیں گی لہذا عدالت مداخلت کرکے اس بات کا یقینی بنائے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور میرٹ کی بنیاد پر تقرری ہو۔
حالانکہ عدالت نے چھ ماہ اور آٹھ ماہ کی تقرری والے معاملے میں کوئی بھی فیصلہ صادر نہیں کیا کیونکہ آیوش بھارت یوجنا کے ڈائرکٹر نے عدالت میں حاضر ہوکر بیان دیاکہ ان تمام یونانی ڈاکٹروں کو ان کی پسند کے اضلاع میں تقرر کیا جائے اگر وہ ٹریننگ کے بعد امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو۔
اس سے قبل یونانی مسلم ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کے خلاف ڈاکٹر خورشید عالم قادری (سابق رکن MCIM) کی قیادت میں ڈاکٹروں کے ایک وفد جس میں ڈاکٹر مدثر، ڈاکٹر افتخار نیر، ڈاکٹر سہل قادری، ڈاکٹر جمیل خان، ڈاکٹر محمد ساجد، ڈاکٹر قمرالزماں،ڈاکٹر محمد شاکر، ڈاکٹر معیدولی صدیقی وغیرہ نے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی اور جنرل سیکریڑی مولانا حلیم اللہ قاسمی سے دفتر جمعیۃ علماء میں ملاقات کرکے ان سے قانونی مدد طلب کی تھی جس کے بعد گلزار اعظمی نے و کلاء افروز صدیقی، شریف شیخ، متین شیخ، فرزانہ ساونت،رازق شیخ، انصار تنبولی، شاہد ندیم، عادل شیخ و دیگر ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ میں یونانی ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف پٹیشن داخل کریں۔
خیال رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آیوش بھارت یوجنا کے تحت سرکاری اسپتال اورہیلتھ سینٹر وں میں بھرتی کے لیئے پورے ملک میں دیڑھ لاکھ ڈاکٹروں کی تقرری کا فیصلہ کیاہے اور مہاراشٹر میں 12415 ڈاکٹروں کی تقرری کے لیئے اقدامات شروع کیئے ہیں۔
یونانی ڈاکٹروں کو ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے راحت ملنے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وکلاء کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ان کی انتھک محنت اورکوششوں سے یونانی ڈاکٹروں کو بھی ان کا حق حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے ہائی کورٹ میں روزانہ سماعت ہوئی اور وکلاء نے ہائی کورٹ کے ہر سوال کا تشفی بخش جواب دیا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ورنہ سرکاری وکیل نے عدالت کو گمراہ کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔
گلزار اعظمی نے یونانی ڈاکٹروں سے اپیل کی ہیکہ وہ حکومت ہند کی اس اسکیم سے فائدہ اٹھاہیں اور زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کو ٹریننگ کے لیئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے کیونکہ اب ممبئی ہائی کورٹ نے ان کی تقرری میں بننے والی رکاو ٹ کو ختم کردیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان