Connect with us
Thursday,01-October-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

یونانی ڈاکٹروں کو راحت ممبئی ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے تمام ڈاکٹروں کو ان کی پسند کے اضلاع میں تقرری کی جائے گی

Published

on

یونانی ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر آج ممبئی ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے یونانی ڈاکٹروں کی تقرری کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیئے نیز عدالت نے سرکاری وکیل کے بیان کو اپنے ریکارڈ پر درج کیا جس نے عدالت کو بتایا کہ میرٹ کی بنیاد پر تقرری کے اہل تما م ڈاکٹروں کو ان کی پسند کے اضلاع میں تقرری کیئے جانے کی کوشش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آیوش بھارت یوجنا کے تحت آیورویدا اور یونانی نرسنگ کی سی ایچ او پوسٹ بھرتی کے لیئے 6 ماہ کی خصوصی ٹریننگ کو لازمی قرارد یا گیاتھا لیکن بعد میں یونانی ڈاکٹروں کی ٹریننگ کو 8 ماہ کردیا گیا ہے تھا جس کے خلاف جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)نے ممبئی ہائیکورٹ سے رجو ع کیا تھا کیونکہ یونانی ڈاکٹروں کے علاوہ دیگر ڈاکٹروں کو ٹریننگ 6 ماہ ہی کرنا قرار دیا گیا تھا جبکہ یونانی ڈاکٹرس جس میں اکثریت مسلم ڈاکٹروں کی ہے کو دو ماہ زیادہ ٹریننگ کرنا لازمی قرارد یا گیاتھا جس کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ سے رجو ع کیا گیا تھا۔
گذشتہ ایک ہفتہ سے ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس گیان سنگھ بشت کے روزنہ بحث ہورہی ہے جس کے دوران ایڈوکیٹ افروز صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ یونانی ڈاکٹروں کے علاوہ تمام ڈاکٹروں کو چھ ماہ کی ٹریننگ کا حکم دیا گیا ہے جبکہ یونانی ڈاکٹروں کو آٹھ ماہ کی ٹریننگ نیز چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد میرٹ کی بنیاد پر ڈاکٹروں کی تقرری کردی جائے گی جس کی وجہ سے آٹھ ماہ کی ٹریننگ کرنے والے یونانی ڈاکٹروں کے لیئے نوکریاں ختم ہوجائیں گی لہذا عدالت مداخلت کرکے اس بات کا یقینی بنائے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور میرٹ کی بنیاد پر تقرری ہو۔
حالانکہ عدالت نے چھ ماہ اور آٹھ ماہ کی تقرری والے معاملے میں کوئی بھی فیصلہ صادر نہیں کیا کیونکہ آیوش بھارت یوجنا کے ڈائرکٹر نے عدالت میں حاضر ہوکر بیان دیاکہ ان تمام یونانی ڈاکٹروں کو ان کی پسند کے اضلاع میں تقرر کیا جائے اگر وہ ٹریننگ کے بعد امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو۔
اس سے قبل یونانی مسلم ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کے خلاف ڈاکٹر خورشید عالم قادری (سابق رکن MCIM) کی قیادت میں ڈاکٹروں کے ایک وفد جس میں ڈاکٹر مدثر، ڈاکٹر افتخار نیر، ڈاکٹر سہل قادری، ڈاکٹر جمیل خان، ڈاکٹر محمد ساجد، ڈاکٹر قمرالزماں،ڈاکٹر محمد شاکر، ڈاکٹر معیدولی صدیقی وغیرہ نے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی اور جنرل سیکریڑی مولانا حلیم اللہ قاسمی سے دفتر جمعیۃ علماء میں ملاقات کرکے ان سے قانونی مدد طلب کی تھی جس کے بعد گلزار اعظمی نے و کلاء افروز صدیقی، شریف شیخ، متین شیخ، فرزانہ ساونت،رازق شیخ، انصار تنبولی، شاہد ندیم، عادل شیخ و دیگر ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ میں یونانی ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف پٹیشن داخل کریں۔
خیال رہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آیوش بھارت یوجنا کے تحت سرکاری اسپتال اورہیلتھ سینٹر وں میں بھرتی کے لیئے پورے ملک میں دیڑھ لاکھ ڈاکٹروں کی تقرری کا فیصلہ کیاہے اور مہاراشٹر میں 12415 ڈاکٹروں کی تقرری کے لیئے اقدامات شروع کیئے ہیں۔
یونانی ڈاکٹروں کو ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے راحت ملنے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وکلاء کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ان کی انتھک محنت اورکوششوں سے یونانی ڈاکٹروں کو بھی ان کا حق حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے ہائی کورٹ میں روزانہ سماعت ہوئی اور وکلاء نے ہائی کورٹ کے ہر سوال کا تشفی بخش جواب دیا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ورنہ سرکاری وکیل نے عدالت کو گمراہ کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔
گلزار اعظمی نے یونانی ڈاکٹروں سے اپیل کی ہیکہ وہ حکومت ہند کی اس اسکیم سے فائدہ اٹھاہیں اور زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کو ٹریننگ کے لیئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے کیونکہ اب ممبئی ہائی کورٹ نے ان کی تقرری میں بننے والی رکاو ٹ کو ختم کردیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ مقدمہ : سپریم کورٹ نے مقدمے سے ڈسچارج کیے گئے مسلم ملزمین کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کے تبصروں پر روک لگا دی

Published

on

نئی دہلی : مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ سے گذشتہ ماہ ڈسچارج کیئے گئے چار ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کے خلاف بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی، اسی طرح مقدمہ سے ڈسچارج کئے گئے مسلم ملزمین کے خلاف دیئے گئے ہائی کورٹ کے تبصرے کو حذف کرنے کی پٹیشن بھی داخل کی گئی تھی, جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ مسلم ملزمین کے خلاف زیر سماعت اپیل پر ہائی کورٹ کے حالیہ تبصرے سے متاثر ہوئے بغیر سماعت کرے، مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے 9/ مسلمانوں کے خلاف مہاراشٹر اے ٹی ایس اور دھان سنگھ و دیگر نے بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپول پنچولی کے سامنے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن اور سادان فراست نے بحث کی۔ بم دھماکہ متاثرین اور مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے مسلم ملزمین کی جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے قانونی پیروی کی۔

آج دوران سماعت ایڈوکیٹ سادان فراست نے دو رکنی بینچ کو بتایا کہ گذشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے چار ملزمین (دھان سنگھ و دیگر) کو مقدمہ سے نا صرف ڈسچارج کردیا تھا بلکہ اپنے فیصلے میں مسلم ملزمین کے خلاف کچھ تبصرے بھی کئے تھے، یہ تبصرے مسلم ملزمین کی غیر موجودگی میں انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیئے بغیر کئے گئے تھے, لہذا عدالت بامبے ہائی کورٹ کے ان تبصروں کو حذف کرے۔ ایڈوکیٹ سادان فراست کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے حکم جاری کیا کہ بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کیئے گئے تبصر ے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے ملزمین نورالہدی اور دیگر کے ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز نہیں ہونگے اور ہائی کورٹ اپیلوں پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ سینئر ایڈوکیٹ سادان فراست کی بحث کے اختتام کے بعد سینئر ایڈوکیٹ نتیار اما کرشنن نے بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا جبکہ ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف چارج فریم ہوچکا تھا۔ دو رکنی بینچ نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کو ہدایت دی کہ وہ بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے داخل اپیلوں پر اگلے ہفتہ بحث کرے اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کر دی۔

آج کی عدالتی کارروائی پر ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے، بم دھماکہ متاثرین اور 2016/ میں مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے ملزمین نورالہدا، محمد علی شیخ، آصف بشیر اور محمد زاہد اور ئیس احمد نے مولانا عبدالقیوم کے توسط سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا جائے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے سپریم کورٹ میں چار پٹیشن (ایس ایل پی) داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی اور مقدمہ کی موثر قانونی پیروی کے لیئے ملک کے نامور کریمنل وکلاء کی خدمت حاصل کی گئی تھی جس کے نتیجے میں آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیئے گئے 9/ مسلم نوجوانوں کو پہلے ضمانت پر رہا کرایا گیا تھا پھر اس کے بعد انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کرایا گیا لیکن اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ملزمین اور مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مسلم ملزمین کے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا جس پر سماعت چل رہی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ انہیں بہت کم امید ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو این آئی اے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کریگی کیونکہ این آئی اے نے مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ میں بری ہونے والے ملزمین کے خلاف ابتک ہائی کورٹ میں اپیل داخل نہیں کی ہے, اس کے برعکس بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں اپیل داخل کردی ہے, جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ 8/ ستمبر 2006/ کو حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 31/ لوگ شہید ہوئے تھے جبکہ 312/ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

نہرو سائنس سینٹر سے نہرو پلینیٹریم تک فلائی اوور اور سب وے پروجیکٹ 31 جنوری 2027 تک مکمل کیا جائے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر ابھیجیت بانگر کی ہدایت۔

Published

on

ممبئی ؛ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے آج (30 ستمبر 2026) پروجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا تاکہ ورلی میں نہرو سائنس سینٹر اور نہرو پلینیٹریم کے درمیان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیرِ تعمیر فلائی اوور اور سب وے پروجیکٹ کا معائنہ کر سکیں۔ دورے کے دوران، انہوں نے مختلف کاموں کی موجودہ صورتحال اور پیش رفت کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا۔ بانگر نے کام کی رفتار بڑھانے کے لیے واضح ہدایات جاری کیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پروجیکٹ کے بقیہ کام مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائیں؛ خاص طور پر انہوں نے ہدایت کی کہ فلائی اوور کا کام 31 جنوری 2027 تک مکمل کر لیا جائے۔نہرو سائنس سینٹر (این ایس سی) کی جانب، 1200 ملی میٹر قطر والے مین پائلز (مین پائلز) کا کام 100 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ کل 18 میں سے 17 پائل کیپس (پائل کیپس)، 17 پیئرز (پیئر ) اور 17 پیئر کیپس (پیئر کیپس) کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اسی طرح، جیجاماتا نگر کی جانب بھی 1200 ملی میٹر قطر والی مین پائلنگ کا کام مکمل ہے؛ کل 17 میں سے 17 پائل کیپس، 17 پیئرز اور 17 پیئر کیپس کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ پروجیکٹ سائٹ اور مینوفیکچرنگ یونٹ، دونوں جگہوں پر پورٹل بیمز (پورٹل بیمز) اور گرڈرز (گرڈرز) کی تیاری کا کام جاری ہے۔ تمام 14 پورٹل بیمز پر کام مکمل ہو چکا ہے، اور 18 میں سے 17 گرڈر اسپینز (گرڈر اسپینز) کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ بقیہ گرڈر اسپین پر کام فی الحال جاری ہے۔ پورٹل بیمز اور گرڈر اسپینز کو نصب کرنے کا کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کل 14 پورٹل بیمز میں سے 13 نصب کیے جا چکے ہیں، اور 18 میں سے 9 گرڈر اسپینز کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ مزید برآں، 18 میں سے 7 اسپینز (اسپینز) کے لیے ڈیک سلیب کی کنکریٹنگ کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مزید 2 اسپینز پر کام جاری ہے۔

نہرو سائنس سینٹر فلائی اوور مسافروں کے سفر کے وقت میں بچت کا باعث بنے گا۔ فی الحال، اس راستے کو استعمال کرنے والے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو ورلی ناکا (آچاریہ آترے چوک) کے راستے متبادل اور طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ مجوزہ فلائی اوور سے سفر کے وقت میں تقریباً 15 منٹ کی کمی متوقع ہے۔ یہ ای. موزس روڈ (ای موسز روڈ) سے اینی بیسنٹ روڈ اور دھرم ویر سوراجیہ رکشک چھترپتی سمبھاجی مہاراج کوسٹل روڈ تک ایک زیادہ آسان اور براہ راست راستہ فراہم کرے گا۔ لوئر پریل، مہالکشمی اور کری روڈ سے آنے والی گاڑیاں بھی براہ راست اس فلائی اوور کو استعمال کر سکیں گی۔ نتیجتاً، اس سے ورلی ناکا کے علاقے میں ٹریفک کے رش کو کم کرنے میں مدد ملے گی؛ سفر کی مسافت اور ٹریفک جام میں کمی سے گاڑیوں کے مالکان کے ایندھن کی بھی بچت ہوگی۔ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے ہدایت کی کہ منصوبے کے بقیہ کاموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے لیے افرادی قوت، مشینری اور وسائل کے حوالے سے مناسب منصوبہ بندی پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے کام کی رفتار بڑھانے اور مختلف محکموں کے درمیان مؤثر باہمی رابطے کے ذریعے منصوبے کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر ٹریفک پلان تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔اس موقع پر چیف انجینئر (برجز) راجیش مولے، دیگر متعلقہ حکام اور انجینئرز بھی موجود تھے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

احمد آباد سیریل دھماکے : سپریم کورٹ نے سزائے موت کے قیدی احمد باوا ابوبکر بریلوی کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے پھانسی پر روک لگا دی

Published

on

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے جمعرات کو 2008 کے احمد آباد سیریل دھماکوں کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے قیدی احمد باوا ابوبکر بریلوی کی پھانسی پر عمل درآمد روک دیا۔ عدالت نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست پر نوٹس بھی جاری کیا جس میں ان کی مجرمانہ حیثیت اور سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس آگسٹین جارج مسیح اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل ایک خصوصی بنچ نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بریلوی کی ‘اسپیشل لیو پٹیشن’ (ایس ایل پی) کی سماعت کے دوران یہ عبوری حکم جاری کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے گجرات حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست پر ان کا جواب طلب کیا۔ وکیل آشوتوش ٹھاکر کی نمائندگی میں بریلوی نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں سیریل دھماکوں کے مقدمے میں ان کی مجرمانہ حیثیت اور سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔

سماعت کے دوران، ان کے وکیل نے مجرمانہ حیثیت اور سزائے موت کو برقرار رکھنے والے عدالتی نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی کہ انہیں مکمل طور پر مبینہ سازش کی بنیاد پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔ بریلوی ان 38 مجرموں میں شامل تھے جنہیں احمد آباد سیشن کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی؛ اس مقدمے میں 18 فروری 2022 کو 78 ملزمان میں سے 49 کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔ باقی 11 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ 29 کو بری کر دیا گیا تھا۔ یہ دھماکے 26 جولائی 2008 کو احمد آباد کے مختلف مقامات پر ہوئے تھے جن میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس مقدمے میں بڑے پیمانے پر تفتیش کی گئی، جس کے دوران 35 ایف آئی آر (ایف آئی آر ایس) درج کی گئیں اور 548 چارج شیٹس دائر کی گئیں۔ ہزاروں شواہد اور 1,163 گواہوں کے جائزے کے بعد ٹرائل کورٹ کا فیصلہ تقریباً 7,000 صفحات پر مشتمل تھا، جبکہ اس مقدمے کی دستاویزات کی فائل (پیپر بک) مبینہ طور پر تقریباً 7.88 لاکھ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کیس کے ملزمان ملک کے مختلف حصوں بشمول گجرات، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، اتر پردیش، آندھرا پردیش اور جھارکھنڈ کے رہائشی تھے۔ ان پر تعزیرات ہند، دھماکہ خیز مواد ایکٹ، پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کے قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سیشن کورٹ، گجرات حکومت نے 38 مجرموں کے خلاف سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی بریلوی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان