Connect with us
Saturday,14-March-2026

(جنرل (عام

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے یوم تاسیس پر مالیگاؤں میں زبردست جوش و خروش

Published

on

malegaom-jhoswakharosh

مالیگاؤں (نامہ نگار)
آج پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے کیڈرس کیلئے عید کادن ہے۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا ہر سال اپنے یوم تاسیس کو بہت ہی پر جوش انداز میں ایک تہوار کی طرح مناتا ہے۔ پاپولر فرنٹ کا قیام 17 فروری 2007 کو ملک کی چند مخیر تنظیموں کے انظمام کے ساتھ ایک انقلابی تحریک کی شکل میں ہوا جو ملک کی مختلف ریاستوں میں الگ الگ ناموں کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد فسطائی، فرقہ پرست، فاشسٹ طاقتوں بالخصوص سنگھ پریوار سے ملک کی جمہوریت، تکثیریت، سالمیت، امن پسندی، اور ترقی و خوشحالی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ ساتھ ہی مسلمانوں، دلتوں اور ملک کے دیگر دبے کچلے طبقات کی کثیر جہت ترقی اور کمیونیٹی ڈیولپمنٹ کیلئے زمینی سطح پر ہر وقت ہمہ تن کوشاں رہنا ہے۔
پاپولر فرنٹ آف انڈیا مالیگاؤں نے بھی اپنے یوم تاسیس کو پرجوش انداز میں باوقار طریقے سے منایا۔ اور آج کے دن مختلف پروگرامات کا انعقاد پاپولر فرنٹ مالیگاؤں کے صدر مولانا سیف الرحمن ندوی کی زیر نگرانی و صدارت میں کیا۔ جس میں اندرون شہر بائیک ریلی اور تین جگہوں پر ( رونق آباد چوک، سلام چاچا روڈ، سیلانی چوک) پرچم کشائی (فلیگ ہوسٹنگ) کی گئی۔ جن کے مقررین خصوصی رکن پاپولر فرنٹ حافظ غازی زبیر صاحب، ابراہیم انقلابی صاحب اور آل انڈیا امامس کونسل مہاراشٹر کے صدر، ، امام وخطیب جامع مسجد نیو مالیگاؤں، ناظم و روح رواں جامعہ فاروقیہ نیو مالیگاؤں، حضرت مولانا عرفان دولت ندوی تھے۔
مولانا عردان ندوی نے سیلانی چوک پر اپنے پرمغز تعارفی خطاب میں پاپولر فرنٹ کے عزائم کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پھیلی سنگھ پریوار کی غنڈہ گردی، تشدد، انارکی، خوف اور دہشت کو جڑ سے اکھاڑنا ہی پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا مقصد ہے۔ اس کے علاوہ پاپولر فرنٹ کے دیگرمقاصد جن میں مسلم کمیونٹی ڈیولپمنٹ، تقویت، تعلیمی، سماجی، سیاسی، و قومی بیداری پر روشنی ڈالی۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک پر گزر رہے اس بدترین دور میں بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ قیادت کی کمی کو پورا کرنے کیلئے نوجوانوں میں قیادت کی تلاش پر زور دیا۔ پاپولر فرنٹ کے مقاصد کو سمجھنے، جاننے کیلئے اور حقیقی معنوں میں زمینی سطح پر صحیح سمت کام کرنے کیلئے قوم کو بالخصوص نوجوانوں کو اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بجٹ میں اقلیتیں نظر انداز : منوج جامستکر

Published

on

ممبئی: ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں شیوسینا لیڈر اور رکن اسمبلی منوج جامستکر نے بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے ٹھیکیداروں کا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ جس طرح سے بڑے پروجیکٹ کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے اس سے یہ شبہ ہے کہ یہ بجٹ عام عوام کی بجائے ٹھیکیداروں کا بجٹ ہے کسانوں کے قرض معافی پر بھی شبہات برقرار ہے دو لاکھ روپے کی قرض معافی کا اعلان تو کیا گیا ہے اس کے نفاذ پر اب بھی شبہ ہے ریاستی سرکار نے کسانوں سے متعلق جو اسکیمات کا نفاذ کی ہے اس کا استفادہ اس کو ہو گا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ان کے لیے کوئی بھی نئی اسکیمات کو متعارف نہیں کروایا گیا ہے بجٹ میں نندوربار میں کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی یافتہ مہاراشٹرمیں بڑے بجٹ کو منظوری دی گئی ہے صحت سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے اس لیے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرور ت ہے اور اقلیتوں کو بجٹ میں حصہ داری دینے کا مطالبہ بھی جامستکر نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

تبدیلی مذہب مخالف، مذہبی آزادی بل ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے, بل پر عوامی سماعت کی جانی چاہیے : رئیس شیخ

Published

on

ممبئی : ریاستی حکومت کی طرف سے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں تبدیلی مذہب مخالف مذہبی آزادی بل 2026 پیش کیے جانے کے ایک دن بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے قانون ساز رئیس شیخ نے مطالبہ کیا کہ بل کو ریاستی مقننہ کی مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کو نظرثانی کے لیے بھیجا جائےانہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی سماعت کی جائے تاکہ اس بل کے خلاف اعتراضات اٹھائے جا سکیں جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ عام لوگوں کو اس وقت گیس میسر نہیں ، ہوٹل بند ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ ان مسائل پر بحث کرنے کے بجائے، مقننہ آزادی مذہب بل جیسے بل پر بحث کر رہی ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہو گی۔ موجودہ قوانین پہلے ہی جبری مذہب کی تبدیلی پر توجہ دیتے ہیں، اور یہ بل اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے،” ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریمارکس دیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مزید کہا کہ بل کو بغیر بحث کے پاس نہیں کیا جانا چاہئے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہےلہذا، اس بل کو دونوں ایوانوں کے اراکین کے ساتھ ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ بل کو منظور کرنے سے پہلے مکمل بحث ضروری ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مقننہ میں اقلیتوں کی نمائندگی ناکافی ہے، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ سول سوسائٹی گروپس اور اقلیتی تنظیموں کو بل پر اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا،اس مقصد کے لیے، ایک عوامی سماعت ہونی چاہیے۔ حکومت کو اعتراضات اور تجاویز کو مدعو کرتے ہوئے ایک عوامی نوٹس جاری کرنا چاہیے اور ان پر سماعت کرنی چاہیے،ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیر کو اس بارے میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے۔ ریاست کی کل 35 سول اور اقلیتی تنظیموں نے بل کی مخالفت کی ہے۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رازداری، مذہب کی آزادی اور بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ مذہبی آزادی کے حق میں تبدیلی کا حق بھی شامل ہےگزشتہ سال اس بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رشمی شکلا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مجوزہ قانون کے مطابق مذہب کی تبدیلی سے قبل 60 دن کا نوٹس لازمی ہوگا جس کے دوران اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں اور پولیس انکوائری بھی کی جاسکتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیاں غیر قانونی تصور کی جائیں گی۔ اس بل میں غیر قانونی تبدیلی مذہب میں ملوث اداروں یا افراد کے لیے سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : مینارہ مسجد کی ۷۶ لاکھ کی پراپرٹی ٹیکس کی نوٹس واپس لی جائے, یہ کوئی کمرشل ادارہ نہیں ہے : اعظمی

Published

on

یہ مسجد میں مدرسہ ہے یہاں بچے دینی تعلیم سے بہرور ہوتے ہیں اس لئے اس ٹیکس نوٹس کو واپس لیا جائے کیونکہ اتنی خطیر رقم ادائیگی مشکل ہے اور مسجد کو اتنی بڑی رقم کی نوٹس ارسال کرنا درست نہیں ہے ۔ سماجی انصاف میں اقلیتوں کے بجٹ میں ناانصافی ، سماجی انصاف بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایوان میں رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ پہلے محکہ کا بجٹ ۶ سو دو کروڑ روپیہ تھا بعد میں اس میں تخفیف ہو گئی اور ۲۰۲۴۔۲۵ میں بجٹ میں صرف ۲۸ ہزار طلبا کو تعلیمی وظائف ملے ہیں لیکن اب اس میں مزید تخفیف ہو کر صرف ۷ ہزار طلبا کو ہی تعلیمی وظائف کی فراہمی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے اس لئے اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور اتنا ہی نہیں اقلیتوں کے سہولیات کے مطابق بجٹ فراہم ہو انہوں نے ایوان میں اپنی بات اس شعر پر ختم کی۔ کبھی روزی کبھی آشیانہ چھین لیتا ہے جہاں ملتا ہے موقع آب و دانا چھین لیتا ہے، ہمیں اپنی تباہی کی خبر ہو ہی نہیں پاتی سب یہ خوشیاں ہماری غائبانہ چھین لیتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان