Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

جموں و کشمیر میں فور جی انٹرنیٹ کی بحالی کے حوالے سے ‘اچھی خبر’ جلد : لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا

Published

on

Lt-Governor-Manoj-Sinha

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو آنے والے دنوں میں فور جی انٹرنیٹ کی بحالی کے حوالے سے ایک اچھی خبر سننے کو ملے گی انہوں نے جمعرات کو یہاں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جموں و کشمیر میں فور جی انٹرنیٹ کی پانچ اگست 2019 سے معطلی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

ان کا کہنا تھا: ‘عدالت کی ہدایت پر ایک کمیٹی بنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے بھی ایک اچھی خبر سننے کو ملے گی۔’

منوج سنہا نے کہا کہ نئی انڈسٹریل ڈیولپمنٹ سکیم سے جموں و کشمیر میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے اور کشمیری نوجوان باقی چیزیں چھوڑ کر اپنے کام پر دھیان دیں گے۔

ان کا کہنا تھا: ‘دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں کارخانے قائم کرنے والوں کو زیادہ مراعات دیے جائیں گے۔ یہاں روز گار کے مواقع کم ہیں۔ اسی لئے ہم یہاں نجی سیکٹر کو فروغ دینے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ جب یہاں روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے تو یہاں کے نوجوان باقی چیزیں چھوڑ کر اپنے کام پر دھیان دیں گے۔’

جب ان سے پوچھا گیا کہ ‘کیا ماضی میں گن کلچر نے جموں و کشمیر میں ترقی کی رفتار کو روکا ہے’ تو ان کا جواب تھا: ‘میں ماضی پر بات نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ مجھے جموں و کشمیر کا مستقبل بہت اچھا نظر آ رہا ہے۔’

لیفٹیننٹ گورنر نے سابقہ نئی انڈسٹریل پالیسی کی نامی کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا: ‘آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ 2002 میں پہلی انڈسٹریل پالیسی نافذ کی گئی تھی۔ تب سے لے کر اب تک 18 سال گزر چکے ہیں۔ اس نئی پالیسی میں ہر ایک چیز کو ملحفوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ کام کو دیکھ کر ہی مراعات دیے جائیں گے۔ جو لوگ کام نہیں کریں گے انہیں الاٹ کی گئی زمین واپس لی جائے گی۔’

انہوں نے صوبہ جموں کے ساتھ مبینہ امتیاز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ جموں و کشمیر ہماری دو آنکھیں ہیں۔ کسی خطے کے ساتھ امتیاز اب تاریخ کی بات ہے۔ اب یہاں مذہب، ذات پات اور خطے کے نام پر کوئی بھید باوُ نہیں ہوگا۔’

منوج سنہا نے کہا کہ مہاجر کشمیری پنڈتوں کی کشمیر واپسی اور باز آباد کاری کے لئے جو بھی کرنا ضروری ہوگا وہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا: ‘کشمیری پنڈتوں کے لئے چھ ہزار نوکریاں اور چھ ہزار گھر کا معاملہ کافی وقت سے التوا میں تھا۔ آج کی تاریخ میں کچھ اسامیوں کو چھوڑ کر باقی تمام اسامیوں کے لئے بھرتی عمل شروع ہو چکا ہے۔ مئی تک 170 کو چھوڑ کر سبھی چھ ہزار اسامیاں پُر کی جائیں گی۔’

ان کا مزید کہنا تھا: ‘ساڑھے تین ہزار گھر بنانے کے لئے ٹینڈر جاری کئے جا چکے ہیں۔ باقی کے لئے بھی زمین حاصل کی گئی ہے۔ میری اکثر و بیشتر پنڈت تنظیموں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ ان کی باز آبادکاری کے لئے جو بھی کرنا ہوگا وہ کیا جائے گا۔’

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com