Connect with us
Wednesday,08-April-2026

بزنس

گوئل نے جاری کیا آئی آر سی ٹی سی۔ایس آئی کارڈ، ٹرین مسافروں کو دس فیصد ویلیو بیک ملے گا

Published

on

انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن (آئی آر سی ٹی سی) اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے کارڈ ڈویژن نے روپے پلیٹ فارم پر منگل کو اپناایک نیا کانٹیکٹ لیس کریڈٹ کارڈ قوم کے نام وقف کیا ہے جس میں مسافروں کو ٹرینوں کی اعلی زمرے میں ریزرویشن کرانے پر دس فیصد تک ویلیو بیک سمیت مختلف ترغیبی گفٹ مہیا کرائے گئے ہیں۔
ریلوے ، تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے منگل کو یہاں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سے منعقد ایک پروگرام میں یہ کارڈ جاری کیا۔
اس موقع پر ایس بی آئی کے صدر رجنیش کماراور آئی آر سی ٹی سی کے منیجنگ ڈائرکٹر ایم پی مل موجود تھے۔
مسٹر گوئل نے بتایا کہ ریلوے کو میک ان انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا کے تحت ہر قسم سے خودکفیل بنانے کے لئے ہم سب پرعزم ہیں جس کا خواب وزیراعظم نریندر مودی نے دیکھا ہے۔ روپے پلیٹ فارم پر اس کارڈ کو ڈیزائن کرنے اور جاری کرنا انہیں کوششوں میں سے ایک ہے۔
اس کارڈ کو نیئر فیلڈ کمیونیکیشن (این ایف سی) تکنیک سے لیس ہے جس سے اس کارڈ کو پی او ایس مشین میں اس کارڈ کو سامنے سے اسکین کرکے ادائیگی کی جاسکتی ہے۔ سوئپ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بزنس

آر بی آئی نے مالی سال 26 کے لیے ہندوستان کی حقیقی جی ڈی پی نمو کو 7.6 فیصد تک بڑھایا، 2027 میں 6.9 فیصد کی پیشن گوئی

Published

on

نئی دہلی: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے بدھ کو ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی شرح کے لئے نئے تخمینوں کو جاری کیا۔ مرکزی بینک نے مالی سال 2026 کے لیے اپنی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو کی پیشن گوئی 7.4 فیصد سے بڑھا کر 7.6 فیصد کر دی، جبکہ جغرافیائی سیاسی تناؤ سے متعلق خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ آر بی آئی کے مطابق، مالی سال 2026 میں یہ ترقی ایک مضبوط خدمات کے شعبے، مینوفیکچرنگ میں توسیع، اور گھریلو مانگ کی وجہ سے ممکن ہوگی، جو معیشت کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔ مالی سال 2027 کے لیے، آر بی آئی نے جی ڈی پی کی شرح نمو 6.9 فیصد پر پیش کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی خطرات اور بڑھتے ہوئے لاگت کے دباؤ کی وجہ سے شرح نمو قدرے معتدل ہو سکتی ہے۔ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی میٹنگ کے بعد یہ اعلان کیا۔ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے لیے شرح نمو کا تخمینہ 6.9 فیصد سے کم کر کے 6.8 فیصد کر دیا گیا ہے، جب کہ دوسری سہ ماہی کا تخمینہ 7 فیصد سے کم کر کے 6.7 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ ایران جنگ کی وجہ سے بڑھتا ہوا عالمی دباؤ ہے۔ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا، “توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے سے افراط زر کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جو عالمی ترقی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔” مالی سال 2026 کی دسمبر سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 7.8 فیصد تھی جو کہ گزشتہ سہ ماہی کے 8.4 فیصد سے کم ہے۔ آر بی آئی کو توقع ہے کہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہوگا، کیونکہ صنعتوں میں صلاحیت کا استعمال زیادہ ہے۔ مزید برآں، مستقبل قریب میں خوراک کی مہنگائی قابو میں رہنے کا امکان ہے۔ مالی سال 2027 کے لیے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) افراط زر 4.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ پہلی سہ ماہی میں یہ 4 فیصد، دوسری میں 4.4 فیصد، تیسری میں 5.2 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 4.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ آر بی آئی کے گورنر نے یہ بھی کہا کہ معیشت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بینکاری نظام میں کافی لیکویڈیٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔ 3 اپریل تک، ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 697.1 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ سنجے ملہوترا نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے خالص ایف ڈی آئی میں بہتری آئی ہے، اور بھارت گرین فیلڈ سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بنا ہوا ہے۔ آر بی آئی کو توقع ہے کہ نجی سرمایہ کاری میں بہتری آتی رہے گی، اقتصادی ترقی کو سہارا ملے گا۔

Continue Reading

بزنس

ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ سبز رنگ میں کھلا، سینسیکس 2,800 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ، جانیے بڑی وجوہات۔

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو ایک مضبوط ریلی دیکھی گئی، اہم بینچ مارک انڈیکس، سینسیکس اور نفٹی، تقریباً 4 فیصد کے اضافے کے ساتھ۔ ابتدائی تجارت میں، سینسیکس 2,800 پوائنٹس سے زیادہ بڑھ کر 77,456.11 کی انٹرا ڈے اونچائی پر پہنچ گیا، جبکہ نفٹی 50 بھی 800 پوائنٹس سے زیادہ چھلانگ لگا کر 23,961.25 پر آگیا۔ یہ ریلی پوری مارکیٹ میں گونجتی رہی، مڈ کیپ اور سمال کیپ اسٹاکس میں 4 فیصد تک اضافہ ہوا۔ مارکیٹ کی اس تیز رفتاری نے سرمایہ کاروں کی دولت کو بھی متاثر کیا۔ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کا کل مارکیٹ کیپ ₹429 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر ₹444 لاکھ کروڑ ہو گیا، جس سے سرمایہ کاروں کو مختصر مدت میں تقریباً ₹15 لاکھ کروڑ کا فائدہ ہوا۔ دریں اثنا، انڈیا VIX انڈیکس، جو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرتا ہے، 19 فیصد سے زیادہ گر کر 20 سے نیچے آ گیا، جو مارکیٹ کے خدشات میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس ریلی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا آئندہ دو ہفتوں کے لیے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روک دے گا جب کہ ایران نے بھی اس تجویز کو قبول کرلیا۔ مزید برآں، جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی خبروں نے سرمایہ کاروں کی امیدیں بڑھا دی ہیں کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی جلد ختم ہو سکتی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ نے بھی مارکیٹ کو مضبوط کیا۔ برینٹ کروڈ تقریباً 14 فیصد گر کر 95 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا، جس سے بھارت جیسی تیل درآمد کرنے والی معیشتوں کو نمایاں ریلیف ملا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی نے افراط زر کے دباؤ کو کم کرنے اور اقتصادی ترقی کو سہارا دینے کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کے خطرات میں کمی کا امکان ہے۔ ڈالر انڈیکس میں بھی 1 فیصد سے زیادہ کی کمی ہوئی، جب کہ ہندوستانی روپیہ مضبوط ہوا۔ ایک مضبوط روپیہ اور کمزور ڈالر ہندوستانی مارکیٹ کی طرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کے جذبات کو مثبت طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئیز) کو دوبارہ خریداری شروع کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ عالمی اشارے بھی مثبت تھے۔ امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد، ایشیائی مارکیٹوں میں بھی زبردست ریلی دیکھنے میں آئی، جاپان اور جنوبی کوریا میں 6 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا اثر ہندوستانی بازار میں بھی صاف نظر آیا۔ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ریپو ریٹ کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھا اور غیر جانبدارانہ موقف اپنایا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا اور اسے دو دن کی بحث کے بعد چھ رکنی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ آر بی آئی کے فیصلے کا مقصد موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

Continue Reading

بزنس

امریکہ-ایران جنگ بندی نے اسٹاک مارکیٹ کو فروغ دیا، سینسیکس اور نفٹی میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

Published

on

ممبئی: امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ہفتے کے تیسرے کاروباری دن بدھ کو ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ سبز رنگ میں کھلی۔ نفٹی 50 اور سینسیکس میں 3 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ سینسیکس 2,674.05 پوائنٹس یا 3.58 فیصد اضافے کے ساتھ 77,290.63 پر کھلا، جبکہ نفٹی 50 731.50 پوائنٹس یا 3.2 فیصد کے اضافے سے 23,855.15 پر کھلا۔ تاہم، یہ خبر لکھنے کے وقت (تقریباً 9:32 بجے)، سینسیکس 3.56 فیصد، یا 2،658.73 پوائنٹس کے اضافہ کے ساتھ 77,275.31 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ نفٹی50 3.34 فیصد، یا 772.95 پوائنٹس کے اضافے سے 23,896.60 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مارکیٹ میں یہ ریلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی صورت میں دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل دونوں تجارتی سیشنز میں مارکیٹ میں کمی دیکھی گئی تھی۔ ابتدائی تجارت میں، تمام شعبوں نے فائدہ دیکھا، تمام اسٹاک میں اضافہ ہوا۔ سیکٹری طور پر، رئیل اسٹیٹ، آٹو، بینکنگ، اور فارماسیوٹیکل اسٹاک میں 6 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ وسیع بازار میں، نفٹی مڈ کیپ انڈیکس میں 3.25 فیصد اضافہ ہوا، اور نفٹی سمال کیپ انڈیکس میں 3.22 فیصد اضافہ ہوا۔ لارج کیپ انڈیکس میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ دریں اثنا، انڈیا VIX میں 19 فیصد کی کمی ہوئی۔ نفٹی50 پیک میں،انڈیگو، ایل اینڈ ٹی، شری رام فائنانس، اڈانی پورٹس، ٹی ایم پی وی، ایم اینڈ ایم، اڈانی انٹرپرائزز، بجاج فائنانس، اور ماروتی سوزوکی سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے۔ اس کے برعکس کول انڈیا، او این جی سی، ٹیک مہندرا، وپرو، سن فارما، اور ہندالکو کے حصص میں کمی ہوئی۔ تاجر اور سرمایہ کار آج مالی سال2027 کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے پہلے دو ماہی مانیٹری پالیسی کے اعلان کی بھی قریب سے نگرانی کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاری جغرافیائی سیاسی خدشات اور غیر ملکی سرمائے کے مسلسل اخراج کے درمیان اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ تجزیہ کاروں نے کہا، “تاجروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ خطرے کا سختی سے انتظام کریں، کم ہونے پر خریدیں، یا مخصوص اسٹاک پر توجہ دیں۔ آئی ٹی، بینکنگ اور تیل جیسے اہم شعبوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اتار چڑھاؤ اور عالمی اشارے مستقبل قریب میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔” امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر، فوری طور پر اور بحفاظت کھولنے پر راضی ہو جاتا ہے تو میں دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے بند کرنے پر راضی ہوں۔ یہ دو طرفہ جنگ بندی ہو گی۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان