Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

سیاست

مراکا تنظیم کی جانب سے کے. ایم. ای. سوسائٹیز کے نو منتخب صدر اور سیکریٹری کو پیش کی گئی مبارکباد

Published

on

c-e-malrgaon

بھیونڈی۔ (نامہ نگار )
گذشتہ دنوں کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز کے جنرل الیکشن منعقد ہوئے تھے. اس انتخاب میں طلحہ نجم الدین فقہیہ اور سہیل مشتاق فقہیہ بالترتیب صدر اور سیکریٹری کے عہدے کے لیے منتخب ہوئے ہیں. عبدالرحمن یوسف کے مطابق کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز میں ہر چار برس مکمل ہونے پر جنرل بورڈ کا انتخاب عمل میں آتا ہے. گزشتہ کئی برسوں سے اسلم فقہیہ اور ان کے گروپ منتخب ہوتے آئے ہیں. انھوں نے اپنی سوسائٹیز کے زیر انتظام اسکول اور کالجز میں بہترین نمائندگی کی. باوجود اس کے اس مرتبہ کے انتخابات میں ان کے اپوزیشن گروپ نے اسلم فقہیہ کے گروپ کو شکست دے کر انھیں مزید چار سال تعلیمی خدمات کا موقع نہیں دیا. کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز کا انتخاب گذشتہ 28 فروری 2021 ء بروز اتوار کو عمل میں آیا. اس انتخاب میں ان کے قریب ترین حریف طلحہ نجم الدین فقہیہ اور سہیل مشتاق فقیہ کے گروپ نے کامیابی حاصل کی. طلحہ نجم الدین فقیہ اور سہیل مشتاق فقیہ بالترتیب صدر اور سیکریٹری پر منتخب ہوئے.

مراکا تنظیم بھیونڈی کی روایت رہی ہے کہ شہر میں کسی بھی سرکاری ادارے یا تعلیمی اداروں میں کسی کا انتخاب ہو یا کوئی سرکاری افسر شہر میں فائز ہوتا ہے تو ان کو حسبِ حیثیت ان کا استقبال کیا جاتا ہے. اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز کے انتخابات میں نومنتخب صدر اور سیکریٹری کی گل پوشی کی گئی اور ساتھ ہی شال و مراکا تنظیم کی ڈائری ان کی خدمات میں پیش کی گئی اور اسی کے ساتھ ہی عہدے داران اور اراکین نے انھیں نیک خواہشات اور مبارکباد پیش کیں. یہ پروگرام طلحہ نجم الدین فقیہ کے گھر پر بعد مغرب منعقد ہوا. بعد گل پوشی کے خوشگوار ماحول میں دونوں نو منتخب صاحبان نے تعلیمی میدان میں آزادی کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی کرائی ساتھ ہی ہر طرح سے سوسائٹی کو بامِ عروج پر لے جانے کا ارادہ ظاہر کیا. راقم نے طلحہ فقیہہ سے دریافت کیا کہ صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد مستقبل میں اس سوسائٹیز کے لیے کیا کرنے کا ارادہ ہے. اس سوال کے جواب میں موصوف نے کہا کہ اس سوسائٹیز کے تعلیمی ادارے میں کام کرنے کا مجھے برسوں کا تجربہ ہے. مجھے آگے کون سے کام کرنے ہیں اس پر عمل کروں گا. ٹیچرس کوارٹر کے پاس ایک عمارت تعمیر کرکے تعلیم گاہ بنانی ہے. برسوں پہلے ایم بی بی ایس میڈیکل کالج شروع کرنے کا ارادہ تھا مگر چند وجوہات کی بناء پر یہ خواب، خواب ہی رہا. اس کے لیے پڑگھا میں 25 ایکڑ اراضی مختص کی ہوئی تھی لیکن باوجود کوشش کے میڈیکل کالج نہیں بن پایا.

انجمن خیرالسلام والوں نے بھی تعاون کرنے کا یقین دلایا ہے. ان شاء اللہ دیگر کورسیس شروع کر کے طلبہ کو روزگار کے مواقع فراہم کرائیں جائیں گے. سروش عبداللہ بھورے (صدر مراکا تنظیم تھانہ) نے کہا کہ کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز کے بعد مختلف شہروں میں شروع ہونے والے تعلیمی ادارے کتنی بلندی پر پہنچ گئے ہیں مگر بھیونڈی میں اس نہج پر قابل فخر تعلیمی درسگاہ شروع نہیں ہوئی ہے یہ بڑے افسوس کی بات ہے. اس طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے. انھوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اورنگ آباد، مالیگاؤں، دھولیہ ،پونہ اور اکل کنواں جیسے شہروں میں ہمارے شہر بھیونڈی کے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لئے جاتے ہیں. پرنسپل ضیاء الرحمٰن انصاری (رئیس ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج اور مراکا نائب صدر تھانہ) نے کہا کہ ایسے کورسیس شروع کرنے کی ضرورت ہے جس سے طلبہ کو روزگار آسانی سے مل جائے.اسی طرح ہیڈ ماسٹر شبیر فاروقی (رفیع الدین فقہیہ بوائز ہائی اسکول اور صدر مراکا بھیونڈی) نے طلحہ فقیہہ اور سہیل فقیہہ کے سامنے پالی ٹیکنیک کالج شروع کرنے کی تجویز رکھی اس کے علاوہ شکیل سر (اسٹار اکیڈمی کے بانی)، ہلال سر (سابق ٹیچر شادآدم شیخ ٹیکنیکل ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج اور اسٹار اکیڈمی معاون) شاکر عبدالرحمن شیخ (معاون معلم ضلع پریشد اردو اسکول کھونی) اور نائلہ میڈم (مراکا ورکنگ کمیٹی) موجود تھے ۔ آخر میں سہیل مشتاق فقیہہ (سیکرٹری کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز نے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مراکا تنظیم کے عہدے دار اور اراکین سے مل کر کافی خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی ہورہی ہے. حیرت اس لیے کہ آپ تمامی حضرات اپنے آپ میں بہت سی خوبیاں رکھتے ہیں. آپ لوگوں کے خیالات سن کر مجھے بہت اچھا لگا. میری دلی خواہش ہے کہ تعلیمی سلسلے میں ہماری دوبارہ ملاقات ہونی چاہیے. سروش عبداللہ بھورے نے انھیں مراکا تنظیم کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور ہر سو سوسائٹیز کے کاموں میں مدد کے لیے تیار رہیں گے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پی ایم مودی اور نیتن یاہو نے اسرائیل کی پہل پر ٹیلی فون پر بات چیت کی، مغربی ایشیا پر تبادلہ خیال کیا : ایم ای اے

Published

on

Netanyahu-Modi

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی بات چیت کی تفصیلات دیتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ فون کال اسرائیل سے آئی تھی۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کی۔ ملاقات میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں وزیر اعظم مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ فون کال اسرائیل سے کی گئی تھی جسے وزیر اعظم نے قبول کر لیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں اس شراکت داری اور دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور وہاں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو وزیر اعظم مودی سے فون پر بات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ہندوستان-اسرائیل خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں مسلسل پیش رفت کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

وزارت کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر اعظم مودی نے بھی مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران، ہندوستان اور اسرائیل نے بنیادی طور پر اسٹریٹجک اعتماد پر مبنی تعلقات استوار کیے ہیں۔ دفاعی تعاون، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور زرعی اختراع تیزی سے پختہ شراکت داری کے ستون بن گئے ہیں۔ اس کے باوجود، جب کہ سیاسی اور سیکورٹی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اقتصادی تعلقات اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں رہے ہیں۔ انڈیا اسرائیل فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کے لیے جاری مذاکرات اس کو تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان