Connect with us
Monday,22-June-2026

سیاست

مراکا تنظیم کی جانب سے کے. ایم. ای. سوسائٹیز کے نو منتخب صدر اور سیکریٹری کو پیش کی گئی مبارکباد

Published

on

c-e-malrgaon

بھیونڈی۔ (نامہ نگار )
گذشتہ دنوں کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز کے جنرل الیکشن منعقد ہوئے تھے. اس انتخاب میں طلحہ نجم الدین فقہیہ اور سہیل مشتاق فقہیہ بالترتیب صدر اور سیکریٹری کے عہدے کے لیے منتخب ہوئے ہیں. عبدالرحمن یوسف کے مطابق کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز میں ہر چار برس مکمل ہونے پر جنرل بورڈ کا انتخاب عمل میں آتا ہے. گزشتہ کئی برسوں سے اسلم فقہیہ اور ان کے گروپ منتخب ہوتے آئے ہیں. انھوں نے اپنی سوسائٹیز کے زیر انتظام اسکول اور کالجز میں بہترین نمائندگی کی. باوجود اس کے اس مرتبہ کے انتخابات میں ان کے اپوزیشن گروپ نے اسلم فقہیہ کے گروپ کو شکست دے کر انھیں مزید چار سال تعلیمی خدمات کا موقع نہیں دیا. کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز کا انتخاب گذشتہ 28 فروری 2021 ء بروز اتوار کو عمل میں آیا. اس انتخاب میں ان کے قریب ترین حریف طلحہ نجم الدین فقہیہ اور سہیل مشتاق فقیہ کے گروپ نے کامیابی حاصل کی. طلحہ نجم الدین فقیہ اور سہیل مشتاق فقیہ بالترتیب صدر اور سیکریٹری پر منتخب ہوئے.

مراکا تنظیم بھیونڈی کی روایت رہی ہے کہ شہر میں کسی بھی سرکاری ادارے یا تعلیمی اداروں میں کسی کا انتخاب ہو یا کوئی سرکاری افسر شہر میں فائز ہوتا ہے تو ان کو حسبِ حیثیت ان کا استقبال کیا جاتا ہے. اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز کے انتخابات میں نومنتخب صدر اور سیکریٹری کی گل پوشی کی گئی اور ساتھ ہی شال و مراکا تنظیم کی ڈائری ان کی خدمات میں پیش کی گئی اور اسی کے ساتھ ہی عہدے داران اور اراکین نے انھیں نیک خواہشات اور مبارکباد پیش کیں. یہ پروگرام طلحہ نجم الدین فقیہ کے گھر پر بعد مغرب منعقد ہوا. بعد گل پوشی کے خوشگوار ماحول میں دونوں نو منتخب صاحبان نے تعلیمی میدان میں آزادی کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی کرائی ساتھ ہی ہر طرح سے سوسائٹی کو بامِ عروج پر لے جانے کا ارادہ ظاہر کیا. راقم نے طلحہ فقیہہ سے دریافت کیا کہ صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد مستقبل میں اس سوسائٹیز کے لیے کیا کرنے کا ارادہ ہے. اس سوال کے جواب میں موصوف نے کہا کہ اس سوسائٹیز کے تعلیمی ادارے میں کام کرنے کا مجھے برسوں کا تجربہ ہے. مجھے آگے کون سے کام کرنے ہیں اس پر عمل کروں گا. ٹیچرس کوارٹر کے پاس ایک عمارت تعمیر کرکے تعلیم گاہ بنانی ہے. برسوں پہلے ایم بی بی ایس میڈیکل کالج شروع کرنے کا ارادہ تھا مگر چند وجوہات کی بناء پر یہ خواب، خواب ہی رہا. اس کے لیے پڑگھا میں 25 ایکڑ اراضی مختص کی ہوئی تھی لیکن باوجود کوشش کے میڈیکل کالج نہیں بن پایا.

انجمن خیرالسلام والوں نے بھی تعاون کرنے کا یقین دلایا ہے. ان شاء اللہ دیگر کورسیس شروع کر کے طلبہ کو روزگار کے مواقع فراہم کرائیں جائیں گے. سروش عبداللہ بھورے (صدر مراکا تنظیم تھانہ) نے کہا کہ کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز کے بعد مختلف شہروں میں شروع ہونے والے تعلیمی ادارے کتنی بلندی پر پہنچ گئے ہیں مگر بھیونڈی میں اس نہج پر قابل فخر تعلیمی درسگاہ شروع نہیں ہوئی ہے یہ بڑے افسوس کی بات ہے. اس طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے. انھوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اورنگ آباد، مالیگاؤں، دھولیہ ،پونہ اور اکل کنواں جیسے شہروں میں ہمارے شہر بھیونڈی کے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لئے جاتے ہیں. پرنسپل ضیاء الرحمٰن انصاری (رئیس ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج اور مراکا نائب صدر تھانہ) نے کہا کہ ایسے کورسیس شروع کرنے کی ضرورت ہے جس سے طلبہ کو روزگار آسانی سے مل جائے.اسی طرح ہیڈ ماسٹر شبیر فاروقی (رفیع الدین فقہیہ بوائز ہائی اسکول اور صدر مراکا بھیونڈی) نے طلحہ فقیہہ اور سہیل فقیہہ کے سامنے پالی ٹیکنیک کالج شروع کرنے کی تجویز رکھی اس کے علاوہ شکیل سر (اسٹار اکیڈمی کے بانی)، ہلال سر (سابق ٹیچر شادآدم شیخ ٹیکنیکل ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج اور اسٹار اکیڈمی معاون) شاکر عبدالرحمن شیخ (معاون معلم ضلع پریشد اردو اسکول کھونی) اور نائلہ میڈم (مراکا ورکنگ کمیٹی) موجود تھے ۔ آخر میں سہیل مشتاق فقیہہ (سیکرٹری کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹیز نے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مراکا تنظیم کے عہدے دار اور اراکین سے مل کر کافی خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی ہورہی ہے. حیرت اس لیے کہ آپ تمامی حضرات اپنے آپ میں بہت سی خوبیاں رکھتے ہیں. آپ لوگوں کے خیالات سن کر مجھے بہت اچھا لگا. میری دلی خواہش ہے کہ تعلیمی سلسلے میں ہماری دوبارہ ملاقات ہونی چاہیے. سروش عبداللہ بھورے نے انھیں مراکا تنظیم کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور ہر سو سوسائٹیز کے کاموں میں مدد کے لیے تیار رہیں گے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

سیاست

ایکناتھ شندے کا دھڑا ہی اصل شیوسینا ہے، یو بی ٹی ممبران پارلیمنٹ کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے: شائنا این سی

Published

on

ممبئی : شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے دعویٰ کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا مسلسل مضبوط ہو رہی ہے، اور حالیہ سیاسی پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست میں وہی شیوسینا ہی ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے ارکان پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کی خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے ادھو ٹھاکرے اور ایم پی سنجے راوت پر بھی سخت حملہ کیا۔

شائنا این سی نے پیر کو آئی اے این ایس کو بتایا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ صرف ایک شیو سینا ہے، اور وہ شیوسینا ہے جس کی قیادت ایکناتھ شندے کر رہے ہیں۔ پارٹی کی طاقت اس وقت ظاہر ہوئی جب 40 ایم ایل اے ایکناتھ شندے کے ساتھ اسمبلی میں شامل ہوئے اور بعد کے انتخابات میں شیوسینا کی شاندار کارکردگی نے ایکناتھ شندے کی قیادت میں اپنی عوامی حمایت کو بھی ثابت کیا۔

ادھو ٹھاکرے کو نشانہ بناتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بتانا چاہئے کہ ہندو ہردئے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے کا نظریہ کہاں تھا جب انہوں نے 2019 کے اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی فائدے کے لیے اس وقت ٹھاکرے کے نظریے کو نظر انداز کیا گیا تھا، اور اب نظریہ کی بات کی جا رہی ہے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے ممبران پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کے امکان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، شینا این سی نے کہا کہ اگر کسی پارٹی کے دو تہائی ممبران اسمبلی یا ایم ایل ایز دوسرے گروپ میں شامل ہو جاتے ہیں، تو آئین اور انسداد انحراف قانون کے تحت انضمام کا انتظام ہے۔ یو بی ٹی کی قیادت کو خود کا جائزہ لینا چاہیے کہ ان کے ایم پی، ایم ایل اے اور کونسلر پارٹی کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ جب کارکنوں اور عوامی نمائندوں کا احترام نہیں کیا جاتا، اور بات چیت کی جگہ الزامات اور گالی گلوچ سے لے لی جاتی ہے، تو لوگ فطری طور پر دوسرے آپشنز تلاش کرتے ہیں۔

شائنا این سی نے سنجے راوت کے اس بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا کہ بھگوان رام کے آشیرواد سے اقتدار میں آنے والی بی جے پی اب رام کی لعنت سے بے دخل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راوت مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جو ان کی سیاسی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ راوت کا واحد مقصد ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کو نقصان پہنچانا ہے، اور ان کے بیانات سیاسی سنجیدگی سے عاری ہیں۔

Continue Reading

سیاست

مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے منحرف ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کے حلقوں کا دورہ کریں گے۔

Published

on

ممبئی ، شیو سینا-یو بی ٹی پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے 27 سے 29 جون تک ان حلقوں کا ایک وسیع دورہ کریں گے جہاں سے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں چلے گئے ہیں۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور سامنا کے ایگزیکٹو ایڈیٹر سنجے راوت کے ذریعہ جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق، یہ دورہ ریاست کے کئی اہم اضلاع کا احاطہ کرے گا، اور پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کو ہر مقام کے لیے مخصوص ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

یہ دورہ چھ ممبران پارلیمنٹ – اومراجے نمبالکر (دھراشیو)، سنجے پاٹل (ملوند نارتھ ایسٹ)، سنجے جادھو (پربھنی)، سنجے دیشمکھ (یوتمال)، ناگیش پاٹل اشتیکر (ہنگولی)، اور بھاؤصاحب وکچورے (شرڈی) کے کچھ ہی دن بعد ہوا ہے، جنہوں نے پچھلے ہفتے بغاوت کرتے ہوئے حقیقت میں شمولیت کا اشارہ کیا۔ ٹھاکرے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ان حلقوں کا دورہ کریں گے اور عوامی طور پر ان ووٹروں سے معافی مانگیں گے جنہوں نے 2024 کے عام انتخابات کے دوران اب منحرف ہونے والے ایم پیز کو ووٹ دیا تھا۔

ٹھاکرے 27 جون کو یوتمال میں اپنا دورہ شروع کریں گے، جہاں سینئر لیڈر بشمول ایم پی اروند ساونت، ایم ایل اے سنجے ڈیرکر، رابطہ سربراہ راجندر گائیکواڑ، اور ضلعی سربراہان پروین شندے، کشور انگلے، اور سنجے نکھادے تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد وہ واشم جائیں گے۔ ایم پی ساونت، ایم ایل اے ڈیرکر، رابطہ سربراہ دلیپ جادھو اور ضلع سربراہ بالاجی وانکھیڈے کوآرڈینیشن سنبھال رہے ہیں۔ پارٹی سربراہ دوپہر میں ہنگولی جائیں گے۔ ایم ایل سی اور اپوزیشن کے سابق لیڈر امباداس دانوے، رابطہ سربراہ ببن راؤ تھوراٹ، اور ضلعی سربراہ سندیش دیشمکھ، اجے پاٹل، اور گوپو ساونت وہاں ذمہ داریوں کی قیادت کریں گے۔ پارٹی سربراہ رات پربھنی میں گزاریں گے۔

دورے کا دوسرا مرحلہ 28 جون کو پربھنی شہر کے دورے سے شروع ہوگا۔ ایم ایل سی دانوے، ایم ایل اے راہول پاٹل، رابطہ سربراہ پردیپ کمار کھوپڑے، اور ضلع سربراہ ڈاکٹر وویک ناوندر مقامی انتظامات کو سنبھالیں گے۔ ٹھاکرے دوپہر میں دھاراشیو کے لیے روانہ ہوں گے۔ دانوے، ایم ایل اے کیلاش پاٹل، اور رابطہ سربراہ سنیل کٹمور انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دن کا اختتام چھترپتی سمبھاجی نگر میں رات بھر قیام کے ساتھ ہوگا۔ دورے کے آخری دن، 29 جون، ٹھاکرے مقدس شہر شرڈی کا دورہ کریں گے۔ راؤت، رابطہ سربراہ اور ایم ایل سی سنیل شندے، ضلعی سربراہ سچن کوٹے، اور جگدیش چودھری کو اس مرحلے کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔

پارٹی سربراہ ممبئی روانہ ہوں گے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ پورے دورے کا منصوبہ پورے مہاراشٹر میں پارٹی کارکنوں کو متحد کرنے اور اہم سیاسی اتحادوں سے پہلے نچلی سطح پر تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے، متحدہ شیوسینا کے 60 ویں یوم تاسیس پر اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے، ٹھاکرے نے گزشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ اگر ان کے لیڈران منحرف اراکین اسمبلی کے ان پر لگائے گئے الزامات کو سچ مانتے ہیں، تو وہ شیو سینا-یو بی ٹی کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان