Connect with us
Wednesday,16-September-2026

جرم

امولیہ سے وارث پٹھان تک عجب عالم بدحواسی ہے

Published

on

بنگلور میں ایک انیس سالہ لڑکی اس اسٹیج سے جہاں اسدالدین اویسی موجود تھے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگاتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی اس سے مائیک چھین لیا گیا اور ایک پولس افسر اسے گھسیٹ کر لے گیا لیکن وہ پھر کسی طرح چھوٹ کر واپس بنا مائیک کے ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگاتی ہے۔ اسے چاروں طرف سے گھیر لیا جاتا ہے اور اسے ملک سے غداری کے مقدمہ میں جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کوئی بارود کا گولا ہے کہ اس کا نام لیتے ہیں وہ پھٹ پڑے گا اور اس سے پورا ملک تباہ ہوجائے گا کہ ایک عالم بدحواسی میں سب اکٹھا ہو جاتے ہیں اور بقول رویش کمار جو افسر کبھی اپنی ذمہ داری ڈھنگ سے نہیں نبھاتا وہ بھی ایسے موقعوں کو غنیمت جان کر محب وطن ہونے کا ثبوت دینے کیلئے فورا حرکت میں آجاتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد اسی کرناٹک کے دوسرے شہر میں ایک اور جلسہ میں وارث پٹھان یہ بولتے بولتے یہ کہہ جاتے ہیں سو پر پندرہ بھاری ہے۔ بس پھر کیا تھا ان کے خلاف بھی مذمت کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے اور شاید کئی پولس اسٹیشنوں میں مقدمہ بھی کردیاجاتا ہے۔ یہ دونوں ہی معاملے میں ایک چیز واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے اور وہ ہے عالم بدحواسی۔ کسی کو مزید کچھ نہیں کہنے دینا ہے، اس کو صفائی کا موقع بھی نہیں دینا ہے۔ امولیہ آگے اور کیا کہنا چاہتی تھی اس کی بات سننے کو کوئی راضی نہیں بس اس نے پاکستان زندہ باد کیوں کہا ؟ یہی ایک مسئلہ ہے۔ رویش کمار کے مطابق گویا ہندوستان کوئی پتہ ہے جس کا وجود پاکستان زندہ باد کہہ دینے سے ہی بکھر جائے گا۔ امولیہ نے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کسی صورت جان چھڑا کر ہندوستان زندہ باد کے بھی نعرہ لگائے اور اس کے فیس بک اکائونٹ کے مطابق اس کے ذہن میں اپنے پڑوسی ممالک کے لئے بھی زندہ باد کا نعرہ ہے محض ہندوستان ہی زندہ باد نہیں ہے اور وہ وہاں اسٹیج پر ان سبھی ممالک کیلئے زندہ باد کہنا چاہتی تھی جس کا اسے اس کا موقع نہیں دیا گیا۔
وارث پٹھان کا سو پر پندرہ بھاری والا بیان غیر ضروری اور غیر حکیمانہ سہی مگر اس کیخلاف اتنی شدت نہیں آنی چاہئے کہ ان کے پتلے جلائے جائیں اور ان کے خلاف ہائے ہائے کے نعرے لگائے جائیں جبکہ ان کے سیاسی رفیق امتیاز جلیل کہا’وارث پٹھان کا یہ بیان سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کیخلاف برہمی کا اظہار ہے جو جبرا مسلمانوں پر تھوپ کر اس بیان کو سیاسی رنگ دیا جارہا ہے‘ میں سمجھتا ہوں امتیاز جلیل کی باتوں پر توجہ دی جانی چاہئے تھی لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنے دماغ سے سوچنے کی قوت سے محروم ہوچکے ہیں۔ آج ہم اپنی حب الوطنی کو ثابت کرنے اور دوسروں (سنگھی، لبرل اور دہریہ) کو خوش کرنے کیلئے مذمت اور احتجاج یا ہائے ہائے کا نعرہ لگارہے ہیں ۔ ۲۱ ؍ فروری ۲۰۲۰ کو شام سات بجے سے ممبئی کے اسلام جمخانہ کے دیوان خاص ہال میں ’الائنس اگینسٹ سی اے اے، این آر سی، این پی آر‘ کی مہاراشٹر و ممبئی اکائی کی جانب سے رضاکاروں، ارکان اور کارکنان کیلئے تہنیتی پروگرام رکھا گیا تھا۔ جس میں کانگریس کے سابق ایم ایل اے اور اسلام جمخانہ کے موجودہ سربراہ یوسف ابراہانی نے وارث پٹھان کیخلاف ہائے ہائے کے نعرے لگوائے جبکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن مسئلہ کانگریس میں اپنی جگہ بنانے اور کچھ قوتوں کی چاپلوسی کا تھا اس لئے وہاں الائنس کے پلیٹ فارم سے ایک غیر ضروری کام کیا گیا۔ ہم نے یوسف ابراہانی کا ایک ویڈیو پیغام بھی دیکھا جس میں وہ وارث پٹھان اور مجلس اتحادالمسلمین کیخلاف عوام کو ورغلاتے نظر آرہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وارث پٹھان ہوتے کون ہیں مسلمانوں کی جانب سے قیادت کا دعویٰ کرنے والے لیکن ابراہانی خود وارث پٹھان کے بیان کے تعلق سے معافی مانگتے ہوئے خود کو پندرہ کروڑ مسلمانوں کا لیڈر قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ دونوں کی پوزیشن ایک ہی ہے۔ دونوں عوام کے ٹھکرائے ہوئے ہیں ۔پھر کیا وجہ ہے کہ عوام سے ٹھکرایا ہوا ایک کانگریسی عوامی طور پر مسترد کئے ہوئے دوسرے شخص کو قوم کا ٹھیکیدار تسلیم نہیں کرتا لیکن پندرہ کروڑ مسلمانوں کی جانب سے معافی مانگ کر خود کو مسلمانوں کے قیادت کی دعویداری کررہا ہے۔
ایک بات واضح کردوں کہ میری نظر میں بھی وارث پٹھان کا بیان غیر ضروری اور غیر حکیمانہ ہے ۔ بس میرا کہنا یہ ہے کہ اس پر اتنی ہنگامہ آرائی کی ضرورت نہیں ہے۔ پٹھان نے کہا آپ نے اس سے کنارہ کشی اختیار کی بس۔ اس سے آگے کی تحریک یا کارروائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ کسی کے دبائو میں ضرورت سے زیادہ روادار اور محب وطن بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالات بتارہے ہیں کہ اگر آپ گرم لوہے کی سلاخ ہاتھوں میں لے کر اپنی وفاداری کا یقین دلائیں گے تو ہ طبقہ آپ کی وفاداری تسلیم نہیں کرے گا۔ اس حقیقت کے باوجود آپ کا وطیرہ بن گیا ہے کہ اتحاد کی لالچ میں وہ کرتے چلے جارہے ہیں جس کی مخالفت قوم برسوں سے کرتی آرہی ہے۔ یہاں دو مثالیں کافی ہیں جو میں الائنس اگینسٹ سی اے اے، این آر سی اینڈ این پی آر کے ذریعہ آزاد میدان میں منعقد احتجاجی اجلاس عام میں اس کے ہی ایک شریک کنوینر کی جانب سے لگائے گئے نعروں اور اس کے جواب میں مسلمانوں کی جانب مسلمانوں کا جواب دیکھا۔ الائنس کے شریک کنوینر ایڈووکیٹ راکیش راٹھوڑ نے ۱۵ ؍ فروری ۲۰۲۰ کو آزاد میدان کی احتجاجی ریلی میں بھارت ماتاکی اور وندے کے نعرے لگائے اور مسلمانوں کی جانب سے اس کا جواب بھی دیا گیا۔ حالانکہ کچھ عرصہ قبل تک مسلمان اس سے بچتا ہوا نظر آرہا تھا۔ آزاد میدان کے اس نعرے اور جگہ بجگہ سیکولر لبرل طبقہ کی جانب سے مسلمانوں کی بھیڑ سے اپنی لیڈر شپ کاشت کرنے کی فکر نے مجھے بے چین کیا ہے۔ اگر کسی کو بے چینی نہیں ہوتی میں کیا کرسکتا ہوں۔ اوروں کی طرح میں بھی ہندو مسلم اتحاد کو پسند کرتا ہوں۔ بلکہ اس سے دو قدم آگے جاکر مسلمانوں کے ساتھ تمام پسماندہ طبقات کے اتحاد کو زیادہ بہتر اور موثر سمجھتا ہوں۔ مگر اپنی قومی اور مذہبی شناخت سے سمجھوتہ کئے بغیر۔ ہم نے شیواجی کی یوم پیدائش پر مذہبی شناخت کے ساتھ شیواجی کی قد آدم مورتی پر پھول اور ہار چڑھاتے مسلمانوں کی تصویر بھی دیکھی ہے۔ سوچئے ہم اتحاد اور رواداری کی خواہش میں کہاں چلے جارہے ہیں۔ ہم انہیں یہ بات کیوں نہیں بتا سکتے کہ ہم شیواجی یا امبیڈکر سمیت اس جیسے لیڈروں کی قدر کرتے ہیں لیکن تمہاری تہذیب کے مطابق ان کی عبادت نہیں کرسکتے۔
غور کیجئے وارث پٹھان کے بیان کیخلاف بیان دیتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ تحریک میں ہم بڑی مشکل سے غیر مسلموں کے ساتھ اتحاد بنا پائے ہیں جسے وارث پٹھان یا کل ہند مجلس اتحاد المسلمین تباہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ صرف خوش فہمیاں ہیں جو کچھ لوگوں کے ذریعہ ہمارے درمیان پھیلائی جارہی ہے۔مجھے اپنی اس شہری ترمیم قانون یا این پی آر اور این آر سی کیخلاف تحریک میں سوائے اسٹیج کے کہیں بھی کوئی غیر مسلم دکھادیں، تو مان جائوں گا کہ آپ نے اتحاد بین المذاہب کو حاصل کرلیا۔ ہر جگہ اس بھیڑ میں انہیں تلاش کررہا ہوں مگر میری آنکھیں لوٹ آتی ہیں اور وہ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں جبکہ ہمیں ہر وقت یہی بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ غیر مسلم بڑی تعداد میں غیر مسلم بھی اس تحریک سے جڑے ہوئے ہیں۔ جڑے تو مگر صرف لیڈر اور اسٹیج کی حد تک جیسا اوپر ذکر کیا گیا۔حالانکہ مذکورہ قانون سے مسلمانوں سے زیادہ پسماندہ طبقات کو ہی نقصان ہونے والا ہے کیوں کہ وہ لوگ بے زمین تھے اور آج بھی ایک بڑی آبادی بے زمین ہے۔ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں اور اسی کی بنیاد پر برہمنوں کی پروردہ موجودہ مودی حکومت دستور میں دی گئی ریزرویشن کی سہولت کو ختم کردینا چاہتی ہے۔ مگر انہیں مسلم دشمنی کی شراب اتنی پلائی گئی ہے کہ اس کا نشہ اترتا ہی نہیں۔ مسلم دشمنی کی آڑ میں انہیں اپنی تباہی نہیں دِکھ رہی ہے کہ این آر سی کے بعد ان کا وہ دور واپس آجائے گا جب انہیں اپنے پیچھے جھاڑو باندھنا اور گلے میں مٹکہ لٹکانا ہوگا۔ ان کے لیڈر انہیں یہ سمجھانے سے قاصر ہیں۔ بہتر ہے کہ یہ باتیں انہیں سمجھانے کی کوشش کریں اور اپنے درمیان کے کسی شخص سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کی ہلکی پھلکی سرزنش کرکے تنہائی میں اسے سمجھائیں کہ اس نے کیا غلطی کی ہے اور اس کی یہ بات کیوں حکمت کیخلاف ہے۔ مگر مرعوبیت اور مغلوبیت یا غلامانہ ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے قوم کا مورال پست ہو۔ آپ لوگوں کی یہ حالت دیکھ کر منظر بھوپالی کا یہ شعر ٹھیک معلوم ہوتا ہے-

جرم

ایم پی کے جبل پور کالج ہاسٹل میں انجینئرنگ کے طالب علم کی خودکشی، تحقیقات جاری

Published

on

Death

جبل پور، 16 ستمبر، جبل پور انجینئرنگ کالج (جے ای سی) کے مکینیکل انجینئرنگ کے چوتھے سال کے طالب علم نے مبینہ طور پر مدھیہ پردیش کے جبل پور کے ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش بھر میں خاص طور پر انجینئرنگ کالجوں اور اداروں میں انجینئرز ڈے منائے جانے کے ایک دن بعد بدھ کو سامنے آیا۔ متوفی کی شناخت ساتویں جماعت کے طالب علم کے طور پر ہوئی ہے۔ رانجھی تھانہ علاقے میں گاندھی ویام شالا کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں اس کا کمرہ۔ پولیس کے مطابق پانڈے کمرے میں اکیلا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا کیونکہ اس کے دو روم میٹ باہر گئے ہوئے تھے۔

واپس آنے پر انہوں نے کمرہ بند پایا اور اسے کھولنے کے بعد پانڈے کو چھت سے لٹکا ہوا پایا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ رانجھی پولس اسٹیشن کے انچارج امیش گولہانی نے بتایا کہ طالب علم نے مبینہ طور پر اپنی قمیض کو پھندا لگانے کے لیے استعمال کیا تھا۔” اوم کمرے میں اکیلا تھا جب اس کے روم میٹ باہر گئے تھے۔ جب وہ کمرے میں واپس آئے تو انہیں خودکشی کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ گولہانی نے مزید کہا۔پولیس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش اور خاندان کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پانڈے ایک ہونہار طالب علم تھا۔ تاہم، کچھ عرصہ قبل بیمار ہونے کے بعد اس نے کچھ مضامین میں بیک لاگ تیار کیا تھا۔

مبینہ طور پر زیر التوا مضامین نے اسے ذہنی تناؤ کا سبب بنایا تھا۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس واقعے میں تعلیمی دباؤ کا سبب تھا، لیکن موت کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔” ہم اس کے دوستوں، کنبہ کے افراد اور رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کن حالات کی وجہ سے ہوا۔ صحیح وجہ کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔” جبل پور سٹیشن ہاؤس آفیسر نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے حصے کے طور پر اس کے حالیہ تعلیمی اور ذاتی حالات کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔

Continue Reading

جرم

’جب تک ہم قانون کا خوف پیدا نہیں کریں گے، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘: گروگرام ہٹ اینڈ رن کی شکار سیا

Published

on

نئی دہلی، 15 ستمبر گروگرام کے گولف کورس روڈ کی زد میں آکر متاثرہ سیا نے منگل کو سڑکوں پر لوگوں کو ہراساں کرنے اور خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ قانون کا سخت خوف نہ ہو۔ زندگی۔”جیسا کہ میں نے ویڈیو میں دکھایا، وہ میری طرف سے گاڑی چلا رہا تھا۔ میں نے پولیس کو سب کچھ بتایا کہ کس طرح وہ مجھے ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مجھے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کس طرح میری جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے،” اس نے کہا، “میں نے اسے ایک اشارہ بھی دیا کہ وہ مجھ سے بہت دور چلا جائے۔ پیچھے،” اس نے آئی اے این ایس کو بتایا۔

سیا نے کہا کہ کار کے اندر چار لوگ تھے اور اس نے تمام متعلقہ معلومات پولیس کو فراہم کر دی ہیں، “ظاہر ہے، ان کے خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج ہونا چاہیے، میں نے سب کچھ بیان کیا اور اپنا بیان دیا، میں چاہتی ہوں کہ ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جائے اور سخت کارروائی کی جائے،” انہوں نے کہا، “جب تک ہم سخت کارروائی نہیں کرتے، ایسے بہت سے لوگ ہیں جو سڑکوں پر گھومتے پھریں گے، خواتین کو ماریں گے یا دوڑیں گے۔ جب تک ہم قانون کا خوف پیدا نہیں کریں گے، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ خواتین بائیک چلانے والوں کو سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے اکثر ہراساں کیا جاتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اس کا معاملہ الگ تھلگ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ “خواتین بائیک چلانے والوں کو سڑکوں پر اس طرح کی چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہراساں کرنے اور پیچھا کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ میں واحد خاتون نہیں ہوں جس نے ایسی چیزوں کا سامنا کیا ہو،” انہوں نے کہا، “جب آپ خواتین بائیک چلانے والوں سے پوچھتے ہیں تو وہ ایسی چیزوں کا سامنا کرتی ہیں، لوگ ان کا پیچھا کرتے ہیں اور ان کا پیچھا کرتے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم واقعہ ہے جس میں ایک خاتون بائیکر شامل ہوتی ہے۔ اگر ہم مستقبل میں ایسے واقعات کا سامنا نہیں کریں گے تو اور کتنے لوگ ایسے واقعات کا سامنا کریں گے؟” اس نے مزید کہا۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والی سیا نے کہا کہ اس کے ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی سامان نے اسے مزید سنگین چوٹوں سے بچانے میں مدد کی ہے۔”میرے پاس ایک ہیلمٹ اور کچھ دوسری چیزیں تھیں جنہوں نے مجھے ایک بڑے حادثے سے بچا لیا۔ لیکن مجھے اپنے گھٹنوں اور ہاتھوں پر کئی چوٹیں آئیں،” اس نے کہا۔

انہوں نے ساتھی خواتین بائیک چلانے والوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور اس طرح کے واقعات کا شکار ہونے والوں سے آگے آنے اور ان کی اطلاع دینے کی اپیل کی، “یہ واحد واقعہ نہیں ہے جو ہوا ہے، میں نے ماضی میں ایسے کئی واقعات دیکھے ہیں، اگر کسی کو ایسی صورت حال یا واقعہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ آگے آئے،” انہوں نے کہا۔ دریں اثنا، گروگرام پولیس نے منگل کو ملزم ڈرائیور کلیان بینسلا کو راجستھان سے گرفتار کر لیا۔ اس کیس کے سلسلے میں ایک اور ملزم لاونیش گرجر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر، پولیس نے ملزم ڈرائیور کے خلاف قتل کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ اس جرم میں 10 سال تک قید کی سزا ہے۔ اتوار کے روز، ایک سفید پالکی کو گالف کورس روڈ پر تیزی سے دائیں طرف مڑتے ہوئے اور ہیلمٹ پہنے ہوئے سیا سے ٹکراتے ہوئے دیکھا گیا۔ اسے سڑک پر پھینک دیا گیا، جب کہ اس کی اپریلیا آر ایس ۴۵۷ اسپورٹس بائیک پھسل گئی۔

Continue Reading

جرم

گروگرام ہٹ اینڈ رن: خاتون بائیکر کے پولیس سے رجوع کرنے کے بعد ایف آئی آر میں قتل کی کوشش کا الزام شامل

Published

on

نئی دہلی، 15 ستمبر گروگرام کی پولیس نے منگل کو خاتون بائیکر سیا کے ساتھ ٹکر مارنے کے سلسلے میں درج کی گئی ایف آئی آر میں قتل کی کوشش کا الزام شامل کیا جب وہ اور اس کے اہل خانہ نے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کے لئے پولیس سے رجوع کیا۔ پولیس نے گالف کورس روڈ پر ایک خاتون بائیکر کو ٹکر مارنے والی کار کی ویڈیو کا از خود نوٹس لیا اور سیکٹر 56 تھانے میں مقدمہ درج کیا۔ مکمل تحقیقات کرنے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کرنے کے بعد، انہوں نے بی این ایس کی دفعہ 109 کو قتل کی کوشش کے لیے شامل کیا، جس میں 10 سال تک کی سزا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ملزم کار ڈرائیور کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ گروگرام پولیس نے خبردار کیا کہ لاقانونیت کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے کہا کہ وہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے پابند ہیں۔

سیا کے اہل خانہ کی جانب سے سیکٹر 56 پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو اپنا تحریری بیان جمع کرانے کے بعد یہ پیشرفت ہوئی ہے۔ پولیس تفتیش کے ایک حصے کے طور پر اس کا تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کر رہی ہے۔ دن کے اوائل میں، آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے، دیپانکر نے کہا، “کل، ہم نے سیا کا تحریری بیان سیکٹر 56، گروگرام کے ایس ایچ او کو جمع کرایا، آج، ایس ایچ او خود اس کا زبانی بیان ریکارڈ کرنے کے لیے یہاں آ رہے ہیں۔ سیا کو شدید درد کا سامنا ہے، اس کے پٹھوں میں بھی دباؤ ہے اور اس کے پٹھوں میں تناؤ بھی ہے۔ ہم نے ایس ایچ او سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کا بیان ریکارڈ کرائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان اپنی وضاحت دے سکتے ہیں، “وہ اپنی وضاحت دے سکتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہاں کیمرے نہیں تھے، لیکن آپ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ جب بھی کوئی لین بدلتا ہے، وہ آہستہ آہستہ ایسا کرتا ہے،” انہوں نے کہا، “اگر کوئی غلطی سے کسی کو ٹکر مارتا ہے، تو وہ رک جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔ دیپنکر نے کہا کہ سیا نے تصدیق کی ہے کہ کار کے اندر چار لوگ تھے اور ان کے دو چہرے واضح طور پر دیکھے گئے تھے۔

“سیا نے تصدیق کی کہ کار کے اندر چار لوگ موجود تھے۔ اس نے دو لوگوں کو بہت واضح طور پر دیکھا۔ اب اس نے میڈیا کو اپنا بیان دیا ہے۔ وہ ون آن ون انٹرویو بھی دے گی،” انہوں نے کہا۔ اس نے مزید کہا کہ سیا اس واقعے کے بعد جسمانی درد کا سامنا کر رہی تھی، “اس کے جسم میں درد ہے،” انہوں نے کہا۔ دریں اثنا، ہریانہ کے وزیر گورو گوتم نے یقین دلایا کہ جو بھی پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مجرم کو پکڑا جائے گا، چاہے وہ میرے ہی خاندان کا ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی پکڑے جائیں گے۔” تاہم، ملزم کلیان بیسلا کے خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکیل نوین بیسلا نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ محض ایک حادثہ تھا اور انہوں نے اس الزام سے انکار کیا کہ وہ ان کے مؤکل کے خلاف ہیں۔ میرے دوست نے اس طرح اشارہ کیا کہ جب اس نے گاڑی کی رفتار کو تھوڑا سا بڑھایا تو اس نے گاڑی کا کنٹرول کھو دیا، اور اس سے زیادہ کوئی بات نہیں ہے۔

ہریانہ کے پلوال سے بات کرتے ہوئے، بیسلا نے مزید کہا، “یہ سب باتیں جھوٹی ہیں، وہ ایسا کچھ نہیں کر رہا تھا، بلکہ وہ انہیں سست کرنے کے لیے کہہ رہا تھا، اور کہہ رہا تھا، ‘آپ بائک کو اچھی طرح سے چلائیں، لیکن رفتار کم کریں۔’

Continue Reading
Advertisement

رجحان