Connect with us
Tuesday,06-January-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

جموں۔کشمیر میں کووڈ19 کے چار نئے معاملات آئے سامنے

Published

on

Covid-19

جموں و کشمیر میں ابھی بھی کورونا وائرس کے اکا دُکا واقعات سامنے آرہے ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق کل جموں و کشمیر میں کووڈ کے چار نئے معاملات سامنے آئے جن میں سے تین کا تعلق کشمیر صوبے سے اور ایک کا تعلق جموں صوبے سے ہے۔ اس طرح یو ٹی میں کوروناوائرس کے مُثبت معاملوں کی تعداد 4 لاکھ 79 ہزار 323 تک پہنچ گئی ہے۔ آج مزید چارافراد صحت یاب ہوئے جو کشمیر صوبے سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ٹیکہ کاری مہم کے تحت گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں یو ٹی میں آٹھ سو سنتیس افراد کو کووڈ مخالف ٹیکے بھی لگوائے گئے جس سے یو ٹی میں لگائے گئے ان ٹیکوں کی مجموعی تعداد 2 کروڈ 47 لاکھ 08 ہزار 666 ہوگئی ہے۔ اسکے علاوہ جموں و کشمیر میں اٹھارہ سال کی عمر کی سو فی صد آبادی کو کورونا سے بچائو کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔

اس وقت صوبہ جموں میں پانچ اور کشمیر صوبے میں نو معاملات ایکٹو ہیں جن کا مختلف اسپتالوں میں علاج و معالجہ جاری ہے۔ جموں و کشمیر میں کووڈ کی بیماری سے مرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سات ہزار پچاسی تک پہنچ گئی ہے جنمیں سے دو لاکھ چار سو تینتیس کا تعلق کشمیر صوبے سے جبکہ دو لاکھ تین سو باون کا تعلق جموں صوبے سے تھا۔ کوو ڈ کی بیماری میں مبتلا ہوئے جموں و کشمیر کے چار لاکھ چوتھر ہزار پانچ سو چوبیس افراد ابھی تک صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔ سفری بنیادوں اور مثبت مریضوں کے کنٹیکٹ میں آنے کی بنیادوں پر کووڈ کے دوران اڑسٹھ لاکھ اکتالیس ہزار نو سو سڑسٹھ افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کووڈ 19 ہیلپ لائین پر رابط کرکے علاجف و معالجے کی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر لوگ چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ایمرجنسی ایمبولنس خدمات کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

واضح رہے جہاں ملک میں اب کووڈ کے معاملات میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے وہیں جموں و کشمیر میں بھی کووڈ کی صورتحال میں کافی کمی واقع ہوئی ہے تاہم جمون و کشمیر انتطامیہ اس مرض پر قابو پانے کے لئے مختلف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ دوبارہ یہ بیماری یو ٹی میں پھیلنے نہ پائے۔ اسکے لئے لوگوں کو بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔

سیاست

ممبئی بلدیاتی انتخابات سیاسی پارٹیوں میں بغاوتوں کا سلسلہ دراز

Published

on

Shinde

ممبئی بلدیاتی انتخابات سے قبل پارٹی سے ناراض لیڈران کی دیگر پارٹیوں میں ہجرت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے. مہاراشٹر نونرمان سینا کو بلدیاتی انتخاب سے قبل زبردست جھٹکا لگا ہے. ایم این ایس کے کئی لیڈران نے شیوسینا شندے سینا میں شمولیت اختیار کرلی ہے, اس کے ساتھ ہی راج ٹھاکرے کے قریبی سنتوش دھوری نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی. اس کے بعد بھی اب پارٹی تبدیلی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور ایم این ایس کے کئی اعلیٰ لیڈران نے شیوسینا ایکناتھ شندے میں شمولیت اختیار کر کے پارٹی سے بغاوت کا علم بلند کیا تھا۔ ممبئی میں بی ایم سی الیکشن سے قبل راج اور ادھو ٹھاکرے نے انتخابی اتحاد کیا تھا, لیکن ان پارٹیوں کے باغی لیڈران اب بھی پارٹی سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں, جس کے سبب دونوں پارٹیوں میں بغاوتوں کا سلسلہ دراز ہے ٹکٹ نہ ملنے سے نالاں کئی لیڈران اپنی پارٹی کا دامن چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے جنرل سکریٹری راجا بھاؤ چوگلے، ایم این ایس کے ترجمان ہیمنت کامبلے، ایم این ایس چترپت سینا کے جنرل سکریٹری راہل توپالونڈھے، مہاراشٹر نو نرمان ودیارتھی سینا سندیش شیٹی، منور شیخ، اشیش مارک، پرتھمیش بنڈیکر، سنتوش یادو نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی موجودگی میں شیوسینا میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر شندے نے ان سب کا پارٹی میں خیرمقدم کیا اور ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شیو سینا کے جنرل سکریٹری راہل شیوالے، شیو سینا سکریٹری سوشانت شیلر، شیو سینا کی ترجمان شیتل مہاترے اور شیوسینا کے تمام مقامی عہدیدار اور کارکنان موجود تھے۔

Continue Reading

سیاست

ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات 2025 – 26 : مرکزی الیکشن آفس میں ووٹر کی تصاویر کے ساتھ حتمی ووٹر لسٹیں فروخت کے لیے دستیاب ہیں

Published

on

ELECTOR

ممبئی ریاستی الیکشن کمیشن، مہاراشٹر نے میونسپل کارپوریشن عام انتخابات 2025 – 26 کے سلسلے میں پولنگ اسٹیشن وار ووٹر لسٹوں کو شائع کرنے کے لیے ایک نظرثانی شدہ پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ مکمل میونسپلٹی وار ووٹر لسٹ جیسے ہی مکمل ہو جائے شائع کی جائے۔ اسی مناسبت سے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کو آج 6 جنوری 2026 کو ریاستی الیکشن کمیشن سے 227 وارڈوں میں سے 226 کی پولنگ اسٹیشن وار ووٹر لسٹ موصول ہوئی ہے، پولنگ اسٹیشن وار ووٹر کی تصویروں کے ساتھ مذکورہ فہرستیں 7 جنوری 2026 بروز بدھ سے متعلقہ مرکزی الیکشن آفس میں فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔ میونسپل ایڈمنسٹریشن شہریوں/ سیاسی جماعتوں سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ یہ ووٹر لسٹیں متعلقہ مرکزی الیکشن آفس سے خریدیں۔

Continue Reading

سیاست

اگر ادھو ٹھاکرے بلامقابلہ منتخب ہوئے تو سب ٹھیک ہے، اگر کوئی اور منتخب ہوا تو یہ غلط ہے : دیپک کیسرکر

Published

on

Deepak

ممبئی، بلدیاتی انتخابات کے دوران ادھو ٹھاکرے گروپ کے رہنما مسلسل انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی وہ غلط معلومات پھیلا رہے ہیں تو کبھی چھترپتی شیواجی مہاراج کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔ شیوسینا کے سابق وزیر اور رکن اسمبلی دیپک کیسرکر نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور یو بی ٹی کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ممبئی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں دیپک کیسرکر نے کہا کہ یو بی ٹی لیڈر مہاراشٹر کو بدنام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ترقی سے متعلق کوئی منصوبہ نہیں ہے، اس لیے وہ مسلسل گمراہ کن اور غیر ضروری بیانات دے رہے ہیں۔ شیوسینا کی قومی ترجمان شائنا این سی بھی پریس کانفرنس میں موجود تھیں۔

دیپک کیسرکر نے یو بی ٹی لیڈروں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ادھو ٹھاکرے بلامقابلہ منتخب ہو سکتے ہیں تو دوسرے امیدوار کیوں نہیں؟ انتخابی عمل پر بار بار سوال اٹھانا غلط ہے۔ الیکشن کمیشن مکمل شفافیت کے ساتھ کام کرتا ہے اور اسی شفافیت کے تحت تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ یو بی ٹی کے پاس کوئی ترقیاتی ایجنڈا نہیں ہے، جب کہ مہایوتی ترقیاتی مسائل کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام کا مہایوتی پر بھروسہ ہے۔

سنجے راوت کے بیانات پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دیپک کیسرکر نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کا تعلق نہ صرف مہاراشٹر سے ہے بلکہ پورے ملک سے ہے۔ سنجے راوت جس طرح کی سیاست عظیم شخصیت کے نام پر کھیل رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی صحت اب بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اسے اپنا از سر نو جائزہ لینا چاہیے تاکہ وہ اس طرح کے بیہودہ بیانات دینا بند کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کو وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں اعلیٰ ترین اعزاز دیا گیا ہے۔ شیواجی مہاراج کا نشان ہندوستانی بحریہ کے نشان پر شامل کیا گیا تھا، ایسا اقدام اس سے قبل کسی حکومت نے نہیں کیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان