Connect with us
Sunday,30-November-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں کے سابق میئر حاجی نجم الدین کجھور والے کا انتقال

Published

on

(خیال اثر )
آج تحریروں اور شوشل میڈیا کے ذریعے شہر میں یہ خبر پھیلی کہ سابق میئر حاجی نجم الدین کجھور والے اس دار فانی سے کوچ کرگئے.
اس روح فرسا خبر نے شہر کو عالم حیرانی میں ڈال دیا کہ چند دنوں پہلے ہی تو ان کی علالت کی خبریں شہر میں گردش کررہی تھیں. علاج و معالجہ کے لئے ان کے اہل خانہ نے ممبئی تک سفر کیا لیکن دوران علاج ہی وہ انتقال کر گئے. ان کی میت مالیگاؤں لے کر آنے کے بعد یہاں کے بڑا قبرستان میں بعد نماز ظہر تدفین کی گئی. جلوس جنازہ میں ہر مکتب فکر کے ہزارہا افراد شریک نے شریک رہتے ہوئے ان سے چاہت کا ثبوت دیا. مہاراشٹر اور مدھیہ پردیس کی سرحد پر واقع ایک چھوٹے سے دیہات "راویر "سے ایک انتہائی سیدھا سادھا شخص تلاش معاش کے سلسلے میں اپنے پیروں سے سفر باندھے ہوئے جب مالیگاؤں پہنچا تو وہ یہیں سکونت پذیر ہو گیا. اس شخص کی محنت کشی اور جنوں طرازی میں انتہائی نچلی سطح سے اپنی زندگی کا آغاز کیا. میونسپل اسکولوں کے باہر بچوں کی پسندیدہ چیزیں ٹھیلہ گاڑیوں پر فروخت کرتے ہوئے اس کی قسمت کا ستارہ اوج پر پہنچا. سادگی پسند اور حلیم الطبع شخصیت کا نام نجم الدین تھا. قسمت بدلتے ہی انھوں نے انناس اور کجھوروں کی تجارت شروع کی. دونوں کاروبار انھیں راس آئے اور جلد ہی ان کا شمار کھجور اور انناس کے تاجروں میں ہونے لگا. سادگی پسند نجم الدین کی تجارت کا اصول ایمانداری پر محیط تھا جس میں انھیں عالم غیب سے تعاون ملتا گیا. اس دوران انھوں نے حج کی سعادت بھی حاصل کی اور اس طرح ان کے نام کے ساتھ لفظ حاجی بھی چسپاں ہو گیا. راویر سے آنے والے اس شخص کی شناخت شہر اور قرب و جوار میں حاجی نجم الدین کجھور والا کے نام سے ہونے لگی. ان کی زندگی کے انداز وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے گئے لیکن ان کی سادگی اور ملنساری میں کوئی فرق نہیں آیا. ابتدائی ایام کے دوستوں خصوصاً رحمان ہوٹل والے سے روز بروز ان کی ملاقاتیں جاری رہیں جس میں یہ گھنٹوں بیٹھے ایک دوسرے سے محو گفتگو رہا کرتے تھے. بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ جب اصلاح سیاست کے علمبرداروں نے بیت المال کی حفاظت کا نعرہ لگا کر عملی سیاست میں اپنے قدم رکھے تو میونسپل کارپوریشن الیکشن میں زبردستی انھیں اس خار زار میں کھینچ لایا گیا. اہالیان محلہ نے انھیں کثیر ووٹوں سے کامیاب بھی کیا. اصلاح سیاست کے علمبرداروں نے جب زمام اقتدار اپنے قبضے میں رکھنا چاہا تو خطیر روپیہ خرچ کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوا ایسے نامسائد حالات میں بصد اصرار حاجی نجم الدین کو صلیب کی زینت بنا دیا گیا. اقتدار سنبھالنے کے بعد حاجی نجم الدین کو یہ احساس ہوا کہ یہ تو وہ دلدل ہے جس میں قدم رکھتے ہی آدمی گردن تک پھنس جاتا ہے اور کناروں سے کوئی مدد کرنے والا بھی نا ہی ہاتھ بڑھاتا ہی نا ہی کوئی سہارا دیتا ہے حالانکہ سیاست خصوصاً میونسپل سیاست سے نابلد حاجی نجم الدین کا کروڑوں روپیہ اقتدار کا تاج پہننے میں خرچ ہوگیا جس کی واپسی کے لئے کہیں سے کوئی سبیل نظر نہیں آتی تھی حالانکہ اس کڑے وقت میں سابق صدربلدیہ حاجی یونس عیسی نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے کروڑوں نا سہی لیکن کچھ نہ کچھ تو سہارا دیا. مالیگاؤں کارپوریشن کے میئر بننے کے بعد بھی حاجی نجم الدین سادگی و ملنساری کے وہی پیکر رہے جو ان کا وطیرہ خاص تھا.
ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے کے لئے مرکزی حکومت کی گھرکل یوجنا کی اسکیم جب مالیگاؤں کے لئے بھی مختص کی گئی تو حاجی نجم الدین نے میئر کے تخت پر براجمان تھے اس وقت کے کمشنر سدھیر روات کو سیاست کے چکریو میں الجھایا گیا تو یہ اسکیم خطرے میں پڑ گئی تھی کیونکہ دوسرے دن انھیں دہلی پہنچ کر سارے کاغذات اور لائحہ عمل مرکزی حکومت کے محمکہ تعمیرات میں داخل کرنا انتہائی ضروری تھی ورنہ یہ اسکیم مالیگاؤں کے دامن سے بالکل اسی طرح چھن جاتی جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ مالیگاؤں کی مٹھیوں سے چھین کر اورنگ آباد کی گود میں ڈال دی گئی.
آج ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے میں حاجی نجم الدین کی سب سے بڑی قربانی رہی ہے حالانکہ بیشتر سیاست دانوں نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اس کی بنیاد گزاری خود سے منسوب کرنا چاہی لیکن تاریخ شاہد رہے گی کہ ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد گزاری میں حاجی نجم الدین کی قربانیاں اظہر من الشمس تھیں اور ہمیشہ رہیں گے. آج جب کہ حاجی نجم الدین اس دنیا میں نہیں رہے اصلاح سیاست اور بیت المال کی حفاظت کا نعرہ لگانے والوں کو اس کا احساس ضرور ہوگا کہ ہم نے ایک دیانتدار اور سادگی پسند, ملنسار انسان دوست کو کھو دیا ہے جس کا ثانی ملنا آج بلکہ آنے والے وقتوں میں بھی ناممکن ہے. مرحوم حاجی نجم الدین تم تاریخ کے صفحات پر سنہرے لفظوں میں یاد کئے جاؤ گے. آج نہیں تو کل شہر اور اہالیان سیاست کو اس عظیم خسارے کا ضرور احساس ہوگا اور بے حس سیاست داں ضرور بہ ضرور حاجی نجم الدین کی لحد پر پھولوں کی سوغات لئے پہنچں گے .

جرم

جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔

Continue Reading

بزنس

ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

Published

on

mini-compactor

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔


ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔


کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔


گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

Published

on

mahada

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔

ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔

  • کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
  • گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
  • اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
  • کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات

ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :

ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—

  • تھرڈ پارٹی حقوق
  • بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
  • دیگر تمام مالی ذمہ داریاں

ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔

حکومت نے ہدایت دی ہے—

  • ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
  • اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
  • بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔

مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔

جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com