(جنرل (عام
مالیگاؤں کے سابق میئر حاجی نجم الدین کجھور والے کا انتقال
(خیال اثر )
آج تحریروں اور شوشل میڈیا کے ذریعے شہر میں یہ خبر پھیلی کہ سابق میئر حاجی نجم الدین کجھور والے اس دار فانی سے کوچ کرگئے.
اس روح فرسا خبر نے شہر کو عالم حیرانی میں ڈال دیا کہ چند دنوں پہلے ہی تو ان کی علالت کی خبریں شہر میں گردش کررہی تھیں. علاج و معالجہ کے لئے ان کے اہل خانہ نے ممبئی تک سفر کیا لیکن دوران علاج ہی وہ انتقال کر گئے. ان کی میت مالیگاؤں لے کر آنے کے بعد یہاں کے بڑا قبرستان میں بعد نماز ظہر تدفین کی گئی. جلوس جنازہ میں ہر مکتب فکر کے ہزارہا افراد شریک نے شریک رہتے ہوئے ان سے چاہت کا ثبوت دیا. مہاراشٹر اور مدھیہ پردیس کی سرحد پر واقع ایک چھوٹے سے دیہات “راویر “سے ایک انتہائی سیدھا سادھا شخص تلاش معاش کے سلسلے میں اپنے پیروں سے سفر باندھے ہوئے جب مالیگاؤں پہنچا تو وہ یہیں سکونت پذیر ہو گیا. اس شخص کی محنت کشی اور جنوں طرازی میں انتہائی نچلی سطح سے اپنی زندگی کا آغاز کیا. میونسپل اسکولوں کے باہر بچوں کی پسندیدہ چیزیں ٹھیلہ گاڑیوں پر فروخت کرتے ہوئے اس کی قسمت کا ستارہ اوج پر پہنچا. سادگی پسند اور حلیم الطبع شخصیت کا نام نجم الدین تھا. قسمت بدلتے ہی انھوں نے انناس اور کجھوروں کی تجارت شروع کی. دونوں کاروبار انھیں راس آئے اور جلد ہی ان کا شمار کھجور اور انناس کے تاجروں میں ہونے لگا. سادگی پسند نجم الدین کی تجارت کا اصول ایمانداری پر محیط تھا جس میں انھیں عالم غیب سے تعاون ملتا گیا. اس دوران انھوں نے حج کی سعادت بھی حاصل کی اور اس طرح ان کے نام کے ساتھ لفظ حاجی بھی چسپاں ہو گیا. راویر سے آنے والے اس شخص کی شناخت شہر اور قرب و جوار میں حاجی نجم الدین کجھور والا کے نام سے ہونے لگی. ان کی زندگی کے انداز وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے گئے لیکن ان کی سادگی اور ملنساری میں کوئی فرق نہیں آیا. ابتدائی ایام کے دوستوں خصوصاً رحمان ہوٹل والے سے روز بروز ان کی ملاقاتیں جاری رہیں جس میں یہ گھنٹوں بیٹھے ایک دوسرے سے محو گفتگو رہا کرتے تھے. بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ جب اصلاح سیاست کے علمبرداروں نے بیت المال کی حفاظت کا نعرہ لگا کر عملی سیاست میں اپنے قدم رکھے تو میونسپل کارپوریشن الیکشن میں زبردستی انھیں اس خار زار میں کھینچ لایا گیا. اہالیان محلہ نے انھیں کثیر ووٹوں سے کامیاب بھی کیا. اصلاح سیاست کے علمبرداروں نے جب زمام اقتدار اپنے قبضے میں رکھنا چاہا تو خطیر روپیہ خرچ کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوا ایسے نامسائد حالات میں بصد اصرار حاجی نجم الدین کو صلیب کی زینت بنا دیا گیا. اقتدار سنبھالنے کے بعد حاجی نجم الدین کو یہ احساس ہوا کہ یہ تو وہ دلدل ہے جس میں قدم رکھتے ہی آدمی گردن تک پھنس جاتا ہے اور کناروں سے کوئی مدد کرنے والا بھی نا ہی ہاتھ بڑھاتا ہی نا ہی کوئی سہارا دیتا ہے حالانکہ سیاست خصوصاً میونسپل سیاست سے نابلد حاجی نجم الدین کا کروڑوں روپیہ اقتدار کا تاج پہننے میں خرچ ہوگیا جس کی واپسی کے لئے کہیں سے کوئی سبیل نظر نہیں آتی تھی حالانکہ اس کڑے وقت میں سابق صدربلدیہ حاجی یونس عیسی نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے کروڑوں نا سہی لیکن کچھ نہ کچھ تو سہارا دیا. مالیگاؤں کارپوریشن کے میئر بننے کے بعد بھی حاجی نجم الدین سادگی و ملنساری کے وہی پیکر رہے جو ان کا وطیرہ خاص تھا.
ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے کے لئے مرکزی حکومت کی گھرکل یوجنا کی اسکیم جب مالیگاؤں کے لئے بھی مختص کی گئی تو حاجی نجم الدین نے میئر کے تخت پر براجمان تھے اس وقت کے کمشنر سدھیر روات کو سیاست کے چکریو میں الجھایا گیا تو یہ اسکیم خطرے میں پڑ گئی تھی کیونکہ دوسرے دن انھیں دہلی پہنچ کر سارے کاغذات اور لائحہ عمل مرکزی حکومت کے محمکہ تعمیرات میں داخل کرنا انتہائی ضروری تھی ورنہ یہ اسکیم مالیگاؤں کے دامن سے بالکل اسی طرح چھن جاتی جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ مالیگاؤں کی مٹھیوں سے چھین کر اورنگ آباد کی گود میں ڈال دی گئی.
آج ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے میں حاجی نجم الدین کی سب سے بڑی قربانی رہی ہے حالانکہ بیشتر سیاست دانوں نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اس کی بنیاد گزاری خود سے منسوب کرنا چاہی لیکن تاریخ شاہد رہے گی کہ ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد گزاری میں حاجی نجم الدین کی قربانیاں اظہر من الشمس تھیں اور ہمیشہ رہیں گے. آج جب کہ حاجی نجم الدین اس دنیا میں نہیں رہے اصلاح سیاست اور بیت المال کی حفاظت کا نعرہ لگانے والوں کو اس کا احساس ضرور ہوگا کہ ہم نے ایک دیانتدار اور سادگی پسند, ملنسار انسان دوست کو کھو دیا ہے جس کا ثانی ملنا آج بلکہ آنے والے وقتوں میں بھی ناممکن ہے. مرحوم حاجی نجم الدین تم تاریخ کے صفحات پر سنہرے لفظوں میں یاد کئے جاؤ گے. آج نہیں تو کل شہر اور اہالیان سیاست کو اس عظیم خسارے کا ضرور احساس ہوگا اور بے حس سیاست داں ضرور بہ ضرور حاجی نجم الدین کی لحد پر پھولوں کی سوغات لئے پہنچں گے .
ممبئی پریس خصوصی خبر
آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پونے امبیڈکر جینتی پروگرام میں نکسلیوں کا ‘ہڈما’ گانے پر رقص, بی بی اے کے دو طلبا کے خلاف کیس درج

ممبئی: ممبئی پونے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جینتی کے موقع پر منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام میں نکسلائیٹ ہدما ماڈوی پر مبنی گانے پر مبنی ڈانس پرفارمنس منظر عام پر آنے سے ہلچل مچ گئی اسی مناسبت سے پولس نے کیس بھی درج کر لیا ہے لیکن گانے اور رقص پر کیس درج کرنے پر اب سوشل میڈیا پر یہ سوال عام ہے کہ آیا کیا گانے اور رقص کو قابل اعتراض تصور کر کے کیس درج کرنا قانونی طور درست ہے ؟ ہڈما گانے پر وشرانت واڑی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کرن نارائن گوماسے (عمر 22 سال، آبائی باشندہ دیچلی، تلہ ہری، ضلع گڈچرولی، فی الحال بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل، ویشرانت واڑی میں مقیم ہیں) اور سرینواس ہنومنت کماری (عمر 23 سال، آبائی باشندہ جھنگنور، تال. گچھی، اس وقت اسی سرونڈنگ، ضلع سرونڈنگ) ہاسٹل) کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق امبیڈکر جینتی کے موقع پر 11 اپریل کو بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل وشرانت واڑی میں ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ہدما مادوی پر مبنی گانے پر رقص کا مظاہرہ کیا گیا،جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھا اور پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کی بٹالین نمبر 1 کی کمانڈر بھی تھا۔پولیس نے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں کارروائی کی ہے جس سے ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرہ ہے ۔ اس معاملے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 197(1)(ڈی) 353(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وشرانت واڑی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس سب انسپکٹر بھوسلے معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں ہلچل پیدا کردی ہے اور علمی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ محض گانے پر رقص سے کیس درج کر لیا گیا کیا یہ اظہار آزادی کے منافی نہیں ہے ؟
ممبئی پریس خصوصی خبر
ڈونگری 9 غیر مجاز دکانوں پر محکمہ بی کی انہدامی کارروائی

ممبئی بی’ ڈپارٹمنٹ کے تحت، حال ہی میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے سردار ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری علاقے میں 9 غیر مجاز دکانوں، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر لگائے گئے لوہے کے ستون، دکانوں کی غیر مجاز نام کی تختیوں اور دیگر تجاوزات پر بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی میں اسسٹنٹ کمشنر یوگیش دیسائی کی قیادت میں کی گئی۔یہ پایا گیا کہ ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری کے علاقے میں ‘بی’ ڈپارٹمنٹ میں فٹ پاتھ پر غیر مجاز دکانیں اور تجاوزات پیدل چلنے والوں کے لیے رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ اس پس منظر میں میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ انتظامی ڈویژن (وارڈ) کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول اور لائسنسنگ ڈیپارٹمنٹس نے مشترکہ طور پر ایک مہم چلائی۔ اس آپریشن کے دوران 9 غیر مجاز دکانیں، فٹ پاتھ پر قائم تجاوزات، دکانوں کی غیر مجاز اضافی تعمیرات، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر نصب لوہے کے ستون اور دکانوں کی غیر مجاز نام تختیاں ہٹا دی گئیں۔ اس دوران علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔
اس آپریشن میں ’بی‘ ایڈمنسٹریٹو ڈویژن کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول، لائسنسنگ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین نے حصہ لیا۔ اس وقت ڈونگری پولس اسٹیشن کی طرف سے مناسب سیکورٹی تعینات کی گئی تھی۔ ادھر انتظامیہ واضح کر رہی ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
