Connect with us
Monday,16-March-2026

(جنرل (عام

ڈیرہ مینیجرقتل کیس میں گرمیت رام رحیم سمیت پانچ افراد مجرم قرار

Published

on

Gavel

ہریانہ کے پنچکولہ کی سینٹرل بیوروآف انویسٹگیشن (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت نےسرسا کے ڈیرہ سچا سودا مینجمنٹ کمیٹی کے رکن رنجیت سنگھ قتل کیس کے تقریباً 19 سال پرانے معاملے میں ڈیرہ کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ سمیت پانچ ملزمان کو آج قصوروار قرار دیتے ہوئے سزا سنانے کی تاریخ 12 اکتوبر مقرر کر دی ہے۔

سی بی آئی کے جج ڈاکٹر سشیل کمار گرگ نے استغاثہ اور دفاع کے درمیان تقریبا دو گھنٹے کے بحث سننے کے بعد ڈیرہ سربراہ کے علاوہ کرشنا کمار، اوتار، جسویر اور سبدل کو مذکورہ معاملے میں مجرم قرار دیا۔ ان میں سے ڈیرہ سربراہ اور کرشنا کمار ویڈیو کانفرنسنگ سے اور اوتار، جسویر و سبدل عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہوئے۔ ایک اور ملزم اندرسین کی موت ہو چکی ہے۔

عدالت نے اس سے پہلے 12 اگست کو اس کیس کی سماعت مکمل کرلی تھی، اور فیصلہ سنانے کے لیے 26 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی، لیکن بعد میں اسے 8 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا۔

ڈیرہ سربراہ کو اس سے قبل ڈیرہ کی سادھوی کے جنسی استحصال معاملے میں 25 اگست 2017 کو مجرم قرار دیتے ہوئے 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اسے سرسا کے صحافی رام چندر چھترپتی قتل کیس میں بھی عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ یہ دونوں سزائیں انہیں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جگدیپ سنگھ نے سنائی تھی۔ مسٹر جگدیپ سنگھ کا اب اس عدالت سے تبادلہ ہوگیا ہے۔ ان کی جگہ چنڈی گڑھ سے سی بی آئی کے خصوصی جج رہے ڈاکٹر سشیل گرگ کو پنچکولہ سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں مقرر کیا گیا تھا۔ جبکہ ڈیرہ سربراہ ان دونوں سزاؤں میں روہتک کی سناریا جیل میں بند ہے۔

ڈیرہ کی انتظامی کمیٹی کے رکن رنجیت سنگھ کو 10 جولائی 2002 کو قتل کیا گیا تھا۔ رنجیت سنگھ پرشبہ تھا کہ سادھوی جنسی زیادتی کیس میں گمنام خط اس نے اپنی بہن سے ہی لکھوایا تھا۔ پولیس تفتیش سے غیر مطمئن رنجیت کے والد نے جنوری 2003 میں پنجاب – ہریانہ ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کر کے اس قتل کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں سی بی آئی نے معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد ملزمان پر کیس درج کیا تھا۔ اس معاملے میں سال 2007 میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں ملزمان پر الزامات طے کیے گئے تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی کریٹ سومیا کے دباؤ میں کیس درج, خوانچہ فروشوں سمیت دیگر پر کارروائی

Published

on

ممبئی: ملا ڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی پر پولس نے کریٹ سومیا کی شکایت کے بعد کیس درج کرلیا ہے اور اس معاملہ ریلوے کی ملکیت پر نماز ادا کرنے پر ملزمین کو نوٹس بھی ارسال کردی ہے بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے ریلوے اسٹیشن پر نماز کی ادائیگی پر اعتراض کرتے ہوئے فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا تھا اتنا ہی نہیں ہے اسے مراٹھی ممبئی کو مسلم ممبئی قرار دینے کی سازش بھی قرار دیا تھا اس کے بعد کریٹ سومیا نے جائے وقوع کا بھی معائنہ کیا اور پھر ریلوے پولس میں شکایت درج کروانے کےلیے ایک تحریری شکایت بھی کی تھی ایک مسافر نے سوشل میڈیا پرنماز کا ویڈیو جاری کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد کریٹ سومیا نے اس پر نوٹس لیا اور پھر کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ممبئی میں جس طرح سے نماز پر کریٹ سومیا نے اعتراض درج کرایا ہے اسی طرز پر کیا وہ ریلوے میں بھجن منڈلی اور دیگر خرافات پر بھی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ ریلوے پولس نے ملاڈریلوے اسٹیشن پر نماز
کے خلاف کارروائی شروع کردی پولس نے اس معاملے میں اسٹیشن ماسٹر کی شکایت کے بعد مشتاق بابو لون (عمر 35) ہاکر، صہیب صداقت ساہا (عمر 25) ہاکر، بسم اللہ دین انصاری (عمر 43) ہاکر اور دیگرکے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ ریلوے پروٹیکشن فورس آر پی ایف نے ریلوے ایکٹ کی دفعہ 147 کے تحت شکایت درج کی ہے۔ریلوے پولیس جی آر پی نے بی این ایس کی دفعہ 168 کے تحت نوٹس جاری کیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ پولس کی اس کارروائی کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریلوے پولس نے جس طرح کریٹ سومیا کے دباؤ میں کارروائی کرتے ہوئے کیس درج کر لیا ہے کیا اسی طرز پر ریلوے میں غیر قانونی بھجن منڈلیوں کے خلاف کارروائی ہو گی ۔ اس معاملہ میں جن ملزمین پر کیس درج کیا گیا ہے وہ خوانچہ فروش ہے اور اس کے ساتھ پولس اس معاملہ مزید تفیش میں مشغول ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان