Connect with us
Friday,26-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

جمعہ کو کسانوں کا بھارت بند

Published

on

kisan...2

راجستھان کے الور میں زراعتی قوانین کے خلاف شاہجہاں پور-ہریانہ سرحد پر کسانوں کا احتجاج کرتے ہوئے 100 دن ہو چکے ہيں، اور اب 26 مارچ کو بھارت بند کا اعلان کیا گیا ہے۔بند کو کامیاب بنانے کے لئے کسان لیڈروں نے بند کو کامیاب بنانے کے لئے ضلع بھر کے تجارتی اداروں سے رابطہ کیا ہے۔ بند سے ایک روز قبل جمعرات کے روز کسان رہنماؤں نے بہروڑ، نیمرانہ، الور سمیت مختلف مقامات پر تاجروں سے ملاقاتیں کیں۔ بارڈر پر بیٹھے کسانوں نے انتباہ دیا ہے کہ وہ شاہراہ پر ٹریفک جام رکھیں گے۔

مقامی انتظامیہ بھارت بند کے حوالے سے الرٹ ہے۔ اس سے قبل ٹول فری کے دن کسانوں نے ضلع بھر میں مختلف مقامات پر احتجاج کیا تھا۔ کسان رہنما راجہ رام میل اور بلویر چلر نے بتایا کہ ملک گیر بند کی تیاریاں جاری ہیں۔ ہر جگہ پر کاروباری تنظیموں سے مدد مل رہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی میں زہریلی آلودگی اور مانخورد میں ‘ایس ایم ایس’ کمپنی کو فوری طور پر بند کرو, ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کا اسمبلی میں جارحانہ مطالبہ

Published

on

abu asim

ممبئی : سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج اسمبلی میں بھیونڈی میں پاورلوم انڈسٹری کی کساد بازاری اور بڑھتی ہوئی خطرناک زہریلی آلودگی کے ساتھ ساتھ مانخورد شیوا جی میں ‘ایس ایم ایس’ ویسٹ پروسیسنگ پروجیکٹ اور سیمنٹ پلانٹ کی وجہ سے مقامی لوگوں کی صحت کو درپیش بڑے خطرے پر سخت جارحانہ موقف اپنایا۔ انہوں نے دونوں علاقوں میں آلودگی کنٹرول بورڈ (ایم پی سی بی) اور متعلقہ حکام کے درمیان ملی بھگت کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیااسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ایم ایل اے اعظمی نے درج ذیل اہم مسائل اور مطالبات کو اٹھایا۔ بھیونڈی میں ٹیکسٹائل کی صنعت بحران کا شکار ہے۔ کوئلے کے بجائے پلاسٹک اور زہریلا کچرا جلانے والی کمپنیوں کے خلاف کاغذی کارروائی کی جاتی ہے۔ بھیونڈی ملک میں ٹیکسٹائل کے کاروبار کا ایک بڑا مرکز ہے، لیکن فی الحال یہ کاروبار بہت سست روی کا شکار ہے۔ بھیونڈی میں آلودگی کی سطح دن بہ دن خطرناک ہوتی جارہی ہے۔کوئلے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے یہاں کی کچھ سائزنگ اور رنگنے والی کمپنیاں کوئلے کے بجائے کھلے میں پلاسٹک کے ٹکڑوں، تاروں اور بائیو کیمیکل فضلے کو جلا رہی ہیں۔ اس سے علاقے میں انتہائی زہریلا دھواں پھیل رہا ہے اور شہریوں کے لیے صحت کا سنگین مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ آلودگی کنٹرول بورڈ کے افسران کی ملی بھگت سے ان کمپنیوں کے خلاف کوئی حقیقی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 430 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی، 107 کمپنیوں کو بند کرنے کے احکامات، شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ لیکن حقیقت میں، یہ کمپنیاں اب بھی افراتفری کی حالت میں چل رہی ہیں۔چھوٹی صنعتوں کے لیے سبز ایندھن (پی این جی/سی این جی/ایل پی جی) کے لیے حکومتی سبسڈی کا مطالبہ

وزیر نے آلودگی کو روکنے کے لیے کمپنیوں کو پی این جی، سی این جی یا ایل پی جی جیسے مہنگے ایندھن کا استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم، بھیونڈی میں پاور لوم صنعتیں چھوٹے اور درمیانے سائز کی ہیں اور وہ اس مہنگے ایندھن کو برداشت نہیں کر سکتیں۔ اس لیے اعظمی نے حکومت سے براہ راست سوال کیا کہ کیا حکومت ان چھوٹی صنعتوں کو کوئی خاص سبسڈی یا مالی مدد فراہم کرے گی تاکہ یہ صنعتیں زندہ رہ سکیں اور آلودگی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے غلط معلومات دے کر گمراہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔مانخود شیواجی نگر میں ‘ایس ایم ایس’ کمپنی اور سیمنٹ پلانٹ کب بند ہو گا؟ سرکار واضح کرے۔ ایم ایل اے اعظمی نے ایوان کی توجہ مانخورد شیواجی نگر حلقہ میں انتہائی ناروا صورتحال کی طرف مبذول کرائی۔ ممبئی کا سارا کچرا اس علاقے میں پھینکا جاتا ہے جس کی وجہ سے کیڑے مکوڑے لوگوں کے گھروں حتیٰ کہ کچن تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ حلقے میں 4-4 سیمنٹ (آر ایم سی) پلانٹس اور شادی ہال ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ہزاروں لوگ وہاں آتے ہیں اور اس سیمنٹ کے گرد وغبار نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔اس سے قبل اس وقت کے وزیر نے دسمبر 2022 تک اس ‘ایس ایم ایس’ کمپنی (بائیو میڈیکل ویسٹ پلانٹ) کو مکمل طور پر بند کرنے کا وعدہ کیا تھا اور وہاں ایک بورڈ بھی لگایا گیا تھا۔ تاہم حکومتیں بدلنے کے باوجود یہ کمپنی ابھی تک بند نہیں ہوئی۔

ایم ایل اے اعظمی نے ایوان میں اس آلودگی کی لائیو تصویریں پیش کرتے ہوئے حکومت سے سوال کیا کہ “یہ ایس ایم ایس کمپنی حقیقت میں کب بند ہوگی اور مقامی لوگوں کو اس پریشانی سے کب نجات ملے گی؟ حکومت کو اس کا واضح اور ٹھوس جواب دینا چاہئے”۔ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دونوں علاقوں کے لوگوں کی صحت زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے اور حکومت اس پر صرف کاغذی وعدے نہ کرے بلکہ زمینی سطح پر سخت کارروائی کرتے ہوئے آلودگی پھیلانے والے عناصر پر فوری پابندی عائد کرے۔

Continue Reading

قومی خبریں

یکم جولائی 2026 سے پاسپورٹ بنوانا مہنگا، حکومت ہند نے نئی فیس کا اعلان کر دیا

Published

on

Passport

نئی دہلی، 26 جون : حکومت ہند نے پاسپورٹ درخواستوں کی فیس میں ترمیم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت نئی فیس کا نفاذ یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ نظرِ ثانی شدہ فیس کا اطلاق نئے پاسپورٹ، تجدید (رینیول)، تتکال (تتکال) سروس، اور گمشدہ یا خراب شدہ پاسپورٹ کے متبادل اجرا سمیت مختلف خدمات پر ہوگا۔ نئی شرحوں کے مطابق، بالغ شہریوں کے لیے 36 صفحات والے عام پاسپورٹ کی درخواست فیس 2,500 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ تتکال سروس کے تحت یہی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے 5,000 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ 60 صفحات والے پاسپورٹ کی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئی فیس کی فہرست میں کم عمر درخواست گزاروں، گمشدہ یا خراب شدہ پاسپورٹ کے دوبارہ اجرا، پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ (پی سی سی) اور دیگر متعلقہ خدمات کی فیس میں بھی تبدیلی شامل ہے۔ حکام کے مطابق بالغ افراد کے پاسپورٹ کی مدتِ کار حسبِ معمول 10 سال رہے گی، جبکہ کم عمر افراد کے پاسپورٹ کی میعاد موجودہ قواعد و ضوابط کے مطابق مقرر کی جائے گی۔ نئی فیس کا اطلاق یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد جمع کرائی جانے والی تمام درخواستوں پر ہوگا۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے سے قبل تازہ ترین فیس اور متعلقہ قواعد کی تصدیق ضرور کر لیں تاکہ کسی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رجسٹرڈ ہاکروں کے لیے کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ کا اجراء

Published

on

mayor-ritu

ممبئی میں مقیم حقیقی اور سرکاری طور پر کام کرنے والے ہاکروں کے قیام اور غیر مجاز ہاکروں کو ہٹانے کے لیے برسوں سے زیر التوا مسائل کو حل کرنے کی کوششیں اب کامیاب ہو رہی ہیں۔ ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے کہا کہ اس کے ایک حصے کے طور پر، رجسٹرڈ ہاکروں کے لیے کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ کا نمائندہ اجرا آج منعقد کیا جا رہا ہے۔ عدالت کی ہدایات کے مطابق اور میونسپل اسٹریٹ وینڈرس ایکٹ کی بنیاد پر، کل 99,435 رجسٹرڈ شہری اسٹریٹ وینڈرس (ہاکروں) کو کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ تقسیم کرنے کے عمل کا باقاعدہ افتتاح ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے کیا۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے اسٹینڈنگ کمیٹی ہال میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں قائد ایوان گنیش کھنکر، اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین پربھاکر شندے، شیوسینا کے گروپ لیڈر ایمے گھولے، انڈین نیشنل کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی اور دیگر نے شرکت کی۔ امپروومنٹ کمیٹی کی چیئرپرسن تعلیمی کمیٹی کی چیئرپرسن سندھیا دوشی، راجیشری شرواڈکر، کارپوریٹر دیپ مالا بڈھے، کارپوریٹر پریتی ساٹم، کارپوریٹر شیتل گمبھیر، کارپوریٹر ڈاکٹرسیدہ خان، کارپوریٹر رماکانت رہاٹے، کارپوریٹر تیجندر سنگھ ٹیوانہ، کارپوریٹر شیوکمار جھا، لائسنسنگ سپرنٹنڈنٹ انیل کٹے وغیرہ اس موقع پر موجود تھے۔اس موقع پر ممبئی کے مختلف علاقوں سے تقریباً 100 رجسٹرڈ سٹی اسٹریٹ وینڈرس (ہاکروں) کو میئر ریتو تاوڑے اور مختلف معززین نے کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ فراہم کئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے میئر ریتو تاوڑے نے کہا کہ میئر کا چارج سنبھالنے کے بعد میں نے میونسپل کارپوریشن میں ہاکروں کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ہاکر پالیسی کی تمام معلومات اور موجودہ صورتحال کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ اس سلسلے میں مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوششیں کی گئیں۔

اگرچہ سٹی اسٹریٹ وینڈرز یعنی ہاکر کمیٹی کا الیکشن اگست 2024 میں ہوا تھا لیکن قانونی وجوہات کی بنا پر گنتی کا عمل مکمل نہیں ہو سکاتھاعدالت اس عمل کو آگے بڑھانے کی اجازت دے اور محکمہ قانون کو اس سلسلے میں کوششیں کرنے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد گنتی کا عمل مکمل ہو گیا اور سٹی اسٹریٹ وینڈر کمیٹیوں کا مسئلہ حل ہو گیا, عدالت کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق اور مقررہ وقت کے اندر، سٹی اسٹریٹ وینڈرز ایکٹ کی بنیاد پر کل 99,435 ہاکروں میں کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ہم ہاکروں سے متعلق مختلف مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں گے۔ میئر نے کہا کہ ہم جامع کوششیں جاری رکھیں گے, تاکہ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو اور کوئی بھی مستحق افراد وظائف سے محروم نہ رہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان