سیاست
مالیگاؤں میں پاور لوم صنعت اور سائزنگ معاملے میں ابو عاصم اعظمی کی دم دار نمائندگی کی گونج
مالیگاؤں (خیال اثر) کورونا جیسی خطرناک وبا نے سبھی شعبہ حیات کو کچھ اس طرح اپنا شکار بنایا تھا کہ معاشرتی و تجارتی تمام سرگرمیاں سسک سسک کر دم توڑنے کی کگار پر پہنچ گئیں تھیں. اس خطرناک وبانے صنعت پارچہ بافی کو تباہی کے دہانوں پر لا کھڑا کیا تھا. مالیگاؤں کی یہ واحد صنعت ہے جس سے منسلک رہتے ہوئے ہزارہا افراد نہ صرف اپنا بلکہ اپنے اہل خانہ کا بھی کا پیٹ بھرنے کا معقول انتظام کیا کرتے تھے. انتہائی نامساعد حالات کی شکار یہ صنعت پارچہ بافی جب نزاع کے عالم میں پہنچ گئی تھی تو شہر کے چند نمائندہ افراد نے مل کر مالیگاؤں و دھولیہ سماج وادی ذمہ داران سے گفت و شنید کرتے ہوئے درپیش سارے مسائل ان کے گوش گزار کئے تب دھولیہ شہر کے فعال و متحرک کارپوریٹر امین پٹیل نے مالیگاؤں شہر کے درپیش سارے مسائل سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی سے بیان کرتے ہوئے رہنمائی چاہی. اس طرح ایک طرح موقر وفد امین پٹیل اور ایڈوکیٹ مومن مجیب کی رہنمائی میں ابو عاصم اعظمی سے ملاقات کے لئے ممبئی جا پہنچا.سبھی ذمہ داران کی تکالیف سننے کے بعد انھوں نے ریاستی وزیر اعلی سے مطالبہ کرتے ہوئے مالیگاؤں پاور لوم اور سائزنگ کے مسائل حل کرنے کی گزارش کی. اس طرح ابو عاصم اعظمی کی رہنمائی میں صنعت پارچہ بافی کے سنگین مسائل اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے آدتیہ ٹھاکرے سے ملاقات کی گئی. مذکورہ جملوں کا اظہار دھولیہ کے ہردلعزیز کارپوریٹر امین پٹیل نے مالیگاؤں سماج وادی پارٹی کی رابطہ آفس میں منقعدہ مشورتی میٹنگ میں کیا. انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے ریاستی رہنما ہمیشہ ہی مالیگاؤں شہر کی نمائندگی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں چاہیے وہ بم دھماکہ متاثرین کا معاملہ ہو یا سنگین حالات سے دوچار صنعت پارچہ بافی کے مسائل ہوں وہ ہمہ وقت شہر مالیگاؤں کی نمائندگی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں. سماج وادی پارٹی سابق معاون کارپوریٹر اطہر حیسن مجن نے ریاستی صدر و رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی کی نمایاں کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ رام منوہر لوہیا کے سماج واد اصولوں پر گامزن سماج وادی پارٹی بھی اقلیتوں کی تحفظ و بقاء کے لئے ہمیشہ ہی سرگرم عمل رہی ہے. دم توڑتی ہوئی پاور لوم صنعت کو استحکام عطا کرنے کی ذمہ دارانہ نمائندگی ایک مستحسن اقدام ہے جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں.اطہر حیسن مجن نے مزید کہا کہ جب بم دھماکہ متاثرین سرکاری امداد کے لئے در بدر بھٹک رہے تھے تب قومی صدر لالو پرساد یادو اور دیگر ذمہ داران مالیگاؤں پہنچ کر مجروحین اور متاثرین کی دلجوئی کرتے ہوئے پارٹی کی جانب سے تمام افراد کی مالی امداد کی تھی بلکہ ابو عاصم اعظمی نے انیس احمد نامی شدید مجروح فرد کو ممبئی لے جا کر مہنگے ترین اسپتال میں مہینوں اپنے ذاتی خرچ سے اس کے علاج و معالجے کا معقول انتظام کیا تھا. سماج وادی پارٹی مالیگاؤں کے صدر شریف منصوری نے اپنے ریاستی صدر ابو عاصم اعظمی کی خدمات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نہ صرف اپنے حلقہ بلکہ مالیگاؤں کے شہری مسائل پر بھی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے مقامی ذمہ داران کو مجبور کیا ہے کہ وہ عوامی تکالیف کو حل کرنے کا ذریعہ بنیں اور ان کی نمائندگی سے شہریان اپنے دوچار مسائل سے مکت بھی ہوئے. پر ہجوم مشورتی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے شریف منصوری نے یہ بھی کہا کہ ہمارا قائد سیاسی و ذاتی نظریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیشہ ہی نمائندگی کا حق ادا کرتا آیا ہے. ان کی نمائندگی اور رہنمائی ہمارے لئے نیک فال ہے اور ہم اپنے رہنما کو سلام کرتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ مسائل پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اسی طرح حل کرنے کی کوشش کرتے رہیں. اس مشورتی میٹنگ میں مالیگاؤں سماج وادی پارٹی کے تمام ہی بنیادی ذمہ داران کے علاوہ سماج وادی پارٹی سے انسیت رکھنے والے نوجوان طبقہ کے بے شمار افراد بھی شریک رہے جن میں خصوصاً سلام قریشی, شہباز خان, ندیم جاوید کے علاوہ مالیگاؤں سماج وادی کے بنیادی اراکین اطہر حسین مجن اکرم خان, ابو بکر چودھری, منصور انصاری, نور محمد خان اور مقامی مہیلا صدر فاطمہ خیرانساء وغیرہ اول تا آخر موجود تھے.
بین الاقوامی خبریں
پاکستان اور بھارت کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں, لکین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور مذاکرات پر بات چیت شروع ہوگئی ہیں۔

اسلام آباد : پہلگام دہشت گردانہ حملے اور بھارتی فوج کے آپریشن سندھور کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں، مئی 2025 میں چار روزہ فوجی تنازعے کے ایک سال مکمل ہونے پر دونوں طرف سے جارحانہ بیان بازی دیکھنے میں آئی۔ دریں اثنا، ایک نئی پیشرفت نے پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے اور بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں بات چیت کو جنم دیا۔ اس کا اشارہ آر ایس ایس کے ایک لیڈر کے ایک بیان سے ہوا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کو بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک تجزیے میں، الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کیا ہندوستان اور پاکستان طویل عرصے کی کشیدگی کے بعد بات چیت کے دروازے کھول رہے ہیں۔
دتاتریہ ہوسابلے کے تبصروں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر توجہ مبذول کرائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نریندر مودی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی کیونکہ وہ دہشت گردی کو پناہ دیتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے ہوسابلے کے تبصروں کا نہ صرف جواب دیا بلکہ ان کا خیرمقدم بھی کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد اس بات کا انتظار کرے گا کہ آیا مذاکرات کی اس کال پر بھارت کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل آتا ہے۔ تاہم نئی دہلی نے اس معاملے کو ٹالنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے ہوسابلے کے تبصروں پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے دلائل مضبوط ہو رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ کام کیا گیا ہو، لیکن ایک مکمل رسمی مکالمے کو ٹریک پر واپس لانا آسان نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ ہوسابلے کے علاوہ سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے نے بھی ایسا ہی موقف ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ عام لوگوں کے درمیان دوستی قدرتی طور پر ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر کرتی ہے۔ طاہر اندرابی نے جواب دیا، “ہمیں امید ہے کہ حالات بہتر ہوں گے۔”
جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں ہندوستانی سیاست کے پروفیسر عرفان نورالدین نے الجزیرہ کو بتایا، “آر ایس ایس اور نروانے جیسے ریٹائرڈ جنرل ایک خاص وجہ کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ درحقیقت نریندر مودی حکومت نے پاکستان مخالف بیانات دے کر خود کو ایک مشکل پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔” عرفان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس اور سابق فوجی افسران کے بیانات بات چیت کے لیے زمین تیار کر رہے ہیں۔ اس سے دہلی میں حکومت کو سیاسی دفاع کا موقع ملتا ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ بات چیت معاشرے کے مطالبات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہے۔
سابق پاکستانی سفارت کار جوہر سلیم کا دعویٰ ہے کہ سابق ہندوستانی اور پاکستانی حکام، ریٹائرڈ جنرلز، انٹیلی جنس حکام اور اراکین پارلیمنٹ کے درمیان تقریباً چار ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ یہ ملاقاتیں مسقط، دوحہ، تھائی لینڈ اور لندن میں ہوئیں۔ انہیں “ٹریک 2” اور “ٹریک 1.5” فارمیٹس میں تقسیم کیا گیا تھا، جس میں دونوں اطراف کے اہلکار شامل تھے۔ جوہر کے مطابق، “ٹریک 1.5 فارمیٹ میں دونوں طرف سے موجودہ حکام، ریٹائرڈ بیوروکریٹس، فوجی افسران، اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہیں۔ ٹریک 2 کے واقعات دونوں طرف سے سول سوسائٹی کے اراکین اور ریٹائرڈ سرکاری اور فوجی افسران کو اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ طریقے تعلقات کو پگھلانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔” برونائی میں پاکستان کے سابق سفیر طارق رشید خان کا کہنا ہے کہ ٹریک 1.5 اور ٹریک 2 مذاکرات رسمی سفارت کاری کا متبادل نہیں ہیں۔ اس کے بجائے، وہ حفاظتی والو کے طور پر کام کرتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سیاست
مہاراشٹر حکومت نے 16 سینئر آئی پی ایس افسران کے تبادلے منسوخ کر دیئے، 14 افسران کا 6 دنوں میں دوسری بار تبادلہ

ممبئی : مہاراشٹر پولس ڈیپارٹمنٹ میں محض چھ دنوں کے اندر دو بڑے پیمانے پر تبادلوں نے انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ حکومت نے محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کے احکامات جاری کئے۔ ان احکامات کے تحت کل 41 سینئر افسران کی پوسٹنگ تبدیل کی گئی۔ ان میں سات اسپیشل انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پیز)، پانچ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی)، 11 ایس پی/آئی پی ایس، اور 18 ایس پی ایس سطح کے افسران شامل ہیں۔ سب سے زیادہ زیر بحث معاملہ یہ ہے کہ جن افسران کی پوسٹنگ 15 مئی کو تبدیل کی گئی تھی، 14 افسران کی پوسٹنگ صرف چھ دن بعد دوبارہ تبدیل کر دی گئی۔ آئی پی ایس افسران کمتھ چنتھا اور نتیا نند جھا کو بھی نئی پوسٹنگ دی گئی ہے۔ چنتھا کو 15 مئی کو جاری کردہ ایک حکم نامے میں ناگپور سٹی کا ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) مقرر کیا گیا تھا، جب کہ جھا پہلے یاوتمال کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے طور پر تعینات تھے۔
آئی پی ایس افسر اکبر پٹھان، جنہیں ناسک کی پولیس اکیڈمی میں تبدیل کیا گیا تھا، اب انہیں ممبئی شہر میں تعینات کیا گیا ہے، اور دیپک گرہے، جنہیں امراوتی کے ڈی سی پی مقرر کیا گیا تھا، کو اب ناسک میں کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے ایس پی کے طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر آئی پی ایس افسر پروین پڈوال، جو پہلے ناسک میں اسپیشل انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کے طور پر تعینات تھے، اب انہیں دادر میں وی آئی پی سیکورٹی کے خصوصی آئی جی پی کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر آئی پی ایس افسران بشمول سنجے ینپورے، پنجابراو اوگلے، مہیش پاٹل، سمبھاجی کدم، سنجے سرگوڑا پاٹل، وکرانت دیشمکھ، پریتی ٹپرے، ہمت جادھو اور بالاصاحب پاٹل کا بھی چھ دنوں کے اندر مختلف عہدوں پر تبادلہ کیا گیا، عہدیدار نے بتایا۔
سب سے زیادہ زیر بحث تبدیلیوں میں پروین پڈوال اور سنجے ینپورے کی پوسٹنگ شامل تھی۔ پڈوال کو 15 مئی کو ناسک منتقل کیا گیا تھا، لیکن نئے حکم نے انہیں دادر میں وی آئی پی سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ میں دوبارہ تفویض کیا ہے۔ ینپورے، جنہیں وی آئی پی سیکورٹی پر مامور کیا گیا تھا، کو ناسک کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسے محکمہ کے اندر “میوزیکل چیئر پوسٹنگ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
باندرہ غریب نگر انہدامی کارروائی : ایکس اکاؤنٹ پر افواہ پھیلانے والے اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج, مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

ممبئی : ممبئی کے باندرہ غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متعلق افواہ پھیلانے کے معاملہ میں سائبر پولیس نے ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ایک ایکس اکاؤنٹ پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوسرے روز بھی باندرہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد برپا ہوا, جس کے بعد سائبر باندرہ نے کیس درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس معاملہ میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔
ممبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع اور قابل اعتراض مشمولات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے چلانے اور بے بنیاد افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں احتتاط برتنے کی بھی پولیس نے درخواست کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا کسی تصدیق غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر عام نہ کرے اگر کوئی اس قسم کے مشمولات شائع کرتا ہے یا اسے سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ممبئی پولیس کی اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ایکس پر یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد ایک مرتبہ پھر باندرہ میں حالات خراب ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کی ہے اور اس ایکس اکاؤنٹ پر کیس درج کر لیا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
(جنرل (عام10 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
