سیاست
مہاراشٹر کی سیاست میں بھونچال. دوبارہ بی جے پی اقتدار میں.
(وفا ناہید)
سیاست میں کب کیا ہوجائے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا. سیاست کے بازار میں ہر چیز بک جاتی ہے. اس بازار کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں وفا داریاں, ضمیر, رشتے ناطے یہاں تک کہ ایمان بھی بیچے جاتے ہیں. کچھ ایسا ہی حال این سی پی سربراہ شرد پوار کا ہوا. سیاست کی دنیا میں شردپوار ایک گھاگ سیاستداں کے طور پر جانے جاتے ہیں. شردپوار کی بیٹی سپریہ سولے اور بھتیجہ اجیت دادا پوار بھی سیاست کی نامی گرامی شخصیت ہے . اسمبلی چناؤ 2019 کے نتائج حیرت انگیز طور پر چونکادینے والے تھے کیونکہ 2014 سے سیاسی پٹری پر پوری اکثریت سے دوڑنے والی بی جے پی کی ٹرین کو جھٹکا لگا تھا. اب حالت یہ تھی کہ کسی طرح اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے بی جے پی کو کسی پارٹی کا تعاون درکار تھا. بی جے پی نے شیوشینا سے تال میل کرنے کی بہتری کوشش کی مگر شیوشینا 50 -50 پر معاملہ طے کرنا چاہتی تھی اور شیوشینا صدر ادھو ٹھاکرے کی کوشش تھی کہ ان کے بیٹے ادتیہ ٹھاکرے کو مہاراشٹر کی باگ ڈور تھمائی جائے. بی جے پی شرائط کی بنیاد پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی تھی. بی جے پی کا مؤقف تھا کہ وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس ہی ہونگے. اب بی جے پی سے ناامید ہوکر شیوشینا نے راشٹر وادی کے صدر شرد پوار سے بات چیت کی. معاملات طے ہوگئے . کانگریس, این سی پی اور شیوشینا مل کر صرف میٹنگ ہی کرتے رہ گئے. شیوشینا کا مہاراشٹر پر حکومت کرنے کا سپنا سپنا ہی رہ گیا اور این سی پی سربراہ کے بھتیجے اجیت دادا پوار نے جو کہ قانون ساز کے عہدے پر فائز تھے اپنے چاچا , پارٹی اور عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر بی جے پی کی حمایت کردی اور نائب وزیر اعلیٰ بن بیٹھے. اب حال یہ ہے کہ 170 اراکین اسمبلی بی جے پی کے ساتھ ہیں اور بی جے پی اپنی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے. ذرائع سے ملی تازہ اطلاعات کے مطابق بی جے پی لیڈر گریش مہاجن نے میڈیا سے کہا ہے کہ ’’ہم اپنی اکثریت ثابت کریں گے کیونکہ ہمیں 170 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اجیت پوار نے گورنر کو جو خط دیا ہے اس میں این سی پی اراکین اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ دیا گیا ہے اور چونکہ اجیت پوار این سی پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سبھی این سی پی اراکین اسمبلی کی حمایت بی جے پی کو مل رہی ہے۔‘‘ اب اس ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو وہی بات ہوئی کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے.
سنجے راؤت نے مہاراشٹر میں نئے سیاسی ماحول کے پیش نظر ایک پریس کانفرنس کیا جس میں انھوں نے کہا کہ اجیت پوار نے بی جے پی سے ہاتھ ملا کر شرد پوار، ریاستی عوام اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ سنجے راؤت نے کہا کہ رات تک اجیت پوار میٹنگ میں ہمارے ساتھ تھے اور پھر صبح جا کر وزیر اعلیٰ کا حلف لے لیا، انھوں نے پاپ کیا ہے ۔ سنجے راؤت نے مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری پر بھی انگلی اٹھائی اور کہا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ آر ایس ایس سے آئے ہیں اور امید تھی کہ وہ اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑیں گے، لیکن رات کی تاریکی میں جس طرح کے کھیل کو انھوں نے فروغ دیا، وہ ناقابل یقین ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کا حلف لینے کے بعد دیویندر فڈنویس کو مبارکبادیاں ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پی ایم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دیویندر فڈنویس کے وزیر اعلیٰ بننے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ عوام کے حق میں کام کریں گے۔ پی ایم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’دیویندر فڈنویس جی اور اجیت پوار جی کو بالترتیب وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لینے پر مبارکباد۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مہاراشٹر کے روشن مستقبل کے لیے لگن سے کام کریں گے۔‘‘ امت شاہ نے بھی فڈنویس کے ساتھ ساتھ این سی پی لیڈر اجیت پوار کو نائب وزیر اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی۔
مہاراشٹر کی سیاست نے ایک زبردست کروٹ اس وقت لی جب بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس نے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لے لیا۔ این سی پی لیڈر اجیت پوار نے بطور نائب وزیر اعلیٰ حلف لیا۔ اس نئے سیاسی ماحول نے شیوسینا کو زبردست جھٹکا پہنچایا ہے جو جمعہ تک پورے پانچ سال کے لیے اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا دعویٰ کر رہی تھی۔
ایک طرف این سی پی لیڈر اجیت پوار نے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لے لیا ہے اور دوسری طرف مہاراشٹر میں ہوئی اس سیاسی اتھل پتھل کے درمیان شرد پوار نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنانے کا فیصلہ ان کا نہیں ہے۔ شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ یہ پوری طرح سے اجیت پوار کا فیصلہ ہے اور اس طرح کے فیصلے کی ہم قطعی حمایت نہیں کرتے کیونکہ بی جے پی کی حمایت کا فیصلہ میرا نہیں ہے. ویسے بھی سیاست میں چاچا بھتیجے کی جوڑی زیادہ کامیاب نہیں رہی ہے. شیوشینا کے چیف آنجہانی بال ٹھاکرے بے ہمیشہ اپنے بھتیجے کو اولیت دی مگر جب سیاسی جانشین مقرر کرنا وقت آیا تو بال ٹھاکرے نے اپنے بھتیجے کی جگہ اپنے بیٹے ادھو ٹھاکرے کو منتخب کیا. جس سے دلبرداستہ ہوکر راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر نونرمان سینا کی بنیاد ڈالی مگر بھتیجے اجیت پوار نے تو این سی پی میں رہ کر شردپوار کی لنکا میں آگ لگادی . اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شرد پوار اس آگ سے خود کو اور پارٹی کو بچاپائینگے ؟ یا اجیت پوار کی اس سیاسی بغاوت کی تیز دھار سے پارٹی اندورنی خلفشار کا شکار ہوجائے گی.
تادم تحریر میڈیا ذرائع کے مطابق این سی پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر اجیت پوار کو اس عہدہ سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ این سی پی سربراہ شرد پوار اور پارٹی لیڈروں کی ایک میٹنگ کے دوران لیا گیا۔ اجیت پوار پر این سی پی نے الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے پارٹی کو دھوکہ دیتے ہوئے بی جے پی کو حمایت دینے کا اعلان کیا جس سے ریاست میں بی جے پی کی حکومت بن گئی۔
جرم
برتھ ڈے پارٹی میں دوست کو نذرآتش کی کوشش… غیر ارادتا قتل کا کیس درج کرنے پر متاثرہ کے بھائی کا پولس تفتیش پر کئی سنگین الزام

ممبئی کرلا کوہ نور فیس 3 میں سالگرہ پارٹی میں دلخراش واردات نے دل کو دہلا کر رکھ دیا ہے, جبکہ متاثرہ کے بھائی عبدالحسیب نے اپنے کنبہ کی جان کو ملزمین کے شناسائی اور رشتہ داروں سے خطرہ قرار دیا ہے۔ عبدالرحمن خان کو ۲۵ نومبر کو سالگرہ منانے کے لئے سوسائٹی میں بلایا گیا اور پانچ دوستوں نے کیک کاٹنے کے دوران پہلے انڈے اور پتھر سے ان پر حملہ کردیا اور پھر متاثرہ پر ایاز ملک نے پٹرول چھڑک دیا اور لائٹر سے آگ لگا دی, اس کے بعد متاثرہ فوری طور پر آگ بجھانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگا اور واچمین سے پانی کی بوتل لے کر اس نے اپنے جسم پر ڈالی. پولس نے اس معاملہ میں کیس درج کرلیا ہے, اس معاملہ میں پولس نے غیر ارادتا قتل کا کیس درج کیا ہے. متاثرہ اب بھی سٹی اسپتال میں زیر علاج ہے لیکن اب متاثرہ کے بھائی عبدالحسیب خان نے یہ سنگین الزام عائد کیا ہے. پولس نے اقدام قتل کا کیس درج کرنے کے بجائے غیرارادتا قتل کا کیس درج کیا ہے, جبکہ منصوبہ بند طریقے سے میرے بھائی کو بلا کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور پٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی, لیکن جب ہم نے پولس کو اقدام قتل کا کیس درج کرنے کی درخواست کی تو پولس افسر کا کہنا ہے کہ اس میں اقدام قتل کا کیس نہیں بنتا, جبکہ میرے بھائی کی جان خطرہ میں ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ جب سے یہ واقعہ پیش آیا اس وقت سے کئی لوگوں نے ہم پر کیس واپس لینے کا دباؤ ڈالا ہے اور کئی نامعلوم افراد گھر کے پاس بھی نظر آرہے ہیں. گھر پر کیس واپس لینے کے دباؤ ڈالنے والوں کا کہنا ہے کہ اب جو ہونا تھا ہوگیا, کیس کر کے کچھ حاصل نہیں ہوگا ہم مسلمان ہے اور آپ کو یہیں رہنا ہے اس لئے آپس میں صلح کر کے کیس واپس لے لو. لیکن ہمیں انصاف ملے گا اس لئے ہم پولس کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس پر توجہ دے جو بھی خاطی اس میں ملوث ہے اس پر سخت کارروائی ہو. عبدالحسیب نے الزام عائد کیا کہ مقامی پولس سیاسی دباؤ میں کام کررہی ہے اور اس لئے غیر ارادتا قتل کا کیس درج کیا گیا ہے, جبکہ یہ معاملہ اقدام قتل کا ہے۔ وی بی نگر کے سنئیر پولس انسپکٹر پوپٹ آہواڑ نے کہا کہ اس معاملہ میں غیر ارادتا قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش جاری ہے. پنچنامہ سمیت دیگر دستاویزات بھی پولس نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے, سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی مرول ساکی ناکہ قتل کا معمہ یوپی سے دو ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی پولس نے قتل کا معمہ حل کر اترپردیش یوپی سے دو ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی مرول سہار پائپ لائن ۲۶ نومبر کو ایک زخمی حالت میں ایک نامعلوم شخص پایا گیا. پولس کنٹرول روم کو اس کی اطلاع ملی, جب پولس نے جائے وقوع پر پہنچ پر مذکورہ بالا شخص کو زخمی حالت میں پایا جو اس کے سر پر زخموں کے نشان تھے, اسے فوری طور پر کپور اسپتال میں داخل کیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا, پولس نے ۲۸ سالہ شخص کی مشتبہ حالت میں موت کے بعد اس کا سرغ لگایا. اس کی کوئی شناخت نہیں ہوئی اسکے بعد پولس نے یہ معلوم کیا کہ مقتول موہت جگت رام سونی ۲۸ سالہ اندھیری کا ساکن ہے اور کا قتل کیا گیا ہے جس کے بعد پولس نے قتل کا کیس درج کرکے تفتیش شروع کی اور بعدازاں پولس کو معلوم ہوا کہ اس کا آبائی وطن اترپردیش یوپی ہے۔ پولس نے قتل کے بعد مخبروں کا سرگرم کردیا اور پولس کو مفرور ملزمین کی شناخت ہوئی اس معاملہ میں پولس نے ۱۰ ٹیمیں تیار کی پولس کو تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ قتل کے بعد ملزمین فوری طور پر یوپی فرار ہوگئے پولس کی ایک ٹیم نے یوپی بھیجی اور اترپردیش سے دو ملزمین کو زیر حراست لیا ان دونوں کی شناخت روہت گنگا رام ۲۴ سالہ بہرائچ، منوج کمار سونی ۲۵ سالہ بہرائچ کے طور پر ہوئی یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں ڈی سی پی دتہ نلاورے نے انجام دی اور قتل کا معمہ حل کر کے دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا۔
بزنس
نئی ممبئی میں گھر خریدنے کا خواب دیکھنے والوں کے لیے بڑی خبر… EWS اور LIC خریداروں کے لیے ایک خصوصی ہاؤسنگ اسکیم۔ حکومت 250,000 روپے کی سبسڈی کرے گی فراہم۔

ممبئی : نوی ممبئی میں گھر خریدنے کا خواب دیکھنے والوں کے لیے بڑی خبر آ گئی ہے۔ پہلی بار، سٹی اینڈ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف مہاراشٹر لمیٹڈ (سڈکو) نے اقتصادی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس) اور کم آمدنی والے گروپ (ایل آئی جی) کے خریداروں کے لیے ایک خصوصی ہاؤسنگ اسکیم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 4,508 ریڈی ٹو موو ان فلیٹس پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر فروخت کیے جائیں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی لاٹری نہیں ہوگی، اور خریداروں کو اپنے پسندیدہ فلیٹ کا انتخاب کرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔ مزید برآں، ای ڈبلیو ایس زمرے کے خریداروں کو پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی) کے تحت 2.50 لاکھ کی سبسڈی سے فائدہ ہوگا۔ یہ فلیٹس نوی ممبئی کے کلیدی علاقوں میں واقع ہیں، جیسے تلوجا، درونگیری، گھنسولی، کھارگھر، اور کالمبولی، اور یہ براہ راست شاہراہوں، ہوائی اڈے اور میٹرو اسٹیشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس اسکیم کے لیے آن لائن رجسٹریشن 22 نومبر 2025 کو شروع ہوئی اور 21 دسمبر تک جاری رہے گی۔
سڈکو کی اس نئی ہاؤسنگ اسکیم نے لاٹری سسٹم کو ہٹا دیا ہے، جس سے خریداروں کو براہ راست اپنی پسند کا فلیٹ منتخب کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ اسکیم ‘پہلے آئیے، پہلے پائیے’ کے اصول پر کام کرے گی، یعنی جو لوگ جلد اپلائی کریں گے ان کے لیے فلیٹ حاصل کرنے کا زیادہ امکان ہوگا۔ کل 4,508 فلیٹس میں سے 1,115 پی ایم اے وائی کے تحت ای ڈبلیو ایس زمرے کے لیے ہیں، جبکہ بقیہ 3,393 فلیٹس ایل آئی جی زمرے کے خریداروں کے لیے دستیاب ہیں۔
اس اسکیم کی سب سے بڑی توجہ 2.50 لاکھ کی سبسڈی ہے جو ای ڈبلیو ایس زمرے کے خریداروں کو پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی) کے تحت ملے گی۔ یہ سبسڈی گھر کی خریداری کی لاگت کو نمایاں طور پر کم کرے گی اور معاشی طور پر کمزور طبقوں کے لیے اپنا گھر رکھنے کا خواب پورا کرنا آسان بنائے گی۔ سڈکو نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ فلیٹس بہترین نقل و حمل کی سہولیات والی جگہوں پر واقع ہیں۔ نوی ممبئی کے بڑے علاقے جہاں یہ فلیٹس واقع ہیں ان میں تلوجا، درونگیری، گھنسولی، کھارگھر، اور کالمبولی شامل ہیں۔ یہ تمام ہاؤسنگ کمپلیکس براہ راست نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے، میٹرو اسٹیشنوں، مقامی ٹرینوں اور بڑی شاہراہوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ تمام 4508 گھر منتقل ہونے کے لیے تیار ہیں، یعنی خریدار تعمیر مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
ای ڈبلیو ایس کیٹیگری فلیٹس
ای ڈبلیو ایس زمرہ کے لیے کل 1,115 فلیٹس دستیاب ہیں۔ یہ فلیٹس ڈرونگیری کے پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 11 (22 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 63، سیکٹر 12 (19 فلیٹس) اور پلاٹ نمبر 68، سیکٹر 12 (27 فلیٹس) میں واقع ہیں۔ تلوجا میں ای ڈبلیو ایس فلیٹس کی ایک بڑی تعداد بھی ہے، جس میں پلاٹ نمبر 8، سیکٹر 21 (41 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 22 (21 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 27 (105 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 34 (156 فلیٹس)، پلاٹ نمبر P38، فلیٹ نمبر 6، S31 (156 فلیٹس) شامل ہیں۔ سیکٹر 36 (135 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 2، سیکٹر 36 (353 فلیٹس)، اور پلاٹ نمبر ان میں پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 37 (26 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 40، کھارگھر میں 20 ای ڈبلیو ایس فلیٹس ہیں، اور پلاٹ نمبر 9، سیکٹر ای ڈبلیو ایس، کالمبو، 15 میں فلیٹ دستیاب ہیں۔
ایل آئی جی کیٹیگری فلیٹس
ایل آئی جی زمرہ کے خریداروں کے لیے 3,393 فلیٹس دستیاب ہیں۔ ان میں پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 11 (110 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 63، سیکٹر 12 (131 فلیٹ)، اور پلاٹ نمبر 68، سیکٹر 12 (131 فلیٹس) ڈرونگیری میں شامل ہیں۔ تلوجا میں ایل آئی جی فلیٹس کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے: پلاٹ نمبر 8، سیکٹر 21 (182 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 22 (124 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 27 (514 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 34 (511 فلیٹس)، پلاٹ نمبر 7، فلیٹ نمبر 7، فلیٹ نمبر 7، فلیٹ نمبر 7، 34۔ سیکٹر 36 (683 فلیٹس)، اور پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 37 (137 فلیٹس)۔ کھارگھر میں پلاٹ نمبر ہے۔ یہاں پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 40 میں 119 ایل آئی جی فلیٹس دستیاب ہیں، اور کالمبولی میں پلاٹ نمبر 9، سیکٹر 15 میں 22 ایل آئی جی فلیٹس دستیاب ہیں۔ گھنسولی میں پلاٹ نمبر 1، سیکٹر 10 میں ایک ایل آئی جی فلیٹ اور پلاٹ نمبر 2، سیکٹر 10 میں ایک ایل آئی جی فلیٹ بھی ہے۔
سڈکو نے ان ہاؤسنگ کمپلیکس کے رہائشیوں کے لیے بہت سی جدید سہولیات بھی فراہم کی ہیں۔ ان میں ایک جم، کلب ہاؤس، بچوں کے کھیلنے کا علاقہ، خوبصورت باغات، 24 گھنٹے سیکیورٹی اور پارکنگ کی سہولیات شامل ہیں۔ یہ تمام سہولیات رہائشیوں کی زندگیوں کو آرام دہ اور خوشگوار بنائیں گی۔ اس اسکیم کے لیے آن لائن رجسٹریشن 22 نومبر 2025 کو شروع ہوئی، اور یہ 21 دسمبر تک جاری رہے گی۔ دلچسپی رکھنے والے درخواست دہندگان سڈکو کی آفیشل ویب سائٹ cidcofcfs.cidcoindia.com پر جا کر رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ رجسٹریشن فیس صرف 236 ہے، بشمول جی ایس ٹی۔ درخواست دہندگان کو رجسٹریشن کے بعد مطلوبہ دستاویزات جیسے شناختی ثبوت، آمدنی کا سرٹیفکیٹ، اور رہائشی ثبوت جمع کرنے کی ضرورت ہوگی۔ فلیٹ کے انتخاب کا عمل 28 دسمبر 2025 کو صبح 11 بجے ان اہل درخواست دہندگان کے لیے شروع ہو گا جنہوں نے 21 دسمبر 2025 تک اپنی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ دیگر اہم معلومات، جیسے فلیٹ کا رقبہ اور قیمت، بھی سڈکو کی ویب سائٹ پر دستیاب ہو گی۔
-
سیاست1 سال agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 سال agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 سال agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم5 سال agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 سال agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 سال agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 سال agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 سال agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
