Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مہاراشٹر کی سیاست میں بھونچال. دوبارہ بی جے پی اقتدار میں.

Published

on

bjp123

(وفا ناہید)
سیاست میں کب کیا ہوجائے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا. سیاست کے بازار میں ہر چیز بک جاتی ہے. اس بازار کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں وفا داریاں, ضمیر, رشتے ناطے یہاں تک کہ ایمان بھی بیچے جاتے ہیں. کچھ ایسا ہی حال این سی پی سربراہ شرد پوار کا ہوا. سیاست کی دنیا میں شردپوار ایک گھاگ سیاستداں کے طور پر جانے جاتے ہیں. شردپوار کی بیٹی سپریہ سولے اور بھتیجہ اجیت دادا پوار بھی سیاست کی نامی گرامی شخصیت ہے . اسمبلی چناؤ 2019 کے نتائج حیرت انگیز طور پر چونکادینے والے تھے کیونکہ 2014 سے سیاسی پٹری پر پوری اکثریت سے دوڑنے والی بی جے پی کی ٹرین کو جھٹکا لگا تھا. اب حالت یہ تھی کہ کسی طرح اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے بی جے پی کو کسی پارٹی کا تعاون درکار تھا. بی جے پی نے شیوشینا سے تال میل کرنے کی بہتری کوشش کی مگر شیوشینا 50 -50 پر معاملہ طے کرنا چاہتی تھی اور شیوشینا صدر ادھو ٹھاکرے کی کوشش تھی کہ ان کے بیٹے ادتیہ ٹھاکرے کو مہاراشٹر کی باگ ڈور تھمائی جائے. بی جے پی شرائط کی بنیاد پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی تھی. بی جے پی کا مؤقف تھا کہ وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس ہی ہونگے. اب بی جے پی سے ناامید ہوکر شیوشینا نے راشٹر وادی کے صدر شرد پوار سے بات چیت کی. معاملات طے ہوگئے . کانگریس, این سی پی اور شیوشینا مل کر صرف میٹنگ ہی کرتے رہ گئے. شیوشینا کا مہاراشٹر پر حکومت کرنے کا سپنا سپنا ہی رہ گیا اور این سی پی سربراہ کے بھتیجے اجیت دادا پوار نے جو کہ قانون ساز کے عہدے پر فائز تھے اپنے چاچا , پارٹی اور عوام کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر بی جے پی کی حمایت کردی اور نائب وزیر اعلیٰ بن بیٹھے. اب حال یہ ہے کہ 170 اراکین اسمبلی بی جے پی کے ساتھ ہیں اور بی جے پی اپنی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے. ذرائع سے ملی تازہ اطلاعات کے مطابق بی جے پی لیڈر گریش مہاجن نے میڈیا سے کہا ہے کہ ’’ہم اپنی اکثریت ثابت کریں گے کیونکہ ہمیں 170 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اجیت پوار نے گورنر کو جو خط دیا ہے اس میں این سی پی اراکین اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ دیا گیا ہے اور چونکہ اجیت پوار این سی پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ سبھی این سی پی اراکین اسمبلی کی حمایت بی جے پی کو مل رہی ہے۔‘‘ اب اس ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو وہی بات ہوئی کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے.
سنجے راؤت نے مہاراشٹر میں نئے سیاسی ماحول کے پیش نظر ایک پریس کانفرنس کیا جس میں انھوں نے کہا کہ اجیت پوار نے بی جے پی سے ہاتھ ملا کر شرد پوار، ریاستی عوام اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ سنجے راؤت نے کہا کہ رات تک اجیت پوار میٹنگ میں ہمارے ساتھ تھے اور پھر صبح جا کر وزیر اعلیٰ کا حلف لے لیا، انھوں نے پاپ کیا ہے ۔ سنجے راؤت نے مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری پر بھی انگلی اٹھائی اور کہا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ آر ایس ایس سے آئے ہیں اور امید تھی کہ وہ اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑیں گے، لیکن رات کی تاریکی میں جس طرح کے کھیل کو انھوں نے فروغ دیا، وہ ناقابل یقین ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کا حلف لینے کے بعد دیویندر فڈنویس کو مبارکبادیاں ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پی ایم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دیویندر فڈنویس کے وزیر اعلیٰ بننے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ عوام کے حق میں کام کریں گے۔ پی ایم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’دیویندر فڈنویس جی اور اجیت پوار جی کو بالترتیب وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لینے پر مبارکباد۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مہاراشٹر کے روشن مستقبل کے لیے لگن سے کام کریں گے۔‘‘ امت شاہ نے بھی فڈنویس کے ساتھ ساتھ این سی پی لیڈر اجیت پوار کو نائب وزیر اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی۔
مہاراشٹر کی سیاست نے ایک زبردست کروٹ اس وقت لی جب بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویس نے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لے لیا۔ این سی پی لیڈر اجیت پوار نے بطور نائب وزیر اعلیٰ حلف لیا۔ اس نئے سیاسی ماحول نے شیوسینا کو زبردست جھٹکا پہنچایا ہے جو جمعہ تک پورے پانچ سال کے لیے اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا دعویٰ کر رہی تھی۔
ایک طرف این سی پی لیڈر اجیت پوار نے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لے لیا ہے اور دوسری طرف مہاراشٹر میں ہوئی اس سیاسی اتھل پتھل کے درمیان شرد پوار نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنانے کا فیصلہ ان کا نہیں ہے۔ شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ یہ پوری طرح سے اجیت پوار کا فیصلہ ہے اور اس طرح کے فیصلے کی ہم قطعی حمایت نہیں کرتے کیونکہ بی جے پی کی حمایت کا فیصلہ میرا نہیں ہے. ویسے بھی سیاست میں چاچا بھتیجے کی جوڑی زیادہ کامیاب نہیں رہی ہے. شیوشینا کے چیف آنجہانی بال ٹھاکرے بے ہمیشہ اپنے بھتیجے کو اولیت دی مگر جب سیاسی جانشین مقرر کرنا وقت آیا تو بال ٹھاکرے نے اپنے بھتیجے کی جگہ اپنے بیٹے ادھو ٹھاکرے کو منتخب کیا. جس سے دلبرداستہ ہوکر راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر نونرمان سینا کی بنیاد ڈالی مگر بھتیجے اجیت پوار نے تو این سی پی میں رہ کر شردپوار کی لنکا میں آگ لگادی . اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شرد پوار اس آگ سے خود کو اور پارٹی کو بچاپائینگے ؟ یا اجیت پوار کی اس سیاسی بغاوت کی تیز دھار سے پارٹی اندورنی خلفشار کا شکار ہوجائے گی.
تادم تحریر میڈیا ذرائع کے مطابق این سی پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر اجیت پوار کو اس عہدہ سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ این سی پی سربراہ شرد پوار اور پارٹی لیڈروں کی ایک میٹنگ کے دوران لیا گیا۔ اجیت پوار پر این سی پی نے الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے پارٹی کو دھوکہ دیتے ہوئے بی جے پی کو حمایت دینے کا اعلان کیا جس سے ریاست میں بی جے پی کی حکومت بن گئی۔

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com