Connect with us
Wednesday,06-May-2026

(جنرل (عام

دوبے تصادم: جسٹس چوہان کو ہٹانے کی سپریم کورٹ میں عرضی

Published

on

اترپردیش کے گینگسٹر وکاس دوبے اور اس کے ساتھیوں کی پولیس تصادم کی تفتیش کے لئے سپریم کورٹ کے ذریعہ قائم کردہ جسٹس بی ایس چوہان کمیشن کی تنظیم نو کا معاملہ ایک بار پھر عدالت عظمی کے سامنے آیا ہے۔ اس بار سپریم کورٹ کے سابق جج بی ایس چوہان کے خلاف بھی انگلی اٹھائی گئی ہے۔
عرضی گزاروں میں سے ایک وکیل گھنشیام اپادھیائے نے اس بار جج چوہان کے بھارتیہ جنتا پارٹی سے نزدیکی تعلقات ہونے کا الزام لگاکر انہیں کمیشن سے ہٹانے کی مانگ کی ہے۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ جج چوہان کے بھائی اور سمدھی بی جے پی کے لیڈر ہیں۔ اس پارٹی کی اترپردیش میں حکومت ہے۔
عرضی گزار نے کمیشن کے دوسرے رکن اترپردیش کے سابق ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے ایل گپتا کا تعلق بھی کانپور زون کے انسپکٹر جنرل موہت اگروال سے ہونے کی بات کہی ہے۔ کانپورعلاقہ میں ہی وکاس دوبے کا تصادم ہوا تھا۔
مسٹر اپادھیائے کا کہنا ہے کہ کمیشن کے دور اراکین کی موجودگی میں غیرجانبدارانہ تفتیش کا امید کم ہی نظر آتی ہے، اس لئے کمیشن کو پھر سے تنظیم نو کی جانی چاہئے۔
خیال رہے کہ مسٹر اپادھیائے نے پہلے بھی مسٹر گپتا اور ہائی کورٹ کے سابق جج ششی کانت اگروال کو کمیشن سے ہٹانے کیلئے عرضی دائر کی تھی۔ ایک دیگر عرضی گزار انوپ اوستھی نے بھی مسٹر گپتا کی کمیشن میں موجودگی پر سوالا ت اٹھائے تھے اور دلائل بھی پیش کئے تھے۔ دونوں کی عرضیوں کو عدالت عظمی نے گزشتہ دنوں خارج کردیا تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گرمی سے بچنے کے لیے صفائی کارکنوں کے لیے پوسٹوں پر اورل ری ہائیڈریشن پاؤڈر اور پینے کے پانی کا انتظام کیا جائے، میونسپل کمشنر کی ہدایت

Published

on

ممبئی : ملازمین کو ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور گرمی سے پیدا ہونے والے دیگر صحت کے مسائل سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی گرمی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ہدایات دی ہیں کہ فیلڈ پر کام کرنے والے صفائی کارکنوں کے لیے پوسٹوں پر اورل ری ہائیڈریشن پاؤڈر (او آر ایس) اور پینے کے پانی کا مناسب انتظام کیا جانا چاہیے۔تاہم فیلڈ میں کام کرنے والے مختلف محکموں کے ملازمین گرمی سے خود کو بچانے کے لیے ضروری احتیاط کریں۔ ایسے میں بھیڈے نے بھی صحت اور حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کی اپیل کی ہے۔
ممبئی میں بڑھتی ہوئی گرمی کے پیش نظر میونسپل کارپوریشن انتظامیہ شہریوں کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے علاج کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ نیز شہریوں میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جارہی ہے۔ اس تناظر میں اشونی بھیڈے نے انتظامیہ کو فیلڈ پر کام کرنے والے صفائی کارکنوں کے لیے مختلف اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین مختلف نامساعد حالات میں بھی اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ممبئی میں صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 40 ہزار صفائی کارکن دن رات کام کر رہے ہیں۔ تاہم، موجودہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں فیلڈ پر کام کرنے والے سینی ٹیشن ورکرز کے لیے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تمام پوسٹوں پر فوری طور پر او آر ایس پاؤڈر اور پینے کے پانی کا مناسب انتظام کیا جانا چاہیے۔ نیز بھیڈے نے ہدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ نگرانی رکھی جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی موسم گرما میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ، شہریوں کو گرمی میں کوڑا کرکٹ اور دیگر فضلات عوامی مقامات پر نہ جلانے کی اپیل

Published

on

ممبئی : موسم گرما کے دنوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے شارٹ سرکٹ، اوور لوڈنگ اور گھروں، دفاتر اور تجارتی اداروں میں بجلی کے نظام پر دباؤ جیسی دیگر وجوہات کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ لہذا ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے اہلیان ممبئی سے اپیل کی ہے کہ وہ قوانین پر عمل کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اشونی بھیڈے، ایڈیشنل میونسپل کارپوریشن کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ کو آگ سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے چوکس اور لیس رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ممبئی شہر میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گرمی شدت محسوس کی جا رہی ہے۔ گھروں، دفاتر اور کمرشل کمپلیکس میں پنکھے، ایئر کولر، ایئر کنڈیشنر، فریج اور دیگر برقی آلات بڑی مقدار میں استعمال ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے آتشزدگی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ گرم اور خشک ماحول، آتش گیر مواد کا غلط ذخیرہ، کوڑا کرکٹ کو جلانا اور گیس کا اخراج جیسے عوامل کی وجہ سے بھی آگ لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ شہری گھر اور عمارت میں بجلی کی تاروں، سوئچ بورڈز اور پلگ پوائنٹس کو باقاعدگی سے چیک کریں اور ان کے کنکشن کو یقینی بنائیں۔ متعدد آلات کو ایک پلگ پوائنٹ سے جوڑ کر اوور لوڈنگ سے بچنا بھی ضروری ہےایئر کنڈیشنر، کولر وغیرہ جیسے آلات استعمال کرتے وقت محفوظ اور معیاری برقی کنکشن استعمال کیے جائیں۔ گھر یا گرد ونواح میں کچرا، درختوں کے سوکھے پتوں، بیلوں یا دیگر آتش گیر اشیاء کو نہ جلائیں۔ ایل پی جی گیس سلنڈر اور گیس پائپ کا متعلقہ ماہرین سے باقاعدگی سے معائنہ کرایا جائے۔ ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے اس بات کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے کہ ہر عمارت، مکان اور رہائشی/غیر رہائشی احاطے میں آگ بجھانے کے نظام اچھی حالت میں ہوں۔عمارتوں اور کمرشل کمپلیکس کی سیڑھیاں اور ہنگامی راستوں کو صاف رکھا جائے۔ تاکہ کسی واقعہ کی صورت میں شہری محفوظ طریقے سے باہر نکل سکیں۔ اس کے ساتھ ان کی گاڑیاں مقررہ جگہوں پر کھڑی کی جائیں۔ آگ لگنے کے ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی آزادانہ اور ہموار نقل و حرکت کے لیے کافی جگہ خالی رکھی جائے۔ کسی بھی قسم کی آگ لگنے کی صورت میں، گھبرائیں نہیں اور فوری طور پر ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ سے 101 یا 022-23001390، 022-23001393 پر رابطہ کریں، چیف فائر آفیسر شری ۔ رویندر امبولگیکر نے اپیل کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : تربوز کھانے کے سبب ایک ہی کنبہ کے چار افراد کے علاج میں تاخیر سے موت، تربوز میں زہر خورانی سے متعلق ایف ڈی اے کی رپورٹ

Published

on

ممبئی : ممبئی پائیدھونی میں تربوز تناول فرمانے کے سبب ایک ہی کنبہ کے میاں بیوی اور دو بیٹیوں کی پر اسرار موت کے بعد ایک سنسنی خیز خلاصہ ہوا ہے۔ طبیعت بگڑنے کے بعد جے جے اسپتال میں ان کے علاج میں تاخیر و تامل برتا گیا, جس کے سبب ان کی حالت مزید خراب ہوگئی, بروقت معالج نہ میسر ہونے کے سبب چار افراد کی موت واقع ہوگئی۔ تربوز تناول فرمانے کے سبب موت کے بعد اب ممبئی میں تربوز کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی دعوت میں تو تربوز پوری طرح سے غائب ہوگیا ہے۔ جے جے اسپتال میں اس معاملہ میں ڈیٹ ایڈٹ بھی شروع کی تھی۔ چاروں کو پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد اسپتال میں داخل کیا گیا تھا, ان چاروں کو الٹی اور دست کی شکایت تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد تاخیر سے اسپتال میں داخل کیا گیا۔ فارنسک تفتیش میں زہر خورانی سے متعلق بھی شبہ ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے باقاعدہ طورپر حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا ہے۔ 25 اپریل کو کنبہ نے بریانی تناول فرمایا اس کے بعد تربوز کھانے کے سبب ان کی موت واقع ہوئی, لیکن ابتدائی تفتیش میں یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے۔ ایف ڈی اے کی تحقیق میں یہ واضح ہوا ہے کہ تربوز میں کوئی بھی زہریلی شئے کی آمیزش نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اب ایف ڈی اے اور دیگر ایجنسی غذائی سمیت کے زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان