سیاست
دھولیہ میں خرید و فروخت کرکے ووٹرس کی حمایت حاصل کرنے کا اندیشہ
شہر دھولیہ کو دیہات سمجھ کر انتخابات کے میدان میں امیدوار اتریں ہیں۔ سفید ملبوسات میں بدنما چہروں والے کچھ سیاسی افراد بی جے پی کے امیدوار کے لیے دن رات محنت کررہے ہیں۔ اب تک شہر دھولیہ میں بی جے پی کو فرقہ پرست کہنے والے خود فرقہ پرستی کے دلدل میں اپنے مفاد کی خاطر اترنے لگےہیں۔ایک ہی امیدوار کے دو مفلر سے شہر کی عوام میںبے چینی پائی جارہی ہے،کئی دہائیوں سے اپنے آپ کو سیکولر کہنے والاامیدوار راج وردھن کدم بانڈے نے فرقہ پرست پارٹی کا دامن تھام لیا ہے،اس امیدوار کے لیےجان نچھاور کرنے والے کارپوریٹرس و سابق کارپوریٹرس نے ہر انتخابات میں بی جے پی کی مخالفت کرکے کارپوریٹر کا عہدہ پایا ہے۔ اپنے چہیتے امیدوار کو بی جے پی کے ٹکٹ سے میدان میں اترنے پر مسلمانوں میں کس منہ سے تشہریں کر گے ؟اس لیےانہوں نے لائحہ عمل تیار کرکے منصوبہ بندی کے تحت مسلم علاقوں میں سفید مفلر پر لال رنگ کے غبارے کی تصویر بناکر عوام کو آزاد امیدوار بتاکر گمراہ کررہے ہیں،تاکہ کچھ درجہ میں سیکولرازم کی خوشبو ووٹنگ کے دنوں تک محسوس کی جائے جبکہ اسی امیدوار کی برادران وطن کے علاقوں میں بی جے پی والے مفلر پر غبارے کی تشہیر زور و شور سے کی جارہی ہے۔ شہر دھولیہ میں اپنے آپ کو قوم کا ٹھیکیدار و ذمہ دار کہنے والے افراد بی جےپی کے امیدوار کی تعریف کرتے نہیںتھک رہے ہیں۔ جبکہ ۱۰؍ سال تک ایم ایل اے رہ کر مسلم علاقوں میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر بھی کام نہیں ہوسکا ہے۔۱۵؍ سال تک کارپوریشن پر قابض رہنے کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ۔کل ۲۵؍ سال تک کام میں ناکام رہنے والے امیدوار کی تشہیر کے لیے راتوں میں میٹنگوں کا انعقاد کیا گیا ، شروع شروع میں چھپ کر کام کیا جاتا رہا، جب عوام منہ پر انکار کرنے کی یا مزیدسوالات کرنے کی جسارت نہیں دکھا سکی تو کھل کر بی جے پی کے آزاد امیدوار کا کام کیا جارہا ہے۔دانشوران کا کہنا ہے کہ جتنے بھی کارپوریٹرس و سابق کارپوریٹرس فرقہ پرست پارٹی کے امیدوار کی حمایت کررہے ہیں ان کے خود کے انتخابات میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔کیونکہ گزشتہ۱۰؍ مہینوں میں انہوں نے گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر اپنے آپ کو فرقہ پرست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اہلیان شہر کو علم ہے کہ سب سے زیادہ روپئے شہر دھولیہ حلقہ سے کون خرچ کریں گا؟معتبر ذرائع سے خبر موصول ہوئی ہے کہ پارلیمانی انتخابات کی طرح مسلم ووٹ کی خرید و فروخت کی منصوبہ بندی ہوچکی ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین کی لاپرواہی سے غبارے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، مجلس کے کچھ عہدیداران کا لین دین غبارے سے تو نہیں ہوگیا ہے؟ شہر میں سائیکل، سیٹی ، غبارے کی تشہیر کارنر میٹنگوں کا انعقاد کیاجارہا ہے، لیکن مجلس سست دکھائی دےرہی ہے۔ اسدالدین اویسی نے زبردست ماحول بنایا تھا لیکن شہر کے ذمہ داران و عہدیداران نے وہی ماحول کو برقرار نہیں رکھ سکے ہیں۔ جلسہ کے علاوہ متعدد ٹیم بناکر ملاقات و میٹنگ نہیںلی جارہی ہےجس کے سبب ووٹرس میں مایوسی پائی جارہی ہے۔کچھ افراد نے خرید و فروخت کے شبہ میں دھولیہ مجلس کے ذمہ داران و عہدیدارن پر نظریں ٹکا رکھی ہیں کہ پارٹی کو نقصا ن نہ پہنچ جائے۔ اگر مسلم ووٹ یکطرفہ مجلس کو مل جائے تو سیٹ نکل سکتی ہے، محنت میں کمی واقع ہوگی تو سیٹی کی گونج دھولیہ میں سنائی دیں گی، لاپرواہی برتی گئی یا لین دین ہوگیا تو یہ شہر بھی غبارے کی طرح حساس ہوجائے گا۔ مجلس کی محنت پر شہر کے ایم ایل اے کا انحصار ہے۔رشتہ دار ،اقربا پروری،مفاد پرستی والے مسلم حضرات بی جے پی کے امیدوارکو ذلت و خواری کے ساتھ تشہیر کرکے ووٹ دینے کی کوشش میں زمین آسمان ایک کریں گے لیکن نتیجہ ۲۴؍ اکتوبر کو ہی دکھائی دے گا۔ اہلیانِ شہر کو بے صبری سے انتظار ہے کہ یزید کا لشکر فاتح ہوگا یا شکست سے دوچار ہوگا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔
چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔
بین الاقوامی خبریں
ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔
عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔
گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
