Connect with us
Tuesday,16-June-2026

(جنرل (عام

متعدد مرتبہ حتمی بحث ہونے کے باوجود فیصلہ دینے سے قبل ججوں کو ٹرانسفر کردیا گیا، گلزار اعظمی

Published

on

gulzar azmi

ممبئی 16 اکتوبر
اترد یش کے شہر ورانسی میں واقع مشہور سنکٹ موچن مندر میں 2006میں ہوئے دہشت گردانہ واقعہ جس میں 28افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے مقدمہ کے اکلوتے ملزم مفتی ولی اللہ کی ضمانت پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے، گذشتہ کل جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ کے روبرو ضمانت عرضداشت پر سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء کی جانب سے مقرر کیئے گئے وکیل عارف علی نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں تمام سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج مکمل ہوچکا ہے نیز فریقین کی جانب سے متعدد مرتبہ حتمی بحث بھی کی گئی لیکن فیصلہ ظاہر کرنے سے قبل ہی ججوں کو منتقل کردیا گیا جس کی وجہ سے مقدمہ ختم نہیں پارہا ہے لہذا ملزم کو ضمانت پررہا کیا جائے۔
ایڈوکیٹ عارف علی نے عدالت کو مزید بتایاکہ گذشتہ دو دسالوں سے اس مقدمہ میں کوئی کا پیش رفت نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملزم ذہنی تناؤ کا شکار بھی ہوچکا ہے اور اس کے اہل خانہ بھی مایوس ہوتے جارہے ہیں اور دفاعی وکلاء بھی کئی بار حتمی بحث کرچکے ہیں لیکن ججوں کی منتقلی کی وجہ سے مقدمہ فیصل نہیں ہوپارہا ہے۔
ایڈوکیٹ عارف علی کی بحث سماعت کرنے کے بعد تین رکنی بینچ نے نچلی عدالت سے رپورٹ طلب کی ہیکہ آیا ابتک اس معاملے میں کیوں فیصلہ نہیں کیا گیا جبکہ عدالتی ریکارڈ سے لگ رہا ہیکہ متعدد مرتبہ حتمی بحث ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنی سماعت ملتوی کردی۔
اس ضمن میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزم مفتی ولی اللہ کے معاملے میں تمام سرکاری گواہوں کی گواہی مکمل ہوچکی تھی اور استغاثہ اور دفاع کی حتمی بحث کا اختتام بھی ہوچکا تھا بس فیصلہ کا انتظار تھا لیکن سیشن جج کے اچانک تبادلے سے معاملہ التوا ء کا شکار ہوگیا جس کے بعد ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا جس پر عدالت عظمی نے نچلی عدالت سے رپورٹ طلب کی ہے۔
گلزار اعظمی نے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ7مارچ 2006 سنکٹ موچن مندر میں شام چھ بجے بم دھماک ہوا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ورانسی ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا جبکہ ایف آئی آر کا اندراج بم دھماکوں کے دوسرے دن یعنی کے8/ مارچ کو پولس اسٹیشن لنکا میں سب انسپکٹر سمرجیت کی فریاد پر درج ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مفتی ولی وللہ کو 5/ اپریل 2006ء کو لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مندر میں بم دھماکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعات 304,302,307,324 اور آتش گیر مادہ کے قانون کی دفعات 3,4,5 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ملزم ولی وللہ کے خلاف دو مقدما ت کا اندراج کیا گیا تھا جن کے نمبر 1786/2006اور 815/2011 ہیں جو زیر سماعت ہیں۔
سال2011ء میں غازیہ آباد کی خصوصی عدالت نے دونوں مقدمات کو یکجہ کرکے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کیا،دوران مقدمہ ملزم کے خلاف گواہ دینے کے لیئے استغاثہ نے 48/ گواہوں کو عدالت میں پیش کیا تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اندھیری ۶۰ لاکھ سے زائد کے زیورات چوری کا ڈرامہ تیار کرنے والے دو ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی ممبئی ممبئی پولس دو ایسے شاطر ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جنہوں نے چوری اور سڑک حادثہ کی من گھڑت کہانی بنا کر ۶۰ لاکھ کے زیورات چوری ہونے کا ڈرامہ تیار کیا تھا لیکن پولس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ سونے کے زیورات کی ڈیلیوری کرنے والا ہی چور ہے اور اس نے اپنے ساتھی دوست کے ساتھ مل کر یہ چوری کی تھی ایم آئی ڈی سی پولس نے گولڈ اسٹار کمپنی کے کنچن پوار کی شکایت پر چوری کا کیس درج کر لیا تھا تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ نے اپنے ملازم اویناش گنگادھر کدم ۲۶ سالہ کو سونے کے زیورات ڈیلیوری کے لئے بھیجا تھا اسی دوران اس نے بتایا کہ اس کی موٹرسائیکل ایکٹیوا کو حادثہ پیش آیا ہے اور اسی دوران سونے کے زیورات و بیگ بھی چوری ہو گئے اس نے بلا کسی چوٹ اور زخم کے اسپتال میں داخلہ کےلئے ڈرامہ کیا اس دوران پولس نےمتعدد سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ اس مشتبہ شخص حادثہ سے قبل یہاں مشتبہ حالت میں گشت کر رہا تھا جس کا نام منوج ہیمنت جوگڈنڈ ۴۱ سالہ ہے اس سے تفتیش میں پولس کو یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں نے ہی چوری کا ڈرامہ کیا تھا اور اس واقعہ کو حادثہ بتا کر لوٹ مار کی منصوبہ بندی تیار کی تھی اس کے بعد پولس نے اویناش کو بھی زیر حراست لیا اس معاملہ میں پولس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر کے معمہ کو حل کر لیا ۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بی ایم سی نے مانسون سے پہلے ہیلپ لائن ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم’ شروع کی، گڑھے بھرنے پر توجہ مرکوز کی

Published

on

ممبئی ممبئی میں گڑھوں کو بھرنے کےلئے بی ایم سی نے خصوصی ہیلپ لائن جاری کیا ہے شہریوں کی شکایات کا فوری اور مؤثر طریقے سے ازالہ کرنے کے مقصد کے ساتھ، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال ایک مربوط شکایتی انتظامی نظام‘مائی بی ایم سی مارگ’ (شکایات کے انتظام اور ازالے کانظام) نافذ کیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے شہری میونسپل کارپوریشن سے متعلق 114 مختلف قسم کی شکایات کو ایک ہی درخواست کے ذریعے درج کر سکیں گے اور وہ ان کی پیروی بھی کر سکیں گے۔ اس کے تحت ‘مائی بی ایم سی مارگ’ سسٹم پر سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کرنے کی سہولت شہریوں کو فراہم کی گئی ہے۔

مانسون کے موسم میں سڑکوں پر بعض اوقات گڑھے بن جاتے ہیں۔ اس تناظر میں میونسپل کارپوریشن شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا فوری نوٹس لینے اور ضروری اصلاحی کارروائی کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ شہریوں کے لیے گڑھوں کی شکایات کے اندراج کے عمل کو آسان اور موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے سڑکوں پر گڑھوں کے بارے میں شکایات درج کرنے کے لیے ایک الگ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ شروع کی تھی۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے شہری معلومات، تصاویر اور سڑکوں پر گڑھوں کی جگہ کے ساتھ شکایات درج کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے اچھا رسپانس ملا۔اس دوران شہریوں کو میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں سے متعلق شکایات کے لیے مختلف سسٹم استعمال کرنا پڑا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مزید جامع اور آسان خدمات فراہم کرنے کے لیے اس سال سے ایک جامع نظام ‘مائی بی ایم سی مارگ’ شروع کیا ہے۔ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ کو اس سسٹم میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں بشمول گڑھے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج کے مسائل، پانی کی فراہمی، سڑک کی دیکھ بھال، پارکس، صحت عامہ، پیسٹ کنٹرول، تجاوزات، لائٹنگ سے متعلق کل 114 قسم کی شکایات درج کرنے کی سہولت ’مائی بی ایم سی مارگ‘ پر دستیاب ہے۔

‘مائی بی ایم سی مارگ’سسٹم خصوصیت یہ ہے کہ شہریوں کےلیے ایک پلیٹ فارم سے شکایات کا اندراج کرنا، متعلقہ تصاویر اپ لوڈ کرنا، شکایت کی موجودہ صورتحال کی جانچ کرنا، متعلقہ محکمے کی طرف سے کی گئی کارروائی کا پتہ لگانا اور شکایت کے حل ہونے کے بعد اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس لیے شکایت کے اندراج سے لے کر ازالے تک کا پورا عمل زیادہ شفاف اور شہریوں پر مبنی ہو گیا ہے۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام نے شکایت کے اندراج کے عمل کو آسان، شفاف اور موثر بنا دیا ہے اور شہریوں کو شکایات کے ازالے پر عمل کرنے کے لیے ایک واحد جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔خاص طور پر جب شہری سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کراتے ہیں تو متعلقہ محکمے کے لیے فوری کارروائی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے گڑھے کی مرمت کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اینڈرائیڈ صارفین اپنے اسمارٹ فونز پر مائی بی ایم سی مارگ ایپلیکیشن کو مائی بی ایم سی مارگ – گوگل پلے پر ایپس کا استعمال کرکے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں اور آئی فون کے صارفین مائی بی ایم سی مارگ ایپ – ایپ اسٹور کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ ممبئی کے لوگ میونسپل کارپوریشن سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر گڑھوں سے متعلق تمام شکایات ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم پر درج کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈاکٹر سیجل پوار متنازع بیان و تبصرہ کے سبب رخصتی پر روانہ، جانچ سے قبل ہی کے ای ایم اسپتال کی سخت کارروائی

Published

on

ممبئي ممبئي کی ایک مزاحیہ تقریب میں طالب علم سیجل، پولار کو ڈاکٹر کو ویڈیو اور بیان کے طور پر سیج کے ساتھ ۱۵ تاریخ کی چھٹی دے دی گئی اور انکوائری کا آغاز کیا گیا اس کی رپورٹ کے بعد ہی مزید کارروائی ہوگی۔ ڈاکٹر سیجل پور سے متعلقہ ادارے میں کارروائی کی جاتی ہے۔

سیٹھ جی ایس میڈیکل کالج اور کے ای ایم ہاسپٹل نے ایک مزاحیہ پروگرام کے دوران ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ سیجل پوار کے ریمارکس اور اس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعلقہ ویڈیو مواد کی گردش سے پیدا ہونے والی عوامی تشویش کا مناسب ادراک کیا ہے۔

شکایات کی وصولی کے فوراً بعد، انسٹی ٹیوٹ نے حقائق کی تلاش کا ایک ابتدائی عمل شروع کیا۔ متعلقہ طالب علم کو بلایا گیا، اس کی وضاحت/معافی ریکارڈ پر لی گئی، اور متعلقہ مواد کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی نتائج، معاملے کی حساسیت، اور متوفی افراد، جسم کے عطیہ دہندگان کے وقار کو برقرار رکھنے کی ضرورت اور میڈیکل طلباء سے متوقع پیشہ ورانہ معیارات کے پیش نظر پوار پر آج ایک عبوری تادیبی/انتظامی حکم جاری کیا گیا ہے۔

اس کے مطابق، پوار کو 15 دن کی مدت کے لیے لازمی چھٹی پر رکھا گیا ہے، جس کا اثر ۱۳ مئی سے ہے، تفصیلی انکوائری اور مزید احکامات زیر التواء ہیں۔ آج صبح 10:30 بجے، اسے مذکورہ مدت کے دوران اس کے والدین/سرپرستوں کی دیکھ بھال اور نگرانی سونپی گئی تھی۔ انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ادارہ جاتی انکوائری میں مکمل تعاون کریں اور جب بھی انکوائری کمیٹی کے ذریعہ بلایا جائے،ازخود یا آن لائن موڈ کے ذریعے دستیاب رہیں۔

ایک جامع پانچ رکنی انکوائری کمیٹی کی تشکیل کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جس میں سینئر فیکلٹی، ایک بیرونی/نان فیکلٹی ممبر اور مناسب ادارہ جاتی نمائندگی شامل ہے۔ کمیٹی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حقائق، سیاق و سباق، اثرات اور متعلقہ ریکارڈز بشمول سوشل میڈیا کی گردش کے پہلو کا جائزہ لے گی اور مزید کارروائی کے لیے اپنی معقول سفارشات پیش کرے گی۔انسٹی ٹیوٹ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ مریضوں، فوت شدہ افراد، جسم کے عطیہ دہندگان اور ان کے اہل خانہ کا احترام طبی تعلیم کی بنیادی قدر ہے۔ معاملے کو سنجیدگی، حساسیت اور طریقہ کار کے ساتھ انصاف کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ تفصیلی انکوائری رپورٹ کی وصولی کے بعد قابل اطلاق این ایم سی ایم یو ایچ ایس ، بی ایم سی اور ادارہ جاتی اصولوں کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔اس مرحلے پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس وقت جامع انکوائری کا عمل جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان