Connect with us
Saturday,14-March-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے اور راج ٹھاکرے کی ملاقات سیاسی ہلچل تیز, رکن پارلیمان سنجے راؤت کی شندے پر تنقید لیکن راج پر خاموشی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر نونرمان سینا سربراہ راج ٹھاکرے اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی ملاقات نے ایک مرتبہ پھر سیاسی طوفان کھڑا کردیا ہے اور اس نے سیاسی ہلچل تیز کردی ہے کیونکہ بی ایم سی الیکشن ایم این ایس اور شیوسینا نے متحدہ طور پر لڑا تھا شیوسینا لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی ملاقات پر سنجے راؤت نے کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا لیکن شندے کوہدف تنقید بنایا ہے۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے اچانک نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے ملاقات کی۔ گزشتہ روز اس ملاقات کی تصاویر ہرطرف وائرل ہو گئی اور سیاسی سرگوشیاں شروع ہو گئی ہے ۔ ادھو ٹھاکرے شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ان تمام موضوع اور ایکناتھ شندے کو ہدف تنقید کرتے ہوئے انہیں مراٹھی عوام اور مہاراشٹرکا بے ایمان قراردیا لیکن راج ٹھاکرے کی ملاقات سے متعلق کچھ بھی کہنے سے گریز کیا ۔رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے پریس کانفرنس میں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر سخت تنقید کی ساتھ ہی وہ راج ٹھاکرے کے موقف پر خاموش ہو گئے ۔ جب اس ملاقات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ راج ٹھاکرے سے پوچھیں، میں آپ کو اتنا بتاؤں گا کہ ہم ان کی جاسوسی نہیں کر رہے ہیں۔ ہم پر کوئی پابندی نہیں کہ کون کس سے ملتا ہے۔ ایکناتھ شندے کے موقف اور نظریہ کے سبب ان سے ہمارا اختلاف ہے۔ ایکناتھ شندے نے بالا صاحب ٹھاکرے کی قائم کردہ شیوسینا کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ اس نے مہاراشٹر کے مراٹھی عوام کے ساتھ بے ایمانی کی۔ شیوسینا چرائی ہوئی ہے ہم اس تصفیہ میں ضرور فتحیاب ہوں گے کیونکہ یہ شیوسینا بالا صاحب کی شیوسینا ہے ۔ مجھے اس ملاقات کی کوئی پرواہ نہیں۔ اس لئے اس پر تبصرہ کرنا درست نہیں ہے۔ ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ان کی پارٹی میں کیا چل رہا ہے۔ اس سے متعلق کوئی غوروخوص کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ ان کا فیصلہ ہے اور اس کا اختیار انہیں ہے شرد پوار راجیہ سبھا جائیں گے؟ ایسی بحثیں شروع ہو گئی ہیں کہ شرد پوار راجیہ سبھا جائیں گے۔ راوت نے اس پر اپنی رائے ظاہر کی۔ شرد پوار مہا وکاس اگھاڑی میں ہیں۔ ان کی پارٹی کے کسی نے بھی ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ ہم مہا وکاس اگھاڑی میں نہیں ہیں۔ کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور شیوسینا مہا وکاس اگھاڑی میں شامل ہیں۔ ہم مل بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔ شرد پوار نے مجھ سے اپنی خواہش ظاہر کی کہ میں راجیہ سبھا میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ شرد پوار بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں۔ کانگریس کو یہ خوف نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے لیے یہ اہم ہے کہ ادھو ٹھاکرے مقننہ میں ہیں۔اس پر ایک دو دنوں میں منظر نامہ واضح ہو گا۔ اگر یہ طے ہوتا ہے کہ ہم اس سیٹ کو مہا وکاس اگھاڑی کے طور پر لڑیں گے تو ہم مل بیٹھ کر اس پر بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا سیٹ پر کون جائے گا اس پر دیگر پارٹیوں کی رائے پر بات کی جائے گی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بجٹ میں اقلیتیں نظر انداز : منوج جامستکر

Published

on

ممبئی: ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں شیوسینا لیڈر اور رکن اسمبلی منوج جامستکر نے بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے ٹھیکیداروں کا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ جس طرح سے بڑے پروجیکٹ کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے اس سے یہ شبہ ہے کہ یہ بجٹ عام عوام کی بجائے ٹھیکیداروں کا بجٹ ہے کسانوں کے قرض معافی پر بھی شبہات برقرار ہے دو لاکھ روپے کی قرض معافی کا اعلان تو کیا گیا ہے اس کے نفاذ پر اب بھی شبہ ہے ریاستی سرکار نے کسانوں سے متعلق جو اسکیمات کا نفاذ کی ہے اس کا استفادہ اس کو ہو گا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ان کے لیے کوئی بھی نئی اسکیمات کو متعارف نہیں کروایا گیا ہے بجٹ میں نندوربار میں کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی یافتہ مہاراشٹرمیں بڑے بجٹ کو منظوری دی گئی ہے صحت سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے اس لیے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرور ت ہے اور اقلیتوں کو بجٹ میں حصہ داری دینے کا مطالبہ بھی جامستکر نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

تبدیلی مذہب مخالف، مذہبی آزادی بل ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے, بل پر عوامی سماعت کی جانی چاہیے : رئیس شیخ

Published

on

ممبئی : ریاستی حکومت کی طرف سے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں تبدیلی مذہب مخالف مذہبی آزادی بل 2026 پیش کیے جانے کے ایک دن بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے قانون ساز رئیس شیخ نے مطالبہ کیا کہ بل کو ریاستی مقننہ کی مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کو نظرثانی کے لیے بھیجا جائےانہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی سماعت کی جائے تاکہ اس بل کے خلاف اعتراضات اٹھائے جا سکیں جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ عام لوگوں کو اس وقت گیس میسر نہیں ، ہوٹل بند ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ ان مسائل پر بحث کرنے کے بجائے، مقننہ آزادی مذہب بل جیسے بل پر بحث کر رہی ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہو گی۔ موجودہ قوانین پہلے ہی جبری مذہب کی تبدیلی پر توجہ دیتے ہیں، اور یہ بل اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے،” ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریمارکس دیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مزید کہا کہ بل کو بغیر بحث کے پاس نہیں کیا جانا چاہئے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہےلہذا، اس بل کو دونوں ایوانوں کے اراکین کے ساتھ ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ بل کو منظور کرنے سے پہلے مکمل بحث ضروری ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مقننہ میں اقلیتوں کی نمائندگی ناکافی ہے، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ سول سوسائٹی گروپس اور اقلیتی تنظیموں کو بل پر اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا،اس مقصد کے لیے، ایک عوامی سماعت ہونی چاہیے۔ حکومت کو اعتراضات اور تجاویز کو مدعو کرتے ہوئے ایک عوامی نوٹس جاری کرنا چاہیے اور ان پر سماعت کرنی چاہیے،ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیر کو اس بارے میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے۔ ریاست کی کل 35 سول اور اقلیتی تنظیموں نے بل کی مخالفت کی ہے۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رازداری، مذہب کی آزادی اور بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ مذہبی آزادی کے حق میں تبدیلی کا حق بھی شامل ہےگزشتہ سال اس بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رشمی شکلا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مجوزہ قانون کے مطابق مذہب کی تبدیلی سے قبل 60 دن کا نوٹس لازمی ہوگا جس کے دوران اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں اور پولیس انکوائری بھی کی جاسکتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیاں غیر قانونی تصور کی جائیں گی۔ اس بل میں غیر قانونی تبدیلی مذہب میں ملوث اداروں یا افراد کے لیے سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : مینارہ مسجد کی ۷۶ لاکھ کی پراپرٹی ٹیکس کی نوٹس واپس لی جائے, یہ کوئی کمرشل ادارہ نہیں ہے : اعظمی

Published

on

یہ مسجد میں مدرسہ ہے یہاں بچے دینی تعلیم سے بہرور ہوتے ہیں اس لئے اس ٹیکس نوٹس کو واپس لیا جائے کیونکہ اتنی خطیر رقم ادائیگی مشکل ہے اور مسجد کو اتنی بڑی رقم کی نوٹس ارسال کرنا درست نہیں ہے ۔ سماجی انصاف میں اقلیتوں کے بجٹ میں ناانصافی ، سماجی انصاف بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایوان میں رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ پہلے محکہ کا بجٹ ۶ سو دو کروڑ روپیہ تھا بعد میں اس میں تخفیف ہو گئی اور ۲۰۲۴۔۲۵ میں بجٹ میں صرف ۲۸ ہزار طلبا کو تعلیمی وظائف ملے ہیں لیکن اب اس میں مزید تخفیف ہو کر صرف ۷ ہزار طلبا کو ہی تعلیمی وظائف کی فراہمی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے اس لئے اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور اتنا ہی نہیں اقلیتوں کے سہولیات کے مطابق بجٹ فراہم ہو انہوں نے ایوان میں اپنی بات اس شعر پر ختم کی۔ کبھی روزی کبھی آشیانہ چھین لیتا ہے جہاں ملتا ہے موقع آب و دانا چھین لیتا ہے، ہمیں اپنی تباہی کی خبر ہو ہی نہیں پاتی سب یہ خوشیاں ہماری غائبانہ چھین لیتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان