Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

محکمہ اقلیتی فلاح و بہود حکومت ہند نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کورول ماڈل کے طور پر تسلیم کیا ہے : عبدالقیوم انصاری

Published

on

Press conference

بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے طریقہ تعلیم اور اس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو محکمہ اقلیتی فلاح و بہود حکومت ہند نے رول ماڈل کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ یہ بات بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین عبدالقیوم انصاری نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کیلئے ایک مثالی بورڈ مانا گیا ہے، جس کو پورے ہندوستان میں نافذ کئے جانے کی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں 9 ستمبر کو مدرسہ بورڈ کی رپورٹ Best Practices Report of Bihar State Madrasa Education Board, Patna نئی دہلی میں پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود حکومت ہند نے تمام مدارس کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ماڈل کو اپنائیں، جو دینی اور عصری تعلیم کا سنگم ہے۔

بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہار کے وزیر اعلی: نتیش کمار کی رہنمائی میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مایہ ناز ماہرین تعلیم کے ذریعہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کا جدید نصاب تعلیم تیار ہوا۔ جس میں وسطانیہ، فوقانیہ اور مولوی درجات کے نصاب تعلیم کو از سر نو مرتب کیا گیا۔
نصاب کمیٹی کی نشست یو این او (U.N.O) کی شاخ یونیسیف کے تعاون سے یونیسیف کے آفس پاٹلی پترا، پٹنہ میں منعقد ہوئی تھی۔ اس میں درجہ ایک سے 8 تک تحتانیہ درجہ۔1 اور وسطانیہ درجہ۔8 تک مذہبی کتاب کے ساتھ ایس سی ای آر ٹی کی کتابیں شامل کی گئی، اور درجہ 9-10 فوقانیہ درجہ 11-12 مولوی میں مذہبی کتاب کے ساتھ این سی ای آر ٹی کی کتابیں شامل کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی درجہ مولوی کے تین شعبہ مولوی آرٹس، مولوی سائنس، اور مولوی کامرس کے نصاب بھی تیار کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مولوی کے نصاب میں جدت پیدا کرتے ہوئے مولوی اسلامیات کا شعبہ قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ سبھی درجات کے جملہ موضوعات کے ضمن میں حکومت بہار کے رہنماء اصول کے تحت (Guide Line) Learning Outcome بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس کی طباعت کرا کر پورے بہار تمام مدارس کو فراہم کرائی جا چکی ہے۔ ساتھ ہی یونیسیف کے تعاون سے لرننگ آؤٹ کم کی ٹریننگ زوم کے ذریعہ تین ہزار مدارس کے اساتذہ کو کرائی گئی ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا کہ اساتذہ کرام کو کیا پڑھانا ہے، اور کیسے پڑھانا ہے، اس سے ان کی تلقین ہوگی۔

مسٹر عبدالقیوم انصاری نے بتایا کہ مدرسہ بورڈ کے جدید نصاب تعلیم میں مذہبی کتابوں کے ساتھ عصری علوم کی تدریس کیلئے درجہ1 سے لیکر 8 تک ایس سی ای آر ٹی (SCERT) اور درجہ 9 سے 12 تک کیلئے مذہبی کتابوں کے ساتھ عصری علوم کی تدریس کیلئے این سی ای آر ٹی (NCERT) کی کتابیں شامل نصاب کی گئی ہیں۔ ایس سی ای آر ٹی اور این سی ای آر ٹی کی کتابیں بہار ٹیکسٹ بک کارپوریشن لیمیٹیڈ سے شائع کرا کر مدارس میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کیلئے فراہم کرادی گئی ہیں۔ مدارس ملحقہ کی لائبریری کیلئے دفتر مدرسہ بورڈ کے ذریعہ وسطانیہ تا مولوی پر مشتمل درسی کتابیں فراہم کرائی جا چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مدرسہ بورڈ کے جدید نصاب تعلیم میں درجہ تحتانیہ اولیٰ تا وسطانیہ (1to 8) ایس سی ای آر ٹی اور درجہ فوقانیہ اولیٰ سے مولوی (9to 12) تک عصری علوم کی کتابیں این سی ای آر ٹی (NCERT) کی عصری کتابیں شامل نصاب کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی مشرقی علوم (عربی و دینیات) کی کتابوں میں بھی جدت اختیار کی گئی ہے، اور یہ انتہائی مسرت کی بات ہے کہ وسطانیہ تا مولوی کی درسی کتابیں آن لائن (Online) مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ویب سائٹ www.bsmeb.org پر اپلوڈ (Upload) کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقی علوم کی کتابیں بھی اپلوڈ کر دی گئی ہیں۔ مدارس کے اساتذہ کرام و طلباء و طالبات آن۔لائن موضوع اور درسی کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں، اور ضرورت محسوس کرنے پر اسے ڈاؤن لوڈ (Download) بھی کر سکتے ہیں۔ مدارس میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات اور دیگر عوام کے لئے بھی یہ سہولت فراہم ہے۔

اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ تحتانیہ،وسطانیہ تا مولوی درجات کی نصابی کتابوں کی فراہمی کے لئے ریاست بہار میں دو کاؤنٹر کھولے جا چکے ہیں۔ درسی کتابیں طباعتی قیمت (Print-rate) پر دفتر بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ، اپیکس ٹاور، ہارون نگر سیکٹر۔2 اور علاقائی دفتر مدرسہ بورڈ جو پورنیہ میں دستیاب ہے۔ مدارس میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کے ذریعہ کتابوں کی خریداری متواتر جاری ہے۔

اس کے علاوہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ نے ’مکھ منتری مدرسہ پستک وترن بھان‘ کا انتظام کیا ہے، جس کے ذریعہ تحتانیہ، وسطانیہ، فوقانیہ اور مولوی کی درسی کتابیں ریاست بہار کے مدارس اور اس کے گردو نواح میں خواہش مند حضرات تک گھر گھر جا کر درسی کتابیں فراہم کرائی جا چکی ہیں، اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

مسٹر انصاری نے کہا کہ ریاست بہار میں 4000 ہزار منظور شدہ مدارس ہیں، جن میں سے تقریباً 2000 مدارس گرانٹ شدہ ہیں۔ ان سبھی مدارس میں پڑھنے والے طلباء و طالبات کو وزیر اعلیٰ بہار کے ذریعہ سائیکل، اسٹائپن، مڈ ڈے میل، پوشاک منصوبہ کو لاگو کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ حوصلہ افزائی منصوبہ کے تحت درجہ فوقانیہ (میٹرک) میں اول مقام حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو 10 ہزار روپئے درجہ مولوی (انٹر) میں اول مقام حاصل کرنے والی طالبات کو 15 ہزار روپئے دیئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین ہند کے دفعہ 28 (2) کے تحت جس ادارے میں دینی تعلیم کا نظام ہوگا، اور جو سرکاری مراعات حاصل کرتا ہے، اس ادارہ کو ٹرسٹ کے ذریعہ رجسٹرڈ (Registered) ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ تعلیم نے اپنے مکتوب نمبر۔10@ew&148@2019 1360 مورخہ30@11@2019 کے ذریعہ مدرسوں کی انتظامیہ کا رجسٹریشن (Registration) ٹرسٹ یا سوسائیٹی سے کرانے کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس لئے ریاست بہار کے جملہ مدارس کی انتظامیہ کو ٹرسٹ یا سوسائیٹی رجسٹریشن ایکٹ کے تحت اپنی انتظامیہ کو رجسٹرڈ کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بہار کے زیادہ تر مدارس ملحقہ کی مجلس انتظامیہ رجسٹرڈ ہو چکی ہیں، اور جن مدارس نے اپنی کمیٹی کو رجسٹرڈ تا ہنوز نہیں کرایا ہے، اس کیلئے دفتر مدرسہ بورڈ سے اجتماعی فرمان جاری کر دیا گیا ہے۔

عنقریب کابینہ (Cabinete) سے اس کی منظوری مل جائے گی، جس سے مدرسہ بورڈ اور مدارس ملحقہ کا نظام مزید بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ مدرسہ بورڈ میں انفارمیشن ٹکنالوجی سیکشن کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔ وسطانیہ، فوقانیہ اور مولوی کا داخلہ آن لائن کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ امتحان فارم بھی آن لائن بھرے جا رہے ہیں۔ واضح ہو کہ داخلہ کارڈ یعنی ایڈمٹ کارڈ و نتائج امتحانات بھی آن لائن جاری کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی طلباء و طالبات کو مارکشیٹ بھی آن لائن ڈاؤن لوڈ (Download) کرنے کی سہولت فراہم ہے۔ ریاست بہار کے مختلف اضلاع میں موجود مدرسوں کے مدرسین، کمیٹی کے ممبران کے ساتھ گاؤں کی عوام کے ذریعہ آن لائن درخواستیں دی جاتی ہیں، اور اس کا جواب بھی آن لائن دیا جا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ میں اپنا سرور (Server) نصب کر دیا گیا ہے۔ جس سے دفتر کو کسی دوسرے سرور کی مدد اب نہیں لینی پڑتی ہے۔ مدرسہ بورڈ کے ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق تمام کام اسی سرور کی مدد سے کی جا رہی ہے۔ جس پر آئی ٹی سیکشن کے آئی ٹی انچارج کو مامور کیا گیا ہے۔

مدرسہ بورڈ کے چیرمین نے کہا کہ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور یونیسیف کے مشترکہ تعاون سے درجہ فوقانیہ و مولوی معیار کے طلباء و طالبات کے لئے Career Guidance Programme کی شروعات کی گئی ہے۔ اس پروگرام کے توسط سے طلباء و طالبات کو یہ سہولت فراہم کرائی گئی ہے۔ ساتھ ہی آگے کی تعلیم کیلئے طلباء و طالبات کو موضوع وار تعلیم گاہ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس نہج پر کون کون سے نوکری پا سکتے ہیں، یہ بھی بتایا گیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان