Connect with us
Friday,04-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

جموں وکشمیر میں 70 برسوں کے بعد جمہوریت کی جیت ہوئی ہے : سید شاہنواز حسین

Published

on

Syed Shahnawaz Hussain

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان سید شاہنواز حسین نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں منعقد ہوئے ڈی ڈی سی انتخابات کو ملک کی انتخابی تاریخ میں سنہرے لفظوں سے لکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے انتخابات کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ پولنگ کے دوران کسی بھی علاقے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

موصوف ترجمان نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں ایک ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ شاہنواز حسین پارٹی کی طرف سے کشمیر میں الیکشن انچارج تھے اور انہوں نے یہاں کئی انتخابی ریلیوں میں شرکت کی۔

انہوں نے کہا : ’جموں و کشمیر میں ہفتے کے روز اختتام پذیر ڈی ڈی سی انتخابات کو ملک کی انتخابی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا پہلی بار ایسا دیکھا گیا کہ پولنگ کے دوران کسی بھی علاقے میں ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا اور کسی نے کوئی شکایت نہیں کی ہم نے بھی کوئی شکایت نہیں کی۔‘ مسٹر حسین نے کہا کہ میں یہاں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جموں وکشمیر میں 70 برسوں کے بعد جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا : ’جموں وکشمیر میں پہلی بار اتنی بھاری تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے، چند ایک کے بغیر تمام پولنگ بوتھوں پر رائے دہندگان کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔‘

موصوف نے کہا کہ آج کی اس پریس کانفرنس کا انعقاد یہ اعلان کرنے کے لئے کیا گیا کہ اب کی بار بی جے پی اپنی موجودگی کا احساس دلائے گی۔

انہوں نے کہا : ’ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج کا انتظار ہے، ہم کسی کو شکست دیں گے یا نہ دیں گے لیکن میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر میں ہم کانگریس کو ضرور شکست دیں گے۔‘

مسٹر حسین نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تین جماعتوں نے ڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لیا ایک پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ، بقول ان کے ’گپکار گینگ‘، کانگریس اور بی جے پی نے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 80 انتخابی حلقوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے جبکہ باقی 2 سو حلقوں پر آزاد امیدواروں کی حمایت کی۔

موصوف ترجمان نے کہا کہ آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کا خواب کشمیریت، انسانیت اور جمہوریت اب شرمندہ تعبیر ہوا ہے اور ڈی ڈی سی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ جمہوریت ہی کشمیریت اور انسانیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

فورجی موبائل انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا : ’امید ہے کہ جموں وکشمیر میں فور جی موبائل انٹرنیٹ سروس کو جلد بحال کیا جائے گا۔‘

نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جائیداد کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے منسلک کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر سید شاہنواز نے کہا : ’ایجنسیاں اپنا کام آزادنہ طور پر کر رہی ہیں ان کے ساتھ سیاست جوڑنا مناسب نہیں ہے، کرپشن کا سیاست یا انتقام گیری سے کوئی تعلق نہیں ہے، جن پر کرپشن کے الزامات عائد ہیں وہ عدالت میں جا کر اپنا اسٹینڈ پیش کرسکتے ہیں۔‘
بتا دیں کہ جموں وکشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کی ووٹ شماری منگل کے روز ہوگی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com