Connect with us
Saturday,13-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں آدھار اپڈیٹ میں بدعنوانی کا انکشاف

Published

on

malegaon adhar kendr

مالیگاؤں (نامہ نگار) مالیگاؤں مہاراشٹر کے مسلم گنجان آبادی والے علاقوں میں سر فہر ست ہیں ۔ مسلم گنجان آبادی ۸؍لاکھ کے قریب ہونے کے باوجود مسلمانوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ آدھار کارڈ اپڈیٹ کرنے کے لیے ۱۰۰۰۰؍ آبادی پر ایک سینٹر دیا جانا چاہیے تھا اس طرح ۸؍ لاکھ کی آبادی میں کل ۸۰؍ سینٹر ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے مسلم آبادی میں صرف ۵؍ سینٹر بنائے گئے ہیں ۔ سینٹر کم ہونے سے بہت زیادہ تکلیف اہلیان شہر کو پیش آرہی ہیں۔ صبح سے شام تک صرف تیس سے پچاس افراد کا آدھار کارڈ اپڈیٹ کیا جارہا ہے۔ایک سینٹر پر ۱۰۰ سے ۱۵۰؍ افراد کا ہجوم قطار وں میں لگا ہوتا ہے ان میں کچھ معزور، کمزور، بیمار کو بیٹھنے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی ہے۔تیس سے پچاس لوگوں کا کام ہوجاتا ہے باقی کے افراد کو منہ لٹکائے گھر واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ مالیگاؤں شہر میں اکثریت مزدور طبقے کی ہے، ایک دن کا ناغہ کرکے اپنے کام کاج کو بند کرکے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں ان کی فکر کسی کو نہیں ہوتی ہے۔ اگر کام کا ناغہ ہوجاتا ہے لیکن کم از کم آدھار اپڈیٹ کا کام تو پورا ہونا چاہیے۔ آدھار اپڈیٹ کی بدعنوانی میں کون کون ملوث ہیں اس کی تہہ تک جانا سماجی تنظیموں کی ذمہ داری ہیں۔ مالیگاؤں کے اطراف کے ضلعوں میں ، شہر میں اور دیہاتوں میں ۳۰؍ روپئے سے ۵۰؍ روپئے آدھار کارڈ کے نام پر وصول کئے جارہے ہیں لیکن مالیگاؤں میں من چاہے طریقے پر غیرقانونی طریقے سے ۱۵۰؍ سے ۲۰۰؍ تک وصولی کرکے لوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ افسران کی تحقیقات کرنا چاہیے کہ ان بدعنوانی میں کون کون ملوث ہیں؟ عوام کا کہنا ہے کہ ماہانہ لاکھوں روپئے کی بدعنوانی کھلی طور پر کی جارہی ہے اس میں بدعنوان افسران کا حصہ ہوسکتا ہے ۔ ایسے بدعنوان افسران کو معطل کرانے کا مطالبہ بھی مالیگاؤں شہر کے کچھ بیدار مغز افراد نے کیا ہے۔ شہر دھولیہ میں ضلع کلکٹر نے حکم جاری کرتے ہوئے پریس کانفرنس سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ۵۰؍ روپئے سے زائد کوئی بھی آدھار اپڈیٹ کرنے والے مطالبہ کریں تو پولس میں شکایت کریں اس پر بدعنوانی کا کیس درج کیا جائے گا ۔ مالیگاؤں شہر میں بیدار مغز افراد کے علاوہ ہوٹلوں پر بیٹھ کر بڑی بڑی باتیں کرنے والے افراد کی کمی نہیں ہے ۔ آدھار اپڈیٹ میں ماہانہ لاکھوں روپئے کی بدعنوانی پر کون کیسے لگام لگائے گا ؟ کہاں ہیں سماجی تنظیمیں؟ کہاں ہیں ایم ایل اے ؟ کہاں ہیں سابق ایم ایل اے؟ کہاں ہیں کارپوریٹرس؟ انتخابی تشہیر میں بدعنوانی کے خلاف لچھے دار تقریر کرنے والوں کو شہر میں ہر گھر سے بدعنوانی کے ذریعہ روپیوں کا گھوٹالہ کرنے پر ان کی زبان پر لقوا فالج مار گیا ہے کیا؟ چوری چھوٹی ہو یا بڑی ہو چوری چوری ہوتی ہے۔ ڈکیتی چھوٹی ہو یا بڑی دکیتی ہی کہلاتی ہے۔ اسی طرح بدعنوانی چھوٹی ہو یا بڑی بدعنوانی ہی ہوتی ہے۔ اس بیماری کو شہر سے ختم کرنے کے لیے ہر عام و خاص کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر سامنے آنا چاہیے ۔ اس معاملہ میں متعلقہ سرکاری دفتر پر احتجاج بھی درج کرانا چاہیے ، آدھار سینٹر پر بیٹھے بدعنوانوں کے خلاف پولس میں ایف آئی آر درج کرانا چاہیے ۔شفافیت کے ساتھ کام کرنے والوں کو آدھار سینٹر دیاجانا چاہیے ۔ شہر میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے بدعنوانی کے خلاف متحد ہونا نہایت ضروری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

نفرت انگیز بیانات، تفریح ​​کے نام پر فحاشی برداشت نہیں کی جائے گی، سخت ایکشن لیا جائے گا : میئر ریتو تاوڑے

Published

on

ritu

ممبئی : اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے کے لائیو شو میں کے ای ایم اسپتال کی میڈیکل کی طالبہ سیجل پوار کے نفرت انگیز بیان کے معاملے میں اسپتال انتظامیہ نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔ تفریح ​​کے نام پر نفرت انگیزبیانات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسپتال انتظامیہ کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے وضاحت کی ہے۔

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے اس پورے واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور فنکاروں اور مواد تخلیق کرنے والوں سے سماجی ذمہ داری سے آگاہ رہنے کی اپیل کی ہے۔ اسٹینڈ اپ کامیڈین پرنیت مورے کے شو کے دو کلپس جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں شہریوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ پہلے کلپ میں ہمانشو جگڈا نامی شخص ایک خاتون کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کا واقعہ بیان کیا، جب کہ دوسرے کلپ میں کے ای ایم ہسپتال کی میڈیکل کی طالبہ سیجل پوار نے ان مردوں کی لاشوں کے بارے میں انتہائی نفرت انگیز، فحش اور جارحانہ تبصرے کیے جنہوں نے اپنی لاشیں طبی تعلیم کے لیے عطیہ کی تھیں۔ ان دونوں صورتوں میں کامیڈین پرنیت نے اعتراض کرنے کے بجائے ہنسی اور تالیاں بجائیں۔ ان دونوں کلپس میں غیر حساسیت کا نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر سائبر پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے پر میونسپل کارپوریشن کا موقف واضح کرتے ہوئے اور قانونی کارروائی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے وضاحت کی ہے کہ مہاراشٹر سائبر ڈپارٹمنٹ نے کارروائی کی ہے۔ اس کے علاوہ کے ای ایم ہسپتال انتظامیہ نے سیجل پوار کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی مقرر کی ہے۔ میئر نے واضح کیا کہ اسپتال انتظامیہ کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

میئر تاوڑے نے مزید کہا کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا ایک بہت اہم حصہ ہے، لیکن اس آزادی کے نام پر خواتین کی توہین کرنے والا مواد، فحاشی، نفرت انگیز بیانات، نفرت انگیز قسم کے مواد یا سماج میں غلط پیغام بھیجنے والے مواد کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ عوامی فورم میں خواتین، رضامندی اور طبی شعبے سے متعلق حساس مسائل پر بات کرتے ہوئے ہر ایک کو حدود کی پابندی کرنی چاہیے۔ ممبئی ثقافت، فن اور سوچ کی آزادی کا شہر ہے۔ تاہم یہ سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تفریح ​​کے نام پر کسی کی عزت کو پامال نہ کیا جائے۔ چونکہ سوشل میڈیا کا نوجوانوں پر بڑا اثر ہے، اس لیے معاشرے پر اس طرح کے مواد کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے سب کو حساس ہونا چاہیے۔ تمام فنکاروں، ڈیجیٹل مواد کے تخلیق کاروں اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے سماجی دلچسپی، حساسیت اور اخلاقیات کا احساس برقرار رکھنا چاہیے۔ شہریوں کو بھی سوشل میڈیا پر ذمہ داری سے برتاؤ کرنا چاہیے اور نفرت، فحاشی اور خواتین مخالف ذہنیت کو فروغ دینے والی چیزوں کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیے، اس موقع پر ریتو تاوڑے نے بھی اپیل کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محرم الحرام وعظ و مجالس کو رات 9 بجے تک اجازت دی جائے، ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کا وزیر داخلہ سے مطالبہ

Published

on

Abu-Asim-Fadnavis

ممبئی : محرم الحرام کے متبرک ایام کی اہمیت کے پیش نظر اس دوران منعقد ہونے والی عوامی مذہبی تقاریر وعظ و مجالس کا وقت ۱۰ بجے سے بڑھا کر ۱۲ بجے تک کیا جائے، ایسا پرزور مطالبہ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ریاست کے وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس کو ایک میمورنڈم ارسال کیا۔ ایم ایل اے اعظمی نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ محرم کے دوران رات کے وقت مختلف علاقوں میں عوامی تقاریر وعظ مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں بڑی تعداد میں جانثاراں حسین شریک ہوتے ہیں۔ فی الحال شام کو تقریباً ۷ بجے مغرب کی نماز ہوتی ہے، جس کے بعد عشاء کی نماز مکمل ہونے تک کافی وقت صرف ہوتا ہے۔ پولیس انتظامیہ کی جانب سے فی الحال صرف رات ۱۰ بجے تک کی ہی اجازت دی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے نماز کے بعد اصل پروگرام کے لیے بہت کم وقت درکار ہے۔ اس وقت کی قلت کی وجہ سے مسلمانوں میں بے چینی ہے اور وہ ان مذہبی تقاریر سے پوری طرح مستفیض نہیں ہو پا رہے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر، امن و امان کا پورا احترام کرتے ہوئے محرم کی طے شدہ تاریخوں کے لیے یہ وقت رات ۱۲ بجے تک بڑھایا جانا چاہیے۔ ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر داخلہ خود اس معاملے میں مداخلت کریں اور پولیس انتظامیہ کو فوری طور پر مثبت احکامات جاری کریں۔ اس میمورنڈم کی کاپیاں وزیر اعلیٰ اور ممبئی پولیس کے جوائنٹ کمشنر (لاء اینڈ آرڈر) دیوین بھارتی کو بھی ضروری کارروائی کے لیے روانہ کی گئی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

میرا روڈ سی کوئین پیلس آرکسٹرا بار پر چھاپہ مارا،12 خواتین کی بازیابی، ۹ گرفتار

Published

on

Bear

ممبئی : میرا روڈ ایم بی وی وی پولیس کمشنریٹ، سرکل 1 کے ڈی سی پی راہول چوان کی قیادت میں ایک ٹیم نے میرا روڈ کے کاشیگاؤں پولیس اسٹیشن کی حدود میں ممبئی احمد آباد ہائی وے پر دراز ڈھابہ کے سامنے سی کوئین پیلس آرکسٹرا بار پر چھاپہ مارا۔ اس چھاپہ مار کارروائی کے دوران پولس نے 12 خواتین کو بچا لیا گیا۔ ایک کیشیئر اور 8 ویٹر گرفتار کیے گئے جس میں بار کا ڈرائیور مالک اور مینیجر مفرور ہیں, چھاپہ مار کاروائی کے دوران 50,000 روپے نقد ضبط کر لیے گئے۔ اس کے ساتھ وہسکی اور بیئر کا غیر قانونی ذخیرہ ضبط کیا گیا اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ غیر قانونی طور پر بار میں رقص و سرور کی محفل جاری تھی اسی دوران پولس نے چھاپہ مار اور ملزمین کو گرفتار کر کے ۱۲ بار رقاصاؤں کو بھی آزاد کروایا گیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان