Connect with us
Tuesday,17-March-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ملک میں کورونا کے ایکٹو کیسز میں ایک بار پھر اضافہ

Published

on

CORONA..

ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے نئے کیسز کے مقابلے میں انفیکشن سے صحتیاب ہونے والوں کی کم تعداد کم رہنےسے ایکٹو کیسز میں 1200سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
دریں اثنا ملک میں جمعہ کے روز 71 لاکھ چار ہزار 51 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے اور اب تک 84 کروڑ 89 لاکھ 29 ہزار 160 افراد کو ٹیکے لگائے جا چکے ہیں ۔
مرکزی وزارت صحت کی جانب سے سنیچرکی صبح جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 29،616 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی ، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 36 لاکھ 24 ہزار 419 ہوگئی ہے۔ دریں اثنا 28،046 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 28 لاکھ 76 ہزار 319 ہوگئی ہے ۔ ایکٹو کیسز 1280 بڑھ کر تین لاکھ ایک ہزار 442 ہو گئے ہیں ۔ وہیں مزید 290 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 4،46،658 ہوگئی ہے۔
ملک میں شفایابی کی شرح بڑھ کر 97.78 فیصد اورایکٹو کیسز کی شرح بڑھ کر 0.90 ہوگئی ہے جبکہ شرح اموات 1.33 ہو گئی ہے ۔ ایکٹو کیسز کے معاملے میں کیرالہ ملک میں پہلے نمبر پر ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہاں 2،802 ایکٹو کیسز میں اضافہ ہوا ہے جس سے ان کی تعداد 1،63،418 ہو گئی ہے۔ وہیں 15،054 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا سے نجات پانے والوں کی تعداد 44،09،530 ہو گئی ہے ۔ اسی عرصے میں 127 مریضوں کی موت کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 24318 ہوگئی ہے۔
مہاراشٹر میں ایکٹو کیسز 698 کم ہو کر 42055 رہ گئے ہیں جبکہ مزید 51 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 138776 ہو گئی ہے۔ وہیں 3933 لوگوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا سے نجات پانے والوں کی کی تعداد 6357012 ہو گئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں گیس کا بحران! لیکن عوام کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، ایوان میں چھگن بھجبل کا دعویٰ… مٹی کے تیل کی فراہمی بھی ممکن

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں بھی ایندھن اور گیس سلنڈروں کی کالا بازار ی اور قلت کی گونج اب عام ہو گئی ہے ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے سبب ایندھن کی بحرانی کیفیات سے عوام پریشان ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں وزیر رسد وخوراک شہری چھگن بھجبل نے یہ واضح ہے کہ گیس کے بحران و فقدان سے متعلق فکر مندہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرکزی سرکار نے دعویٰ کیا ہے کہ گیس اور ایندھن کا ذخیرہ اس کے پاس دستیاب ہے اس لیے کسی کو بھی قطار لگانے یا بلیک مارکیٹنگ سے ایندھن کیا گیس خریدنے کی ضرورت نہیں ہے گیس کی کالا بازاری پر سرکار سخت ہے اور کاروائی بھی جاری ہے۔ ریاست اس وقت ایندھن کی قلت کا شکار ہے، سلنڈر کی کمی ہے۔ اس پس منظر میں بات کرتے ہوئے خوراک اور شہری رسد وزیر چھگن بھجبل نے مقننہ میں اہم معلومات دی ہیں۔ گیس کی فراہمی ایک مرکزی موضوع ہے، اور مرکز نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایل پی جی اور پی این جی کا کافی ذخیرہ ہے۔ اس لیے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس لیے متفکر ہونے کی کوئی وجہ نہیں، کہیں بھی قطاریں نہ لگائیں اور گیس کی بلیک مارکیٹنگ نہ ہو۔ ہر ضلع کلکٹر، ایس پی اور دیگر افسران کی کمیٹیاں مقرر کی ہیں۔ اس کے ذریعے اب تک 2129 چیک کیے ہیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعے اب تک ایک ہزار دو سو آٹھ گیس سلنڈر قبضے میں کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 33 لاکھ 66 ہزار 411 روپے کا سامان ضبط کیا جا چکا ہے۔ اس معاملے میں کل 23 مقدمات درج کیے ہیں اور 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔بھجبل نے کہا کہ پچھلے مہینے گیس سلنڈر کی قیمت 852.50 روپے تھی۔ اب یہ بڑھ کر 912.50 روپے ہو گیا ہے۔ کمرشل سلنڈر 1720.50 روپے سے بڑھ کر 1835 روپے ہو گئے ہیں۔ آج صبح میں نے بڑی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، ڈی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل، آئی او سی ایل کے نمائندوں سے بات کی، جن میں سے کچھ بڑی کمپنیاں ہیں۔ انہوں بتایا کہ ایل پی جی کی یومیہ پیداوار 9 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر 11 ہزار میٹرک ٹن کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ تو ان کو دور کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ کمپنیوں کو مرکزی حکومت کے احکامات ہیں، اور بعض اداروں کو گیس کی فراہمی کے لیے ترجیح دی گئی ہے، جس میں اسپتالوں کو سو فیصد ترجیح دی گئی ہے۔ اس میں تعلیمی اداروں ،عوامی خدمات کوبھی صد فیصدی ترجیحات دی گئی ہے۔ بھجبل نے کہا ہے کہ ریلوے، ہوا بازی اور دفاعی شعبوں سے متعلق گفٹ شاپس کو 70 فیصد ترجیح دی گئی ہے، اور اگر اس میں سے گیس باقی رہ جاتی ہے تو 50 فیصد گیس فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو اور 50 فیصد سیڈ پروسیسنگ کو فراہم کی جائے گی۔
دریں اثنا، ریاست اس وقت گیس کی قلت کا سامنا کر رہی ہے اس کے ازالہ کا بھی راستہ اب سرکار نے طے کر لیا ہے ۔ گیس سلنڈر اور ایندھن کے نعم البدل کے طور پر بھجبل نے کہا کہ ایک راستہ مٹی کا تیل ہے۔ ہمارے پاس مٹی کے تیل کا ذخیرہ دستیاب ہے ۔ کچھ سال پہلے ناگپور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر آپ کے پاس اجولا گیس اسکیم ہے تو آپ کو مٹی کے تیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس لیے مٹی کا تیل ہونے کے باوجود ہم اسے فراہم نہیں کر رہے تھے۔ لیکن اب ہم نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ موجودہ صورتحال مشکل ہے، اس لیے عوام کواستعمال کے لیے مٹی کا تیل فراہم کرنا ضروری ہے یہ مٹی کا تیل اب مٹی کے تیل کے ڈیلرز کو تقسیم کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ ہمآئی او سی ایل، بی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل کمپنیوں کے پمپوں پر مٹی کا تیل بھی فراہم کریں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان