Connect with us
Monday,08-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

کرونا وائرس: اٹلی میں 6ء1 کروڑ لوگوں کو الگ تھلگ رکھا گیا

Published

on

south-korea

اٹلی میں کرونا وائرس کے وبا کےپیش نظر اس پر قابو پانے کے لئے 6ء1 کروڑ لوگوں کو الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔
حکومت نے گزشتہ ہفتہ سبھی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو 10 دنوں کےلئےبند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم گیوسیپے کونٹے نے کرونا وائرس پر قابو پانے تک سبھی نجی اور عوامی تقریبات کو معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔
حکومت نے عوامی تمام تقریبات کو 3 اپریل تک بند کرنے کا حکم دیاہے اور لوگوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام کے سفر کےلئے خصوصی منظوری لینی ہوگی۔
یورپ میں کرونا وائرس کے انفیکشن کے سب سے زیادہ معاملے اٹلی میں ہیں اور سنیچر کو متاثرین کی تعداد بڑھ کر 4636 پہنچ گئی اور مرنےوالوں کی تعداد بڑھ کر 230 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اٹلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے 50 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔
موڈنا، پرما، پیاسینج، ریجیو امیلیا، ریمنی، پیسارو اور وربینو، الیسینڈریا، ایسٹی، نوورا،وربانا کیوسیو، اوسسولا، ورسیلی، پادووا، ٹریوسو اور وینس سبھی وائرس سے متاثر ہیں۔
نیشنل سول پروٹیکشن ایجنسی کےمطابق اٹلی میں سب سے زیادہ متاثر لومبارڈی علاقہ ہے جہاں2742 معاملے سامنے آئے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کرلا ساکی ناکہ پائپ لائن کی مرمت کا کام مکمل، پانی سپلائی بحال

Published

on

Pipline

ممبئی : ممبئی کے کرلا ساکی ناکہ 90 فٹ تلک نگر میں نالہ کے قریب بی ایم سی کی 1200 ملی میٹر قطر کے پانی کے پائپ لائن کی مرمت کا کام صبح کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا جس کے بعد اب کرلا کے متاثرہ علاقوں میں پانی سپلائی بھی بحال کر دی گئی ہے۔ پانی کی پائپ جو سڑک کی سطح سے تقریبا 5 میٹر گہرا ہے, مکمل طور پر کھول کر اس کے تباہ شدہ حصے کو تبدیل کر دیا گیا۔ کھدائی کے دوران یہ پائپ لائن متاثر ہوگئی تھی اور پائپ لائن پھٹنے کے بعد دو دنوں سے اہلیان کرلا پانی کیلئے پریشان ہے اور یہاں پانی سپلائی مکمل طور پر بند تھی, لیکن اب دوبارہ اسے بحال کر دیجا گیا ہے۔ اس کام کے دوران کھدائی میں تکنیکی دشواریاں بھی پیش آئی۔ کیونکہ ایک طرف مہا نگر گیس لمٹیڈ ایم جی ایل کا 300 ملی میٹر قطر کا گیس پائپ لائن بھی تھا اور دوسری طرف پل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ پھر بھی انجینئرز اور عملے نے انتہائی احتیاط اور منصوبہ بندی کے ساتھ کام کو انجام دیا وارڈ نمبر 156,158,161,162,163,171,168,167,166,165,164 کے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ آج رات میں پانی معمول کے مطابق جاری ہوجائیگا۔ یہ اطلاع آج ممبئی میونسپل کارپوریشن نے دی ہے۔ بی ایم سی کے مطابق پانی سپلائی میں شب میں تاخیر اور کم پریشر ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس لئے شہریوں کو پانی فراہمی کے دوران احتیاط لازمی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دادر پلازہ سنیما اور گارڈن کے قریب سڑک حادثہ، ایک کی موت سے ٹریفک نظام درہم برہم، بس ڈرائیور گرفتار

Published

on

ممبئی : دادر ویرکوتاوال گارڈن کے پلازہ سنیما پر ایک اندوہناک سڑک حادثہ میں چار افراد شدید طور سے زخمی ہوگئے, جس میں ایک کی موت واقع ہوگئی ہے. ایک بے قابو بس نے ایک کار اور ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی, جس کے سبب چار افراد شدید طور سے زخمی ہوگئے اور انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے, جہاں ان کی حالت تشویشناک ہے. اس حادثہ میں 22 سے 25 سالہ نوجوان کی موت واقع ہوگئی ہے, جبکہ رشب گپتا 25 سالہ, ستیش واگھمارے 48 سالہ, مہیش دھوئیپھوڑے 50 سالہ کو زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے. تفصیلات کے مطابق آج تقریبا 9 بجکر 30 منٹ پر الیکٹرک بس ڈرائیور نے بے قابو بس کوتوال گارڈن کے قریب 5 گاڑیوں سے ٹکر ماری, جس میں ایکٹیو ٹووہیلر, الیکٹرک بائیک, ٹیکسی, کار اور الیکٹرک کار شامل ہے, اس واقعہ میں بس کنڈیکٹر اور الیکٹرک بائیک سوار کو چوٹیں آئی. زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے سائن اسپتال داخل کیا گیا. بس ڈرائیور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے. حادثے میں تباہ ہونے والی گاڑیوں کو سڑک کے کنارے منتقل کر دیا گیا ہے اور ٹریفک کی نقل وحرکت کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اس حادثہ کے بعد دادر علاقہ میں ٹریفک جام ہوگئی تھی, لیکن اب سڑکوں پر حالات معمولات پر آگئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ بس ڈرائیور کو لاپروائی سے ڈرائیورنگ کرنے کے معاملہ میں حراست میں لے کر باز پرس جاری ہے. اس کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس کی تصدیق ڈی سی پی مہندر پنڈت نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جہاں طاقت ہے وہاں توجہ مرکوز رکھو، جیت ہماری ہوگی… انتخابات میں ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر شریکانت شندے نے کارکنوں کو جیت کا منتر دیا

Published

on

Dr.-Shrikant-Shinde

ممبئی آئندہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات میں جہاں تنظیم مضبوط ہے وہیں پوری طاقت کے ساتھ توجہ مرکوز کریں۔ مائیکرو لیول پر منصوبہ بندی کریں، بوتھ کوآرڈینیٹر مقرر کریں اور انتخابی تیاریوں کو مضبوط بنائیں۔ اگر ہم منظم اور حکمت عملی کے ساتھ کام کریں گے تو فتح ہماری ہی ہوگی۔ یہ پیغام شیوسینا پارلیمانی پارٹی لیڈر اور پارلیمنٹ رتن ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے کارکنوں اور عہدیداروں کو دیا۔ ایم پی ڈاکٹر شری کانت شندے کا دو روزہ شیو سمواد دورہ آج کھاندیش کے نندربار سے شروع ہوا۔ اس دوران انہوں نے نندربار اور تلودہ میں منعقدہ میٹنگوں میں ضلع کے مختلف اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ الیکشن کی تیاریوں اور تنظیم سازی کے حوالے سے کارکنوں کی رہنمائی کی۔ اس موقع پر وزیر دادا بھوسے، ایم ایل اے امشا پاڈوی، ایم ایل اے چندرکانت رگھوونشی، ایم ایل اے راجندر گاویت، شیو سینا کے ریاستی تنظیم کے سربراہ اور سابق ایم پی آنند پرانجاپے، شیو سینا کے سکریٹری بھاؤ صاحب چودھری، شیوسینا نندربار لوک سبھا رابطہ سربراہ اور سابق ایم ایل اے شریش چودھری اور دیگر اہم عہدیدار موجود تھے۔

ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے آج صبح تلودہ میں شہادہ اور اکلکووا اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اس میٹنگ میں انہوں نے عہدیداروں کو ووٹر لسٹ پر نظرثانی مہم کو مؤثر طریقے سے چلانے، بی ایل اے کی تقرری اور 20 پولنگ اسٹیشنوں میں سے ہر ایک پر ایک کوآرڈینیٹر مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کوآرڈینیٹروں کی تقرری سے ہر بوتھ کا باقاعدہ جائزہ ممکن ہو سکے گا۔ اگر بوتھ کی سطح پر منظم طریقے سے کام کیا جائے تو تنظیم مضبوط ہوگی اور الیکشن جیتنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ ایم پی ڈاکٹر شندے نے مزید کہا کہ پچھلے انتخابات میں جو کچھ ہوا اسے پیچھے چھوڑ دینا چاہیے۔ تمام کارکنوں اور عہدیداروں کو یہ سوچ کر متحد ہو کر کام کرنا چاہئے کہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی علاقوں میں شیوسینا کی طاقت کو کیسے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کوئی اتحاد نہیں ہوگا، اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی تاہم کارکنان ہر بوتھ پر توجہ دے کر کام کریں۔ اگر ہم پوری محنت اور لگن سے کام کریں گے تو فتح ہماری ہی ہوگی۔

ڈاکٹر شندے نے کہا کہ نندوربار ضلع میں شیوسینا کی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ریاست میں ایک بڑا طبقہ بن چکا ہے جو شندے صاحب کی قیادت کا احترام کرتا ہے۔وزیر اعلی کی حیثیت سے شندے صاحب نے مفاد عامہ کی کئی فلاحی اسکیموں کو نافذ کیا، جن سے ووٹر واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نگر پریشد اور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں شیوسینا کو اچھی عوامی حمایت اور کامیابی ملی ہے۔

نندوربار شہر میں منعقدہ دوسری میٹنگ میں ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے نندوربار اور نواپور اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شندے صاحب نے “شان آپ کے دروازہ” مہم کے ذریعے عام لوگوں کے لیے بہت سے کام کیے ہیں۔ ان کی قیادت پر عوام کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن بھی شیوسینا میں شامل ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔ رکن اسمبلی ڈاکٹر شندے نے کارکنوں سے تنظیم کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ وہ پوری وفاداری کے ساتھ کام کریں اور پارٹی کی طاقت میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا کا انتخابی نشان ‘دھنوش بان’ ہر علاقے تک پہنچنا چاہیے۔ پارٹی قیادت کارکنوں کو مضبوط کرنے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اس موقع پر ایم ایل اے چندرکانت رگھوونشی نے کہا کہ اکلکووا اور دھارگاؤں تعلقہ میں شیوسینا کی اچھی گرفت ہے، جب کہ تلودہ اور شہادہ تعلقہ میں تنظیم کو مزید مضبوط کرنے کے لیے خصوصی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے نندربار ضلع پریشد انتخابات میں شیوسینا بھگوا پرچم لہرائے گی۔ ایم ایل اے رگھوونشی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارپوریٹروں کو مزید تنظیمی اختیارات اور ذمہ داریاں دی جائیں۔ ایم ایل اے امشا پاڈوی اور سابق ایم ایل اے شریش چودھری نے بھی میٹنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

شندے صاحب کی ہر تعلقہ اور اسمبلی حلقہ پر نظر :
شیو سینا کے سربراہ رہنما اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ہر تعلقہ اور اسمبلی حلقہ پر خصوصی توجہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی رہنما 45 ڈگری درجہ حرارت جیسی شدید گرمی میں بھی مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ یہ بات شیوسینا پارلیمانی پارٹی کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سریکانت شندے نے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی الیکشن نہیں ہے، پھر بھی شیوسینا کے لیڈر گاؤں گاؤں جا کر کارکنوں سے مل رہے ہیں اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ شندے صاحب کی قیادت میں شیوسینا کے کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے لیڈر دوروں پر جاتے، تقریریں کرتے اور چلے جاتے، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف تقریر نہیں ہوتی بلکہ لیڈر خود میدان میں جا کر کام کرتا ہے اور کارکنوں سے براہ راست مکالمہ قائم کرتا ہے۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں وہ چار بار ضلع نندربار کا دورہ کر چکے ہیں، جس سے پارٹی قیادت کی تنظیم کے تئیں سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان