Connect with us
Sunday,29-March-2026

جرم

کرونا وائرس:یوپی میں10 افراد کی جانچ رپورٹ مثبت

Published

on

virus

ہر قسم کی ممکنہ احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کے درمیان اترپردیش میں اب تک کرونا وائرس سے متأثرہ افراد کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔ ان تمام افراد کی جانچ رپورٹ مثبت پائی گئی ہے۔جن میں سے سات کا تعلق آگرہ،جبکہ نوئیڈا اور غازی آباد میں ایک جبکہ تازہ ایک معاملہ لکھنؤ میں درج کیا گیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں کرونا وائرس سے متأثر دسواں مریض کناڈا کے ٹورنٹو کی ایک خاتون ڈاکٹر ہیں۔بدھ کی شام لکھنؤ میں خاتون ڈاکٹر کی جانچ رپورٹ مثبت پائی گئی ۔آفیشیل ذرائع نے بتایا کہ اپنے شوہر کے ساتھ لکھنؤ کے دورے پر آئی خاتون ڈاکٹر کو کے جی ایم یو کے آئیسولیشن وارڈ میں داخل کرایا گیا ہے۔جبکہ ڈاکٹرس خاتون سے رابطہ میں رہے دیگر 9افراد کی جانچ کررہے ہیں۔
آفیشیل ذرائع کے مطابق اس ضمن میں ابھی تک 128 مشتبہ سیاحوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان میں سے ایک مسافر کو دہلی کے صفدرگنج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔علاوہ بریں ان مسافروں کے رابطہ میں آنے والے چار دیگر افراد کو بھی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
آفیشیل ذرائع کے مطابق 1913 سیاح 28 دنوں کی آبزرویشن مدت کی تکمیل کرچکے ہیں۔ابھی تک 554 افراد کے نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں جن میں سے پانچ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ویرولوجی،پنے،366 نمونے کے جی ایم یو،لکھنؤ،177 نمونے این سی ڈی سی دیلی اور 6 نمونے آئی ایم ایس۔بی ایچ وارنسی بھیجے گئے ہیں۔جن میں سے 469 نمونوں کی رپورٹ منفی پائی گئی ہے جبکہ 77 کی جانچ کا ابھی انتظار ہے۔
ریاستی سرویلانس افسر ویکاسیندو اگروال کے مطابق بدھ کو شام سے ابھی تک 15903 سیاحوں کی ائیرپورٹ پر اور 1201945 افراد کی بارڈر چیک پوسٹ پر اسکریننگ کی گئی ہے۔ اس ضمن میں عوامی بیداری کے لئے ہند۔نیپال سرحد کے 1896 گاؤں میں میٹنگیں منعقد کی گئی ہیں۔آفیشیل نے بتایا کہ 12 ممالک کے تقریبا 2701 مسافر اترپردیش میں تھے جن میں سے 740 کو آبزرویشن میں رکھا گیا تھا۔
محکمہ صحت و کنبہ فلاح و بہبود نےریاست کے تمام شہریوں اور موجود ہ وقت یوپی میں قیام کرنے والے بیرونی مہمان جو جنوبی کوریا، اٹلی اور ایران سے 22 فروری یا اس کے بعد واپس آئے ہیں ان سے اپیل کی ہے کہ وہ ہیلپ لائن نمبر 1800180145 پر کال کریں یا اپنے اضلاع کے چیف میڈیکل افسر سے رابطہ قائم کریں۔تاکہ ان کو اور ان کے کنبے سمیت سوسائٹی کو کرونا وائرس کے حملے سے محفوظ رکھا جاسکے۔

جرم

ممبئی میں ڈیلیوری گاڑی سے 27 گیس سلنڈر چوری، تحقیقات جاری

Published

on

ممبئی: ایران اور اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بعد اچانک گیس سلنڈروں کا جھگڑا شروع ہو گیا۔ توانائی بحران کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان، کاندیولی ویسٹ کے چارکوپ علاقے میں چوروں نے ڈلیوری گاڑی میں گھس کر 27 سلنڈر چوری کر لیے۔ پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ یہ واقعہ 25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب پیش آیا۔ ملزمان نے گیس کی تقسیم کے لیے استعمال ہونے والے ٹیمپو کو نشانہ بنایا اور 5 بھرے اور 22 خالی سمیت 27 سلنڈر لے کر فرار ہوگئے۔ ممبئی پولیس نے کہا کہ چارکوپ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ شکایت کنندہ نند کمار رام راج سونی (35) جو ملاڈ ویسٹ کے جئے جنتا نگر کا رہنے والا ہے، گزشتہ سات سالوں سے چارکوپ میں شری جی گیس سروس کے ساتھ ڈیلیوری ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ وہ ٹیمپو کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کو گھر گھر ایل پی جی سلنڈر فراہم کرتا ہے۔ 25 مارچ کو، نند کمار نے اپنا روزانہ ڈیلیوری کا کام مکمل کیا اور رات 11 بجے کے قریب گھر واپس آنے سے پہلے ٹیمپو کو چارکوپ کے علاقے میں کھڑا کیا۔ گاڑی اگلے دن تقسیم کے لیے سلنڈروں سے لدی ہوئی تھی۔ جب وہ 26 مارچ کی صبح 8 بجے کے قریب اسی مقام پر واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ گاڑی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا اور پیچھے کا تالا ٹوٹ گیا۔ جانچ کرنے پر نند کمار کو پتہ چلا کہ تمام سلنڈر چوری ہو گئے ہیں۔ چوری شدہ سلنڈروں کی کل قیمت تقریباً 15,500 روپے بتائی جاتی ہے۔ ابتدا میں، نند کمار نے اپنے ساتھی کارکنوں سے یہ معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا کہ آیا سلنڈر کہیں اور منتقل کیے گئے ہیں، لیکن جب انھیں کوئی اطلاع نہیں ملی تو انھوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور شکایت درج کرائی۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج میں کچھ مشکوک افراد کو گاڑیوں کے ساتھ پکڑا گیا ہے اور ان کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ چوری شدہ سلنڈروں کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش کار اسکریپ مارکیٹس اور گیس کے غیر قانونی تجارتی نیٹ ورک سے منسلک افراد سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

Continue Reading

جرم

ممبئی: غیر ملکی شہری کو لوٹنے کے الزام میں دو پولیس اہلکار گرفتار، تین دیگر کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

crime

ممبئی کے جوہو علاقے میں دو پولیس کانسٹیبلوں کو ایک فاریکس کمپنی کے ڈیلیوری ایگزیکٹیو کو مبینہ طور پر اغوا کرنے اور اس سے 10,000 امریکی ڈالر لوٹنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ چوری کی رقم ابھی تک برآمد نہیں ہو سکی۔ ممبئی پولیس حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں تین دیگر ملزمان ابھی تک فرار ہیں اور ان کی تلاش کی جا رہی ہے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت سندیپ شندے (33) اور گجیندر راجپوت (40) کے طور پر کی گئی ہے۔ انہیں بالترتیب باندرہ-کرلا کمپلیکس اور جوگیشوری پولیس اسٹیشنوں میں تعینات کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جرم کرنے کے لیے اپنی وردی اور عہدے کا غلط استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ دوپہر دو بجے کے قریب پیش آیا۔ 25 مارچ کو متاثرہ، باندرا کی ایک فاریکس کمپنی میں ڈیلیوری ایگزیکٹو ہے، غیر ملکی کرنسی کی ترسیل کے لیے جوہو کے علاقے میں پہنچا تھا۔ ملزمان نے اسے جوہو سرکل کے قریب ارٹیگا کار سے زبردستی اغوا کر لیا۔ کار کے اندر ملزمان نے اس پر حملہ کیا اور اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد ملزمان متاثرہ کو دہیسر لے گئے، جہاں انہوں نے 10,000 ڈالر پر مشتمل ایک بیگ چھین لیا۔ الزام ہے کہ اس دوران متاثرہ کو بار بار مارا پیٹا گیا۔ تاہم، متاثرہ نے خطرے کی گھنٹی بجائی، اور آس پاس کے لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ پورے واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی گشتی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی۔ ہجوم کو قریب آتا دیکھ کر ملزمان فرار ہو گئے تاہم پولیس صرف ایک کو گرفتار کر سکی جبکہ دوسرا بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گیا۔ فاریکس کمپنی کے ڈیلیوری ایگزیکٹیو کی ڈکیتی کی اطلاع ملنے پر پولیس کے اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر پہنچے اور دوسرے ملزم گجیندر راجپوت کو تھانے میں اس کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں ملزمان کے خلاف اغوا، بھتہ خوری، ڈکیتی اور سرکاری ملازم کا روپ دھارنے سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس فی الحال سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور کئی ٹیمیں تین مفرور ملزمان کی تلاش میں ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

Continue Reading

جرم

ممبئی: شادی کے بہانے خاتون سے زیادتی، ملزم نوجوان گرفتار

Published

on

ممبئی کے نہرو نگر علاقے میں شادی کے بہانے نوجوان خاتون کی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے پہلے خاتون سے دوستی کی اور رفتہ رفتہ اس کے قریب ہونے لگا۔ اس نے اس سے شادی کرنے کا وعدہ کرکے اس کا اعتماد حاصل کیا۔ اس اعتماد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف متعدد بار جسمانی تعلقات بنائے۔ جب خاتون نے اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالا تو اس نے صاف انکار کر دیا اور خود کو اس سے دور کرنا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب خاتون نے اس پر شادی کے لیے بار بار دباؤ ڈالا تو ملزم نے اس سے بات کرنا چھوڑ دی اور وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد متاثرہ نے نہرو نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ شکایت ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا اور بعد میں اسے باقاعدہ گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی سنگینی کے پیش نظر ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے۔ متاثرہ کو ذہنی مدد فراہم کرنے کے لیے قانونی مدد اور مشاورت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم اس سے باہر ملا۔ آہستہ آہستہ ان کی دوستی ہوگئی اور ملزم اس سے شادی کا وعدہ کرکے اس کے گھر آنے جانے لگا۔ اس کے بعد کئی سال تک اس کی مرضی کے خلاف اس کے ساتھ جسمانی تعلقات بنائے اور شادی کی باتیں کرتا رہا۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ کئی سالوں سے لڑکی نے اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا جس کے بعد ملزم نے اس سے بات کرنا بند کر دی اور شادی سے انکار کر دیا۔ متاثرہ نے جب پولیس کو معاملے کی اطلاع دینے کی بات کی تو ملزم اسے دھمکیاں دینے لگا۔ اس کے بعد متاثرہ نے پورے واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی۔ پولیس کے مطابق ملزم سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس نے شادی کا اعتراف کر لیا ہے۔ دونوں خاندانوں سے بات کی جا رہی ہے تاکہ معاملے کو جلد حل کیا جا سکے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان